بیٹی کو بھگا دیں (پارٹ ٹو)

آج سے سات سال پہلے لکھا ہوا مضمون نظروں کے سامنے سے گزرا تو میں نے سوچا کہ اس مضمون کا فالو اپ لکھنا چاہیے۔ زندگی میں ہر دن نئے سوال سامنے لاتا ہے اور نئے سبق سکھاتا ہے۔ تکنیکی لحاظ سے دیکھا جائے تو ہم سب بچپن ختم ہو جانے کے بعد بھی بڑے ہو رہے ہیں۔ ہم ہر روز چھوٹے بڑے فیصلے کرتے ہیں جن کے بارے میں ہمیں اس وقت مکمل طور پر ادراک نہیں ہوتا کہ وہ آگے چل کر کیا نتائج دکھائیں گے۔

ستمبر 2014

مقولہ ہے کہ ”اگنورینس از آ بلیس!“ یعنی کہ لاعلمی رحمت ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ معاملات میں ‌ہو لیکن ہر جگہ ایسا نہیں ‌ ہے اور لاعلمی سے دیگر بڑے مسائل جنم لیتے ہیں۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ لوگوں ‌ کے ذہن میں ‌کیا ڈر بیٹھے ہوئے ہیں ‌ اور کیا یہ خوف ریشنل ہیں ‌یا اتنے بڑے بنا دیے گئے ہیں ‌کہ وہ ان کو اپاہج کر رہے ہیں۔ لوگ اپنی بیٹیوں ‌کو پڑھانے اور خود مختار بننے میں ‌مدد دینے سے کیوں ‌ اتنا خوف زدہ ہیں؟

‎میرے ایک دراز عمر مریض تھے جن کا تعلق انڈیا سے تھا۔ ان کے تمام بچے بڑے ہو چکے تھے۔ انہوں ‌نے اپنی بیگم کی وفات کے بعد ایک نسبتاً کم عمر کی پانچ بچوں کی ماں سے شادی کی جن کے شوہر جوانی میں وفات پا چکے تھے۔ وہ شادی کے بعد اپنے بچوں کے ساتھ امریکہ منتقل ہو گئیں۔ یہ دلچسپ جوڑا اوکلاہوما کے کسی چھوٹے سے شہر میں بسا ہوا تھا جہاں زیادہ دیسی نہیں ‌رہتے تھے۔ جب بھی وہ نارمن آتے تو ان کی بیگم ساتھ میں ‌ضرور آتی تھیں۔

وہ ہمیشہ مجھ سے مل کر خوش دکھائی دیتی تھیں۔ صاف ظاہر تھا کہ اپنے بیک گراؤنڈ کے لوگوں ‌سے مل کر ان کو بہت اچھا لگتا تھا۔ یہ خاتون اپنے میاں ‌کی تعریف کرتے نہیں ‌تھکتی تھیں کہ وہ کتنے اچھے آدمی ہیں، یہ کہتے ہوئے ان کی آنکھوں ‌میں ‌آنسو آ جاتے تھے جن کو وہ اپنے پلو سے پونچھ دیتی تھیں۔ بیوہ خواتین کا انڈیا میں ‌درجہ، ان کی مشکلات اور بچوں ‌کا غیر یقینی مستقبل ہم سب کے سامنے ہے۔ ایسی صورت حال میں ‌ان سب افراد کے لیے اچھا ہوا کہ انہوں نے یہ شادی کی جس کی بدولت ان صاحب کو رفاقت ملی اور ان خاتون کے پانچ بچوں ‌کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے ایک موقع ملا۔

