جب الطاف حسین نے خاکسار کو ایم کیو ایم میں شامل کرنا چاہا


یہ ان دنوں کی بات ہے جب ملک پر آمر مشرف کی غیر آئینی حکومت تھی اور اسلام آباد سے نکلنے والے اخبار ”روزنامہ اوصاف“ کے ایڈیٹر حامد میر ہوا کرتے تھے، کراچی کی ایک عدالت میں جب ایم کیو ایم کے کارکنان پیش کیے گئے تو پتا چلا کہ ان پر پولیس نے بہیمانہ طریقے سے تشدد کیا تھا اور ڈرل مشین سے بھی ان کی رانوں میں سوراخ کیے گئے تھے، یہ انتہائی تکلیف دہ معاملہ تھا اور عدالت میں بیٹھے ججز کا ان کارکنان کی حالت زار دیکھ کر غم و غصے سے برا حال ہو گیا تھا اور انہوں نے اس غیر انسانی سلوک پر پولیس کے حکام کی خاصی سرزنش کی تھی اور قانون کے غلط استعمال پر انہیں سخت برا بھلا بھی کہا تھا لیکن پولیس کے حکام کے خلاف شاید سخت ترین ایکشن اس لیے نہ لیا گیا تھا کہ ایم کیو ایم کے حوالے سے بھی ایسے وحشیانہ تشدد کی اطلاعات اکثر آتی رہتی تھیں اور بوری بند لاشوں کی کہانیاں بھی عام تھیں جن پر یہ لکھا ہوتا تھا کہ

”نصیر اللہ بابر کے لیے تحفہ“

یاد رہے کہ نصیر اللہ بابر پی پی پی حکومت کے وزیر داخلہ ہوا کرتے تھے اور ایم کیو ایم کے لیے سخت گوشہ رکھنے کی شہرت کے حامل تھے، یہ بھی الزام لگتا ہے ایم کیو ایم کے خلاف ہونے والے 1992 کے آپریشن میں شریک سب پولیس والے ٹارگٹ کلرز نے چن چن کر مار ڈالے تھے اور بس ایک راؤ انوار ہی ان کی گرفت میں نہ آیا تھا، رینجرز کے ایک میجر کو بہیمانہ طریقے سے مارنے کی وجہ سے ان کا دبدبہ اور بھی بڑھا ہوا تھا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بھی ان کے سامنے کھڑے ہونے سے کتراتے تھے، بہرحال ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں کہ جب خاکسار کو ایم کیو ایم کے کارکنان کے ساتھ پولیس گردی کی اطلاع مصدقہ ذرائع سے ملی تو خاکسار نے ”روزنامہ اوصاف“ میں ایک کالم ”جنرل صاحب! پولیس کو بھی جلاوطن کر دیجیے“ کے عنوان سے لکھ مارا، کالم کیا چھپا ایم کیو ایم والے ہاتھ دھو کر خاکسار کے پیچھے ہی پڑ گئے، اس کالم کو لندن بیٹھے الطاف بھائی نے بھی پڑھ لیا اور انہوں نے نائن زیرو کو ہدایت کی کہ فوراً کالم نویس کو ڈھونڈ ڈھانڈ کر اس سے رابطہ کیا جائے، پتا نہیں کیسے نائن زیرو والوں نے خاکسار کے نمبر حاصل کیا اور پھر دھڑادھڑ کالیں آنا شروع ہو گئیں۔

نائن زیرو سے بولنے والے کوئی صدیقی صاحب کا کہنا تھا کہ خاکسار اسلام آباد پارلیمنٹ لاجز پہنچے اور وہاں ایم کیو ایم کے وفاقی وزیر برائے ہاؤزنگ صفوان اللہ، وفاقی وزیر برائے شپنگ بابر غوری اور وفاقی وزیر برائے مذہبی امور عامر لیاقت حسین (پی ایچ ڈی کی جعلی ڈگری کی وجہ سے خاکسار ان کے ساتھ ”ڈاکٹر“ نہیں لکھ سکتا) سے ملاقات کرے، اس آمدورفت کے اخراجات بھی نائن زیرو نے اٹھانے کا وعدہ کیا تھا لیکن خاکسار نے دو ٹوک الفاظ میں انہیں کہا کہ خاکسار بس لکھتا ہے اور اس طرح کی ملاقاتوں میں قطعاً بھی دلچسپی نہ رکھتا ہے اور کسی آمر کے ساتھیوں سے تو ملاقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے، مگر ان کا اصرار پھر بھی جاری رہا اور ایک بار لندن بیٹھے بھائی سے رابطے کے لیے ایک نمبر بھی دیا گیا کہ بھائی سے جب دل چاہے رابطہ کر لیں، خاکسار نے انکار کیا تو جنوبی پنجاب کے ایم کیو ایم کے ایک رہنما غلام علی بخاری کو خاکسار کے پیچھے ڈال دیا گیا اور انہوں نے بھی روز فون کال کرنا شروع کردی۔ وہ ملتان اپنے کسی کیس کی وجہ سے آیا کرتے تھے اور ان کی خواہش تھی کہ خاکسار ان سے کسی بھی طرح ملاقات کر لے۔

دراصل ان دنوں ایم کیو ایم پنجاب میں قدم جمانے کی کوششوں میں تھی اور اس نے لاہور میں دفتر کھولنے کے لیے شاید جگہ بھی لے لی تھی اور اس کے کچھ کارکنان اور عہدیدار وہاں بیٹھنا بھی شروع ہو گئے تھے اور ان کا دفتر خاکسار کے شہر جھنگ کے مشہور کچہری چوک میں بھی بن گیا تھا لیکن تب پنجاب میں پرویز الہی کی حکومت تھی اور اس کے وزیرقانون راجہ بشارت نے ان دنوں پنجاب میں اچانک سٹریٹ کرائمز کے بیانات دینا شروع کر دیے تھے اور صاف نظر آ رہا تھا کہ پرویز الہی وغیرہ ایم کیو ایم کی پنجاب آمد کو آمر مشرف کا ساتھی ہونے کے باوجود برداشت نہ کر رہے تھے، بہرحال غلام علی بخاری بھی نائن زیرو کی طرح ناکام ہوئے اور خاکسار الطاف بھائی کی بے حد کوششوں کے باوجود بھی ایم کیو ایم کا حصہ نہ بن سکا تھا، بتاتا چلوں کہ ایم کیو ایم خاکسار کو صوبائی سطح کا ایک اہم عہدہ دینے کی تیاریوں میں تھی۔

بتاتے چلیں کہ خاکسار کے ساتھ یہ دوسری بار ہوا تھا، ایک بار جب حسن نثار روزنامہ خبریں میں کالم لکھا کرتے تھے تو خاکسار کا ایک خط ان کے کالم میں شائع ہوا جس کو پڑھنے کے بعد ایک صاحب نے خاکسار سے رابطہ کیا کہ وہ ”علامہ اقبال مسلم لیگ“ بنا کر اس کی پنجاب شاخ کا صدر خاکسار کو بنانے کے شدید خواہش مند ہیں لیکن خاکسار نے انہیں جواب دیا کہ

”جناب! پہلے ہی ملک میں بہت سی لیگیں ہیں، انہیں تو کچھ کر لینے دیں، آپ اب علامہ اقبال کو بھی اس دھڑے بندی میں لے آئے ہیں، کچھ خیال کریں، اقبال جہاں ہے وہاں اسے سکون سے رہنے دیں“

Comments - User is solely responsible for his/her words