جناب وزیر اعظم۔ عوام کی التجا سنیے

جناب وزیر اعظم میں آپ کے وعدے یاد کروانے کی جسارت نہیں کروں گا کیونکہ میرے نزدیک موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی نہیں کہ اپ کو اخبارات، چینلز اور، سوشل میڈیا پر چلنے والے آپ کے بیانات کا حوالہ دیا جائے یا آپ کے سیاسی حریفوں کی طرف سے آپ کے ماضی کے بیانات کا حوالہ دینے کر بات کی جائے آپ نے اپوزیشن میں رہ کر کیا کہا اور حکومت ملنے کے بعد کیا کہہ رہے ہیں عوام کو اس سے غرض نہیں یہ باتیں صبح آنکھ کھلتے ہی اخبار سے لے کر رات سونے تک ملکی چینلز بخوبی سر انجام دے رہے ہیں وہ آپ کو ہر وہ بات روزانہ یاد کرواتے ہیں جو آپ نے اپنے گھر کے اندر بھی کسی ملنے والے سے کی۔

گھر کے اندر کی بات کو باہر آنے سے کون روک سکتا ہے آپ کو تو یہ بھی پتہ ہو گا کہ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں اور جو عوام کی بھلائی کی باتیں آپ اجلاسوں میں کرتے رہے یا کر رہے ہیں ان کی اندرونی کہانی تو اجلاس کا اختتام ہونے سے پہلے چینلز کی زینت بن جاتی ہیں دیواریں تو ان اجلاسوں میں بھی ہوتی ہیں لیکن یہاں دیواروں سے زیادہ سینہ بہ سینہ کا فارمولا اپنایا جاتا ہے بلکہ ہوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ اجلاس میں موجود ایک سینہ ہی خبر جاری کر دیتا ہے اور وہ ہی لڑاکی عورتوں کی طرح سب چینلز شور مچا کر عوام کی تفریح کا سامان پیدا کرتے ہیں ویسے تو سینہ بہ سینہ محاورے سے مجھے اختلاف ہے اس اندرونی کہانی کو پیٹ سے پیٹ سے نکلی ہوئی بات سے تشنیہ دینی چاہیے ہم نے تو یہی سنا ہے کہ سینے میں خبر محفوظ ہو جاتی ہے اور پیٹ میں بات روکنا مشکل ہوتا ہے اور بھی خاص طور پر اگر کسی خاتون کے پیٹ میں بات ہو تو اس کا محفوظ رہنا ناممکن ہے۔

خیر بات جناب وزیر اعظم آپ سے عوام کی معصوم سی التجا کی کرنی تھی اور بات اندرونی کہانی کی طرف نکل گئی۔ جناب عرض ہے کہ عوام مان لیتے ہیں کہ ملکی معیشت کا گراف بہت اوپر جا رہا ہے انڈسٹری زوال سے نکل کر ترقی کی راہ پر چل پڑی ہے عوام ریکارڈ گاڑیاں اور موٹر سائیکل خرید رہے ہیں آپ نے تین سالوں میں پاکستان کو اندرونی اور بیرونی محاذ پر محفوظ بنا دیا اور دنیا میں پاکستان کا مقام بلند کیا جناب وزیر اعظم آپ نے ملک کو ریاست مدینہ کے ماڈل میں تبدیل کرنے کا آغاز کیا عوام یہ بھی تسلیم کرنے کو تیار ہیں کہ پنجاب ہو یا خیبر پختونخوا یا بلوچستان یا وفاقی حکومت سب کی کارکردگی مثالی ہے۔

