مذہبی اداروں میں بچوں پر جنسی تشدد

مذہب کوئی بھی ہو، جنسی تشدد نہیں روک پا رہا۔ برطانیہ کے مذہبی اداروں میں بچوں پر جنسی تشدد پہ آزادانہ رپورٹ سامنے آئی ہے۔ برطانیہ کے ایک ادارے نے، جو بچوں پر جنسی تشدد پر تحقیق کرتا ہے، کہا ہے کہ مذہبی ادارے بچوں پر جنسی تشدد کو روکنے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ اس رپورٹ میں بے شمار خوفناک حقائق بیان کیے گئے ہیں۔ اور اسے بی بی سی نے اپنی لیڈنگ اسٹوری کے طور پر پیش کیا ہے۔

اس ادارے نے مختلف مذاہب کے 38 مذہبی گروہوں پر تحقیق کی ہے جس میں عیسائیت، یہودیت، سلام، ہندوازم اور سکھ ازم نمایاں ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق تمام مذہبی راہنما، منافقت اور شرمناک طریقے سے بچوں پر ہونے والے جنسی تشدد کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ان کے کرتا دھرتاؤں کا یہ بھیانک چہرہ سامنے نہ آنے پائے اور ان کی ساکھ بھی متاثر نہ ہو۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مذہبی اداروں جہاں بچے زیر تعلیم ہوتے ہیں وہاں اگر جنسی تشدد کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اسے، مجرمانہ کئی طریقے سے دبا دیا جاتا ہے۔ ان طریقوں میں سب سے پہلا حربہ victim blaming کا ہے کہ جنسی تشدد کے شکار بچے کو بجائے اس ٹروما سے نکالنے کے، الٹا اسی پر جنسی تشدد کا الزام لگا دیا جائے یا اسے اس علت کا پہلے سے عادی قرار دے دیا جائے۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس مسئلے کو زیربحث ہی نہ لایا جائے یا سے انتہائی معمولی قرار دے کر اس پر توجہ ہی نہ دی جائے، مجھے یاد ہے ایک دفعہ میں اپنے عزیز دوست جو ایک مدرسے میں نائب مہتمم مدرسہ بھی ہیں، کے پاس بیٹھا تھا کہ ان کے پاس تین چار مدرسے کے طالب علم، دو دیگر نوبالغ طلبا کو گھسیٹتے ہوئے لائے اور میرے دوست مولانا سے کہا ”قاری صاحب اے دونویں پھڑے گئے جے۔“ (قاری صاحب یہ دونوں رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں ) ۔

قاری صاحب نے پہلے خجالت سے مجھے دیکھا پھر چھڑی اٹھا کر دونوں کو چار چار ڈنڈے رسید کیے ، برا بھلا کہا اور پھر دوڑ جانے کو یہ کہہ کر کہا کہ اب اگر یہ حرکت کی تو کھال اتار دوں گا۔ اور پھر کوسنے لگے کہ یہ قوم کبھی نہیں سدھر سکتی۔ یہ تو واقعہ ہے مدرسے کے دو بچوں کا جن کے آپسی تعلقات تھا۔ جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر کسی مذہبی ادارے کا استاد، بچوں سے جنسی تشدد میں مبتلا بھی ہو تو کسی کی بھی جرات نہیں ہوتی کہ زبان کھولے۔

پاکستان میں تو بے شمار مثالیں ہیں مگر ہم مسلک مولوی فوراً اپنے مذہب کی ساکھ کو بچانے کے لیے اس مولوی صاحب کے گھناؤنے جرم کو چھپانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں جس کی تازہ ترین مثال مفتی عزیز صاحب کی ہے۔ میں ذاتی طور پر دو تین عظیم مذہبی راہنماؤں کو جانتا ہوں جو سفید ریش کے ساتھ بارعب طریقے سے ٹی وی پر تقویٰ پر لیکچر دے رہے ہوتے ہیں مگر اپنے اپنے مدارس میں بچوں یا بچیوں پر جنسی تشدد میں ملوث ہیں مگر کوئی ان کے خلاف آواز اٹھانے کی جرات نہیں کر سکتا۔

اسی رپورٹ میں جنسی تشدد کے کئی اور پہلو بھی بیان کیے گئے ہیں جیسے کہ مذہبی اداروں میں مرد لیڈر شب غالب ہوتی ہے، اور کسی بھی جنسی تشدد کے واقعے پر، غیر جانبدار ایجنسی یا تحقیق کاروں پر عدم اعتماد کے ساتھ ساتھ ان کو قریب بھی نہیں بھٹکنے دیتے۔ اور ایک عنصر جسے مذہبی عناصر بے دریغ استعمال کرتے ہیں وہ ہے، ”چلو مٹی پاؤ“ ”معاف کر دیں“ ، ”غلطی ہو گئی“ ۔ آئندہ ایسا نہیں ہوگا اور پھر اس مسئلے کو دبا دیا جاتا ہے اور حقیقت میں دیکھا جائے تو اسی وجہ سے سنگاگ ہو یا چرچ ہو یا مدرسہ کہیں سے بھی شاید ہی کسی جنسی تشدد کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ جبکہ یہ ”مٹی پاؤ“ رویہ سب زیادہ خوفناک رویہ ہے اور یہی جڑ ہے جنسی تشدد کے مزید فروغ کی۔

اب جس طرح ان مذہبی اداروں میں جنسی تشدد کو بھونڈے طریقے سے دبایا جاتا ہے تاکہ مذہب کی ساکھ، تقویٰ اور عظمت نہ کم ہونے پائے، اس سے جنسی درندوں کو کھل کھیل کا موقع مل جاتا ہے۔ ایسے جنسی درندوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اسے کسی خاص مذہب یا مسلک سے جوڑا جاسکتا ہے۔

اگرچہ یہ لطیفہ تو عام سنایا جاتا ہے کہ اپنے بچے کو کسی بھی مسلک کے مدرسے میں داخل کروائیں ان کا ہر دوسرے مسلک سے یقیناً ہر بات پر اختلاف ہے مگر جنسی تشدد پر سب متفق ہیں۔

یاد رہے کہ یہ رپورٹ برطانیہ میں موجود مذہبی اداروں پر تحقیق کے نتائج پر مبنی ہے۔ اور اس رپورٹ کے جواب میں یہودی، عیسائی اور مسلمان نمائندوں نے اس بات کا سختی سے اعادہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور اسے نظر انداز نہیں کرتے۔

اب آپ اپنے ملک پاکستان پر نظر دہرائیں کہ ہم اسے کتنا سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ سنجیدگی تو دور کی بات، کیا کسی غیر جانبدار تحقیقی ادارے کو مدرسے میں رسائی حاصل ہے؟ اور اگر ہو بھی جائے تو بقول محمد حنیف کے آیا کوئی ماننے کو تیار ہوگا کہ وہ ایسا کام کرتا ہے؟ بلکہ زور دے کر کہے گا کہ کوئی مسلمان تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتا۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words