سلیم اختر ڈھیرہ کی کتاب "کہانی آوارہ ہوتی ہے”


"کہانی آوارہ ہوتی ہے” کے نام سے سلیم اختر ڈھیرہ نے اطالوی لوک کہانیوں کے اردو تراجم پیش کیے ہیں۔ اس کتاب کو مثال پبلشرز فیصل آباد نے شائع کیا ہے۔ لوک کہانیاں اجتماعی دانش کا بے بدل خزینہ ہوتی ہیں۔ کہانی اور انسان لازم و ملزوم ہیں۔ کہانی کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنا خود انسان۔ تاریخ کے پہلے کہانی کار کو نشان زد کرنا ممکن نہیں۔ کہانی تب بھی تھی جب انسان اشاروں سے اپنا مافی الضمیر بیان کرتا تھا۔ پھر جب زبان ایجاد ہو گئی تو کہانی نے لفظوں کا روپ دھار لیا۔

ابتدا میں کہانی شاعری کے ذریعے پیش کی گئی۔ پھر جب زبان نے مزید ترقی کی تو کہانی کا نثر کی صورت میں ظہور ہوا۔ مترجم نے کتاب کا عنوان اردو کے نامور فکشن نگار انتظار حسین کے جملے سے اخذ کیا ہے اور بر محل کیا ہے۔ اب آتے ہیں پہلے سوال کی طرف جو کتاب کے عنوان کو دیکھتے ہی ذہن میں در آتا ہے۔ وہ سوال یہ ہے کہ ”کہانی کیوں آوارہ ہوتی ہے؟“ میرے عزیز از جان میرے خیال میں کہانی اس لیے آوارہ ہوتی ہے کہ اس کے پاؤں ہماری طرح زنجیروں میں جکڑے ہوئے نہیں بلکہ ہر طرح کی زنجیر سے آزاد ہیں۔

یہ زنجیریں، دیدہ و نادیدہ صورت میں قومیت، لسانیت، وطنیت، مذہبیت، منطقیت، عصبیت، رنگت، نسل اور قبیلے کی ہو سکتی ہیں۔ کہانی زمانہ قدیم سے ہی ان سب قیود سے رسہ تڑا کر بھاگ نکلی اور جدھر کا منہ ہوا ادھر کو چلی گئی۔ اس لیے کہانی پر کسی قوم، ملک، نسل یا زبان وغیرہ کا اجارہ نہیں۔ سلیم اختر ڈھیرہ نے تیس اطالوی کہانیوں کو اردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ تراجم نہیں بلکہ از سر نو تخلیق شدہ کہانیاں ہیں۔

مترجم نے جس انداز سے دوسری تہذیب کے لب و لہجے کو اردو میں ڈھالا ہے یہ قابل داد بھی ہے اور حیران کن بھی۔ ان تراجم کو پڑھ کر ماننا پڑھے گا کہ مترجم نے عرق ریزی اور جاں فشانی سے ترجمہ کیا ہے۔ یہ کہانیاں نہیں ہیں بلکہ مصری کی ڈلیاں ہیں۔ ان کو پڑھنا گویا فکشن کے قدیم شہد کو سہج سہج کے اور قطرہ قطرہ کر کے حلق میں انڈیلنے والی بات ہے۔ یہ صدیوں پرانی کہانیاں ہمیں فکشن کی قدیم صورت اور پرانے فکشنی عناصر سے بھی آگاہ کرتی ہیں۔

ان کہانیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ فکشن کی قدیم صورت میں انسانی تخیل کس قدر آزادی سے انسانی مسائل اور دنیاوی وحشت و بربریت کو اپنے مخصوص طلسماتی اسلوب میں بیان کرتا تھا۔ یہ کہانیاں انسان کو درپیش، بے پناہ اذیتوں، وحشتوں، بربریتوں کی داستاں بھی سناتی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ انسان کے درمیان سانس لیتے ایسے کرداروں کا پتا بھی دیتی ہیں جو ان سب کلبیتوں کا مقابلہ کرتے ہوئے محبتوں، حوصلوں اور انسانی ہمدردیوں کے لازوال جذبوں سے کبھی منہ نہیں موڑتے۔

