منہ توڑ دلیل

بتایا جا رہا ہے کہ ملک ترقی کی تاریخی بلندی پر جا پہنچا ہے۔ اس ضمن میں ایک تابڑ توڑ دلیل بھی دی گئی ہے۔ دلیل یہ ہے کہ اس سال موٹر سائیکلوں کی ریکارڈ فروخت ہوئی ہے جو ملکی ترقی کی صادق دلیل ہے۔ میں نے جب اس دلیل کا شہابے مستری سے تذکرہ کیا تو اس نے کہا : اگر ترقی کی یہی رفتار رہی تو اگلے سال سائیکلوں کی خریداری عالمی ریکارڈ قائم کرے گی۔ ویسے اگر بادشاہ سلامت کے پاس بزرجمہر ہوتے تو ترقی کی دلیلیں اور بھی دی جا سکتی تھیں مثلا پاکستان میں چینی کا فی کس استعمال ایشیا میں سب سے زیادہ ہے، یہ ترقی کی دلیل نہیں تو اور کیا ہے؟

اسی طرح اگر روزانہ خریدے جانے والے آٹے اور دوا وغیرہ کے اعداد و شمار بھی ذکر کر دیے جاتے تو ترقی کی شرح مزید معتبر ہو سکتی تھی۔ میں نے پوچھا:پچھلے سال کار والا اس سال موٹر سائیکل پر آ گیا ہے اور یہ ترقی کی دلیل ہے لیکن اگر یہی موٹر سائیکل والا اگلے سال سائیکل پر آ گیا تو یہ کس کی دلیل ہو گی؟ شہابے نے کہا: اگلے سال کی اگلے سال دیکھی جائے گی۔

ویسے اللہ اسے کسی نظر بد سے بچائے ورنہ اس سے پہلے پٹواریوں نے کسی کامیابی کو بلندیوں پر کب ٹکنے دیا ہے؟ تین سالوں میں بارہا سنا کہ فلاں میدان میں کارکردگی سب سے اونچی جگہ جا بیٹھی ہے۔ بڑی کوشش کی کہ نظر آئے لیکن دیکھنے سے محروم رہے۔ سوچا شاید نظر کمزور ہو۔ ڈاکٹر سے معائنہ کرایا تو نظر ٹھیک تھی۔ اسی شش و پنج میں فیکو کی ہوٹل پر چائے پیتے غور جاری تھا کہ شہابا مستری میرے پاس آ بیٹھا۔ اس نے پوچھا: کس سوچ میں ہو؟

اسے سارا ماجرا بتایا تو اس نے گرم گرم چائے کا دھواں پھونک سے فضا میں اڑاتے ہوئے پوچھا: میاں! تم اس وقت کہاں بیٹھے ہو؟ میں نے جواب دیا : ہوٹل میں۔ اس نے زور سے سر ہلایا اور پھر سوال داغا :اور یہ ہوٹل کہاں ہے؟ میں نے زچ ہو کر جواب دیا : زمین پر اور کہاں؟ اس نے میری بات کا برا منائے بغیر کہا: یہ چیز برخوردار! تم بیٹھے ہو زمین پر اور جس کارکردگی کو ڈھونڈ رہے ہو وہ ہے تاریخی بلندی پر، جو چیز اتنی بلندی پر ہو بھلا زمین سے چھوٹے قد اور تنگ نظروں کو کب نظر آئے گی؟ اگر تمہیں وہ صادق اور امین کارکردگی دیکھنی ہے تو اس کے لیے اوپر جانا پڑے گا۔ اس نے لفظ ”اوپر“ پر زور بھی دیا، لہجہ بھی عجیب بنایا اور اشارہ بھی کچھ ایسا کیا کہ میرے رگ و پے میں سردی سی اتر گئی۔

