ہم اپنے بچوں کا مستقبل کیسے محفوظ بنائیں؟

کل پھر ”مکالمے کے امام“ سے مکالمے کا موقع ملا۔ جلتا رہا چراغ یقین و گمان کا پڑھنے کے بعد وہ ”دانش“ سے ملنے کے مشتاق تھے۔ انہوں نے عیدالاضحی کے بعد میری طرف تشریف لانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ عید سعید گزرنے کے بعد میں کوئی مہینہ بھر منتظر رہا لیکن وہ تشریف نہیں لائے۔ پھر میرے انتظار پر تشویش غالب آ گئی۔

میں نے پرسوں شکوہ بھری کال کی تو کہنے لگے ”معذرت چاہتا ہوں اپنا عہد وفا نہیں کر سکا۔ دراصل عید کے اگلے روز ہی میرا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا۔ کار کا اچانک سامنے آ جانے والی گدھا گاڑی کے ساتھ خوف ناک تصادم ہوا تھا، جس میں اگر چہ تمام جانیں محفوظ رہی تھیں لیکن گاڑی کو بڑی حد تک نقصان پہنچا تھا“ ۔ میری تشویش درست ثابت نکلی۔ میں نے اصرار کیا کہ اب تو ملاقات از حد ضروری ہو گئی ہے۔ کہنے لگے ”کل آپ کی طرف آؤں گا۔“

وہی تمکنت، وہی وقار، وہی ٹھہراؤ۔ ملاقات میں لگا ہی نہیں کہ ابھی چند روز پہلے وہ کسی خوف ناک حادثے کا شکار ہوئے ہیں۔ میں نے دانستہ غیر محسوس طریقے سے اس نشست کی گفتگو کا محور ”میں“ سے ”آپ“ پر منتقل کر دیا۔ ناصر ادیب صاحب کے بچپن، لڑکپن، جوانی اور تابناک ماضی کو کریدنا شروع کر دیا۔ خاص طور پر ان کے فنی سفر کو دریافت کرنے شروع کر دیا۔

میں نے پوچھا ”پہلی تحریر کس عمر میں لکھی تھی۔“
کہنے لگے ”میں نے نو برس کی عمر میں اپنا پہلا ناول لکھا تھا۔“
” کوئی کتاب بھی لکھی یا ساری تحریریں سلور سکرین کے نام ہی کیں۔“

” کوئی دس برس قبل اپنی اکلوتی کتاب“ تاریخی جملے ”مرتب کی تھی، جس کا محرک ایک دلچسپ واقعہ بنا۔“ یہ بات کرتے ہوئے ناصر صاحب کے چہرے پر سرشاری چھا گئی۔ اس کے بعد ایک مختصر سے وقفے کی خاموشی۔ میں ان کے چہرے پر نظریں جمائے پورے انہماک سے ان کی گفتگو سن رہا تھا۔ وہ میری متجسس نگاہوں سے چھلکتے سوال کو بھانپ گئے، ان کے اندر کے قصہ گو نے ایک انگڑائی لی اور کہانی شروع ہو گئی۔

”کوئی دس برس پرانی بات ہے۔ میں اپنے دفتر واقع شاہ نور سٹوڈیو میں فلموں کی کہانیوں کے لیے نئے موضوعات اور نئے خیالات کھوج رہا تھا۔ پاکستان میں سینما کا زوال ابھی کمال تک نہیں پہنچا تھا۔ میں ایک کہانی کے کلائمیکس پر پہنچا ہوا تھا کہ اچانک ایک پرانے دوست عرصہ دراز کے بعد تشریف لے آئے۔ وہ ان دوستوں میں سے تھے جن سے محبت کا رشتہ زمان و مکان کی بندشوں سے ماورا تھا اور طویل وقفے نے ان کے لیے دل میں موجود محبت کے جذبے کو گہنایا نہیں تھا۔ میں انہیں بہت تپاک سے ملا، گرمجوشی سے بغل گیر ہو گیا اور ان کی خوب آؤ بھگت کی۔

