کتاب چور


وہ کن اکھیوں سے گرد و نواح کا جائزہ لیتے ہوئے، بلی کی طرح دبے پاؤں بک شیلف کی طرف بڑھی۔ بناء آواز پیدا کیے ، شیلف پر ہاتھ مارا، مطلوبہ شے اٹھا کر اپنے تھیلے نما بیگ میں ڈالی اور جس خاموشی سے آئی تھی واپس اسی خاموشی سے لکڑی کی سیڑھیاں اور اپنے کمرے کی کھڑکی پھلانگ کر اپنے اصل مقام پر پہنچ گئی۔

وہ ایسی وارداتوں کے بعد ، ”مال غنیمت“ کی تسلی کرنے میں وقت ضائع نہیں کرتی تھی۔ سو جلدی سے دروازہ کھول کر لاونج میں آ بیٹھی۔

اس کے مطابق وہ کتابیں چوری نہیں کرتی تھی۔ بس ان کی جگہ بدل دیتی تھی۔

سکرین پر چلتے مناظر میں کھو کر، اس نے اپنے منہ کے نوالے کے پھیکے پن کو محسوس کیا۔ شاید آج پھر رقیہ کھانے میں نمک ڈالنا بھول گئی تھی۔ اسے ایسے بدمزہ کھانے کھانے کی ایسی عادت ہو چلی تھی کہ محسوس ہی نہ ہوتا تھا کہ وہ کیا کھا رہی ہے؟ یہ رقیہ ہی کے ہاتھ کی ”برکت“ تھی کہ ایک وقت کا کھانا ہفتہ بھر چل جاتا۔

اسی پل رقیہ دھلے ہوئے کپڑے اٹھائے جونہی کمرے میں داخل ہوئی، اس کو چوکڑی مارے زمین پر بے ڈھنگے انداز میں بیٹھا دیکھ کر جل ہی تو گئی۔ لیکن اب وہ اسے کس کس بات پر ٹوکے؟ اس کی تو ہر عادت خراب تھی۔

”ذرا ٹی وی سے نظریں ہٹا کر دیکھ کر کھاو، پچھلے دس منٹ سے تم پانی میں لقمہ ڈبو کر کھا رہی ہو۔ کتنی بار کہا ہے، ایک وقت میں ایک کام کیا کرو، خدا جانے دھیان بھی کہاں ہوتا ہے، اور یہ دیکھو دو دو پنکھے کیسے چل رہے ہیں، آج ہی بجلی کا بل آیا ہے پورے دو ہزار روپے۔ اور گیس کے بل نے تو کانوں کو ہاتھ لگوا دیے ہیں۔ بھئی تمہارے باپ کی مختصر سی پنشن آتی ہے، جس سے سارا مہینہ گزارا کرنا ہوتا ہے۔ لیکن تمہیں کیا فکر۔“ رقیہ کی تقریر کو سنی ان سنی کرتے اس نے مزید سکرین میں گھس کر آخری منظر اور گفتگو کو اپنے دماغ تک پہنچانے کی کوشش کی۔ کہ اسی پل لائٹ چلی گئی۔

شٹ! اسے بھی ابھی جانا تھا، آخری قسط کا آخری سین پھر رہ گیا ”وہ منہ بنا کر بولی۔

”چلو اب اگر لائٹ چلی گئی ہے تو مجھے وہ کل والا افسانہ مکمل کردو۔ ساری رات میں یہی سوچتی رہی کہ اختتام کیا ہوگا؟“ رقیہ غصہ چھوڑ کر اپنے مدعے پر آ گئی۔

”“ وہ تو میں نے خود آدھا پڑھا تھا۔ اس کے اختتام سے پہلے ہی کتاب کے مالک کو کسی ”دشمن“ نے مخبری کردی تھی کہ اس کے افسانوں کا مجموعہ میرے پاس ہے۔ حالانکہ میں نے کتاب پڑھ کر واپس رکھ ہی دینی تھی۔ آج کے لوگوں میں ذرا بھی لحاظ نہیں ہے ”وہ لہجے میں بلا کی بے چارگی سمو کر بولی۔

