پنجشیر پر قبضے کا دعویٰ، کابل میں طالبان کے جشن مناتے ہوئے ہوائی فائرنگ سے 17 افراد ہلاک

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں بعض طالبان جنگجوؤں کے پنجشیر کا کنٹرول سنبھالنے کے دعوے کے بعد کابل میں ہوائی فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا جس کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

طالبان کے مخالف قومی مزاحمتی محاذ نے پنجشیر پر طالبان کے قبضے کی تردید کی ہے۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق جمعے کو پنجشیر پر قبضے کا جشن مناتے ہوئے کابل میں کی جانے والی ہوائی فائرنگ سے 41 زخمی بھی ہوئے تھے جن کو مقامی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

صوبہ ننگر ہار کے دارالحکومت جلال آباد میں قائم اسپتال کے ترجمان گل زادہ سانگر کے مطابق کم از کم 14 افراد جشن مناتے ہوئے کی جانے والی ہوائی فائرنگ سے زخمی ہوئے۔

طالبان کی طرف سے پنجشیر پر قبضے کے دعوے کے بعد کی جانے والی فائرنگ پر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی سخت تنقید کی۔

ذبیح اللہ مجاہد کا ایک ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ ہوائی فائرنگ سے اجتناب کریں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ فائرنگ سے عام شہریوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے لہٰذا غیر ضروری فائرنگ سے نہ کریں۔

پنجشیر میں صورتِ حال

افغانستان کے صوبہ پنجشیر پر جمعے کی رات کو طالبان کے دو اطراف سے حملہ کرنے کے بعد ہفتے کو صورتِ حال کشیدہ ہے۔

طالبان کے ملٹری کمیشن کے سربراہ ملا محمد یعقوب نے ایک آڈیو پیغام میں پنجشیر پر طالبان کے قبضے کی تردید کی اور طالبان جنگوؤں کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے جشن مناتے ہوئے فائرنگ کی تو انہیں شریعہ کورٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تاہم طالبان نے پنجشیر میں آگے بڑھنے اور پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔

طالبان کے خلاف سرگرم احمد مسعود کی سربراہی میں لڑنے والے قومی مزاحمتی محاذ کی طرف سے گزشتہ رات کے دوران کسی بھی ضلع پر طالبان کا قبضہ کیے جانے کی تردید کی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ بغلان صوبے کے ضلع اندراب میں واقع خواک پاس پر کیے جانے والے حملے کے نتیجے میں درجنوں طالبان ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

طالبان کی طرف سے احمد مسعود کے اس دعوے پر مؤقف نہیں دیا گیا۔ تاہم پروان صوبے کے گل بہار علاقے سے موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق طالبان نے مزید جنگجو روانہ کیے ہیں اور وہ پنجشیر پر ایک اور حملے کی تیاریوں میں ہیں۔

احمد مسعود کا اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہنا ہے کہ لوگ کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پنجشیر اور ہرات میں ہونے والا خواتین کا احتجاج ثبوت ہے کہ وہ اپنے قانونی مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

پنجشیر پر قبضہ طالبان کا ہدف کیوں؟

افغانستان کے بیشتر حصوں پر کنٹرول کے باوجود وادیٴ پنجشیر ایک ایسا علاقہ ہے جہاں اب تک طالبان کی عمل داری قائم نہیں ہو سکی۔

رپورٹس کے مطابق سابق جنگجو کمانڈر احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود کی سربراہی میں ‘افغانستان کے قومی مزاحمتی محاذ’ نے طالبان کی پیش قدمی روک دی ہے۔

طالبان کے سابقہ دور میں بھی ان کو، جب احمد شاہ مسعود حیات تھے، کبھی وادی پنجشیر پر کنٹرول حاصل نہیں ہو سکا تھا۔ تاہم گیارہ ستمبر 2001 کے امریکہ میں حملوں سے چند روز قبل القاعدہ کے ایک حملے میں احمد شاہ مسعود کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں صورتِ حال میں وہ تبدیلی آئی جس کے نتیجے میں طالبان کی اس وقت کی حکومت ہی ختم ہو گئی۔

مبصرین کے مطابق اس وقت بھی کم و بیش وہی صورتِ حال بن رہی ہے اور اس بار احمد شاہ مسعود کی جگہ ان کا بیٹا احمد مسعود مزاحمت کی قیادت کر رہے ہیں۔ تاہم دوسری جانب طالبان کے ساتھ براہِ راست اور بالواسطہ مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو جنگ بھی ہو سکتی ہے کیوں کہ ایک جانب تو طالبان نے وادی کو محاصرے میں لے رکھا ہے اور دوسری جانب وادی کے اندر مزاحمت کی تیاریاں بھی مکمل ہیں۔ مزاحمتی فرنٹ کے ترجمانوں کے بقول وہ جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words