جیسا کہ تاخیر سے ہونے والی ملاقاتوں میں ہوتا ہے، ہم نے اپنے بیتے سالوں کی راکھ کریدنا شروع کر دی۔ کیا کھویا کیا پایا زیر بحث آیا۔ بچوں کی تعلیم و تربیت کی بات چلی تو میں نے کہا کہ میرے تو تین بیٹے ہیں۔ بڑا جے۔ ایس بنک کا چیف ایگزیکٹو ہے، اور شاید وہ کسی بھی بنک کا سب سے کم عمر چیف ایگزیکٹو ہے۔ منجھلا امریکی ریاست میامی میں سپریٹنڈنٹ جیل کے عہدے پر فرائض سرانجام دے رہا ہے جبکہ سب سے چھوٹا کینیڈا کی ایک معروف یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد وہیں کسی بڑی آئی ٹی کمپنی کے سربراہ کی حیثیت سے ایک تابناک مستقبل کی طرف رواں دواں ہے۔

میں نے ایک احساس تفاخر کے ساتھ اپنے دوست کو اپنے بچوں کے متعلق تفصیلات بتائیں۔ اور آپ کو تو بخوبی علم ہے کہ انسان کو اپنے بچوں کی کامیابیاں اپنی کامیابیوں سے کہیں زیادہ اچھی لگتی ہیں۔ میں نے اپنی بات کو ختم کرتے ہوئے نخوت بھرے انداز میں کہا

”میں نے تو اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ بنا دیا ہے، اب آپ بتائیے آپ نے اپنے بچوں کا کیا کیا ہے؟“

اس کے ساتھ ہی ناصر صاحب کے چہرے کی تاثرات بھی بدل گئے۔ ان کے چہرے پر سرشاری کی جگہ گہری سنجیدگی نے لے لی۔ انہوں نے پہلو بدل اور پانی کا ایک گلاس مانگا۔ میں نے گھنٹی کا بٹن دبایا۔ نائب قاصد نے صاف ستھرے گلاس میں پانی پیش کیا۔ ناصر صاحب نے پانی کے دو گھونٹ لیے اور کہانی پھر سے شروع ہو گئی۔

”جب میں آخری جملہ ادا کر رہا تھا تو اسی اثنا میں میرے دفتر کا ایک پرانا ساتھی عبدالرشید کمرے میں داخل ہوا۔ وہ کوئی گزشتہ بیس سال سے مجھ سے وابستہ تھا۔ اگرچہ وہ معمولی پڑھا لکھا تھا لیکن زندگی نے اپنے کچھ اسرار اس پر منکشف کر رکھے تھے۔ آپ جانتے ہیں کہ زیادہ قربت بھی انسان کو بد لحاظ بنا دیتی ہے۔ وہ کہتے ہیں نا Too much intimacy breeds contempt۔ مجھے لگا کہ میرے ساتھ بھی اس دن عبدالرشید کے ہاتھوں ایسا ہے کچھ ہوا تھا۔

چھوٹتے ہی کہنے لگا ”سر جی آپ نے اپنے بچوں کا مستقبل نہیں حال محفوظ کیا ہے۔ ان کے مستقبل کے لیے تو آپ نے کیا ہی کچھ نہیں۔“

میں اس کا اشارہ سمجھ گیا تھا۔ لیکن محفل کا تقاضا تھا کہ اس کی بات ایک بڑے سے قہقہے میں اڑا دی جائے۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا۔ اپنے دوست کے ساتھ بچپن اور لڑکپن کی بہت ساری یادیں تازہ کیں اور اسے خوشی خوشی رخصت کر کے اپنے معمولات میں کھو ہو گیا۔

