چند لاکھ میں گولڈ میڈل

تبدیلی حکومت میں کسی اور شعبہ میں تبدیلی آئی ہو یا نہ آئی ہو مگر پنجاب میں سپورٹس کے میدان میں تین سالوں میں جو تبدیلی آئی ہے وہ چڑھ کر بول رہی ہے، پنجاب کے محکمہ سپورٹس کو تبدیلی دکھانے کے لئے کسی اشتہار کی ضرورت پڑ رہی ہے اور نہ ہی شو بازیاں کرنے کی، اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ پاکستان نے دو روز میں عالمی ایونٹس میں 2 گولڈ میڈلز جیت کر تاریخ رقم کردی ہے

تین روز قبل ٹوکیو میں ہونے والی پیرا اولمپکس میں پاکستان کے نوجوان پیرا اتھلیٹ حیدر علی نے ڈسکس تھرو میں گولڈ میڈل جیتا، ایک دن بعد ہی پاکستان کے ایک اور نوجوان ریسلر انعام بٹ نے بیچ ریسلنگ ورلڈ سیریز میں ایک بار پھر گولڈ میڈل جیت کر پاکستان کا پرچم دنیا میں بلند کیا، سپورٹس کے شائقین کے لئے یہ دو دن بہت خوشی کے تھے کیونکہ پاکستان کے نوجوانوں کے سپورٹس کے میدان میں نئی تاریخ رقم کی ہے جس سے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے اور ان میں نیا جوش و ولولہ پیدا ہوا ہے

پاکستان کے نام ہونے والے دونوں گولڈ میڈلز کے پیچھے ایک شخصیت کا اہم کردار ہے جس کی کاوشوں سے پاکستان کو یہ عزت ملی ہے، بلاشبہ محنت اور کارکردگی کھلاڑیوں کی ہے مگر یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ہیرا کوئلے میں ہوتا ہے، اس کو جوہری تراشتا ہے تو وہ ہیرا بنتا ہے ورنہ ہیرا کوئلے میں ہی گم ہوجاتا ہے، ان ہیروز کو تراشنے والا جوہری پنجاب کے وزیر کھیل رائے تیمو بھٹی ہے

کھلاڑی ہو یا فنکار اسے انعامات سے زیادہ حوصلہ افزائی اور عزت کی خواہش ہوتی ہے، جن کھلاڑیوں اور فنکاروں کو عزت دی گئی انہوں نے دنیا میں پاکستان کا نام روش کیا، کھلاڑی اور فنکار بہت حساس لوگ ہوتے ہیں، وہ اپنی محنت اور کامیابی کا صلہ صرف داد کی صورت میں مانگتے ہیں، ان کا واحد مقصد دنیا میں پاکستان کے پرچم کو بلند کرنا ہوتا ہے

رائے تیمور بھٹی نے 27 دسمبر 2018 ءمیں ترکی بیچ ریسلنگ ورلڈ چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل جیتنے پر انعام بٹ اور جکارتہ میں ہونے والی ایشیئن پیرا گیمز میں گولڈ میڈلز جیتنے پر حیدر علی کو ایک، ایک لاکھ روپے انعام دیا، انعام بٹ کو دوحہ میں 2019 ءمیں ہونے والی بیچ ریسلنگ ورلڈ سیریز میں سلور میڈل جیتنے پر دو لاکھ روپے انعام دیا جس سے انعام بٹ کی حوصلہ افزائی ہوئی اور وہ دوسری بار بیچ ریسلنگ ورلڈ سیریز میں گولڈ میڈل جیت لیا ہے

2019 ءمیں نیپال میں ہونے والے پہلے ویل چیئر ایشیاء کپ میں پاکستان کی ٹیم نے فائنل میں بھارت کو شکست دے کر ایشیاء کپ جیتا جس پر رائے تیمور بھٹی نے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی اور 5 لاکھ روپے انعام دیا اور کھلاڑیوں کو عزت بخشی جس سے سپیشل کھلاڑی خوشی سے نہال ہو گئے