کبھی کبھار ان کی بیٹیاں ‌بھی ساتھ میں ‌آتی تھیں۔ میں ان بچیوں سے ہمیشہ یہی پوچھتی تھی کہ آپ کا اسکول کیسا چل رہا ہے؟ وہ میری نظر میں میرے اپنے بچوں کی طرح تھیں۔ جو بچے بھی اپنے والدین کے ساتھ آتے ہیں، میں ان سب سے ان کے اسکول کے بارے میں پوچھتی ہوں جیسے ہمارے بڑے ہم سے پوچھتے تھے۔ ایک دن ایک ہسپانوی بچی اپنی ماں کے ساتھ آئی، اس نے اپنی جیب میں سے اپنا رپورٹ کارڈ نکال کر مجھے دکھایا۔ سارے مضامین میں اس کو اے گریڈ ملے ہوئے تھے۔

میں نے اس کو شاباش دی اور کہا کہ نارمن ہسپتال میں بہت ساری ایسی نوکریاں ہیں جن میں دو زبانیں انگریزی اور ہسپانوی جاننے والوں کو زیادہ تنخواہ ملتی ہے اس لیے اس کو میڈیکل فیلڈ میں کیریر کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ اس کی آنکھیں چمکنے لگیں اور اس نے ہسپانوی میں اپنی ماں کو یہ بات بتائی۔ ایک لمحے کو مجھے سمجھ میں نہیں آیا کہ اس کو یا اس کی ماں کو یہ بات کیوں معلوم نہیں تھی۔ لیکن سوچیں تو صاف ظاہر ہے کہ ایک پندرہ سالہ بچہ دنیا کے بارے میں کیا جانتا ہے؟ اور اس کی ماں انگریزی نہ جاننے کی وجہ سے اپنے ہی شہر سے کٹی ہوئی تھی۔

ہمارے ہندوستانی مریض کی بیگم کہیں نوکری کرتی تھیں۔ وہ کیا کرتی تھیں یہ میں نے ان سے کبھی نہیں پوچھا۔ کون کیا کرتا ہے؟ کس کے شوہر کیا کام کرتے ہیں؟ ان کی تنخواہ کتنی ہے؟ ان کا مکان کتنے کا ہے؟ ان کے گھر میں کتنے کمرے ہیں؟ یہ تمام نہایت نامناسب سوالات ہیں جو افراد کے گرد موجود دائرے سے گزر جاتے ہیں۔ یہ خاتون سارے پیسے جمع کر کے انڈیا واپس جا کر باری باری اپنی لڑکیوں ‌کی شادیاں ‌کروا رہی تھیں۔ میں نے محسوس کیا کہ ان بچیوں ‌کی عمریں شادی کر دینے کے لیے بہت کم تھی۔

لیکن تمام افراد اپنی زندگی اور خاندان کے لیے فیصلے کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ مجھے اچھا نہیں لگا لیکن میں نے ان سے کچھ نہیں کہا۔ وہ جب بھی آتیں ‌تو سینے پر ہاتھ رکھ کر سانس کھینچ کر بولتی تھیں ‌، ”بہت ڈر لگتا ہے مجھے اس ملک کے ماحول سے!“ کس بات کا ڈر ہے آپ کو؟ یہاں ‌ کیا نہیں ‌ہے؟ زندگی میں کامیابی کے لیے اور دنیا میں ترقی کے لیے چاروں ‌طرف مواقع ہیں! ہماری دوستانہ سی گپ شپ رہتی۔ ایک سال بعد وہ واپس آئیں تو ان کے والٹ میں ‌ننھے سے بچے کا فوٹو تھا جو وہ بڑی خوشی خوشی دکھا رہی تھیں کہ میرا نواسا ہے۔

میں ‌نے دل پر پتھر رکھ کر ان کو مبارک باد دی۔ امی کی سولہ سال کی عمر میں شادی ہوئی تھی اور سترہ سال کی عمر میں میں پیدا ہوئی تھی۔ چوبیس سال کی عمر میں وہ چار بچوں کے ساتھ بیوہ ہو گئی تھیں لیکن انہوں نے اپنی زندگی سے سبق سیکھا اور ہم تینوں بہنوں کو کالج جانے کی ترغیب دی۔ لیکن صاف ظاہر تھا کہ یہ خاتون اپنی زندگی سے کچھ نہیں سیکھ پائی تھیں اور جو موقع قسمت نے ان کو اور ان کے بچوں کو دیا تھا اس کو ضائع کرنے پر تلی ہوئی تھیں۔

