کورونا کے کرشمے

ہم عہد کورونا کے درمیان سے گزر رہے ہیں۔ ایک زمانہ وہ تھا جو کورونا سے پہلے کا تھا، ایک زمانہ وہ ہو گا جو کورونا کے بعد کا ہو گا۔ دوسری جنگ عظیم کے پس منظر میں لکھا گیا احمد ندیم قاسمی کا ایک معروف افسانہ یاد آتا ہے ”ہیرو شیما سے پہلے، ہیرو شیما کے بعد“ ۔ دونوں عالمی جنگوں اور طاعون سمیت دیگر بڑی وباؤں نے کم و بیش پوری دنیا کو بری طرح متاثر کیا۔ خاص طور پر دوسری عالمی جنگ کا دائرہ بہت وسیع تھا اور اس کے اثرات بڑے دور رس تھے، جنہوں نے پوری انسانیت کے ایک بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

تاہم دنیا کے متعدد علاقے ایسے بھی تھے جو جنگ کی ہولناکیوں اور تباہ کاریوں سے یکسر محفوظ و مامون رہے۔ ایٹم بم کے غیر انسانی استعمال نے ہیرو شیما اور ناگا ساکی کو نا صرف کھنڈر بنا دیا بلکہ اس کے تابکاری اثرات کی زد ان کی آنے والی نسلوں تک بھی پہنچی۔ اس کے باوجود غیر منقسم ہندوستان کے لیے جو مذکورہ جنگ میں انگریز کا اتحادی بھی رہا، ہیرو شیما اور ناگا ساکی کی تباہی اور محوری طاقتوں (جرمنی، اٹلی وغیرہ) کی شکست محض ایک خبر ہی رہی، اگرچہ یہ ایک بڑی خبر تھی۔ لیکن آج جب ہم کورونا کے عہد میں زندہ ہیں، (زندہ ہیں یہی بات بڑی بات ہے پیارے ) پاکستان کے ایک پہاڑی شہر مری کے ایک دور افتادہ گاؤں سے لے کر امریکہ کی ریاست نیویارک کے کسی دور دراز قصبے۔ تک پورا کرہ ارض خوف اور دہشت کی ایک نادیدہ زنجیر میں بندھا ہوا ہے۔

لمحہ موجود میں اس خوف میں اگرچہ کسی حد تک کمی آ چکی ہے تاہم ابھی اس کا زور باقی ہے اور یہ کب تک رہے گا اس کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ یوں تو کووڈ 19 (COVID۔ 19 ) کے بارے اتنی رنگا رنگ باتیں، تسلسل اور تواتر سے اب تک کہی جا چکی ہیں کہ اب ایک ہی بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ کوئی بات یقین سے نہیں کی جا سکتی۔ خواب جوانی کی طرح اس کی بھی بہت تعبیریں ہوں گی اور کتاب دل کی مانند اس کی تفسیریں بھی عرصہ دراز تک لکھی جاتی رہیں گی سو ابھی بہت کچھ آنا باقی ہے، بہت کچھ ہونا باقی ہے۔

ذرائع ابلاغ اور مواصلات کی فراوانی کے سبب کچھ برسوں سے دنیا کو عالمی گاؤں (گلوبل ویلیج) کے نام سے پکارا جانے لگا ہے، ایک اور اصطلاح بھی سننے میں آتی رہی ہے ”نیو ورلڈ آرڈر“ سچ پوچھئے تو کورونا نے دونوں کا مطلب اچھی طرح سمجھا دیا ہے۔ لاہور سے لندن، کراچی سے کلکتہ اور راولپنڈی سے ڈنڈی (سکاٹ لینڈ کا ایک ساحلی شہر) تک ساری مخلوق خدا کا موضوع گفتگو چند ماہ سے مسلسل ایک ہی چلا آ رہا ہے اور وہ ہے ”کورونا“ ۔ اب ہر چند کچھ مزید وقت گزر جانے کے بعد ، دوسرے موضوعات پر بھی گفتگو ہونے لگی ہے، تاہم ان باتوں پر بھی فرید جاوید کا ایک خوبصورت اور معنی خیز شعر برابر یاد آئے جاتا ہے ؛