رائے تیمور بھٹی نے پنجاب میں سپورٹس کے کلچر کو جس طرح فروغ دیا ہے وہ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، رائے تیمور بھٹی کا تاریخ میں پہلی بار کبڈی ورلڈ کپ 2020 ءپاکستان میں کرانا تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا، پاکستان پہلی بار 2020 ءمیں کبڈی کا عالمی چیمپئن بنا، کبڈی کے ورلڈ کپ کے مقابلوں میں جس طرح شائقین نے شرکت کی اس سے کرکٹ کا ریکارڈ ٹوٹ گیا تھا، شائقین کی جتنی تعداد پنجاب سٹیڈیم کے اندر تھی اس سے تین گنا تعداد سٹیڈیم کے باہر موجود تھی، سپورٹس کے تجزیہ نگاروں کا اس وقت کہنا تھا کہ کبڈی کے ایونٹس اس طرح ہوتے رہے تو لوگ کرکٹ کو بھول جائیں گے

پنجاب گیمز کی تاریخ سو سال پرانی ہے، ہر سال پنجاب گیمز منعقد ہوا کرتی تھیں مگر سابقہ حکومت کے دس سالہ دور میں انہیں منعقد نہ کرایا گیا اور پیسہ ذاتی تشہیر پر خرچ کیا گیا، رائے تیمور بھٹی نے اپریل 2019 ءمیں 8 سال بعد پنجاب گیمز بحال کیں جس میں ساڑھے تین ہزار سے زائد کھلاڑیوں نے حصہ لیا جس سے بہت سے نئے کھلاڑی سامنے آئے

بات چند دنوں میں پاکستان کے 2 گولڈ میڈلز کے جیتنے کی ہو رہی تھی، انعام بٹ اور حیدر علی کی مسلسل حوصلہ افزائی سے دونوں نوجوان کھلاڑیوں میں جیت کا جذبہ پیدا ہوا اور انہوں نے پاکستان کے لئے گولڈ میڈلز جیت لئے جبکہ کئی سالوں سے پاکستان کے حصہ میں کوئی گولڈ میڈل نہیں آیا تھا

سیف گیمز میں جیولن تھرو میں ورلڈ ریکارڈ بنانے والے اتھلیٹ ارشد ندیم کی بھی حوصلہ افزائی کی اور 5 لاکھ روپے انعام دیا، ارشد ندیم کو فیملی کے ہمراہ وزیراعلی پنجاب سے ملوایا گیا، ٹوکیو اولمپکس کی تیاری کے لئے بھی ارشد ندیم سے بھرپور تعاون کیا اور تیاری کے لئے تمام سہولیات فراہم کی، روانگی کے لئے خرچہ بھی دیا، ٹوکیو اولمپکس میں حصہ لینے والے طلحہ بٹ کو تیاری کے 20 لاکھ روپے کا سامان فوری طور پر مہیا کیا، دونوں کھلاڑی کوئی میڈل تو نہ جیت سکے مگر ٹاپ فائیو میں آ گئے، پاکستان 29 سے اولمپکس میں کوئی میڈل نہیں جیت سکا، ان حالات میں دونوں کھلاڑیوں کی کارکردگی حوصلہ افزاء ہے

حیدر علی کی ٹوکیو پیرا اولمپکس میں شرکت کا واقعہ بہت دلچسپ ہے، حیدر علی واپڈا کا ملازم ہے، عالمی مقابلوں میں حصہ لینے کے لئے پاکستان سپورٹس بورڈ کا کردار اہم ہوتا ہے، پیرا اتھلیٹ حیدر علی اور انیلہ علی پیرا اولمپکس میں شرکت کے لئے پاکستان سپورٹس بورڈ سے مدد مانگنے کے لئے گئے مگر وہاں سے ان کو کوئی تعاون نہ ملا، مایوس ہو کر حیدر علی اپنے محکمے واپڈا سے کہا کہ مگر انہوں نے فنڈز نہ ہونے کا بہانہ بنا کر انکار کر دیا