جب انہوں نے کہا کہ اب دوبارہ جا رہی ہوں اگلی دو کی شادیاں ‌ کروانے تو مجھ سے رہا نہیں ‌گیا۔ کیا ظلم کر رہی ہیں ‌آپ اتنی کم عمر میں ‌شادیاں ‌کرواکے؟ ان کو پڑھنے کیوں ‌نہیں ‌دے رہیں؟ وہ بھی ڈاکٹر اور انجینئر بن سکتی ہیں! تو انکل مڑ کر بولے نہیں ‌نہیں ‌وہ کالج کا ایڈمیشن ٹیسٹ پاس نہیں ‌کر سکتی ہیں، اس لیے نہیں ‌جائیں ‌گی۔ یہ نسل در نسل کا دائرہ میری نظروں ‌میں ‌مزید نمایاں ‌ہوگیا۔ ماں کی اپنی کم عمری میں ‌شادی ہوئی، ان کی اپنی تعلیم اتنی کم تھی کہ وہ اپنے بچوں ‌کو درست سمت میں ‌روانہ نہیں ‌کر سکتی تھیں۔

انہوں ‌نے اپنی زندگی سے یہ سبق نہیں ‌سیکھا کہ اگر ان کی بیٹیاں ‌بھی ان کی طرح پانچ بچوں کے ساتھ بیوہ ہوجائیں ‌گی تو وہ آگے کیا کریں ‌گے؟ اور یہ سائیکل کئی نسلوں ‌تک چلے گا۔ ان سے بات کر کے مجھے یہ بھی اندازہ ہوا کہ لوگوں ‌کے دماغ میں ‌کیا خوف بیٹھے ہوئے ہیں؟ لڑکیاں گوروں ‌سے شادیاں ‌کر لیں گی، کالوں ‌سے شادیاں ‌کر لیں گی۔ کوئی افیئر چلا لیں ‌گی بس اس سے آگے وہ نہیں ‌سوچ سکتے ہیں۔ اس خوف کا عقل کے ساتھ سامنا بھی نہیں ‌کرتے بلکہ ایک بل میں ‌چھپ جانا چاہتے ہیں۔

یہ افراد غیر ترقی یافتہ ممالک سے ترقی یافتہ ممالک میں منتقل ہو کر یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے سابقہ طریق حیات جاری رکھیں گے تو جس دنیا کو ہم پیچھے چھوڑ آئے ہیں، اس کو ہم نے کیوں چھوڑا تھا؟ ان افراد نے امریکہ، کینیڈا اور یورپ میں تنظیمیں بنالی ہیں جن کی کانفرنس بلا کر ڈسکس کرتے ہیں ‌کہ کس طرح‌اپنے بچوں ‌کو اسکول میں ‌جنسی تعلیم حاصل کرنے سے روکیں۔ جنسی تعلیم بچوں کی مناسب تربیت کے لیے اشد اہم ہے۔ بچوں ‌کو اپنے جسم کے حصوں ‌کے بارے میں ‌پتا ہونا چاہیے، انہیں ‌ مناسب اور نامناسب کا علم ہونا چاہیے۔

دنیا بہت آگے نکل چکی ہے۔ آج کی دنیا میں خود کو سنبھالنا، اپنے پیروں پر کھڑا ہونا اور معاشرے کا مفید رکن بننا ہر فرد کے لیے لازمی ہے۔ انسان سماجی جانور ہے۔ انسانوں کا دوسرے انسانوں کے ساتھ تعلقات بنانا ایک نارمل بات ہے اور اس کو سیکھنا اہم ہے۔ حالانکہ تمام حالات ہمارے سامنے ہیں۔ لوگ خود اپنی زندگی سے سبق نہیں ‌سیکھ رہے اور خوف سے اپنی آنکھوں ‌پر پٹیاں باندھنا چاہتے ہیں۔ شاید ان کو لگتا ہے کہ پچھواڑے میں ‌ قبریں ‌ہر مسئلے کا مفید علاج ہیں۔