پھر سوچا کہ شکر ہے کہ پاکستان میں پہلی بار ایسی حکومت ”لائی“ گئی ہے کہ گری پڑی چیزوں کو بھی اونچا کر رہی ہے۔ ورنہ پہلے تو پاکستان کا جھنڈا ہی بس اکیلا اونچا لہراتا رہتا تھا۔ مقام شکر ہے کہ اب اسے اکیلا نہیں رہنا پڑے گا۔ اشیائے خورد و نوش سمیت متعدد چیزیں بڑی تیزی سے اوپر جا رہی ہیں۔ مزید شکر ہے کہ ان کے اوپر جانے کی سپیڈ اتنی ہے کہ کسی کو اس کی لائٹ بھی نظر نہیں آ رہی۔ ایسا نہیں ہے کہ ان چیزوں کی سپیڈ کی لائٹ نہیں ہے بلکہ حقیقت یوں ہے کہ لائٹ اتنی زیادہ ہے کہ سبھی کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھائے جا رہا ہے۔

میں تو پہلی بار دیکھ رہا ہوں کہ پیمانہ بھی غریب کی جانب زیادہ جھکا ہوا ہے ورنہ اس سے پہلے توجہ صرف امیروں کی جانب ہوتی تھی۔ صرف گاڑیوں اور گھریلو تعیش کی چیزیں اوپر جاتی تھیں جبکہ روٹی پانی، دال دلیا، کھانے پینے اور دوا دار و جیسی عام سی چیزیں بس ترستی ہی رہتی تھیں کہ کاش ہمیں بھی کوئی اوپر لے جائے۔ بلکہ غریب بھی سوچتے تھے کہ اگر ہمارے استعمال کی چیزوں کی ویلیو ہوتی تو وہ بھی اوپر جاتیں۔ یہ ساری حکومتیں مافیا ہیں جو صرف امیروں سے متعلقہ چیزوں کو ہی اوپر کرتی ہیں۔ شکر ہے کہ اس حکومت نے غریبوں کے اس شکوے کو دور کیا اور اب نہ صرف ان کے استعمال کی چیزیں بلکہ وہ خود بھی بڑی تیزی سے اوپر جا رہے ہیں۔ یہ اوج بھی کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے۔

کوئی مانے یا نہ مانے لیکن مجھے تو اس بات پر پورا یقین ہے کہ جتنا کام پنجاب میں ہو رہا ہے اتنا کام پورے پاکستان میں نہیں ہو رہا مگر اس کی تشہیر نہیں ہو رہی۔ نئے پاکستان سرزمین ذہن میں بننے والی نئی یونیورسٹیوں کی یوتھ کے لیے یہ بات علم و دانش کا مکمل انسائیکلوپیڈیا ہے۔ میں اس پر کیا بات کروں بس اتنی سی گزارش ہے کہ ہم نے تشہیر کرنی بھی نہیں ہے۔ ابھی تو ہم پچھلی حکومت کے منصوبوں کی تختیاں اتار کر ان کی جگہ اپنی تختیاں لگانے میں مصروف ہیں۔

چونکہ ہم اوروں کا کام پہلے اور اپنا کام بعد میں کرے ہیں، اس لیے جب ان کی تختیوں کا کام تمام کر لیں گے تو اپنی تشہیر بھی کر لیں گے۔ بلکہ اس سے پہلے بھی ایک ضروری کام ہمسایہ دشمن ملک کا نبٹانا ہے اور وہ یہ ہے کہ کارکردگی کے نام پر ان کی تصویریں بھی اپنے نام کرنی ہے۔ وہ دور گیا جب دشمن ملک کی معلومات چرا کر اپنے نام کی جاتی تھیں، اب نیا پاکستان ہے تو اس کے ضابطے بھی نئے ہوں گے۔ انہیں کانوں کان خبر بھی نہیں ہو گی اور ہم ان کی تصویریں لے اڑیں گے۔ کوئی غدار ہی ہو گا جو اس خفیہ معاملے کو لیک کرے گا کہ ہم نے ان کی تصویروں پر اپنے ٹھپے لگا لیے ہیں۔ ہم نے نشان دہی کر دی ہے، اب ان غداروں کو پہچاننا تمہارا کام ہے۔ جب تک آپ ان غداروں کو پہچانیں، تب تک میں آپ کے لیے کوئی نیا لولی پاپ ڈھونڈتا ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words