منٹو کو پڑھنا ضروری، کیوں؟

میں سوال نہیں پوچھ رہی بلکہ میں طنز کر رہی ہوں۔ جی ہاں ایک ایسا معاشرہ جہاں آئے دن غیرت کے نام پر عورتیں بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کی جاتی ہیں۔ ان سے محبت کا مطلب ان کی جان کا مالک بننا ہے، جب چاہا ختم کر دی، وہاں منٹو کو پڑھ کر فضول میں اپنا وقت ضائع کیا جا رہا ہے۔ یہ سوال اٹھانے کا خیال مجھے اس لیے آیا کہ آج کل سوشل میڈیائی کھاتوں پر ایک

Read more

سجاد حیدر یلدرم کا افسانہ اور شعور کی رو

سجاد حیدر یلدرم نے ابتدائی طور پر مختصر کہانی یا افسانہ لکھنے کا آغاز اردو ادب میں وارد کیا۔ وہ مغربی اور ترکی ادب سے واقف اور مرغوب تھے۔ بنیادی طور پر وہ انشائیہ نگار تھے اور مترجم کمال کے تھے۔ وہ ترجمہ کرتے ہوئے اپنے دماغ کے نہاں خانوں سے کون کون سی تراکیب بن لاتے تھے کہ قاری پڑھ کر ان کے سحر میں گرفتار ہو جاتا۔ ان کے افسانے آج کے دور میں بھی اگر پڑھے جائیں

Read more

کلاس روم کی فضا اور مکالمہ

کل کچھ کالج اور یونیورسٹی کے اساتذہ کا بیانیہ سننے کا ایک موقع ملا۔ جس بیانیے کی مجھے کماحقہ ہی امید نہ تھی۔ موضوع یہ تھا کہ ”معاشرے میں اجتماعی مکالمے کی زوال پذیری“ ۔ وہاں پر موجود اساتذہ کا تعلق ڈائریکٹ کلاس روم کے ساتھ تھا تو وہ لوگ اپنی سلطنت کے طور پر وہاں مکالمے کا گھمسان ڈلوانا چاہتے تھے۔ یہ معاملہ ایک بہت عجیب صورت حال اس وقت اختیار کر گیا جب تمام اساتذہ جو کہ یہ

Read more

پاکستانی فلم بین کا شعور اور سرمد گھوسٹ کی فلم ”کملی“

فرائیڈ کے مطابق ”جنسی تحریکات یا لبیڈو کا رخ بدل کر ان سے بہت سے مثبت اور تعمیری کام لیے جا سکتے ہیں۔“ عام زبان میں ہم اسے ”انرجیز کو چینلائز“ کرنا کہیں گے۔ مگر ایک ایسا معاشرہ جہاں جنس ایک ”ٹیبو“ کے طور پر موجود ہو وہاں اس کا اظہار یا پھر اس کے بارے میں بات کرنا سوائے شرمندگی کے کسی عورت تو کیا مرد کو بھی کچھ نہیں دلوا سکتی۔ اس سب پر مستزاد سماجی، مذہبی، روایتی

Read more

زاہد ڈار، شخصیت نہیں کیفیت

13 فروری، 2021 ء کو ہم لوگ جس وقت فیض کا جنم دن یاد کرنے میں مصروف تھے ایک دل خراش خبر ہماری سماعتوں سے ٹکرائی اور اس التباسی (virtual) دنیا میں ہماری نظر کے پردوں کو دھندلا کر گئی کہ مادھو (زاہد ڈار) اب اس جہان فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔ اس خبر کو خوب پھیلایا گیا اتنا کہ جتنا شاید زاہد ڈار کی زندگی میں اس کے وجود کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ مگر وہ جو کام

Read more

ذات کی اصل ( انشائیہ)۔

جب ہم لفظ ”آزادی“ استعمال کرتے ہیں تو اصل میں ہم اپنی ذات کی ترجمانی کر رہے ہوتے ہیں۔ ذات ہوتی ہی وہ ہے جو فطرت یا قدرت نے آزاد بنا کر خود مختاری دے کر اسم عظیم پھونکتے ہوئے خلق کی ہو۔ اس کی سرشت میں غلامی نہیں ہو سکتی یوں کہیے کہ غلامی اس والے سافٹ ویئر میں جنریٹ ہی نہیں کی جاتی تو اگر کہیں بھی کبھی بھی آپ کو گھٹن کا احساس ہو یا پھر آپ