گفتگو کسی سے ہو، دھیان ”تیرا“ رہتا ہے
ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے سلسلہ تکلم کا
یعنی موضوع کوئی بھی ہو بات گھوم پھر کر کورونا پر ہی جا پہنچتی ہے۔

کورونا نے ہم سے بہت کچھ چھین لیا اور بہت کچھ عطا بھی کیا۔ چھینی جانے والی اشیاء کی فہرست کتنی بھی طویل کیوں نہ ہو، اس سے ایک بات تو پوری طرح ثابت ہوتی ہے کہ ہم ان کے بغیر بھی جی رہے ہیں۔ اور کچھ ایسے برے بھی نہیں جی رہے۔ اور جو کچھ ہمیں ملا ان میں سر فہرست فطرت کی بازیابی ہے۔ انسان جب سے ”لاک ڈاؤن“ ہوا ہے نیچر جیسے آزاد ہو گئی ہے، کھل اٹھی ہے، لہلہاتی نظر آ رہی ہے۔ دریاؤں، ندی نالوں اور آبشاروں کی روانی پہلے سے بڑھ کر ہے۔ فضائیں تو ایک طرف رہیں گرد و غبار نے آسمان تک کو دھندلا کر رکھ دیا تھا اور بادل تو جیسے تحلیل ہو کر رہ گئے تھے۔ اب سب کچھ اتنا نکھرا، ستھرا ہے کہ زمینی اور فضائی مناظر گویا نیشنل جیوگرافک والوں کی عکس بند کی گئی دستاویزی فلموں کی مانند لگتے ہیں۔

دوسری اہم اور قابل ذکر بات یہ ہوئی کہ اس موسم میں دیگر تمام قسم کی سماجی سرگرمیوں کے معطل ہونے کے باوجود شادیاں ہوتی رہیں، اگرچہ کم کم۔ تاہم حیرت انگیز اور خوشگوار بات یہ ہوئی کہ یہ شادیاں بغیر شادی ہالوں اور مارکیوں، بغیر بے ہنگم شور و شغب، جسے موسیقی کا نام دیا جاتا ہے، نہایت سادگی سے انجام پائیں۔ ایسی ایک نہایت قریب کی شادی میں شرکت کا موقع بھی ملا۔ دونوں جانبین کے خواتین و حضرات کو ملا کر تعداد 40 سے زیادہ نہ تھی۔

7 بجے بارات آئی اور نکاح اور ضیافت سمیت تمام معاملات سے 3 گھنٹوں کے اندر اندر دلہن کی رخصتی بھی انجام پا گئی۔ قابل ذکر بات یہ تھی کہ نکاح پڑھانے والے ایک نوجوان عالم دین تھے جنہوں نے نہایت اختصار اور جامعیت کے ساتھ سنت نکاح کے اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جناب رسالت مآب ﷺ سادگی اور کفایت سے کی جانے والی شادیوں کی تحسین فرمایا کرتے تھے۔

ذرائع مواصلات کی فراوانی اور ذرائع ابلاغ کی ارزانی نے بالترتیب اس کورونا وائرس اور اس کی ہولناک خبر کو پوری دنیا میں پھیلانے اور اسے ہولناک تر بنانے میں اپنا کردار بڑی ”جانفشانی“ سے ادا کیا۔ آپ سوچئے آج ان موجود جدید ذرائع کی عدم موجودگی میں ہم 1920 میں رہ رہے ہوتے تو کیا وائرس اور اس کی خبر ووہان سے بھی باہر نکلتی؟ ہر گز نہیں!

یہ ناول کورونا وائرس اور اس کی بے پناہ دہشت، عہد جدید کی عطا ہے۔ قیامت سے پہلے گویا قیامت کی ریہرسل ہے۔ کیا چند ماہ پہلے تک یہ سوچا جا سکتا تھا کہ معابد اور مے خانے ایک ہی وقت میں یوں بے چراغ اور بے آب ہو کر رہ جائیں گے اور سماجی حیوان (سوشل اینیمل) کو بہ تاکید سماجی فیصلے قائم رکھنے کی نہ صرف تلقین کی جائے گئی بلکہ مجبور کیا جائے گا اور قدرت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ ایک طرف تو پوری دنیا کا الیکٹرانک میڈیا مسلسل خوف کی بھٹی دہکائے چلا گیا اور دوسری جانب کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، ٹیبلیٹ اور موبائل فونز کی طلسماتی سکرینوں نے، ہر قسم کی بیرونی سماجی سرگرمیوں سے محروم افراد کو ایک مہربان سہارا بھی مہیا کیے رکھا اور حصول روزگار کے ذرائع بھی یکسر موقوف نہیں ہونے دیے۔ آج بیشتر دفتری معاملات اور بالخصوص آن لائن تعلیمی سرگرمیاں اسی کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی مرہون منت ہیں۔

