اردو کا نوحہ کیا کہئیے

ابھی کل کی بات ہے کتب و رسائل کو پڑھنا ہر پڑھے لکھے گھرانے کی روایت تھی۔ اور تو اور سکولوں میں بھی بزم ادب سجانا، مضمون نویسی، مشاعرے، مباحثے، تقریری مقابلے منعقد کرنا معمول کا حصہ تھا۔ اس طورہم اپنی تاریخ، تہذیب اور اخلاقی روایات سے آگاہ ہوتے تھے۔

بڑھا دیتی ہیں عمروں کو نہ جانے یہ کتابیں کیوں

میں چھوٹا تھا مگر سر پر کئی صدیوں کا سایہ تھا

گئے دنوں میں معیاری ادب پڑھنے لکھنے سے ہم انداز بیان کے اسرار و رموز بھی سیکھتے تھے۔ اچھی اردو پڑھنا اور بولنا قابل فخرسمجھا جاتا تھا۔ عمدہ شعر سننے پہ تو باقاعدہ سر دھنا جاتا تھا۔ لیکن پھر وہ کہتے ہیں ناں کہ

زمانے کے انداز بدلے گئے

نیا راگ ہے ساز بدلے گئے

 ترقی اور ٹیکنالوجی نے ایسا شب خون مارا کہ کتب بینی ماضی کا حصہ بن گئی۔ آج کی نوجوان نسل کمپیوٹر اور موبائل میں ایسی کھوئی کہ کتاب سے نا آشنا ہوگئی۔ اور کتاب سے کیا ہٹ گئےاپنی تاریخ اپنی تہذیب اپنی روایت سے بھی کٹ گئے۔ جو اخلاقی و سماجی اقدار کتاب سے سیکھنا تھیں وہ عنقا ہو گئیں۔ کردار سازی کہیں رستے میں ہی کھو گئی۔

مانا کہ آج بٹن کے ایک کلک سے علم کا وسیع سمندر جھٹ سے آن میسر ہوتا ہے لیکن اس سمندرمیں وہ گہرائی کہاں جو مطالعہ سےحاصل ہوتی تھی۔ وہ جو کتاب میں لکھا ہوا لفظ ذہن پر نقش ہوا کرتا تھا، کمپیوٹر کی سکرین پر جگمگاتے لفظ کا اس سے کیا موازنہ۔ معذرت کے ساتھ ہمیں کہنے دیجئے، آج کا نوجوان نہ اچھا لکھتا ہے نہ اچھا پڑھتا ہے۔

 اس المیےکا نوحہ کیا کہیں، ایک طرف پڑھنے لکھنے سے یہ بے نیازی اور بے اعتنائی ہے تو دوسری جانب انگریزی زبان کا غلبہ ہے کہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آج اردو عالم نزع میں ہے، اپنے ہی وطن میں۔

دیکھا تھا کبھی میں نے بھی خوشیوں کا زمانہ

اپنے ہی وطن میں ہوں مگر آج اکیلی

اردو ہے میرا نام میں خسرو کی پہیلی

مگر جناب محکمہ تعلیم، جنوبی پنجاب کا کیا کیجئے، پڑھنے لکھنے کی روایت کو زندہ کرنے اور اردو کو اس کا کھویا ہوا مقام دلانے کے لئے کمربستہ ہوگئے ہیں، برپا کر رہے ہیں ایک تحریک، فروغ کے نام سے۔

اور ایسا کیونکر نہ کرتے:

نہیں کھیل اے داغ یاروں سے کہہ دو

کہ آتی ہے اردو زبان آتے آتے

Comments - User is solely responsible for his/her words