روانڈا میں کتنی مہنگائی ہے؟

”دور کی کوڑی لانا“ محاورہ تو آپ نے سنا ہو گا جب کسی بندے کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا تو اپنی نالائقی چھپانے کے لئے کسی ایسے علاقے کی بات سنا دے گا کہ اگلے بندے نے وہ علاقہ دیکھا ہی نہ ہو۔ جیسے پاکستان کے کسی چھوٹے سے شہر میں بیٹھ کر آپ امریکہ کے کسی دور دراز علاقے کی مثال دیں۔ نہ وہ بندہ کبھی زندگی میں امریکہ جائے اور نہ وہ چیز دیکھ سکے اسے کہتے ہیں ”دور کی کوڑی لانا“ عمران خان نے الیکشن 2018 سے پہلے وعدہ تو بڑے کیے تھے کہ پاکستانیوں کو کروڑوں نوکریاں لاکھوں گھر بنا کر دیں گے۔ باہر سے لوگ پاکستان نوکری کرنے آئیں گے۔ پاکستان کے روپے کی قدر ہوگی۔ سبز پاسپورٹ کی عزت ہو گئی۔ کرپشن ختم ہو جائے گی۔ عوام کو بنیادی ضرورتیں صحت اور تعلیم ان کے گھر پر ملیں گی۔ بجلی اور گیس کے بل کم آئیں گے۔ پٹرول سستا کر دیا جائے گا۔ پچھلی حکومتیں مہنگائی کر کے پیسے جیب میں ڈالتی تھیں۔ جب ایماندار حکمران ہوگا تو سب کچھ عوام کو سستا ملے گا۔ انصاف کا بول بالا ہو گا امیر و غریب کا فرق ختم ہو جائے گا۔ لیکن یہ سب کچھ خیالی پلاؤ ثابت ہوا عمران خان کی حکومت بننے کے بعد غریبوں سے ان کے چھوٹے چھوٹے گھر چھین لئے گئے۔

کروڑوں نوکریاں کیا دینی تھی ستر لاکھ لوگوں کو بے روزگار کر دیا گیا۔ مہنگائی آسمان کو چھونے لگی۔ آٹا اور چینی جیسی بنیادی چیزیں لوگوں کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ ادویات 500 فیصد مہنگی کر دی گئیں۔ عمران خان اور ان کے تمام وزیر مشیر سب سے بڑے ٹھگ ثابت ہوئے۔ ہر وزیر اپنے کمانے کے چکر میں لگا ہوا ہے۔ امیر اور غریب کا فرق دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ امیر امیر ترین اور غریب غربت کی سطح سے بھی نیچے جا رہا ہے۔

ایشیا میں سب سے زیادہ مہنگائی پاکستان میں ہوگی پاسپورٹ جنگ زدہ ملکوں کی فہرست میں چلا گیا۔ کرپشن ملک میں بڑھ گئی۔ تین سال عمران خان کے وزیروں نے پچھلی حکومتوں پر الزام لگاتے ہوئے گزار دیے اب جب تین سال گزارنے کے بعد کوئی صحافی کوئی اینکر پرسن عمران خان اور ان کے وزیروں سے سوال کرتا ہے۔ تین سال سے آپ لوگوں کی حکومت ہے ہے آپ نے کیا تو ”دور کی کوڑی“ لے کر آ جاتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ جا کر زمبابوے میں دیکھیں کتنی مہنگائی ہے۔

کینیا میں دیکھیں کتنی مہنگائی ہے۔ چلی میں دیکھیں کتنی مہنگائی ہے۔ اگر کوئی پوچھ لے کہ پیٹرول اتنا مہنگا کیوں ہے بجلی زیادہ مہنگی کیوں کی ہے ہے تو بتاتے ہیں کہ جا کہ جرمنی میں دیکھیں پٹرول کتنا مہنگا ہے۔ جا کے یوگوسلاویہ میں دیکھیں بجلی کتنی مہنگی ہے۔ اگر کوئی بے روزگاری پر پوچھے تو بتاتے ہیں جا کے کانگو و برازیل میں دیکھیں کتنی بے روزگاری ہے۔ جا کے روانڈا میں دیکھیں کتنی بے روزگاری ہے۔ سوال کرنے والا بندہ سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ اس نے ایسے ملکوں کے نام ہی پہلی بار سنے ہیں اس نے جاکر کیا دیکھنا ہے۔

عمران خان اور اس کے وزیروں مشیروں نے تین سال پچھلی حکومت پر الزام تراشی کرتے ہوئے گزار دیے کہ ہر پرابلم کے ذمہ دار پچھلے حکمران ہیں۔ اگلے دو سال اس طرح کے بہانے کر کے کے گزار دیتے ہیں۔ عمران خان نے عوام کو بس یہی کہنا ہے کہ گھبرانا نہیں۔ جب ملک میں امن و سکون تھا۔ مہنگائی بھی نہیں تھی بے روزگاری بھی نہیں تھی تو اس وقت کے حکمران چور تھے یا نہیں تھے عوام کو اس بات کا نہیں پتہ لیکن اب جو حکمران ہیں عوام کو پتہ چل گیا کہ یہ سب سے بڑے ٹھگ ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words