کورونا سے پہلے جو لوگ صرف کھانے اور سونے کے لیے گھروں کا رخ کرتے تھے، ”لاک ڈاؤن“ کے دوران بھی وہ گھروں میں یہی دو کام کرتے رہے۔ لیکن وہ لوگ جن کا اپنے گھروں سے محبت، اپنائیت اور ذمہ داری والا تعلق تھا انہوں نے اپنے وقت کو قیمتی بنانے کے لیے اپنی اپنی افتاد طبع کے مطابق اقدامات کیے۔ اہل مذہب نے اپنے خالق اور مالک سے اپنے تعلق کو مزید استوار کیا، عبادت کی، تسبیح و تہلیل میں مصروف رہے اور اس بڑی وبائی آزمائش کے حوالے سے جس نے قریب قریب پورے کرہ ارض کا احاطہ کر رکھا ہے، سوچ بچار کرتے رہے۔

قبیلہ قلم و قرطاس کے لوگوں کے بھی کم و بیش یہی مشاغل تھے جن کا اوپر ذکر ہوا، اس اضافے کے ساتھ کہ وہ تصنیف و تالیف کے علاوہ ان کتابوں کی فہرست بھی مرتب کرتے رہے جن کا وہ اپنی عدیم الفرصتی کے سبب ابھی تک مطالعہ نہیں کر پائے تھے اور جن میں سے کچھ کتابیں ان کے سرہانے دھری رہتی تھیں۔ تجار بڑی بے چینی اور اضطراب کے ساتھ، اپنی تسبیح روز و شب کا شمار دانا دانا کرتے رہے، اور جیسے ہی تالہ بندی میں کچھ نرمی ہوئی، وہ پورے جوش و خروش کے ساتھ باہر نکل آئے۔ رمضان کے آخری عشرے میں بیچنے والوں اور خریداروں نے، نکلو وگرنہ حشر نہیں ہو گا پھر کبھی کے مصداق سڑکوں اور بازاروں میں ایک حشر ہی کا سماں بپا کیے رکھا۔ اور اسی کے مطابق بعد میں اس کے نتائج بھی سامنے آئے۔

رہے عارضی ملازمت پیشہ اور محنت کش دیہاڑی دار لوگ، ان کے لیے ہر اعتبار سے یہ نہایت کڑا وقت تھا جسے انہوں نے بڑی حوصلہ مندی اور صبر سے گزارا اور گزار رہے ہیں اور اب بھی ان کی ایک بڑی تعداد پوری طرح اس ابتلاء سے باہر نہیں نکل سکی ہے۔ ان کی پلکوں پہ اب بھی شب و روز کی گرانی باقی ہے۔ اب آخر میں آتے ہیں وہ اہل درد اور خیر خواہان مخلوق خدا، جو ہر طرح کی رکاوٹوں اور دشواریوں کے باوصف اپنے لاچار اور ضرورت مند ہم وطنوں کی خدمت گاری میں تن من دھن سے جٹے رہے ہیں اور یہی لوگ دراصل زمین کا نمک کہلائے جانے کے حقدار ہیں۔ ان میں پرانے کارکنوں کے ساتھ ساتھ نئے لوگ بھی جی جان سے سرگرم عمل ہیں کیونکہ؛

ایک انسان کا ہونا بھی کسی بستی میں
کسی طوفان کے ٹلنے کے لیے کافی ہے

تادم تحریر! تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کورونا کا زور ماند پڑ رہا ہے اور شاید، عنقریب ہم کورونا کے بعد والے زمانے میں داخل ہو رہے ہیں۔

Latest posts by محمد آصف مرزا (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words
محمد آصف مرزا کی دیگر تحریریں