حیدر علی اور انیلہ علی نے مایوسی کے عالم میں وزیر کھیل پنجاب رائے تیمور بھٹی سے رابطہ کیا، رائے تیمور بھٹی نے فوری طور پر کھلاڑیوں کو تیاری کے لئے پنجاب سٹیڈیم میں تمام سہولیات فراہم کردیں، ان کی رہائش کا انتظام کیا اور عملے کو ہدایت کی کہ دونوں پیرا اتھلیٹس کو ان کے مطابق بہترین خوراک فراہم کی جائے، چنانچہ انتظامیہ دونوں اتھلیٹس سے رات کو اگلے دن کا کھانے کا مینو لیتے اور اگلے دن کو وقت پر فراہم کیا جاتا رہا، کھلاڑیوں کو جب اتنی عزت اور سہولت ملی تو ان میں جیت کی لگن مزید بڑھ گئی

حیدر علی نے ٹوکیو روانگی سے قبل رائے تیمور بھٹی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ جتنی عزت اور سہولیات آپ نے فراہم کی ہیں میرا آپ سے وعدہ ہے کہ گولڈ میڈل جیت کر لوٹوں گا پھر حیدر علی نے کر کے دکھا دیا، انیلہ علی بھی اپنے ایونٹ میں ٹاپ ٹین میں شامل رہیں، حیدر علی کے گولڈ میڈل جیتنے پر پاکستانی قوم کی وہ خواہش پوری ہو گئی جو جیولن تھرو میں گولڈ میڈل جیتنے کی تھی، قوم کے لئے خوشی کی بات یہ ہے کہ پاکستان نے تاریخ میں پہلی بار پیرا اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتا ہے

ملک میں سپورٹس کے زوال کی اصل وجہ ہی یہ ہے ادارے اور محکمے اپنے فرائض ایمانداری اور دیانتداری سے ادا نہیں کر رہے، رائے تیمور بھٹی نے پاکستان کا نام دنیا میں بلند کرنے کے لئے جو بیڑا اٹھایا ہے اس کے ثمرات سامنے آرہے ہیں، رائے تیمور بھٹی نے حیدر علی کے لئے 25 لاکھ روپے اور انعام بٹ کے لئے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا، رائے تیمور حیدر علی کا استقبال کرنے رات ڈیڑھ بجے ائر پورٹ گئے

ہمارے ہاں رواج بن گیا ہے جب تک دوسرے کی ایسی تیسی نہ کردو، لوگوں کو ”چس“ نہیں آتی، حقیقت یہ ہے کہ جس نے کوئی اچھا کام کیا ہے تو اس کو بھی سامنے لانا چاہیے، رائے تیمور بھٹی کے اقدامات دوسروں کے لئے مثال ہیں، سپورٹس میں پاکستان میں جتنا ٹیلنٹ میں نے دیکھا ہے اس سے مجھے کبھی احساس کمتری نہیں ہوا کہ پاکستان کیوں پیچھے ہیں، مکس مارشل آرٹس کے کھلاڑیوں کی پرفارمنس کبھی دیکھیں، عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ یہ پاکستانی نوجوان ہیں

چند لاکھ روپے خرچ کر کے پیرا اولمپکس میں پاکستان نے گولڈ میڈل حاصل کر لیا ہے، رائے تیمور بھٹی کی طرح دیگر محکمے اور ادارے بھی اپنی

ذمہ داریوں کا احساس کریں اور چند لاکھ روپے کھلاڑیوں پر خرچ کردیں تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان کے نوجوان گولڈ میڈل جیت کر نہ آئیں مگر ہمارے اکثر نوجوان درست رہنمائی اور تعاون نہ ملنے پر مایوس ہو کر سپورٹس سے کنارہ کش ہو رہے ہیں جس کے باعث پاکستان میں سپورٹس کے میدان میں دنیا سے بہت پیچھے رہ گیا ہے اور پاکستان کا نقصان ہو رہا ہے، ہمیں ان عوامل پر غور کرنا چاہیے، ٹوکیو اولمپکس میں پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کی کارکردگی سب کے سامنے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words