ذات کی اصل ( انشائیہ)۔

جب ہم لفظ ”آزادی“ استعمال کرتے ہیں تو اصل میں ہم اپنی ذات کی ترجمانی کر رہے ہوتے ہیں۔ ذات ہوتی ہی وہ ہے جو فطرت یا قدرت نے آزاد بنا کر خود مختاری دے کر اسم عظیم پھونکتے ہوئے خلق کی ہو۔ اس کی سرشت میں غلامی نہیں ہو سکتی یوں کہیے کہ غلامی اس والے سافٹ ویئر میں جنریٹ ہی نہیں کی جاتی تو اگر کہیں بھی کبھی بھی آپ کو گھٹن کا احساس ہو یا پھر آپ یہ محسوس کر رہے ہوں کہ یہ سب مجھے کیوں برداشت کرنا ہے؟ تو جان لیں ابھی تک آپ زندہ ہیں، مرے نہیں ہیں۔ زندہ ہیں تو پھر آپ کا وجود بھی قائم ہے اور اس کا آپ پر کچھ حق باقی ہے۔

محبت کریں، قربانی بھی دیں، خدمت بھی کریں مگر دیکھتے جائیں کہ آپ کی جڑیں کس مٹی میں دب کر خستہ ہو رہی ہیں، گھن یا دیمک کس طرف سے آپ کی بنیادوں کو چاٹ رہا ہے یا پھر بظاہر تو بالکل توانا ہیں خوب چمکے لشکے مگر سینے کا داغ کیونکر دھکنا چھوڑ گیا ہے۔ آپ ہاتھ رکھئیے اس داغ کی نشان زدگی پر اور گہرا سانس لینے کی کوشش کریں کہ سانس میرا ہے میرے قابو میں ہے تو پھر یہ میرا وجود کیوں میرے تابع نہیں کیوں مجھے دوسروں کی مرضی پر چل کر ان ذاتی سانسوں کو بحال رکھنا پڑتا ہے۔ جواب وہیں کہیں بہت اندر ہے اور یقین کریں کہ مل جائے گا۔ زیادہ لاؤڈ ہوا تو کوشش کیجیے گا کہ کمرے کا دروازہ بند کر کے سن لیں یا پھر کہیں کھلے میدان میں جاکر خود کو محو زمردی کرتے ہوئے ٹرائی ضرور کیجیے گا۔

آزادی اس وجودی سسٹم کے سافٹ ویئر کا بیسک پروگرام ہے۔ بہت گڑ بڑ بھی ہو جائے اس پورے پورے سسٹم کی مینجمنٹ میں تو بھی وہ آٹو موڈ پر سیٹ ہوتا ہے مگر کبھی بھی ان انسٹال نہیں ہو سکتا ، ڈیلیٹ ہونے کا تو سوچئے گا بھی نہیں، جی بالکل، یہ ڈیلیٹ نہیں ہوتا۔ پرماننٹ میموری کی طرح ہمارے اندر نصب ہوتا ہے کوئی سافٹ ویئر نہیں ہے بلکہ ایک جزو ہے جس کا کل ہے ہماری عزت نفس اور کبھی کبھی انا بھی۔

اس سارے آزادی کے تصور کے طوفان بدتمیزی کو۔ معاشرے کے مطابق۔ نظر انداز کرنے کے بعد ہم لوگ بات کرتے ہیں غلامی کے مزے لوٹنے والوں کی، ان کے خمیر کی، ان کی سرشت کی جس کا سسٹم کرپٹ ہو چکا ہے۔ اس کرپشن میں صدیوں کی ریاضت کھپی ہے، قرنوں کا پسینہ اس مٹی کا آبی ذریعہ ہے اور بیش بہا بے حسی ان کے وجود کے روم روم میں بے غیرتی اور سازش کا اروما لے کر چلتی ہے۔ بے غیرتی تھوڑا تلخ لفظ ہے مگر ایک غلامی پسند انسان کے لئے اس سے بہتر اور کیا علامتی لفظ ہو سکتا ہے جو اپنے ایک گالی کا سا اثر بھی رکھتا ہو۔

اس کی مثال ان تمام غلاموں سے دی جا سکتی ہے جو اپنی غلامی کو بظاہر سینے سے لگائے پھرتے ہیں مگر اس غلامی کی خوشامد کی آڑ میں وہ کبھی کاری اور کبھی گہری ضربیں بھی اپنے آقا کی ذات پر لگا جاتے ہیں جس کی تاب ان کی جان تو لے آتی ہے مگر ان کی ذات ٹوٹ کر، بکھر کر تباہ و برباد ہو جاتی ہے۔ اس لئے اگر کوئی کہے کہ وہ غلامی میں خوش ہے تو وہ موقع چوکنا ہونے کا ہے ناکہ خوش ہونے کا!

محکومی کی قبولیت انسان کی سرشت میں نہیں اور اگر ہم اپنی عقل سلیم کو ذرا سی گرانی دیں تو اندر سے محسوس کر سکتے ہیں کہ غلامی کیا شہ ہے اور ایک غیرت مند انسان کی ذات اس کے ساتھ کیونکر اور کیسے رہ سکتی ہے؟ ہماری ذات کی اصل کیا ہے؟ آزادی یا غلامی؟

اب وہ دور گیا جب بیڑیاں اور زنجیریں پہنائی جاتی تھیں۔ اب بہت ترقی ہو چکی ہے۔ آج انسان کو ان کی تہذیب یافتہ صورت میں رسم و رواج اور روایات کی قید میں رکھا جاتا ہے، ایک جیسی زندگی جینے اور لکیر پیٹنے کے لئے مختص کیا جاتا ہے۔ سب فوٹوکاپی بن چکے ہیں ڈٹو ہیں کسی نہ کسی خاندانی، ریاستی، صوبائی، مسلکی یا پھر علاقائی حدود و قیود کے اور بھیڑ چال چلتے چلتے اپنی راہوں کو اس قدر ہموار کر چکے ہیں کہ وہ راستے اب گڑھے بن چکے ہیں ان سے نکلنا یا راستہ بدلنا بھی ممکن نہیں رہا۔ ان کی اپنی ذات یا ذات کا اظہار اس سب میں کہاں ہو سکتا ہے؟ کہیں بھی نہیں!

Comments - User is solely responsible for his/her words