Read more

دھن کی پکی ( افسانہ)۔

”کس قدر قدیم عمارت ہے یہ ہمسائی جامعہ،“ زارا نے سوچا اور اپنی انگلیوں کے پوروں سے اس کے ایک ستون کو چھوا۔ اس ستون کا رنگ اتر کر زارا کی انگلیوں کے پوروں سے لگ گیا۔ زارا خوش تھی، اس کے گال خوشی سے تمتما رہے تھے کہ آج اس ادارے میں آ کر اسے اپنی زندگی کی بہت بڑی خوشی مل گئی، یہ خوشی اس کی منزل سے متصل تھی۔ وہ بے حد پریشان تھی مگر اس عمارت کے فسوں میں خود کو غرق کرنا چاہتی تھی۔ ایک راہداری سے دوسری راہداری کا یہ سفر اسے جنموں کے کسی سفر کا شاخسانہ لگ رہا تھا۔

Read more

ویکسین

آمنہ کی بیٹی کی جب بھی ویکسین ہونی ہوتی ہے تو وہ اپنی ماں کے گھر آ جاتی ہے اور بچی کی ویکسینیشن کرواتی ہے۔ اسے بہت ڈر لگتا ہے اکیلے میں بچی کی ویکسینیشن کرواتے ہوئے۔ سرنج دیکھ کر اسے پسینہ آ جاتا ہے تو اس ننھی سی جان کو وہ خود سے کیسے اس ظالم ٹیکے کے حوالے کرے؟ بس اسی پریشانی سے بچنے کے لئے وہ اپنی ماں کے پاس آ جاتی اور کہتی

”امی! آپ کا حوصلہ ہے جو اتنے آرام سے دیکھتی رہتی ہیں حمنہ کو ٹیکہ لگتے، میرا تو ڈر کے مارے برا حال ہوجاتا ہے۔“

Read more

یودوکیہ

یہ ناول ویراپانووا کا ہے۔ اس کا اردو ترجمہ قرۃ العین حیدر نے کیا ہے۔ نومبر 1965 ء میں مکتبہ جامعہ نئی دہلی لمیٹڈ سے یہ کتاب شائع ہوئی۔ مجھے اس کتاب کو پڑھنے کا شرف پچھلے مہینے جب تیس اپریل، یکم مئی میں بدل رہی تھی تب ملا۔ میں بالکل اس بات سے نا آشنا تھی کہ یہ ناول اپنے اندر سویت یونین یا پھر مزدوروں کے بارے میں اور خاص کر اس دور کے بارے میں اتنے حقائق سمیٹے ہوئے ہو گا۔ اس ناول کے پیش لفظ میں اس کی مصنفہ کا ایک اجمالی سا تعارف پیش کیا گیا ہے کہ ویرپانووا 1905 ء میں پیدا ہوئیں، انہوں نے چار ناول، متعدد ناولٹ، افسانے اور ڈرامے بھی لکھے۔ حیرت کی جو بات مجھے کھٹکی وہ ہے ان کی تصانیف کی مجموعی تعداد پچاس لاکھ ہے۔ اس ناول کو لکھنے کا خیال ویرپانووا کو دوسری جنگ عظیم کے دنوں میں آیا مگر مکمل ناول کی صورت میں 1959 ء میں چھپا۔ یاد رہے کہ ویرپانووا کی پہلی کہانی 1944 ء میں جب کہ ان کی پہلی باقاعدہ کتاب 1946 ء میں چھپی۔

Read more

زندگی کی علامت

راستے میں کھڑا کھڑا اسے اتنے برس بیت گئے تھے کہ لوگ اب اس کے وجود کو غیر محسوس طریقے سے قبول کر چکے تھے۔ کیسی قبولیت تھی یہ؟ جیسے ہماری زندگی میں کوئی رشتہ! جس کی اہمیت بہت ہوتی ہے، جس کی ضرورت بھی بہت ہوتی ہے مگر اس ضرورت، اس اہمیت کا ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوتا۔ ہم اسے فار گرانٹڈ لینے لگتے ہیں کہ اس کا یہاں ہونا، یہ کرنا فرض ہے اور ہمارا حق۔ لیکن کیا

Read more