شام کے وقت گھر پہنچا، کھانا کھایا، کچھ دیر چہل قدمی کی اور پھر سونے کے لیے لیٹ گیا۔ دن بھر کی مصروفیات کی تھکن سے مجھے لیٹتے ہی نیند آ جاتی تھی لیکن اس رات کچھ اور ہی ماجرا ہوا۔ آنکھ لگنے کے قریب تھی کہ عین اس وقت اپنے دیرینہ ملازم کے جملے نے مجھے آن گھیرا ”۔ بچوں کے مستقبل کے لیے تو آپ نے کیا ہی کچھ نہیں۔“ میں گہری سوچ میں پڑ گیا۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ فلم نگری کی چکا چوند انسان کو کس سمت میں لے جاتی ہے۔

میں بھی اس دریا کے بہاو کی سمت میں بہہ رہا تھا۔ مذہب سے اور رب سے رشتہ بس ضرورت کی حد تک تھا اور حقوق العباد کو کبھی سر پہ سوار نہیں کیا تھا۔ کبھی یاد آ گیا تو مذہبی فرائض سرانجام دے لیے ورنہ نہ کبھی ذہن پر بوجھ محسوس کیا اور نہ ہی ضمیر پر۔ بچوں کا حال بھی مجھ سے مختلف نہ تھا۔ ان کا بھی مذہب سے تعلق بس واجبی سا تھا۔

مجھے تشویش لاحق ہونے لگی کہ اگر دنیاوی زندگی واقعی ”حال“ اور اخروی زندگی ہی اصل ”مستقبل“ نکلی تو میرے بچوں کا کیا بنے گا۔ دیے گئے نصاب کے مطابق تو وہ بری طرح سے فیل ہو جائیں گے اور ان کا ٹھکانہ بھی ایسی جگہ ہو گا جس کا نام لکھتے ہوئے میرا قلم کانپتا ہے۔ ہوتے ہوتے بات بچوں سے اپنے مستقبل تک آن پہنچی اور میرے سامنے میرے مستقبل کا جو نقشہ بنا وہ خاصا مخدوش تھا۔ بس کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جب کوئی سادہ سی بات بھی دل کی دنیا کو اتھل پتھل کر کے رکھ دیتی ہے۔ میں بھی اس لمحے کا شکار ہو گیا تھا۔ خیر۔ رات بھر اضطراب کے ساتھ ساتھ مستقبل کو محفوظ بنانے کے مختلف طریقوں پر غور بھی ہوتا رہا۔

صبح فجر کے وقت نماز پڑھی اور سوچا کہ کیوں نا اس مسئلے میں کسی جید عالم سے رہنمائی لی جائے۔ ان دنوں مولانا طاہر القادری پاکستان میں ہی تھا اور ان کے علم سے ایک زمانہ فیض یاب ہو رہا تھا۔ میری ایک عزیزہ محترمہ ہما وحید صاحبہ نے مجھے ان سے ملنے کا مشورہ دیا۔ میں کوئی دن کوئی گیارہ بجے کی قریب ٹاؤن شپ میں واقع ان کے مرکز پہنچ گیا۔ سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے قادری صاحب سے ملنے میں شروع میں تو دقت پیش آئی لیکن جب میں نے اپنا تعارف کروایا کہ میں ”مولاجٹ“ اور اس قسم کی کئی فلموں کا مصنف ہوں تو میری شنوائی ہو گئی۔ قادری صاحب نے میری بہت عزت افزائی کی۔ میں نے ان کے حضور سارا ماجرا بیان کیا اور استدعا کی میری رہنمائی کریں کہ میں ”اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل کیسے محفوظ بنا سکتا ہوں“ ۔ قادری صاحب نے دو جملوں میں بات ختم کردی۔

’ایک تو وہ کرو جو رب کے رسول نے کیا اور اس سے باز آ جاؤ جس سے انہوں نے اجتناب کیا۔‘
’دوسرا اپنا ہنر انسانوں کی فلاح کے لیے استعمال کرو۔‘

میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ اس ملاقات سے قبل میرا مذہب سے لگاؤ اتنا ہی تھا جتنا آج کل زیادہ تر لوگوں کا ہے۔ جب سے ملا نے لوگوں کو یقین دلانا شروع کیا ہے کہ بخشش کے لیے محض عقیدہ ہی کافی ہے اور اعمال کی اہمیت ثانوی نوعیت کی ہے، تب سے ہمارا نیک اعمال کا پلڑا اور بھی ہلکا ہو گیا ہے۔ خیر! میں نے یہ سبق پلے باندھ لیا اور گھر لوٹ آیا۔

گھر پہنچ کر وضو کے پانی سے گناہوں میں لتھڑے دامن کو پاک کرنے کی کوشش کی۔ رب اور رسول سے اپنے رشتے کی تجدید کی اور اپنی ذات سے عہد کیا کہ آئندہ قادری صاحب کے فرمودات کی عملی تصویر بننے کی کوشش کروں گا۔ اپنے بچوں کو بھی ساری عمر اس نصیحت پر عمل پیرا رہنے کی تلقین کی۔

لیکن یہ عملی تصویر بنا کیسے جائے؟

پہلے جملے کی حد تک تو فوراً بات سمجھ میں آ گئی لیکن دوسرے جملے کا جواب ڈھونڈنے میں کئی دن لگ گئے۔ میں اپنا ہنر کس طرح انسانیت کی فلاح کے لیے استعمال کروں؟ کتنے ہی روز یہ سوال ذہن مین کلبلاتا رہا۔ ”

ناصر صاحب کے چہرے پر سنجیدگی اور گہری ہو گئی۔ انہوں نے پانی کے دو گھونٹ مزید لیے اور میری آنکھوں میں جھانک کر میرے تجسس کی شدت کا اندازہ لگایا۔ مثبت اشارہ پا کر پھر سے گویا ہوئے۔

”میرا ہنر تو یہی تھا کہ میں کوئی فلم لکھوں۔ ایسی فلم جو لوگوں کو اللہ کی طرف، اچھائی کی طرف مائل کرے۔ لیکن ایسی فلم دیکھے گا کون؟

It was a million dollar question.

فلم کے لیے تو لوازمات مطلوبہ معیار کے مطابق بہم پہنچانے پڑتے ہیں۔ پانچ چھ رقص میں لتھڑے ہوئے ہیجان انگیز گانے۔ ذومعنی الفاظ سے بھرپور شاعری۔ کچھ تشدد کے واقعات۔ قتل و غارت اور بس۔ فلم مکمل۔ پھر سوچا کوئی اصلاحی کتاب لکھ دوں۔ لیکن اصلاحی کتاب پڑھے گا کون

Again a million dollar question.

بالآخر اس نتیجے پر پہنچا کہ اپنے ہم نفسوں کی اصلاح کے لیے پیارے مذہب اسلام کے سنہرے اصولوں کے ساتھ ساتھ ازمنہ قدیم سے لے کر آج کے دن تک روئے ارض کو منور کرنے والی ہستیوں کے تاریخی جملوں کی تدوین کی جائے۔ آپ کو تو علم ہے کہ ان بڑی شخصیات کے ایک ایک جملے کئی کتابوں پر بھاری ہیں۔

چنانچہ میں نے اپنی کتاب کا نام بھی ”تاریخی جملے ’رکھا اور اس میں مذہب اسلام کے بنیادی عقائد کے ساتھ ساتھ انبیاؑ ؑ، دیگر مذاہب کے اقابرین، تاریخی شخصیات، مشرق و مغرب کے دانشوروں، شاعروں اور اداکاروں کے جملے بھر دیے۔ اس یقین کے ساتھ کہ انہیں پڑھ کر لوگوں کی سوچ بدلے گی، وہ صراط مستقیم کی طرف راغب ہوں گی اور میری نجات کا باعث بنیں گے۔

” صرف خالی جملے ہی لکھے ہیں یا ان کا سیاق و سباق بھی دیا ہے؟“ میں نے سوال کیا۔
” جہاں ضروری تھا وہاں سیاق و سباق بھی دیا گیا ہے۔“
”چند ایسے جملے سنائے نا۔“ میں نے فرمائش کی۔

