کہ وہ پر وقار چلا گیا


یاد داشت کے توشہ خانے پر دستک دینے سے بھی یاد نہ پڑے ہے کہ آخری بار ٹیلی ویژن کب دیکھا تھا۔ ہر خبر، سب تجزیے، اور تمام پروگرام سنسر شب کی چھاننی سے گزار نے کے بعد عوام کو پیش کیے جاتے ہیں۔ اس لیے اب صوتی و بصارتی ڈبے کی طرف کچھ رغبت نہیں ہوتی۔ سوشل میڈیا پر بھی موجودگی صرف ثبوت دینے کی حد تک ہے کہ کبھی کبھار اس محلے میں بھی قدم رنجہ فرما لیا جاتا ہے۔ اخبار البتہ ہر روز نصف دن گزرے پڑھ لیا جاتا ہے تا کہ بیتے ہوئے کل کی خبر کچھ مل سکے۔

آج وقوع پذیر ہونے والے واقعے کی معلومات عموماً اگلے دن ہی ملتی ہیں، مگر سردار عطاء اللہ مینگل کے انتقال پر ملال کی خبر اسی دن مل گئی۔ تین منزلہ عمارت کی دوسری منزل کے شمالی کمرے کی مشرقی دیوار کے وسط میں لگائی گئی گھڑی پر وقت عین دس بج کر سنتالیس منٹ کا تھا جب استاذم نے خبر دی کہ سردار صاحب عالم بالا چلے گئے ہیں۔ بس پھر کیا تھا، دل درد اور آنکھ آب سے بھر گئی۔ تشویش کے گہرے بادل امڈ آئے کہ پہلے میر حاصل بزنجو، پھر مشاہد اللہ خان، اور اب مینگل صاحب، خدایا سیاست کے اس چمن پر کہیں ہمیشہ کے لیے خزاں نہ چھا جائے۔

وہ مالی جو جمہوریت کے گلستان پر بہار لانے کے لیے پس زنداں گئے، صعوبتیں ایسی برداشت کیں کہ مخالف بھی داد دینے پر مجبور ہو گئے، اب وہ مالی گلستاں کی پرواہ کیے بغیر عالم بالا جا رہے ہیں۔ مینگل صاحب اپنی قبیل کے آخری سپاہی تھے، جن کے ہاتھ میں سچائی کا نیزہ، سینے پر ایمان داری کی زرہ، سر پر صبر کا خود، پاؤں میں عزم و استقلال کا جوتا، اور لباس راست بازی کا تھا۔ یہ ایک شخص کی وفات نہیں، یہ ایک عہد کی موت ہے۔

گریہ زاری اس بات پر ہونی چاہیے تھی کہ ایک چراغ بجھ گیا ہے جس کی لو سے نظر نہ آنے والی پابندیوں کے اندھیرے میں اجالا تھا۔ مگر خوشی اس بات پر منائی جا رہی ہے کہ افغانستان میں لشکر اسلام غالب آ گیا ہے، جس سے ہر کسی کو تشویش لاحق ہے سوائے ان کے جو پاکستان میں بیٹھ کر اپنی دانست میں دین سے خیر خواہی کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔ خیر بات آج سردار صاحب کی ہی رہے گی۔ شاید قوموں کے زوال کی ایک نشانی یہ بھی ہوتی ہے کہ بڑے لوگ چپکے سے راحت سفر باندھ کر روانہ ہو جاتے ہیں اور عوام کو خبر بھی نہیں ہوتی کہ کوچ اس مسافر کے کرنے سے کتنا بڑا نقصان ہو گیا ہے۔

صاحب تیشہ نظر شکوہ کناں تھے کہ اخبار کے زیریں نصف میں ایک چھوٹی سی ہیڈ لائن کے ذریعے بتایا گیا تھا کہ سردار صاحب اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ شکوہ تو بجا تھا مگر شاید وہ یہ بھول گئے کہ بالائی نصف کی شہ سرخی میں آنے کے لیے غازی بننا پڑتا ہے، گورنر کو قتل کرنا پڑتا ہے، غازی بننا پڑتا ہے، معصوموں کا خون بہانا پڑتا ہے، معاشرے میں فساد کی آگ جلانی پڑتی ہے، دین کے نام پر اسلام آباد پر چڑھائی کرنا پڑتی ہے، خلق خدا کا جینا حرام یقینی بنا کر ہی بالائی نصف میں جگہ حاصل کی جاتی ہے۔

اور رہے بیچارے مینگل صاحب، وہ تو تمام عمر خلق خدا اور جمہوریت کے لیے برسر پیکار رہے، اس لیے بالائی نصف میں ان کے انتقال کی خبر دینے سے گریز کیا گیا۔ معلوم نہیں، لیکن ہو سکتا ہے کہ کچھ قوتوں کو ناگوار گزرتا اگر سردار صاحب کی وفات کی خبر بالائی نصف میں دی جاتی یا ان کی خدمات کو سراہا جاتا۔ مینگل صاحب کی وفات پر پیر نصیر الدین کی ایک غزل یاد آ گئی جس کے ہر شعر کا مصداق سردار عطاء اللہ مینگل تھے، دو شعر آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔

کہاں اب سخن میں وہ گرمیاں کہ نہیں رہا کوئی قدر داں
کہاں اب وہ شوق میں مستیاں کہ وہ پر وقار چلا گیا
بہیں کیوں نصیر نہ اشک غم رہے کیوں نہ لب پہ میرے فغاں
ہمیں بے قرار وہ چھوڑ کر سر راہ گزار چلا گیا

Facebook Comments HS