عورتوں کی تصاویر پر سیاہی اور پاکستان میں اس کے اثرات

افغانستان اس وقت طالبان کے زیر کنٹرول ہے۔ پنجشیر واحد صوبہ ہے جو ابھی تک مزاحمت کر رہا ہے۔ اور اس بات کے امکان موجود ہے طالبان بندوق کے زور پر اس کا بھی کنٹرول حاصل کر لیں۔ اشرف غنی اور امریکہ دونوں ہی ایک قابل عمل اور با وقار انتقال اقتدار میں بری طرح ناکام رہے۔ گو کہ ابھی حکومت کا اعلان ہونا باقی ہے لیکن بچہ بچہ جانتا ہے کہ افغانستان نے حکمران کون ہوں گے۔ یوں تو طالبان نے عام معافی کا اعلان کیا ہوا ہے اور بظاہر اس پر عمل بھی ہو رہا ہے لیکن کبھی کسی میوزک ادارے کی بندش کی خبر آ جاتی ہے اور کبھی مخالفین کو پکڑنے کی۔

اس سارے عمل میں سب سے نقصان شاید خواتین کو اٹھانا پڑے جو یہ سمجھ بیٹھی تھیں کہ ان کے خواب شرمندہ تعبیر ہونے والے ہیں۔ پچھلے دو دن میں سوشل میڈیا پر کچھ ایسی وڈیوز منظر عام پر آئی ہیں جس سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ خواتین کسی طور بھی آنے والی حکومت سے اچھے کی امید نہ رکھیں۔ بیوٹی سیلون اور گلیوں میں سجی خواتین کی تصاویر پر سپرے کر کے سیاہ کر دیا گیا ہے۔ ہمارے ہاں ”منہ کالا ہونا“ بہت خطرناک معاشرتی محاورہ ہے اور اس کے اثرات خواتین کی زندگی کو اجیرن کرنے کے ساتھ ساتھ موت کے منہ میں دھکیل دیتے ہیں۔ لہذا اس عمل کی علامتی اہمیت اور شدت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

کم از کم افغانستان کی حد تک تو خواتین کے لئے یہ واضح پیغام ہے کہ گھر بیٹھ جائیں اور امور خانہ داری کو ہی اپنا پیشہ سمجھیں۔ اطلاعات کے مطابق مقامی خواتین احتجاج بھی کر رہی ہیں اور حکومت میں اپنی نمائندگی کا مطالبہ بھی کر رہیں ہیں لیکن لگتا نہیں کہ وہ حکومت میں نمائندگی حاصل کر سکیں۔ تاریخی طور پاکستان اور افغانستان دونوں کے حالات ایک دوسرے پر گہرے اثرات مرتب کرتے آئے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب کی بار افغانستان کے بدلتے حالات، پاکستانی معاشرے پر کیا اثر چھوڑتے ہیں۔

ان میں قابل ذکر معاشرتی تبدیلی خواتین کے حوالے سے ہو گی۔ کیونکہ ہماری مذہبی سیاسی جماعتیں اور ایک خاص مکتب فکر کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ”طالبان کی شریعت“ کی تشریح عین اسلامی اصولوں کے مطابق ہے اور پاکستان میں بھی اسے لاگو ہونا چاہیے۔ قوی امکان ہے کہ پاکستان میں ایک مرتبہ پھر خواتین کے معاشرتی کردار پر بات کی جائے گی اور کوشش کی جائے گی کہ ان کو چار دیواری تک محدود کر دیا جائے۔ یہ کام اتنا سہل اور آسان نہیں لیکن اس مطالبے کے نتیجے میں پاکستان میں عدم برداشت اور تشدد بڑھنے کے امکانات موجود ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اور حکومت ان اثرات کو قبول کرتی ہے یا اس قسم کی تبدیلی کے خلاف مزاحمت کا راستہ اپنایا جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے ایک ایسا ملک جہاں ہر سال ایک ہزار سے زیادہ خواتین غیرت کے نام پر قتل کر دی جاتی ہیں، جہاں خواتین تو خواتین کم سن بچیاں بھی درندگی نشانہ بنتی ہیں اور تو اور قبر میں بھی محفوظ نہیں، ایسا معاشرہ خواتین کے حقوق کا دفاع کر پائے گا۔ ہمارے معاشرے میں خواتین کی تعلیم کو اب بھی معیوب سمجھا جاتا ہے کہ کہیں پڑھ لکھ کر وہ طاقتور اور با اختیار نا بن جائے۔

صنفی مساوات کے اشاریے بھی یہی بتا رہے ہیں کہ ہم نیچے سے اول آنے والے ہیں۔ یہ تمام ایسے اعداد و شمار ہیں جن سے یہ خدشہ بڑھ جاتا ہے کہ افغانستان میں ہونے والی تبدیلی کے اثرات ہمارے معاشرے کی خواتین پر نا صرف منفی ہو سکتے ہیں بلکہ نہایت تکلیف دہ اور مشدد بھی ہو سکتے ہیں۔ لیکن اس تمام صورتحال کا دار و مدار ہمارے معاشرے کے اجتماعی شعور اور حکومت کی حکمت عملی پر ہے کہ وہ اس ”سیاہی“ سے اپنے معاشرے کی خواتین کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words