طالبان کوتنہا نہ ہونے دیا جائے!

ہم جانتے ہیں کہ افغانستان میں مغربی ممالک کی کٹھ پتلی حکومت کے راتوں رات ہوا میں تحلیل ہو جانے پر امریکہ شرمسار ہے، مغربی ممالک ششدر ہیں، بھارت میں صف ماتم بچھی ہے اور پاکستان میں مغرب زدہ لبرل اور کچھ متروک بائیں بازو کے اکا دکا انتہا پسند پہلے سے زیادہ چڑچڑے پن کا شکار ہیں۔ جبکہ حال ہی میں پاکستانی پختونوں کے تحفظ کے نام پر جنم لینے والا گروہ، اشرف غنی ٹولے اور امریکی امداد پر پلنے والی افغان نیشنل آرمی کے دھوپ میں رکھی برف کی طرح پگھل جانے کے بعد بے سرو سامانی کے عالم میں شکست و ریخت کا شکار ہے۔

گزرے دو روز میں ہمارے ہاں دو شخصیات دنیا سے رخصت ہوئیں ہیں۔ ادھر ’ہم پاکستانی اور پاکستان ہمارا ہے‘ کی صدائے مستانہ پکارنے والے سید علی گیلانی سبز ہلالی پرچم میں لپٹے تو ادھر کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں سردار عطا اللہ مینگل نے وفات پائی۔ خدا ہر دو کی مغفرت فرمائے۔ سردار صاحب بلوچستان کے وزیراعلیٰ بنے تو پولیس کے سرکاری اسلحہ خانوں سے 200 بندوقیں اپنے ذاتی لشکر کو دیے جانے کا حکم دیا۔ (تفصیلات ڈاکٹر فتح محمد ملک کی کتاب Islam versus Isalm میں دیکھی جا سکتی ہیں ) ۔

بغاوت اور سرکشی پر آمادہ لشکر کی سرکوبی کے لئے بھٹو صاحب نے فوج بھیجی تو سرکاری اسلحہ خانہ سے اٹھایا گیا اسلحہ بھی ’قومی مزاحمت‘ میں کام آیا ہوگا۔ پنجاب سے چند امیر زادے ’پراریوں‘ کے ساتھ مل کر فوج سے لڑنے کو پہاڑوں پر پہنچے تو سخت کوششوں کی تفریح طبع کا سبب بنے۔ انہی میں سے ایک صاحب آج ایک مشہور تجزیہ کار ہیں اور تفریح طبع کا سامان ہی کرتے ہیں۔ بے پر کی ’چڑیا‘ اڑاتے ہیں۔ لگ بھگ پچاس سال بعد مگر اب ’چڑیا‘ تنہا نہیں ہے۔

ایک منظم نیٹ ورک کا حصہ ہے کہ جس کے کارندے مغربی نشریاتی اداروں کی اردو نشریات والوں کے ساتھ مل کر ایڑی چوٹی کا زور پاکستان کو ایک ایسا ملک ثابت کرنے پر لگا رہے ہیں جو جمہوریت، آئین و قانون کی حکمرانی اور سویلین بالا دستی سے کوسوں دور ہے۔ جہاں عورتیں اور اقلیتیں غیر محفوظ ہیں۔ طالبان کے آنے کے بعد اب اس نیٹ ورک کے کارندے افغانستان میں عورتوں کے یکا یک غیر محفوظ ہو جانے کا واویلا کر رہے ہیں۔ کشمیری عورتوں کی عصمت و حرمت ان کے ہاں کچھ اہمیت نہیں رکھتی۔ بھارت کے قیدی سید علی گیلانی کی رحلت پر ایک حرف تعزیت میں نہیں لکھا گیا۔ یہی نہیں، طالبان کے باب میں بھی یہ نیٹ ورک بھارت کا ہم زبان ہے۔

بھارت کی خواہش ہے کہ امریکہ طالبان کو تنہا چھوڑ دے۔ اگرچہ امریکیوں کی تعلیم و تربیت کا بنیادی محور اندرونی (Domestic) معاملات ہی رہتے ہیں تاہم ایک سے بڑھ کر ایک تعلیمی ادارہ مگر ان کے ہاں موجود ہے۔ کیا دنیا کی بہترین امریکی یونیورسٹیوں میں قوموں کی تاریخ نہیں پڑھائی جاتی؟ ہمارے ملکوں میں مخصوص سیاسی خاندانوں، فوجی آمروں، اشرف غنی جیسے کرداروں، انتہا پسند لبرلز، مرکز گریز گروہوں اور بھارت جیسے ملکوں کی پرورش میں ہی کب تک خطے کے اندر اپنے مفادات کی آبیاری ڈھونڈتے رہیں گے؟

