الف غین کی طرح غائب ہونا !

سو شل میڈیا بھی کیا چیز ہے، نت نئی اصطلاحیں سیکھنے اور پڑھنے کو ملتی ہیں۔ ہمارے دوست روف کلاسرا نے سپریم کورٹ کے سامنے خود سوزی کے واقعہ پر اپنے فیس بک پیج پر ایک پوسٹ شائع کی جس پر ان کے کسی چاہنے والے نے بڑا دلچسپ کمنٹ لکھا جس پر میں کافی دیر غور کرتا رہا کہ موصوف اصل میں کیا کہنا چاہتے ہیں۔ اس سماجی ویب سائٹ کے دانشور نے لکھا کہ ”ہمارا ملک اشرافیہ کے لیے ایک چراگاہ بن چکا ہے۔ ایسا لگتا ہے یہاں بھی کوئی رتا انقلاب آنے والا ہے جس کے نتیجے میں یہ حکمران طبقہ الف غین کی طرح غائب ہو جائے گا اور خدا جانے ان کے چاکلیٹ محافظوں کا کیا بنے گا“ ۔

پہلا جملہ کہ ہمارا ملک اشرافیہ کی ایک چراگاہ بن چکا ہے، یہ والی بات تو سمجھ آتی ہے۔ جس کی تازہ مثالیں ای الیون میں پلاٹوں کی بندر بانٹ اور راولپنڈی سرکل روڈ سیکنڈل ہیں۔ ظالموں نے کس بے دردی اور بے رحمی سے ہاتھ مارا ہے اور سادہ عوام کو اربوں روپے کا چونا لگایا۔ لیکن دوسری بات کہ یہاں کوئی رتا (سرخ) انقلاب آنے والا ہے، ان کی یہ گل فشانی ہماری سمجھ سے بالا تر تھی۔ ابھی ہمارے ہاں وہ حالات پیدا نہیں ہوئے کہ یہاں کسی سرخ انقلاب کی توقع کی جا سکے۔ یہاں اب بھی لوگ سمجھتے ہیں کہ وڈا سائیں، چھوٹے میاں صاحب، پیلی پگڑی والی سرکار، محترمہ بی بی صاحبہ، خان جی وغیرہ، یہ سب عوام کے مسیحا ہیں۔

سرخ انقلاب اس وقت آتا ہے جب لوگوں کو امید کی کوئی کرن نظر نہ آئے اور وہ نظام سے بالکل مایوس ہو کر سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ لیکن ابھی ماشاءاللہ، ہمارے ملک میں امید کے کئی ستارے اور استعارے باقی ہیں، پھر بھی کوئی کمی رہ جائے تو لوگوں کے زخم بھرنے کے لیے کبھی کبھی باہر سے بھی حسب ضرورت کچھ جز وقتی قائدین کو حاضر کیا جا سکتا ہے، جو عوام کو ”مبارک ہو، مبارک ہو“ کی پھکی دے کر واپس اپنے مورچے میں جا کر نئی کال کا انتظار کرتے ہیں اور کچھ بھی نہ بن پڑے تو اپنا زوردار مکہ دکھا کر ڈرانے والے بھی ہر وقت طاق میں بیٹھے نظر آتے ہیں۔

کلاسرا جی کی پوسٹ پر سوشل میڈیا کے دانشور کی طرف سے استعمال کی جانے والے سب سے دلچسپ اصطلاح ”الف غین کی طرح غائب ہوجانا“ تھی۔ ہم نے فوراً اردو کی ڈکشنری نکالی اور دیکھنے لگے کہ الف غین کی طرح غائب ہو جانے کا کیا مطلب ہے، لغت کے کئی صفحے کھنگالنے کے بعد ہمیں اپنا اصل مقصود تو حاصل نہیں ہوا لیکن اس سے ملتی جلتی ایک اور ضرب المثل نظر آئی جس سے الف غین والی بات بھی ہمارے پلے پڑی۔

وہ تھی، گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہو جانا یعنی اچانک رفو چکر ہو جانا۔ پھر کچھ دیر ہوا میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کے بعد ہم پر یہ عقدہ بھی کھلا کہ دراصل موصوف کا اشارہ افغانستان کے سابقہ صدر کی طرف تھا۔ جن کے نام کے پہلے لفظ میں الف اور آخری میں غین آتا ہے اور بڑی مہارت کے ساتھ یہ نئی ٹرم ایجاد کی۔

زبان کی ساخت اور اس کی تربیت بھی قدرت کے رازوں میں سے ایک بڑا راز ہے۔ اب دیکھیے ناں اردو میں ایک نئی ضرب المثال کا اضافہ کیسے ممکن ہوا۔ افغانی صدر کا یوں اپنی عوام کو بے یارو مددگار چھوڑ کر اور مبینہ طور پر ڈالروں سے ہیلی کاپٹر بھر کر باہر لے جانے سے ہمیشہ ان کی بزدلی اور کرپشن کی مثالیں دی جاتی رہیں گی۔

