انکوائری نامہ

چاچا رفیق کی درخواست بڑی دلچسپ تھی، ساٹھ سالہ چاچا نے اپنے بھانجے کو نوکری دلوانے کے لئے نمبردار کو تین لاکھ روپے کی رشوت دی تھی جس میں پینسٹھ ہزار کی بھینس بھی شامل تھی اب نمبردار نے نہ تو نوکری دلوائی اور نہ ہی چاچے کے پیسے واپس کر رہا تھا۔ میں نے بطور انکوائری افسر ابھی کارروائی کا آغاز نہیں کیا تھا لیکن چاچے نے میرے دفتر میں مستقل ڈیرہ ڈال لیا تھا، دو دن اور اوپر ہوئے تو سیاسی سفارشیں شروع ہو گئیں کہ نمبردار پہ پرچہ دیا جائے اور چاچے کے پیسے واپس کروائے جائیں۔ اور تو اور چاچے نے اپنی غربت کا رونا روتے یہ تک کہہ دیا کہ معاشرے میں انصاف پسند افسر ختم ہو گئے ہیں اور وہ آخری امید لے کر انصاف لینے میرے پاس حاضر ہوا ہے۔
سو انکوائری کا آغاز ہوا تو چاچا اپنے ساتھ کافی سارے معززین کو بطور گواہ لایا لیکن نمبردار کے ساتھ شاید ایک ہی آدمی آیا تھا، نمبردار نے سارے الزامات مسترد کیے اور چاچے کی درخواست کو سیاسی اور نمبرداری کی مخالفت قرار دیا۔
اگلی پیشی پہ چاچا بہت ساری سفارشیں کروا کر اپنے ساتھ کچھ اور معززین کو بھی لایا تھا، تمام گواہان نے چاچا کے موقف کی تائید کی اور نمبردار کو بے ایمان شخص قرار دیا۔ چاچے کا اصرار بڑھا تو میں ایک دن چاچا کو سرپرائز دینے چاچا کے گاؤں جا پہنچا، سٹاف کے ذریعے چاچا کو پیغام پہنچایا تو چاچا نے گاؤں کے ایک معزز زمیندار کے ڈیرے پہ میری خدمت کرنے کا اہتمام شروع کر دیا، گاؤں پہنچا تو چاچا نے بمع اپنے گواہان کے اچھا خاصہ مجمع اکٹھا کیا ہوا لیکن رابطے پر نمبردار نے معذرت کی کہ وہ میر آمد سے لاعلم ہونے کی بنا پر کسی اور شہر گیا ہوا تھا اور فوری طور پر آنے سے قاصر تھا۔
ڈیرے پر جانے کی پرزور دعوت پر معذرت کی اور چاچے کو بمع اس کے مصاحبین اور گواہان گاؤں کی بڑی مسجد میں آنے کی درخواست کی۔ مسجد آنے کی دعوت پر چاچا تو بڑی مشکل سے راضی ہوا لیکن چاچے کے گواہان نے مسجد میں کوئی بھی گواہی دینے سے صاف انکار کر دیا۔ اب صورتحال یہ کہ درجنوں بیان حلفی جمع کروانے والوں میں سے چاچے کا آخری اور واحد گواہ اس کا بھائی بچا تھا اور نمبردار کے نمائندے کے طور پر اس کا کوئی عزیز حاضر ہوا تھا۔
دو طرفہ گواہان کے بیان لے کر فارغ ہوا تو چاچے سے درخواست کی مجھے اپنا گھر دکھائے، چاچا گھر دکھانے پہ بھی بڑی مشکل سے راضی ہوا۔ معلوم ہوا چاچا دو تین مرلے کے گھر کے ایک کچے کمرے میں اکیلا رہتا ہے اور ایک عدد گدھا ریڑھی کا مالک ہے جو اس کی کل کائنات ہے اور جس پر وہ گاؤں کا کچرا ٹھکانے لگا کر اپنی روزی کماتا ہے۔ ایک خستہ حال کچے کمرے میں موجود چند پرانے برتن چاچے کی غربت کے گواہ تھے۔ میرے سوال پر کہ چاچے کے پاس اس وقت گھر میں کتنا زیور، مال مویشی اور نقد پیسہ موجود ہے، چاچے نے جواب دیا کہ وہ اپنی آخری بھینس نمبردار کو بطور رشوت دے چکا ہے اور نقدی کی صورت میں چاچے کا کل سرمایہ مبلغ چودہ ہزار برآمد ہوا۔ گاؤں کے نوجوان امام مسجد سے میں نے علیحدگی میں سوال کیا تو کہنے لگا سر! میری روزی روٹی اور رہن سہن اسی گاؤں سے وابستہ ہے اس لئے وہ کوئی گواہی دے کر اپنے لئے مشکلات پیدا نہیں کرنا چاہتا، میرے کریدنے پر البتہ اس نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس نے سالوں سے چاچے کے گھر میں کوئی مال مویشی نہیں دیکھا۔
صورتحال ذرا واضح ہوئی تو معاملہ کھلا کہ چاچا درجن سے زیادہ درخواستوں اور مقدمات میں مدعی ہے اور وہ دو چار ہزار لے کر یہ ”نیک“ کام سال ہا سال سے انجام دے رہا ہے، اور تو اور وہ نمبردار وغیرہ کے کہنے پر ان لوگوں کے خلاف بھی مقدمے کا مدعی بن چکا ہے جو اب چاچے کے گواہ بن کر چاچے کے حق میں بیان حلفی دے چکے ہیں۔
سب سے دلچسپ بات یہ سامنے آئی کہ جس بھانجے کی نوکری کے لئے چاچا رفیق نے نمبردار کو تین لاکھ بمع ایک عدد بھینس ادا کیے تھے وہی بھانجا چند سال پہلے پولیس کی ایک انکوائری میں اپنے ماموں کو عادی درخواست باز اور ایک نمبر کا جھوٹا قرار دے چکا تھا۔ مزید کھلا کہ چاچے کے گواہ نمبردار کے خلاف نمبرداری کے ایک کیس میں مدعی تھے جو چاچے کو بطور مہرہ استعمال کر رہے تھے اور یہ بھی چاچے کی درخواست مختلف فورمز پہ پہلے ہی خارج ہو چکی تھیں۔ قصہ مختصر ہم تو بصد افسوس چاچے رفیق کو ”انصاف“ کی فراہمی سے قاصر رہے اور چاچا رفیق اپنے اس دعوے میں حق بجانب رہا کہ ”معاشرے سے انصاف اور انصاف پسند افسر ختم ہو چکے ہیں“ ۔