طالبان کا ماضی کچھ بھی ہو، ضرورت اس امر کی ہے کہ اب دنیا انہیں تنہا نہ چھوڑے۔ نوے کے عشرے میں افغانستان پر قابض طالبان سے متعلق بدگمانیاں اپنی جگہ درست ہیں۔ تاہم ماضی نہیں اب مستقبل پر نظر رکھنے کے ضرورت ہے۔ ایک قومیe) (Inclusivحکومت کی تشکیل اور ملک میں امن و امان کی بحالی کے لئے طالبان کے وعدے پر اعتبار اور اس باب میں ان کی مدد کرنے میں ہی خطے کا بھلا ہے۔

کٹھ پتلی افغان حکومت گزشتہ بیس برسوں سے مغربی ممالک اور آئی ایم ایف کی امداد کے سر پر چل رہی تھی۔ آج صورت حال یہ ہے کہ بیرونی امداد منجمد ہو جانے کے بعد کابل میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی میں مشکلات ہیں۔ بنک کھاتہ داروں کو بیس ہزار افغانی سے زیادہ کی ادائیگی نہیں کر رہے۔ صورت حال مزید بگڑتی ہے تو مالی وسائل کے لئے انحصار سمگلنگ اور ڈرگ منی پرہی بڑھے گا۔ سرکاری اداروں کو چلانے کے لئے تربیت یافتہ افرادی قوت کی ضرورت ہے مگر ایک منظم منصوبے کے تحت ہنر مند افغانیوں کو مغربی ممالک میں پناہ کے خواب دکھائے جا رہے ہیں۔

تاثر دیا جا رہا ہے کہ عام افغانی طالبان سے خوفزدہ ہے۔ اس ماحول میں اب افغان ڈاکٹرز، انجینئرز اور معیشت دانوں کی ذمہ داری ہے کہ سر سبز چراگاہوں کی جانب بھاگنے کی بجائے اپنے ملک کا نظم و نسق سنبھالنے کو آگے بڑھیں۔ پڑھے لکھے افغانیوں کو رونا دھونا بند کر کے اب اوروں پر نہیں خود اپنے دست و بازو پر بھروسا کرنا ہوگا۔ ضرور افغانستان غیر ملکی طاقتوں کا قبرستان رہا ہے، لیکن نسل در نسل کیا افغانیوں کے نصیب میں بھی زندہ در گور جینا ہی لکھا ہے؟

طالبان کو یاد رکھنا ہو گا کہ علاقہ فتح کرنا ایک واقعہ ہے۔ مفتوحہ علاقوں کا نظم و نسق مگر یکسر مختلف معاملہ ہے۔ ایک اندازہ ہے کہ دنیا کے کئی ممالک طالبان سے معاملہ کرنے کو آمادہ ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ بھارت جہاں اشرف غنی حکومت تحلیل ہونے کے بعد ہیجان برپا ہے، وہاں بھی طالبان سے تعلقات کار قائم کرنے کی سوچ پنپ رہی ہے۔ تاہم دنیا طالبان کے رویوں کو ابھی بغور دیکھ رہی ہے۔ خدشات بے شمار ہیں اور بے جا نہیں ہیں۔

طالبان کو ایک ایک قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہو گا۔ آج ہی کشمیر کے مسلمانوں کی حمایت میں دیے گئے بیان کے ساتھ ہی طالبان نے کسی ملک کے خلاف عسکری کارروائیوں کے امکانات کو رد کرتے ہوئے دانشمندی کا مظاہرہ کیا ہے۔ توقع یہی ہے کہ طالبان کی وضاحت کے باوجود کشمیریوں سے متعلق ان کے حالیہ بیان کو بھارت میں خوب اچھالا جائے گا۔ ضرورت ہے کہ پاکستان کے اندر وہ طبقہ جو کشمیر کی آزادی کا خواب اب طالبان کی مسلح کارروائیوں کی صورت میں دیکھ رہا ہے، اپنی گفتگو میں ہوشمندی کا مظاہرہ کرے۔

اندازہ یہ بھی ہے کہ طالبان کے ماضی سے جڑے تمام تر خدشات کے باوجود ان سے متعلق ہمسایہ ممالک بالخصوص پاکستان کے اندر عمومی طور پر خیر سگالی کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ تاہم طالبان کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ کسی بھی گروہ کو افغانستان کی سر زمین کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔ خود کو ’پختونوں کے تحفظ‘ پر مامور کرنے والے عناصر جو کچھ سال پہلے پاکستانی سر زمین پر امریکی ڈرون حملوں کا خیر مقدم کیا کرتے تھے، اب افغانستان میں ویسے ہی حملوں کی مذمت کر رہے ہیں۔ حال ہی میں بے آسرا ہو جانے والے اس گروہ کی حالت قابل دید ہے۔ تاہم آنے والے دنوں میں اگر بھارت کے ایماء پران مرکز گریز پاکستان مخالفوں اور عسکریت پسند مذہبی جتھوں کے مابین ’پاک افغان سرحد‘ سے متعلق سوچ ہم آہنگ ہو جاتی ہے تو بد امنی کے ستائے اس خطے کی یہ بہت بڑی بد نصیبی ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words