خرابۂ جہاں

میں نہایت غیر جانبداری سے افغانستان کی سرزمین پر طالبان کا چارج سنبھال لینے کے بعد روزانہ کی بنیادوں پر بدلتے ہوئے حالات دیکھ دیکھ کر اہل کرم کی حالت زار سے خوب محظوظ ہو رہا ہوں۔ چائنہ نے تو لگی لپٹی رکھے بغیر ”جلے تو جلاؤ گوری“ کے مصداق صاف صاف کہہ دیا ہے کہ ہم افغانستان میں ”انسانی ترقی کی کوشش“ میں بھرپور معاونت کریں گے۔ لطیفہ تو تب ہوا جب زخم خوردہ بھارت نے بھی دنیا کے طالبان کے ساتھ سفارتی روابط قائم کرنے پر اورنج سگنل دیے جانے پر زہر کا گھونٹ حلق سے اتارتے ہوئے اپنے ایک سفارتی وفد کو طالبان سے ملاقات کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔

ادھر ہندوستان کی طرف سے عندیہ کیا جانا تھا کہ حضور مآب آئی ایس آئی کے ہاٹ اینڈ ڈیشنگ چیف جنرل فیض حمید حتف میزائل کی طرح سے کابل میں داغے گئے اور طالبان کے سرکردہ لیڈروں سے ”خاص الخاص کامیاب“ مذاکرات کر کے اسی اسپیڈ سے واپس لوٹ آئے۔ مذاکرات کیا ہو سکتے ہیں آپ سب مجھ سے بہتر اندازہ لگا سکتے ہیں۔درویش طالبان کی خوشی دیدنی ہے۔

پوچھنا یہ چاہتا تھا کہ پنجشیر کا وہ گبر سنگھ دکھائی تو جانے دیں سنائی تک نہیں دیتا جس نے ایک اندازے کے مطابق ایک ہزار طالبان کو کنٹینروں میں بکریوں کی طرح ٹھونس کر دشت لیلی میں چھوڑ دیا کہ زندہ روسٹ ہو جائیں۔ جی ہاں میرا اشارہ جنرل عبدالرشید دوستم کی طرف ہے۔ یہ بہادر کمانڈر اپنی ”شجاعت“ کے کارنامے صرف تب ہی دکھا پاتے ہیں جب سرمایہ دار قوتیں ان کے لئے کارپٹ بمباری سے راستہ صاف کر دیتی ہیں۔

انسانی حقوق کی پاسداری کا پرچار کرنے والی تنظیموں کو تو جانے دیں اس وقت میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ دنیا کی وہ سپر طاقتیں کہاں ہیں جو انسانی حقوق کی علمبرداری کی آڑ میں اپنے من پسند فیصلے منواتی آئی ہیں؟ کل ہی عہد رفتہ کی سپر پاور کے سربراہ جو بائیڈن کا ایک نہایت موثر اور معنی خیز اسٹیٹمنٹ گلوبل نیوز کینیڈا اور ڈان پاکستان سے نظروں کے سامنے سے گزرا آپ بھی سنیئے ”امریکہ کی کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی پالیسی نہیں رہی ہے۔

“ خبر پڑھنا تھا کہ میرے منہ سے بے ساختہ نکلا ”اوئی نا کہ پاکستانیوں کی طرح امریکی بھی اپنی نئی نسل کو مطالعہ پاکستان کی بنیاد پر“ ریوائیزڈ ورژن ”آف امریکی فارن پالیسی پڑھانے پر مجبور ہو گئے۔“ ہائے بیچارہ ہینری کیسنجر، اگر نسیان کا شکار نہ ہوتا تو دیگر امریکی صدور کی مدح میں لکھے گئے قصیدوں کی طرح مسٹر بائیڈن کی سیاسی بصیرت پر بھی کوئی قصیدہ بھری کتاب لکھتا۔ اپنے نوجوان دوستوں کی خدمت میں دست بستہ عرض کروں گا کہ مملکت خداداد کی تاریخ ہی نہیں امریکہ کے مقتدر ادارے بھی اپنی تاریخ میں بڑی سخاوت سے جھوٹ کی ملاوٹ کرتے ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کو جب اپنے پھانسی کے پھندے سے لٹک جانے کا یقین ہو گیا تھا تو انہوں نے اپنے قاتلوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھٹو اپنی قبر سے حکومت کرے گا۔ کون جانے اپنی قبر سے بھٹو کتنی موثر حکومت کر رہے ہیں، البتہ ایک بات تو طے ہے کہ جنرل ضیاء الحق کی لگائی ہو نرسری ایک خودرو جنگل کی شکل اختیار کرتے ہوئے محض خطہ ہی کو اپنی لپیٹ میں نہیں لے چکی بلکہ تمام مہذب دنیا کے لئے بھی ایک زبردست چیلنج بن چکی ہے۔

آخر میں نہ جانے کیوں مجھے دنیا کے موجودہ تباہ حال نظام پر رہ رہ کر مصطفے زیدی کی نظم ”آخری بار ملو“ یاد آ رہی ہے حالانکہ وہ نظم زیدی نے دنیا کے بدبو دار سماجی نظام کا مرثیہ نہیں بلکہ اپنی دم توڑتی محبت کے پیش حال لکھی تھی۔ دنیا میں کیا اب بھی کوئی نظریہ یا نظام باقی ہے اگر آپ کو معلوم ہو تو مجھے بھی بتائیے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words