ایک نظر کابل پر!

طالبان نے افغانستان کے باقی صوبوں پر کنٹرول سنبھالنے کے ساتھ ساتھ افغانستان کے دارالحکومت کابل پر امریکیوں کے مکمل انخلا کے بعد کنٹرول سنبھالتے ہی پاکستان سمیت پورے خطے کی توجہ خود پر ہی مرکوز کرلی ہے۔ کچھ روز سے پاکستان میں عوام الناس کا رد عمل، سوچ بچار کابل کے متعلق دیکھ کر یوں محسوس کرنے لگا ہوں کہ اب شہر اقتدار اسلام آباد میں کیا ہو رہا ہے؟ کیوں ہو رہا ہے؟ کیا کچھ مزید ہونے والا ہے؟ ان سب میں نہ تو شہر اقتدار کی عوام کو اب دلچسپی رہی ہے نہ کہ دور دراز کے شہروں میں مقیم سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو اسلام آباد سے کوئی لینا دینا رہا ہے۔

اسلام آباد میں آج کل صحافیوں کو جوش چڑھا ہوا ہے بلاناغہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں آزادی اظہار رائے، صحافیوں کی آزادی پر یقین، موجودہ حکومت کی میڈیا پر قدغن لگانے والے پاکستان میڈیا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس کے نام سے کالا قانون کی خلاف مزاحمت اور پاکستان میں صحافیوں کے حقوق و مسائل پر جد و جہد کرنے والی پاکستان کی سب سے بڑی صحافی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس متحرک ہے، اور مجھ جیسا بے روزگار صحافت کا طالب علم کسی کے بلانے نہ بلانے کی فکر و سوچ سے آزاد پہنچ جاتا ہے کہ کہیں کچھ نہ کچھ سیکھنے کو ہی مل جائے گا کسی سے جان پہچان بن گئی تو کیا پتہ میں بھی کسی کھاتے میں لگ جاؤں، لیکن ان سب سیاسی صحافتی پیش رفت سے شہر اقتدار کے باسیوں کا کوئی سروکار نہیں۔ سب نظریں جمائے بیٹھے ہیں کابل پر، کہ طالبان نے پچھلے جمعہ کی نماز کے بعد جو اپنی حکومت بنانی تھی ابھی تک کیوں نہیں بنائی، آخر کب تک طالبان صاحبان کابل کے سیاسی معاملات بغیر وزیروں مشیروں کے چلاتے رہیں گے۔

کل بروز ہفتہ 4 ستمبر ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کابل کے دورے پر کیا گئے پاکستانی میڈیا، پاکستانی عوام، بالخصوص سوشل میڈیا پر تو ایک طوفان سا برپا ہو گیا، سونے پر سہاگہ انٹرنیٹ پر ایک تصویر وائرل ہوئی فیض حمید صاحب کی جس میں وہ افغانستان میں موجود پاکستانی سفیر اور اپنے انٹیلی جنس کے ساتھیوں کے ساتھ سیرینا ہوٹل میں کابلی چائے کے کپ کے ساتھ بڑے ہی اسٹائلش انداز سے کھڑے نظر آرہے تھے، بس اس تصویر نے تو آگ ہی لگا دی انڈین میڈیا تو اس آگ میں جل کر راکھ ہو گیا، ادھر پاکستانی سوشل میڈیا کے دانشور عوام نے ڈی جی صاحب سے متعلق قیاس آرائیوں، نیک خواہشات کے ساتھ انٹرنیٹ بھر کر رکھ دیا، کسی نے تبصرہ کیا کہ مارخور کابل میں آخری کیل ٹھوکنے گیا ہے تو کسی موصوف نے لکھ ڈالا کہ طالبان کا شمار ڈی جی صاحب کے مریدوں میں ہوتا ہے، لیکن آفیشل بیان ابھی تک جنرل فیض حمید کا کابل کے دورے کا نہ تو آئی ایس پی آر نے جاری کیا نہ تو کہیں اور سے کوئی آفیشل سراغ مل سکا، بس ہر طرف تجزیوں، قیاس آرائیوں اور اندازوں کی بھرمار ہے۔

کچھ پڑھے لکھوں کا کہنا ہے جنرل صاحب طالبان میں صلح صفائی ثالثی کا کردار ادا کرنے گئے ہیں کیوں کہ چہ میگوئیاں ہیں کہ طالبان کابل میں اپنی حکومت کے معاملات طے کرنے میں ٹھوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ اب سچ کیا ہے یہ تو اللہ کی ذات جانے اور ڈی جی صاحب، البتہ جنرل صاحب کے کابل دورے کے بعد کا تحرک طالبان پاکستان کی طرف سے سخت ردعمل آیا ہے صبح سویرے اٹھتے ہی نیوز میں دیکھنے کو ملا کہ تحریک طالبان پاکستان نے مستونگ روڈ کوئٹہ پر ایف سی کے 3 اہلکار شہید اور لگ بھگ 20 اہلکاروں کو زخمی کر کے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کسے معلوم کون سا معرکہ سر کر لیا ہے۔ خدا ہی جانے ان بڑے لوگوں کی منطقوں کو لیکن بیچارے معصوم سپاہیوں کی شہادت دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ کابل کی سیاست اور طالبان میں دلچسپی لیتے لیتے ہم اپنے ہی ملک میں کہیں پھر سے دہشتگردی کی نئی لہر نہ پیدا کر بیٹھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
عمید علی بلوچ کی دیگر تحریریں