محبت کی فراوانی

محبت کی کوئی تھاہ نہیں اور نہ ہی اس جذبے کا کوئی انت ہے۔ اس سمندر کا کوئی کنارا نہیں۔ یہ وہ چشمہ ہے جس کے سوتے کبھی خشک نہیں ہوتے۔ یہ وہ نغمہ ہے جس کی لے اور دھن ہمیشہ سماعتوں کے لیے جاں فزا ہوتی ہے۔ کینہ پرور لوگوں سے گریز کیجیے۔ انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیجیے۔ ہر جھگڑے اور فساد سے اعراض برتیے۔ جسے آپ کی بات اور لفظوں سے خوشبو نہیں آتی اس پر

Read more

پر سکون ذہن

پرسکون ذہن کے بغیر زندگی کا کوئی مزہ نہیں اور پر سکون ذہن مثبت سوچ کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ مثبت سوچ بالغ نظری اور عالی فکر کے بغیر پیدا ہی نہیں ہو سکتی۔ بلندی خیالی اور عالی ظرفی، بہترین کتابوں کے مطالعہ کی عدم موجودگی میں ناپید ہے۔ مثبت ذہنی حالت کے حصول کے لیے لازم ہے کہ ہم دوسرے انسانوں سے ہمدردی اور رواداری کا جذبہ ہمہ وقت اپنے من میں رکھیں۔ دوسروں کے لیے ہمدردی کا جذبہ

Read more

اذیت پسندی یا مساکیت

چوں کہ ہمارے سماج میں نفسیاتی بیماریوں کی تشخیص اور علاج کا کوئی طریقہ وضع نہیں کیا گیا اس لیے نفسیاتی بیمار افراد بھی نارمل انسانوں کے ساتھ بلکہ ان میں گھل مل کر رہتے ہیں۔ میرا یہ کہنے کا ہر گز مطلب نہیں کہ ایسے افراد کو قید تنہائی کی سزا سنا دی جائے بلکہ میرا مقصد یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو کم ازکم خود احساس ہونا چاہیے کہ وہ کسی عارضے کا شکار ہیں لہذا دوسروں کی

Read more

سلیم اختر ڈھیرہ کی کتاب "کہانی آوارہ ہوتی ہے”

"کہانی آوارہ ہوتی ہے” کے نام سے سلیم اختر ڈھیرہ نے اطالوی لوک کہانیوں کے اردو تراجم پیش کیے ہیں۔ اس کتاب کو مثال پبلشرز فیصل آباد نے شائع کیا ہے۔ لوک کہانیاں اجتماعی دانش کا بے بدل خزینہ ہوتی ہیں۔ کہانی اور انسان لازم و ملزوم ہیں۔ کہانی کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنا خود انسان۔ تاریخ کے پہلے کہانی کار کو نشان زد کرنا ممکن نہیں۔ کہانی تب بھی تھی جب انسان اشاروں سے اپنا مافی الضمیر

Read more

ہم نے اپنی نئی نسل کو انسانی تہذیب سے لاتعلق کر دیا ہے

ول ڈیورنٹ نے اپنی آخری کتاب میں اپنی ساری زندگی کے مطالعے اور ذاتی تجربے کا نچوڑ پیش کیا۔ اس کتاب میں وہ ایک بات لکھتا ہے اور وہ بات کان دھر کے سننے کے قابل ہے۔ اس نے لکھا کہ ”آپ صرف پچاس سال تک اپنی نئی نسل کو انسانی کی ہزاروں سال پر محیط تہذیب کے بارے کچھ نہ بتائیں اور سکھائیں تو آپ دیکھیں گے کہ ہمارے بچے بالکل وحشی درندوں سے بھی بڑے ظالم اور خون

Read more

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی کتاب: جدیدیت اور نوآبادیات

”جدیدیت اور نوآبادیات“ ناصر عباس نیر صاحب کی تازہ کتاب ہے، جو حال ہی میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے شائع ہوئی ہے۔ اردو ادب کے معاصر منظر نامے پر ناصر عباس نیر صاحب کا نام علم و ادب سے شغف رکھنے والے اصحاب کے لیے محتاج تعارف نہیں ہے۔ ان کا کام ان کا موثر اور مؤقر تعارف ہے۔ شاید اسی لیے انھوں نے اس کتاب کی لوح پر اپنے نام کے ساتھ ”ڈاکٹر“ کا سابقہ لگانا بھی گوارا نہیں

Read more

جامعات میں استاد نما گدھ

گزشتہ دنوں جامعہ کراچی کی پی۔ ایچ۔ ڈی کی ایک طالبہ نے خود کشی کرلی۔ اس خبر پر کئی طرح کی آرا سامنے آئیں۔ کسی نے کہا طالبہ شیزوفرینیا بیماری کے مرض میں مبتلا تھی تو کسی نے بتایاکہ وہ سپروائزر کے رویے سے نالاں تھی۔ طالبہ کی موت کی وجہ جو بھی ہو یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے سماج کے ہر شعبہ ہائے زندگی میں گدھوں کی ایک قابل ذکر تعداد موجود ہے جو گاہے بہ گاہے

Read more

جینے اور زندہ رہنے میں کیا فرق ہے؟

زندگی کیا ہے؟ یہ سوال بہ ظاہر سادہ مگر بہ باطن بڑا پیچیدہ ہے۔ ہر شخص کے پاس زندگی تو ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر آدمی کے جینے میں زندگی بھی ہو۔ جینے میں اور زندگی میں فرق ہے۔ یہ تفریق ایسی ہی ہے جیسی آزادی اور غلامی میں ہے۔ غلامی میں زندہ رہنا جینا ہے اور آزادی میں سانس لینا زندگی ہے۔ آزادی اور غلامی کی دو صورتیں ہیں، ظاہری اور باطنی۔ بہ ظاہر آزاد انسان بہ باطن

Read more