” نبی اکرم ﷺ کی محبت اور احترام ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ اس سلسلے میں سیاق و سباق کے ساتھ یہ واقعہ سنیے۔“ میں ہمہ تن گوش تھا۔

” ایک دفعہ شہنشاہ اورنگ زیب کے پاس پڑوسی ملک ایران کا بادشاہ آیا۔ رات کے پچھلے پہر ایران کے بادشاہ کی آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا کہ اورنگزیب اپنے کمرے میں ٹہل رہے تھے۔ اس سے پیشتر کہ ایران کا بادشاہ، اورنگزیب سے اس کے ٹہلنے کی وجہ پوچھتا، اورنگزیب نے اپنے ملازم کو آواز دی۔ حسن۔ مہمان بادشاہ نے دیکھا کہ حسن فوراً پانی کا لوٹا لے کر حا ضر ہو گیا۔ ملازم لوٹا اورنگزیب کو دے کر چلا گیا۔ جب ملازم پڑوسی بادشاہ کے پاس سے گزرنے لگا تو اس نے ملازم کو روک کر پوچھا ’اورنگ زیب نے صرف تمہارا نام لیا اور تم پانی لے کر آ گئے۔ تمہیں کیسے پتا چلا کہ انہیں پانی چاہیے؟‘

ملازم نے جواب دیا ’وہ ہمیشہ میرا پورا نام محمد حسن لے کر پکارتے ہیں۔ آج جب صرف حسن کہا تو میں سمجھ گیا کہ ان کا وضو نہیں ہے، لہٰذا میں پانی لے کر پہنچ گیا۔ کیوں کہ وہ وضو کے بغیر حضرت محمد ﷺ کا پاک نام زبان پر نہیں لاتے۔‘

”مولے نوں مولا نہ مارے تے مولا نہیں مردا کے علاوہ کوئی اپنا تاریخی جملہ سنائیے۔“ میری طرف سے دوبارہ فرمائش کی گئی۔

ناصر صاحب نے آنکھیں بند کر کے ایک لمحے کے لیے سوچا اور پھر الفاظ کی جادو گری شروع ہو گئی۔

” 1997 میں پاکستان کی گولڈن جوبلی منائی جا رہی تھی۔ نگار ایوارڈ کی رنگا رنگ تقریب اپنے جوبن پر تھی۔ عمر شریف اس تقریب کی میزبانی کرتے ہوئے مسکراہٹیں بانٹ رہے تھے۔ مجھے فلم ’جنگل کا قانون‘ پر بہترین مصنف کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ عمر شریف نے میرے سامنے مائیک کرتے ہوئے کہا

’ پاکستان کی گولڈن جوبلی کے حوالے سے کوئی پیغام دیجیے۔‘

میں نے صرف ایک جملہ بولا جو تاریخ بن گیا۔ میں نے کہا ’ایک وقت تھا جب اس قوم کو ایک ملک کی ضرورت تھی مگر آج اس ملک کو ایک قوم کی تلاش ہے۔‘

یہ کتاب جس جس نے بھی پڑی اس نے اقرار کیا کہ اس کتاب کے جملوں نے کسی نہ کسی طرح اس کے دل کی دنیا ضرور بدلی ہے۔ میں اپنے بچوں کا رخ خالص دنیا داری سے قرآن اور سیرت کی طرف موڑ کر سمجھتا ہوں کہ اب میں نے اپنے بچوں کا مستقبل قدرے محفوظ بنا دیا ہے۔ ”ناصر صاحب نے نظریں جھکا لیں اور خاموش ہو گئے۔

یہاں تک آتے آتے ہمارے دل گداز اور آنکھیں نم ہو چکی تھیں۔
اس رات جب میں سونے کے لیے لیٹا تو میرے سامنے ایک بڑا سا سوالیہ نشان کھڑا تھا۔
کیا ہم سب نے ”اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ بنا لیا ہے؟“

Comments - User is solely responsible for his/her words