‘ڈی جی آئی ایس آئی صورتِ حال کا جائزہ لینے کابل گئے ہیں’

پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری (فائل فوٹو)

پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل فیض حمید سے قبل امریکہ، ترکی اور قطر کے انٹیلی جنس حکام بھی افغانستان کے دورے کر چکے ہیں۔ لہٰذا جنرل فیض کے دورے پر پروپیگنڈا غیر ضروری ہے۔

اتوار کو لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ دیگر علاقائی قوتوں کی طرح پاکستان بھی افغانستان کے معاملات میں اسٹیک ہولڈر ہے۔ کیوں کہ اگر افغانستان دہشت گردی کا گڑھ بنتا ہے تو اس کے پاکستان پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا ڈی جی آئی ایس آئی کوئی نئی تجاویز لے کر کابل گئے ہیں؟ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وہ صورتِ حال کا جائزہ لینے کابل گئے ہیں۔ افغانستان میں جامع حکومت کے قیام کے لیے پاکستان کی وزارتِ خارجہ پہلے ہی اپنی تجاویز دے چکی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل، لیفٹننٹ جنرل فیض حمید ہفتے کو کابل پہنچے تھے۔

کابل کے مقامی ہوٹل میں برطانوی نشریاتی ادارے ‘چینل فور نیوز’ کی نمائندہ سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے جنرل فیض حمید نے کہا تھا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ وہ طالبان رہنماؤں سے ملاقات کریں گے یا نہیں۔

افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں جنرل فیض حمید کا کہنا تھا کہ ہم افغانستان میں امن اور استحکام کے لیے کام کر رہے ہیں۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ "پریشان مت ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا۔”

پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ طالبان کی خفیہ حمایت کرتی ہے۔

معزول افغان صدر اشرف غنی بھی کئی مواقع پر یہ کہہ چکے ہیں کہ طالبان کی پیش قدمی میں پاکستان کے خفیہ اداروں کی بھی معاونت شامل رہی ہے۔

البتہ پاکستانی حکام ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔

پاکستان کے انگریزی اخبار ‘دی نیوز’ نے خبر دی ہے کہ جنرل فیض کے ایک روزہ دورۂ کابل کے دوران افغانستان میں پھنسے باقی ماندہ غیر ملکی شہریوں کے محفوظ انخلا اور بارڈر مینجمنٹ سے متعلق معاملات زیرِ غور آئے۔

خیال رہے کہ اب بھی کئی ممالک کے شہری افغانستان میں موجود ہیں اور مختلف ممالک کی جانب سے طالبان پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ ان کا پرامن انخلا یقینی بنائیں۔

ڈی جی آئی ایس آئی نے ایسے وقت میں کابل کا دورہ کیا ہے جب طالبان حکومت سازی میں مصروف ہیں جب کہ شمالی افغانستان کی وادی پنجشیر میں لڑائی کی اطلاعات ہیں۔

ہفتے کو طالبان نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے صوبہ پنجشیر کے کئی اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے۔

البتہ پنجشیر میں طالبان کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے والے گروپ قومی مزاحمتی فرنٹ (این آر ایف) نے طالبان کے دعووں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگجو گروپ کو پنجشیر سے پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ پنجشیر وہ واحد صوبہ ہے جو اب بھی طالبان کے کنٹرول میں نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words