خرابۂ جہاں

میں نہایت غیر جانبداری سے افغانستان کی سرزمین پر طالبان کا چارج سنبھال لینے کے بعد روزانہ کی بنیادوں پر بدلتے ہوئے حالات دیکھ دیکھ کر اہل کرم کی حالت زار سے خوب محظوظ ہو رہا ہوں۔ چائنہ نے تو لگی لپٹی رکھے بغیر ”جلے تو جلاؤ گوری“ کے مصداق صاف صاف کہہ دیا ہے کہ ہم افغانستان میں ”انسانی ترقی کی کوشش“ میں بھرپور معاونت کریں گے۔ لطیفہ تو تب ہوا جب زخم خوردہ بھارت نے بھی دنیا کے طالبان

Read more

ایک عام سا شخص

وہ ایک عام سا شخص تھا، اس میں ایسی کوئی بات بھی نہیں تھی جو اسے خاص بناتی۔ پھر بھی ہر شام جب میں آفس سے واپس آتا تو میری نظر خود بخود اس کے کمرے کی جانب اٹھتی جہاں سے کمرے کی کھڑکی اور کچن کے ویکیوم فین سے چھن چھن روشنی باہر آتے دیکھ کر مجھے اس کی موجودگی کا پتہ چلتا۔ میری اس سے پہلی ملاقات ہوئی تو گرمیوں کا موسم شروع ہو چکا تھا، میں آفس

Read more

گریش کرناڈ کی فلم "سوامی” میں آخر ایسا کیا تھا؟

کافی دنوں سے میرا دل چاہ رہا تھا کہ ایک بار باسو چیٹرجی کی ہدایت میں بننے والی فلم سوامی پھرسے دیکھوں۔ پہلی بار سوامی ساتویں جماعت میں دور درشن سے ٹی وی پر دیکھی تھی۔ مجھے کچھ فلمیں، گیت اور کہانیاں کچھ خاص حوالوں سے یاد رہتی ہیں، سوامی ان فلموں میں سے ایک ہے۔ لاہور کی مون سون کی بارش کی ہلکی پھوار کے ساتھ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے ڈرائینگ روم میں آ رہے تھے جہاں ٹی وی

Read more

گلزار کی خوشبو

یوں تو گلزار کی تمام فلمیں اعلی پائے کی ہوتی ہیں مگر آپ اپنے کسی دوست یا عزیز سے جو میری طرح سے فلموں اور فلم سے وابستہ افراد کا رسیا ہو پوچھ دیکھیں کہ وہ گلزار کی کس فلم کو اپنی پسندیدہ قرار دیں گے تو میں آپ کو یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کی اکثریت اجازت، آندھی، موسم اور ماچس کا نام لے گی۔ یہ ترتیب اوپر نیچے بھی ہو سکتی ہے، مگر پسندیدہ فلمیں انہی ناموں سے ہی ہوں گی۔ مجھے بھی یہ تمام فلمیں بہت پسند ہیں مگر ایک دوست کو بتاتے ہوئے میں نے کہا تھا کہ اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ گلزار کی تمام فلموں میں سے میری پسندیدہ فلم کون سی ہے تو میں کہیں سے دبی ہوئی اس فلم کو نکال باہر لاؤں گا جس کا نام خوشبو ہے۔

Read more

فلم ریویو: ”گریھا پرویش“ گھر کی جانب

اسکول کے دنوں میں تین فلمیں دور درشن سے دکھائی گئی تھیں انوبھو، اوشکار اور گریھا پرویش جن کی کہانی ملتی جلتی مگر اس کے باوجود وہ جدا جدا تھیں۔ پہلی دو فلموں کی کہانی بمبئی شہر میں آسودہ زندگی گزارنے والے بالائی متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے شادی شدہ جوڑوں سے متعلق تھی جن کی شادی شدہ زندگی میں ایک وقت ایسا آتا ہے کہ جب وہ اپنے آپ سے اور ایک دوسرے سے سوال کرنے لگتے ہیں کہ آیا جس رشتے میں وہ بظاہر بندھے ہوئے ہیں آیا وہ اتنا مضبوط بھی ہے جیسا کہ وہ سمجھتے ہیں۔

یہ ایک انتہائی پیچیدہ سوال ہے جو کہ ایک شادی شدہ انسان اپنے آپ سے پوچھ سکتا ہے۔ اسی سوال کے جواب کی کھوج پانے کے لئے باسو بھٹاچاریہ نے اپنی تثلیث کی آخری فلم گریھا پرویش یعنی ”گھر کی جانب“ بنائی۔ فلم کی کہانی باسو بھٹاچاریہ جبکہ مکالمے اور گیت گلزار کے تھے۔ فلم کے گیتوں کی کومپوزیشن کنو رائے کی تھی۔ فلم کے نمایاں کردار سنجیو کمار، شرمیلا ٹیگور اور ساریکا نے ادا کیے تھے۔

Read more

نازیہ نام کی لڑکی

نازیہ میری بہن کی جیٹھانی باجی خوشنود کے گھر کی ملازمہ تھی۔ عمر کوئی چودہ یا پندرہ سال کی ہوگی۔ دبلی پتلی، گہرے سانولی رنگت والی، صاف ستھری سی، بیچ مانگ، دو چھوٹی چٹیا بنائے جو کبھی شانوں پر پڑی ہوتیں۔ نازیہ کسی سکول کی آٹھویں نویں جماعت کی طالبہ لگتی تھی، ابھی اسے کسی سکول میں ہونا چاہیے تھا۔

یہ لڑکی میرے ذہن کے پردے میں کہیں بہت پیچھے رہ جاتی جیسے زندگی میں لوگ آتے ہیں آپ سے ملتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ کہیں گم ہو جاتے ہیں، مگر نازیہ کی تصویر میرے ذہن کی سطح پر بعض اوقات بہت واضح اور شدت سے ابھرتی ہے۔ شاید نازیہ کا خاکہ لکھ دینے سے اس شدت میں کچھ کمی واقع ہو جائے جیسے کسی تکلیف دہ جذبے کا کتھارسس کر لینے سے وقتی طور پر انسان طمانیت محسوس کرتا ہے۔

Read more

پرانی البم میں رکھی پروین کی کہانی

آج دوپہر میں نے کوئی بیس سال کے بعد امی سے فرمائش کی کہ میرا دل پرانے البمز کو دیکھنا چاہ رہا ہے۔ امی نے میری فرمائش سن لی اور خلاف توقع تھوڑی دیر کے بعد اپنے کمرے سے بہت پرانے تین عدد البمز لے کر برآمد ہوئیں۔ اپنی ماں کو یوں بھاری بھرکم البم اٹھائے ہوئے اور اپنے قدموں کو سنبھال سنبھال کر فرش پر رکھتے ہوئے آتے دیکھ کر میں تڑپ کرلیونگ روم میں صوفے پر بیٹھا اپنی

Read more