”تو تم بھی کتاب خرید کر پڑھا کرو ناں؟“
”تم پیسے دے دیا کرو ناں“ کہا اور ساتھ ہی اس کی ممکنہ جوابی تقریر سے بچنے کے لئے کشن کان پر رکھ لیا۔

”میں کہاں سے لا دوں پیسے؟ رقم درختوں پر لگتی ہے کیا؟ تمہارا باپ چھوڑ کر بھی کیا گیا ہے؟ چند ہزار روپوں کی پنشن اور ہڈ حرام سوتیلی اولاد! پتہ نہیں کون سی منحوس گھڑی تھی جب میں نے تمہارے باپ (سجاد علی ) سے شادی کی تھی۔ سکون کرنے کی عمر میں سوکن کی اولاد پال رہی ہوں۔“ رقیہ کے تو جیسے سارے ہی دکھ ہرے ہو گئے۔ وہ ٹی وی کا بٹن آف کر کے ساتھ والے کمرے میں ٹیبل پر دھرا ناول الٹ پلٹ کرنے لگی تھی۔

”مجھے اس گھر میں سوائے دکھ کے ملا بھی کیا ہے؟ ایک تمہارے بھائی ہیں۔ شادی کے بعد بیویوں کو ایسے پیارے ہوئے ہیں کہ تمہاری پلٹ کر خبر تک نہ لی“ پاٹ دار آواز دروازے کی درز سے نکل کر اس کے کانوں تک پہنچ رہی تھی۔ وہ ناول گھٹنوں پہ رکھے ایک ہی سطر کو تیسری بار پڑھ رہی تھی۔

”چلو میں تو غیر تھی، سوتیلی ماں جو ہوئی۔ لیکن تم تو سگی بہن تھیں ناں۔ تمہارا ہی سوچا ہوتا۔“ ناول اٹھا کر چہرے کے سامنے کر لیا، اس سلیقے کے ساتھ کہ چہرے کی لاچاری در و دیوار کو بھی دکھائی نہ دے۔

”تمہارے کالج کی فیس دینے پر بڑی کل کل کرتے ہیں۔ بڑے والا تو کہ رہا تھا، کیا ضرورت ہے پڑھائی کی گھر بٹھا لیں یا بیاہ دیں۔ اور رشتے والی صاف کہ گئی ہے کہ آج کل لوگ خوش شکل اور طرح دار لڑکیوں کو پسند کرتے ہیں۔ یا پھر ایسی لڑکی کو جس سے زیادہ جہیز ملنے کی امید ہو، ایک تم ہو، نہ پہننے اوڑھنے کا سلیقہ نہ لب و لہجے میں کوئی شگفتگی۔ ہر وقت سر جھاڑ منہ پہاڑ کتابوں میں سر دیے رہتی ہو“ ”

قلم کاغذ پر پھرتی سے گھسٹنے لگا، ٹیبل لیمپ کی روشنی میں سفید کاغذ پھرتی سے سیاہ پڑنے لگا۔
”“ کل کو تمہاری شادی ہو جائے گی، رقیہ پھر اکیلی رہ جائے گی ”گریہ و زاری ہنوز جاری تھی۔

وہ سر جھکائے بے جان کورے کاغذ کو انسانی کرداروں سے مجسم کر کے ایک جاندار شاہکار کی صورت ترتیب دینے لگی۔

تحریر مکمل ہوئی، کاغذ لپٹ کر بیگ میں گیا اور لیمپ آف ہو گیا۔
اب ہر سو اس کی زندگی کی مانند اندھیرا تھا۔
”“ ٹھک ٹھک ٹھک ”رقیہ کی تقریر میں خلل دروازے پر ہونے والی دستک نے ڈالا۔