‎ہماری انٹرنل میڈیسن ریزیڈنسی میں ہمارے ایک ٹیچر ڈاکٹر موہن تھے جن کی فیملی اس زمانے میں ‌امریکہ آ گئی تھی جب یہاں ‌زیادہ دیسی نہیں ‌ رہتے تھے۔ انہوں ‌نے ایک بار ہمیں ‌بتایا کہ ان کی ایک بہن تھی جس کو کسی سے ملنے یا بات کرنے کی اجازت نہیں ‌تھی۔ ان کے ہاں ‌اپنی ذات اور دھرم سے باہر شادی نہیں ‌ہوتی تھی۔ وہ خوبصورت لڑکی تھی اور کافی لوگ اس کو پسند بھی کرتے تھے۔ اس نے آخر کار 29 سال کی عمر میں ‌ خود کشی کرلی تھی۔ اگر اس کو اپنی خوشی سے زندگی گزارنے دی جاتی تو شاید آج وہ زندہ ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنے دماغ میں خود کو اعلیٰ و ارفع سمجھتے ہیں حالانکہ بقایا دنیا اور اس کے لوگ شائستگی، تعلیم اور تربیت میں ہماری قوم سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔

‎اس دن اپنا کلینک ختم کر کے جب میں ‌گھر واپس آئی تو میز پر کتابیں ‌بکھری ہوئی تھیں ‌اور میری تیرہ سالہ بیٹی ہوم ورک کر رہی تھی۔ وہ ہمارے کافی مریضوں ‌کو جانتی ہے کیونکہ وہ چھٹیوں ‌میں ‌ہمارے آفس میں ‌سیکریٹری کے ساتھ کام کرتی ہے۔ میں ‌نے اس کو کہا فلاں ‌آنٹی اپنی 18 سال کی بیٹی کی شادی کرا رہی ہیں۔ تو وہ بولی اگر آپ نے میری شادی کروانے کی کوشش کی تو میں ‌ گھر سے بھاگ جاؤں ‌گی۔ میں ‌نے اس کو یہی کہا کہ بیٹا اگر کسی نے آپ کی شادی کرانے کی کوشش کی تو میں ‌ آپ کو خود بھگا دوں ‌گی۔ میں چاہتی ہوں ‌ کہ وہ ہارورڈ جائے اور سپریم کورٹ جج بنے اور امریکہ کو درست سمت میں ‌چلائے۔ یہ اس کے لیے میرا خواب ہے لیکن وہ اپنی زندگی میں ‌کچھ بھی چنے تو میں ‌اس کا ساتھ دوں ‌گی جیسے میری امی نے میرا ساتھ دیا۔ (ل – م)

ستمبر 2021

شاید ان صاحب کی وفات ہو چکی ہے یا وہ لوگ اوکلاہوما چھوڑ کر کہیں اور جا بسے ہیں۔ کئی سال سے واپس نہیں آئے۔ لیکن جب وہ اپنی تیسری بیٹی کو ٹھکانے لگانے کے بعد واپس آئی تھیں تو زندگی ان کو دوبارہ سے وہ سبق سکھا چکی تھی جو انہوں نے پہلے دھکے سے نہیں سیکھا تھا۔ ان کی مسکراہٹ مٹ گئی تھی اور آنکھوں کے ستارے بجھ گئے تھے۔ ”یہ ہمارا نجی معاملہ ہے“ کہہ کر نسل در نسل ہندوستانی عورت بدسلوکی سہ رہی ہے لیکن یہ بچیاں امریکہ دیکھ چکی تھیں، اس کی آزادی، خوشحالی اور فضا دیکھ کر پھر سے اس زندگی میں واپس نہیں جا سکتے جہاں آپ کو پلاسٹک کی گڑیا یا کٹھ پتلی کی طرح چلانے کی کوشش کی جائے اور آپ پر ذہنی، جذباتی، معاشی اور جسمانی تشدد ہو۔