اس سے یہ بات بھی مترشح ہے کہ انسانی مصائب کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ یہ عجیب و غریب کہانیاں انسانوں کی عجیب و غریب خواہشات، محبتوں، نفرتوں اور پیچیدہ جذبوں کی عکاس ہیں۔ یہ کہانیاں عوام سے لے کر خواص تک کے جذبات و احساسات اور لامحدود انسانی خواہشات کی ترجمانی کے بوجھ کو سہارتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ ترجمہ پڑھتے ہوئے کہیں ایسا نہیں لگا کہ یہ کسی اجنبی زبان سے اپنی زبان میں ڈھالی گئی ہیں۔ کہیں بھی مصنوعی پن نہیں۔

ایسے لگتا ہے کہ یہ کہانیاں گویا اردو زبان میں ہی لکھی گئی تھیں۔ اس کتاب کے آغاز میں مصنف نے ”ابن مریم ہوا کرے کوئی“ کے عنوان سے کہانی کے فن سے متعلق اپنی بصیرت کا عطر پیش کیا ہے۔ کتاب کا یہ پیش لفظ سلیم اختر صاحب کی فکری پختگی اور نظری بالیدگی پر مہر توثیق ثبت کرتا ہے۔ کہانی کیوں ایجاد ہوئی؟ کہانی نے انسانی تہذیب و ترقی کے میدان میں کیا کردار ادا کیا؟ کہانی نے مختلف زمانوں مکاں میں کیا کیا جست بھری اور کیا کیا ترنگ دکھائی؟

ایسے اور اس طرح کے کئی اور دلچسپ اور فکری استفسارات کو مترجم نے کتاب کے پیش لفظ میں موضوع سخن بنا کر کہانی کی آوارگی کے مقدمے کو استدلال فراہم کیا ہے۔ مترجم انگریزی کے استاد ہیں لیکن انھوں نے اردو زبان و بیان پر اپنی دسترس کو ان تراجم کے ذریعے منوا لیا ہے۔ ان کہانیوں میں انسانی تہذیب کی بقا کے لیے ضروی انسانی اقدار کا پرچار ہے۔ ”لاوارث بچہ“ ایک ایسی کہانی ہے جس سے بے غرض ہمدردی کے جذبات پھوٹتے ہیں۔ ”گڈریا“ تکبر کے المناک انجام کی داستان ہے۔

”گھڑیال“ وقت کے ساگر کی خوب صورت عکاسی ہے۔ ”کبڑا موچی“ عام آدمی کے استحصال اور طاقت وروں کے لامحدود ہوس زر و زور کا المیہ بیان کرتی ہے۔ ”آگ کہاں سے آئی“ انسانی لامختتم تجسس اور بے خوفی کی تمثیل ہے۔ ”دھاتی ناک“ عورت کے تخیل اور ذہانت کی داد ہے۔ ”خوش باش آدمی“ مسرت انسانی کے خزانے کے سربستہ راز سے پردہ سرکاتی ہے۔ ”فن کاہلی“ نمائشی پڑھے لکھے طبقے پر ایک سیاہ طنز ہے۔ ”دیو اور دیوانہ“ انسان کی بے پناہ جرات و حوصلے کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔

”بلیوں کی داستاں“ اہل ہنر کو عزت و آبرو کا تاج پہناتی ہے اور ذلت و رسوائی کو بے ہنروں کا مقدر گردانتی ہے۔ ”کاکا سیانا“ انسانی مکاریوں اور چالبازیوں کا ایسا قصہ ہے جس کا انجام کبھی بھی بخیر نہیں ہوا۔ غرض ہر کہانی کے اندر کوئی نہ کوئی خفی یا جلی دانائی ضرور ہے۔ ان کہانیوں سے اس بات کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ کہانی کی قدیم صورت کا سارا ارتکاز خارجی واقعات پر ہوتا تھا نہ کہ کرداروں کی باطنی صورت حال پر جب کہ جدید کہانی کا ارتکاز خارجی واقعات کے بجائے کرداروں کی داخلی صورت حال اور باطنی واردات پر ہے۔

آخر میں میں سلیم اختر صاحب سے معذرت خواہ ہوں کہ یہ شکستہ تحریر لکھنے میں بہت دیر کردی۔ کچھ ناگزیر حالات و واقعات اس التوا کا سبب بنے۔ اردو زبان اور اردو فکشن سے دلچسپی رکھنے والے ان خوب صورت تراجم پر مترجم کی سعی مقبول پر ضرور شکرگزار رہیں گے۔ خدا ان کہانیوں کو ہمارے تہذیبی ورثے میں شامل کرنے والے مترجم سلیم اختر ڈھیرہ کے علم میں برکت عطا فرمائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words