”“ شاہیرا بی بی کو بڑے صاب بلا رہے ہیں ”ملازمہ نے اس کی طرف اشارہ کیا تو اس کی جان حلق میں آن اٹکی۔

”لو جی۔ لگ گئی پیشی۔ ایک تو تایا ابا بھی ناں۔ جتنے امیر ہیں اتنے دل کے چھوٹے ہیں۔ بھلا ایک کتاب کی چوری سے کیا ہوتا ہے؟ ہونہہ“ وہ بڑ بڑ کرتی دھڑا دھڑ سیڑھیاں اترنے لگی۔

وہ اگلی شام کو صحن میں پڑے تخت پر بیٹھی، اسے کوئی اور افسانہ سنا رہی تھی۔

ایک بات بتاو! تمہارے سارے افسانوں کی اینڈنگ اتنی بری کیوں ہوتی ہے؟ مطلب۔ لڑکیاں دیومالائی داستانیں اور رومانوی ناول و افسانے پڑھتی ہیں۔ لیکن تمہارے افسانے میں کوئی نہ کوئی یا تو محروم یا مفلوج ہوتا ہے یا پھر کوئی نہ کوئی پھڑک جاتا ہے۔ سلامت کرداروں والی کہانیاں بھی کبھی پڑھ لیا کرو ”“

”ہیپی اینڈنگ نیور ایگزسٹ۔ وہ صرف فینٹسی ہوتی ہے جو کسی بھیانک حقیقت کی ذرا سی ٹھیس لگنے پر اڑن چھو ہوجاتی ہے۔ اصل زندگی تو وہ ہوتی ہے جیسی ہم گزار رہے ہوتے ہیں۔ اور ویسے بھی اتنے غیر رومانوی دور میں رومان کون لکھتا ہے۔“ وہ دوبدو بولی

”اور تمہیں یہ کیوں لگتا ہے کہ خوشگوار اختتام وجود نہیں رکھتا؟“

”میں نے زندگی میں دو لوگوں کو مرتے دیکھا ہے، اور ان دونوں کی آنکھوں میں جینے کی آس دیکھی ہے۔ اس کے باوجود وہ دنیا سے چلے گئے۔ میں نے کچھ لوگوں کو جیتے دیکھا ہے باوجود یہ کہ انہیں زندہ رہنے چاہ بھی نہیں تھی۔“

وہ رقیہ کی واحد سوتیلی اولاد تھی جو اس کے قریب تھی۔ مزید اسے برداشت بھی کر لیتی تھی۔

ابا چلے گئے! رقیہ رہ گئی۔ بھائی چھوڑ گئے رقیہ رہ گئے۔ وہ ہر بار کسی بری عادت کی طرح اس کے ساتھ رہ جاتی تھی۔

”“ تم بھی دفع ہو جاو۔ تم کیوں ہو میرے ساتھ؟ ”ایک بار رقیہ کے غصے میں پوچھے گئے سوال پر اس کے جواب نے رقیہ کو حیران کر دیا۔

”“ اس لئے کہ میں نے تمہیں سوتیلے پن کے فریم سے نکال کر دیکھا ہے، تم ایک عام سی عورت ہو، جس پر غصہ کیا جاسکتا ہے لیکن اسے تنہا چھوڑا نہیں جاسکتا۔ ہم تب ہی غلطی کرتے ہیں جب رشتوں کو ایک خاص فریم میں ٹانک کر دیکھتے ہیں۔ ساس نند، سوتیلی ماں، اولاد۔ سسر ددھیالی یا ننھیالی رشتے۔ ہم اسی فریم کی بناء پر ان سے محبت یا نفرت کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ عام انسان ہوتے ہیں۔ جن میں کمیاں کوتاہیاں ہو سکتی ہیں۔