اس بار انہوں نے اپنی سب سے چھوٹی بچیوں کی شادیاں کروانے کے بارے میں بات کرنے کے بجائے اس بارے میں بات کی کہ کس طرح اپنی گھریلو تشدد کی شکار بیٹی کو اس کے بچوں کے ساتھ واپس امریکہ لانے پر کام کیا جائے؟ امریکہ دور سے بہت سہانا دکھائی دیتا ہے لیکن اس میں غریبی کے دائرے سے نکلنا آسان کام نہیں ہے۔ کیپیٹلسٹ نظام امریکی شہریوں سے زیادہ سے زیادہ کام کروا کر کم سے کم تنخواہ دینا چاہتا ہے۔ غریب اور امیر محلے الگ الگ ہیں۔

امیر محلوں کے اسکول بہتر ہیں۔ امیر محلوں میں چھوٹے گھر بنانا ممنوع ہے۔ یہاں نسل پرستی ہے جس میں کالا یا براؤن ہونا پہلے سے ایک مسئلہ ہے۔ ریٹائرمنٹ کی عمر بھی 70 کے قریب پہنچ چکی ہے۔ بچوں کی شادیاں کروانے اور مزید بچے پیدا کرنے سے آپ اس چکی میں پستے رہیں گے۔ ہیلتھ انشورنس نوکری سے اور خوراک اسکول سے جڑی ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے نوکری جائے تو ہیلتھ انشورنس ختم اور اگر بچے اسکول نہ جائیں تو بہت سے خاندان ان کو کھانا نہیں کھلا سکتے ہیں۔

ہیلتھ انشورنس کے بغیر امریکہ میں چھ لاکھ پینتالیس ہزار افراد ہر سال دیوالیہ ہو جاتے ہیں۔ اپنے امریکی بچوں کی پچھلے ممالک کے افراد سے شادیاں کروا کر ان کے شوہروں کو یہاں بلانا چھوڑ دینا ہوگا۔ وہ اس معاشرے کو اور آپ کی محنت اور قربانی کو نہیں سمجھ سکتے اور مخالف سمت میں زور لگاتے رہیں گے۔ ان لوگوں کا ذہن دوسرے افراد کی جنسی زندگی، پہننے اوڑھنے اور کھانے پینے کے باہر سوچنے کے لائق نہیں ہے حالانکہ یہ باتیں نارمل انسانی معاشرے کا حصہ ہیں۔

میری اپنی بیٹی آج امریکہ کی ایک عمدہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے۔ حالانکہ میں نے اپنے بچوں سے یہ تک کہہ دیا تھا کہ اگر وہ ہارورڈ اسکول گئے تو میں اپنا گھر بیچ کر بھی ان کی فیس دے دوں گی لیکن ان دونوں نے اوکلاہوما میں تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دی۔ وہ بہتر ہی رہا کیونکہ ریاست کے اندر فیس تین گنا کم ہوتی ہے۔ اصل محبت اپنے پیاروں کو مقید رکھنے کا نہیں بلکہ ان کو آزاد کردینے کا نام ہے۔ ان بچوں کا روشن مستقبل ہم صاف دیکھ سکتے ہیں۔ یہ لڑکیاں کسے پسند کر لیں اور کس سے شادی کر لیں وہ فیصلے ہمارے کرنے کے نہیں ہیں۔ آج مڑ کر دیکھتی ہوں تو مجھے اس کو گھر سے بھگا دینے کا فیصلہ کرنے پر خود پر فخر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words