خیر الف غین والی بات کو ایک طرف رکھتے ہوئے اور سیاست سے قطع نظر ہم نے گدھے کے سر پر سینگ والی کہانی کا پس منظر سمجھنے کی کوشش کی تو گوگل ہمیں سیدھا روزنامہ جنگ کے اندر بچوں کے سیکشن میں لے گیا جس میں 19 جون 2021 ء کو ایاز قیصر کی لکھی ایک کہانی شائع ہوئی جس کا عنوان تھا۔ ”گدھے کے سر پر سینگ“ ۔

بچوں کے لیے لکھی گئی گدھے والی کہانی، الف غین والی بات سے بڑی مناسبت رکھتی ہے۔ ویسے بھی بچوں کی کہانیوں میں بڑوں کے لیے بڑے سبق ہوتے ہیں۔ آپ خود اس کہانی کو تفصیل اور تسلی سے پڑھ لیں آپ کی آسانی کے لیے اس کہانی کے کچھ حصے اور بعد میں الف غین سے اس کی مماثلت پر اپنا تبصرہ بھی پیش کر دیتا ہوں۔

”پرانے زمانے میں کچھ جانوروں نے ایک جلسہ کیا اور طے کیا کہ وہ دوسرے جانوروں سے الگ ہو کر اپنی سرکار بنائیں گے۔ اس جلسے میں گدھا، شیر، ہاتھی اور خرگوش پیش پیش تھے۔ انہوں نے اپنی ایک چھوٹی سی فوج بنا لی۔ اس فوج کا کمانڈر ایک گدھے کو بنایا گیا۔ وہ بہت عقل مند سمجھا جاتا تھا، اسی لیے ہاتھی یا گینڈے کی بجائے اسے سرداری دی گئی۔ اس گدھے کی ایک خاص بات یہ تھی کہ اس کے سر پر کان سے اوپر نوکیلے سینگ لگے ہوئے تھے۔ جنگل کے تمام جانور گدھے کے نوکیلے سینگوں سے ڈرتے تھے۔ گدھا، شیر کے بہت سارے کام کرتا تھا۔

۔ ایک دن جنگل کے سارے جانور اکٹھا ہو کر شیر کے پاس خود گئے اور اس سے کہا کہ اگر گدھے کو لگام نہ دی گئی تو وہ سب یہ علاقہ چھوڑ کر کسی اور علاقے میں اپنا ٹھکانہ بنا لیں گے۔ اب تو شیر کو بہت غصہ آیا اور اس نے گدھے کی گرفتاری کا حکم جاری کر دیا۔ گدھے کو گرفتار کر کے شیئر کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس نے حکم دیا کہ گدھے کے سینگ جڑ سے کاٹ دیے جائیں۔ پھر کیا تھا، زرافہ کو اپنی دشمنی نکالنے کا موقع مل گیا۔

اس نے اپنی لمبی لمبی ٹانگوں سے گدھے کو جکڑ لیا جب کہ لومڑی اور ریچھ سمیت تمام جانوروں نے اس پر حملہ کر کے اس کے سینگوں کو جڑ سے اکھاڑ دیا۔ گدھا تکلیف کی شدت سے بے ہوش ہو گیا۔ جب اسے ہوش آیا تو اس کے سر سے سینگ غائب ہو گئے تھے جن پر غرور کرتے ہوئے اس نے تمام جانوروں کی زندگی اجیرن بنا دی تھی۔ اس دن سے لے کر آج تک گدھے کے سر پر سینگ نہیں اگے۔ ”

قارئین سے گزارش ہے وہ اس کہانی سے خود مطلب اخذ کر لیں مگر چند الفاظ اور جملے ایسے ہیں جن پر غور کرنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں بھی کچھ ایسی صورت حال بنتی دکھائی دیتی ہے، یہاں بھی کچھ لوگوں نے مل کر اپنے اپنے مافیاز بنا رکھے ہیں، جنہیں آپ بر سر اقتدار قوتیں کہیں یا اپوزیشن کی جماعتیں، یہاں بھی کسی ببر شیر کی چلتی ہے جس سے سب ڈرتے ہیں، وہ جب چاہے جس کے چاہے سینگ غائب کرنے کا حکم صادر فر ما دے۔

اور آخر میں چاکلیٹ محافظوں والی بات تو اس پر زیادہ بات کرنا مناسب نہیں کیونکہ وہ تو پہلے ہی افغانستان چھوڑ کر جا چکے ہیں، اب جانے والوں پر انسان کیا تبصرہ کرے ہاں یاد رہے کہ یہ چاکلیٹ والا جملہ جنرل حمید گل مرحوم نے امریکہ کی فوج کے بارے میں کہا تھا کہ ان کی لش پش اور سیکورٹی گیجٹس بس ایک دکھاوا ہیں۔

کاش جنرل صاحب زندہ ہوتے اور اپنی آنکھوں سے دیکھتے کہ افغانستان کی فوج، چاکلیٹ آرمی سے زیادہ نکمی ثابت ہوئی اور وقت آنے پر ایسی غائب ہوئی کہ شاید انہوں نے دنیا میں تیز ترین غائب اور فرار ہونے والی فوج کا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا جس کا سربراہ الف غین ان سے بھی پہلے نو دو گیارہ ہو گیا اور ہمیں ایک نئی اصطلاح سننے کو ملی، الف غین کی طرح غائب ہونا!

Comments - User is solely responsible for his/her words