ہر شعبے میں آپ کے نامزد حکومتی نمائندے اپنی اعلی کارکردگی سے عوام کے دل جیتنے کی کوشش کر رہے ہیں ترقیاتی کاموں کا ذکر کیا جائے تو ان کے متعلق اپ نے خود ہی وضاحت دی ہے کہ ان کی تشہیر مناسب طور پر نہیں ہوتی ورنہ ترقیاتی کاموں کے ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں اور اب تین سال بعد آپ نے حکومتی کاموں کی تشہیر بھی شروع کر دی ہے اب عوام ضرور اپ کی کارکردگی سے خوش ہو جایں گے۔ ان تمام خوبیوں کے باوجود جو بات مجھے ہضم نہیں ہو رہی اور شاید آپ کی مصروفیات میں عوام کی آواز اپ تک پہنچ جائے چاہے وہ ہلکی سی بھی آپ کے کانوں تک پہنچ جائے تو میں سمجھوں گا کہ آپ عوام کی خاطر کچھ کر گزریں گئے۔

جناب وزیر اعظم آپ کی حکومت تین سال گزار چکی آئینی طور پر حکومت کے پاس دو سال باقی ہیں باتیں کرنے اور قوم کو تسلیاں دینے کا وقت گزر گیا عوام مشکلات کے باوجود آپ کے ساتھ کھڑے ہیں کیا آپ بھی دوسرے حکمرانوں کی طرح پانچ سال بعد اپنی غلطیوں کا اعتراف کر کے گھر چلے جایں گے آپ بڑے بڑے خواب دیکھتے ہیں عوام اب ان خوابوں کی تعبیر چاہتے ہیں۔ اپنی حکومت کے پہلے سال آپ نے کہا ہم سسٹم بنا رہے ہیں اور مشہور زمانہ فقرہ گھبرانا نہیں پر عوام نے صبر کیا دوسرے سال اپ نے کہا مافیا حکومت کو ناکام بنا رہا ہے اور مصنوعی مہنگائی پیدا کی جا رہی ہے عوام نے اس پر بھی سر خم تسلیم کیا اور تیسرے سال اپ نے کہا ہم مافیا کو انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔

عوام نے سسکتے ہوئے اس بات کو بھی مان لیا لیکن جناب وزیراعظم اب سانس لینا مشکل ہو گیا ہے اگر اپ تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ وہ ہی عوام ہیں جنہوں نے جنرل ایوب کے دور میں پچیس پیسے چینی مہنگی ہونے پر حکومت کو چلتا کیا تھا۔ اپوزیشن کا تو کہنا ہے کہ اپ کو متقدر حلقوں کی بہت زیادہ حمایت حاصل ہے لیکن اگر آپ عوام میں مقبول نہ رہے تو پھر کوئی بھی حلقہ ناکامی کا وزن نہیں اٹھاتا۔ تین سال قبل بھی آپ سے عوام کو ریلیف دینے کی بات کہی تھی اور آج بھی یہ بات اس لیے کی جا رہی ہے کہ تین سال سے آپ کی حکومت کے خلاف چلنے والی کسی بھی تحریک میں عوام کے مسائل کی بات نہیں کی گئی اور نہ ہی سیاست کے شہنشاہوں سے توقع ہے کہ وہ عوام کے درد کا خیال کریں گے۔

سیاسی رہنما اپنے ذاتی مسائل کے باعث عوام کی بات کرنے سے قاصر ہیں اگر ہماری لیڈر شپ عوامی ہوتی تو آج عوام سکھ کی زندگی گزار رہے ہوتے۔ جناب وزیر اعظم اب آپ نے انکشاف کیا ہے کہ بٹن دبا کر تبدیلی نہیں آ سکتی تو جناب یہ بھی بتا دیں کہ کہ پھر عوام کیا دبائیں کہ حالات ان کے لیے ساز گار ہو جایں اگر عوام نے ہی کچھ دبانا ہے تو آپ ابھی بتا دیں پانچ سال پورے ہونے پر کوئی بات نہیں سنے گا یہ اب آپ کے ہاتھ میں ہے کہ سوشل میڈیا کی طرح صرف سرخ بٹن دبانا ہے یا عوام نے بٹن کھول کر میدان میں آنے کا فیصلہ کرنا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words