اگلی صبح وہ کالج سے واپسی پر میگزین کے دفتر کی طرف ہولی۔ اس کا دل امید سے بھرپور تھا۔ اس نے اتنے افسانے بھیجے تھے کوئی تو پسند آیا ہوگا؟ وہ سوچ سوچ کر مسکرانے لگی۔

کچھ دیر بعد وہ ایڈیٹر کے سامنے حیرت و یاس کی تصویر بنی کھڑی تھی۔

”لیکن کیا آپ کو میری کوئی تحریر پسند نہیں آئی، حالانکہ یہ تحریریں میں رقیہ کو کسی کے نام سے سناتی ہوں تو وہ ایسی داد دیتی ہے کہ کیا بتاؤں“ وہ پتہ نہیں کیا کیا کہ رہی تھی۔

”تو انہی کو پڑھوا دیجیئے! ہمارے قارئین تو عام فہم قسم کا گلیمرس، اور تفریحی مواد پڑھتے ہیں۔ جبکہ آپ کی تحریریں انتہائی گنجلک، تہہ در تہہ، فلسفہ اور محرومیوں سے بھرپور ہوتی ہیں۔ لوگ پہلے سے ہی ان مسائل کا شکار ہیں۔ وہ ان ہی مسائل کو پڑھنا کیوں پسند کریں گے؟ مزید یہ کہ میگزین پڑھنے والی عورتیں اتنا فہم نہیں رکھتیں کہ وہ اس طرح کی تحریروں کو سمجھ سکیں۔“

”“ یعنی آپ چاہتے ہیں کہ میں ویسا لکھوں جیسا کہ عام طور پر سستے خواتین کے شماروں میں لکھا جاتا ہے، ساس نندوں کے جھگڑے اور لڑکے لڑکی کی معشوقی کی سستی قسم کی داستانیں، داستانیں بھی وہ جو زمین کے اس حصے پر پائی ہی نہیں جاتیں جس پر ہم رہتے ہیں۔

اگر ادب ایسی ہی تفریح کا نام ہے تو اس سے کہیں بہتر ہے کہ بندر نچا لیں۔ لیکن ادب کو بیچ میں مت گھسیٹیں۔ صرف اس وجہ سے کہ میرا لکھا عام پڑھے لکھے کی سمجھ میں نہیں آتا، اپنے لیول سے نیچے آ کر نہیں لکھ سکتی۔ سستا ادب لکھنا میرے قلم کی توہین ہے ”وہ دو ٹوک انداز میں کہ کر آفس سے نکل آئی۔

دفتر کے داخلی دروازے پر لگے ایک نئی کتاب کی لانچنگ کے اشتہار نے اس کی توجہ اپنی جانب کھینچی، وہ تقریباً دوڑتی ہوئی آفس تک آئی۔

”وہ کتاب بالآخر شائع ہو گئی؟ اس کا مجھے بے صبری سے انتظار تھا۔ میں نے اس پر بہت کام کیا تھا۔ آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا“ وہ خوشی سے دیوانی ہوئی جاتی تھی۔

”اس بات کو تو مہینہ بھر ہو گیا“ ایڈیٹر نے کہا اور ساتھ ہی کتاب اس کی جانب کھسکائی
اس نے بے صبری سے کتاب کا فرنٹ پیج دیکھا۔
اس پر اس کا نام نہیں تھا۔
اس نے پہلا صفحہ دیکھا۔
ایک کو۔ آتھر کی حیثیت سے بھی اس کا نام نہیں تھا۔
اس نے دیباچہ کھنگالا۔ وہاں بھی اس کا نام نہیں تھا۔ وہ کنگ کھڑی رہی۔

یہ کتاب ایک بیوروکریٹ کی بیٹی نے لکھوائی تھی۔ اپنے نام سے شائع کروانے کے لئے۔ یوں بھی ہم اتنے بڑے لیول کی کتاب ایک تھرڈ کلاس، منشی کی بیٹی کے نام سے تو شائع نہیں کروا سکتے تھے۔ وہ بیوروکریٹ کی بیٹی ہے۔ بیوروکریٹ کی۔ فرنٹ پیج پر اسی کا نام جچتا تھا۔ البتہ آپ کا معاوضہ انہوں نے بھیجا تھا ”

”آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟“ وہ مجسمہ حیرت بنی ہوئی تھی۔
”آپ ہمارا کیا کر سکتی ہیں؟“ ہاں تو۔ وہ ان کا کیا بگاڑ سکتی تھی؟

میں اپنی محنت چھین کر بھاگنے والوں کے پیچھے نہیں بھاگتی، کہ اس سے میرے وقار پر حرف آتا ہے۔ میں جانتی ہوں کہ یہ دنیا چھوٹی ہے اور گول بھی۔ کوئی کہاں تک بھاگ سکتا ہے؟ پوچھنا یہ تھا کہ اتنے بڑے باپ کی بیٹی نے اپنے اندر کی محرومی چھپانے کے لئے ایک منشی کی بیٹی کی کمائی پر ہاتھ کیوں مارا؟

اور یہ پیسے۔ یہ پیسے رکھ لو۔ ہو سکے تو ان دماغوں کی تعلیم پر خرچ کر دینا جنہیں معیاری ادب سمجھ میں نہیں آتا۔ ”وہ کہ کر تن فن کرتی وہاں سے نکل آئی

بلندی پر رہنے والوں کو یہ کیوں لگتا ہے؟ کہ آسمان صرف انہی کا ہے؟ اس نے اپنی آنکھوں کو پانیوں میں ڈوبتے دیکھا۔

آج کی شام وہ کمرے کے تاریک کونے میں بیٹھ کر بے تحاشا رونا چاہتی تھی۔ وہ جب گھر میں داخل ہوئی تو رقیہ اسے دیکھتے ہی پرجوش انداز میں تالی پیٹتے ہوئے اس کی طرف بڑھی۔

”واہ شاہیرا تمہاری کتاب پبلش ہو گئی۔ یہ دیکھو ٹی وی پر اس کی لانچنگ تقریب دکھائی جا رہی ہے“ کامیابی پر تالی پیٹنے والا کوئی ایک ہوتا ہے۔ اور وہ رقیہ تھی۔ رقیہ۔ یعنی شاہیرا کی بری عادت، وہ بھی کتنی اچھی تھی ناں۔

صد شکر کہ رقیہ کو پڑھنے پڑھانے سے شغف نہیں تھا، وگرنہ وہ ایڈیٹر کے سر پر کھڑی اپنی بیٹی کی چھن جانے والی محنت پر واویلا کر رہی ہوتی۔

”آج کیوں منہ سوجا ہوا ہے؟ کیا آج پھر کسی کی کتاب چرائی ہے؟“ رقیہ نے پوچھا

”نئیں۔ میں نے چوری چھوڑ دی ہے۔ یہ جو کتاب چور ہوتے ہیں ناں، یہ بہت بڑے چور ہوتے ہیں۔ یہ جسمانی نہیں ذہنی توانائیاں اور فن چراتے ہیں“ وہ اس بچے کی طرح بول رہی تھی، جس کی تجوری، شریر بچوں کے ہاتھ لٹ پٹ گئی ہو۔

”جانتی ہو، تایا ابا کیوں ڈانٹتے تھے؟ کیوں کہ میں ان کی ترتیب خراب کر دیتی تھی، مجھے لگتا ہے ذہنی سکون درحقیقت خیالات کی ترتیب و توازن کا ہی نام ہے۔ ہم بڑی محنت سے اپنے خیالات توازن کے ساتھ دماغ کے خانوں میں ترتیب دیتے ہیں کہ ایک کتاب چور آتا ہے اور ایک خیال چرا کر ساری ترتیب بگاڑ جاتا ہے“ ایک چھوٹا سا کتاب چور اپنے کیے پر تائب تھا۔

Facebook Comments HS