ہماری عدلیہ اور ماحولیاتی تحفظ

آئین پاکستان میں ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے باضابطہ شقوں کی عدم موجودگی جہاں اعلی عدلیہ کے حوالے سے عدالتی سرگرمی کو جنم دینے کا باعث بنی وہیں اس ہما گیر ذمے داری کو پورا کرنے کے لئے عدلیہ کی جانب سے آئین کے تحت حاصل بنیادی حقوق سے متعلقہ شقوں کو ماحولیاتی عدسے سے دیکھنے کا رجحان بھی سامنے آیا۔ اسی بنا پر سپریم کورٹ نے عمرانہ ٹوانہ بنام پنجاب 2015 میں ماحول اور اس کے تحفظ کو آئین کے تحت حاصل بنیادی حقوق میں مرکزی حیثیت میں شمار کیا

خطے میں موجود دیگر ممالک کا تذکرہ کیا جائے تو پڑوسی ملک بھارت کے آئین میں ماحول کے تحفظ کے حوالے سے عائد ذمے داری 1972 کے بعد آئین کا اس وقت باقاعدہ حصہ بنی جب ترمیم کے ذریعے آرٹیکل

48-A, 49-A, 51-A

آئین میں شامل کیے گے۔ تاہم پاکستان اور بھارت میں ماحولیاتی انصاف کے حوالے سے سامنے آنے والی عدالتی کاروائی میں ایک قدر مشترک تھی کہ بیشتر معاملے مفاد عامہ کے تحفظ

اور ان کے فیصلے پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن پر مبنی نظر آئے۔ پاکستان کی عدلیہ نے زندگی اور وقار کے جملہ حقوق کو بنیاد بنا کر جہاں ماحول۔ کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کی وہیں فوائد اور بوجھ کی منصفانہ تقسیم کو بھی یقینی بنانا تھا جو ماحولیاتی تغییر سے رونما ہو رہے تھے جس کا عکاس سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے جہاں آرٹیکل 9 کی تشریح کرتے ہوئے عدالت نے وضاحت کی کہ محض زندگی کا تحفظ ہی آئین کے تحت حاصل حقوق میں شامل نہیں بلکہ ایک باوقار اور بھرپور زندگی کا تصور اور فراہمی اس کا خاصہ ہے

(Human Rights Case 17599) .

خود ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے پائے جانے والے عدالتی نقطہ نظر میں ایک واضح فرق اس وقت نظر آیا جب جہاں پہلے بشریت اور ان کو اس نظام میں حاصل مرکزی حیثیت ہی ماحول

تحفظ کی توجیہ سمجھی جاتی تھی وہاں اب اس نئی سوچ نے پروان چڑھنا شروع کیا جس کے مطابق ماحول کا تحفظ خود ماحولیاتی اشیا کو حاصل حقوق کی بنا پر کیا جانا ضروری ہے

(D G Khan Cement v Govt of Punjab 2021)

جہاں گزشتہ کی سالوں میں پاکستانی عدالتیں فضائی آلودگی، پانی کی کمی، جنگلات کی بے دریغ کٹائی، شہری منصوبہ بندی، کراچی کی ساحلی پٹی پر تیل کا اخراج اور جنگلی حیاتیات کے تحفظ سے جڑے کئی معاملات پر فیصلے دیے وہیں ان فیصلوں کے نتیجے میں احتیاطی نقطہ نظر اور ماحولیاتی امپیکٹ کی تشخیص جیسے بنیادی اصولوں کا اعتراف اور اطلاق بھی ان فیصلوں میں بھرپور طریقے سے نظر آیا

پاکستان میں ہونے والی ماحولیاتی قانونی چارہ جوئی کے تانے بانے نوے کی دہائی کے شہلا ضیاء کیس سے جڑتے ہیں جہاں سپریم کورٹ نے صاف اور صحتمند ماحول کو باقاعدہ طور پر زندگی کے حق سے منسلک کیا جو آئیں کے آرٹیکل 9 سے منسلک ہے۔ اس فیصلے کے دوررس نتائج میں 1997 کے Pakistan Environmental Protection Act اور Pakistan Climate Change Act کا اجراء ہے

اسکے بعد 2015 میں سامنے آنے والا اصغر لغاری کیس جو ماحولیاتی قانونی چارہ جوئی کے حوالے سے ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے ریاست کی طرف سے کسی باضابطہ موسمیاتی تبدیلی پالیسی کے اجراء میں تاخیر کو شہریوں کو حاصل بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف قرار دیا۔ یہ فیصلہ جہاں موسمیاتی تبدیلی، موافقت جیسے پہلوں کا احاطہ کرتا نظر اتا ہے وہیں اس نے عدلیہ کی ان معاملات میں ممکنہ استعداد کو بھی اجاگر کیا جو کے باقاعدہ طور پر اس میراث کا حصہ ہے جو اس خطے کی عدلیہ کا خاصہ رہا ہے۔

ان معاملات میں عدالتوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمی انگنت درخواستوں کی صورت میں سامنے آئی جو اس مختصر عرصے میں عدالت میں دائر ہوئیں جو بظاہر ماحولیاتی حوالے سے ایک خوشنما داستان لگتی ہی تاہم حقیقت اور افسانے میں ایک بڑا شگاف خود ان فیصلوں اور ان کے نتیجے میں ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے کے لئے کیے جانے والے معمولی اور ناکافی اقدامات، عدلیہ کی جانب directions سے آنے والی پالیسی

اور ان کے نتیجے میں تقسیم اختیارات جیسے اصولوں کو بارہا نظر انداز کیا جانا یہاں تک کے بعض اوقات عدلیہ کی جانب سے مقننہ اور انتظامیہ کے آئینی دائرہ کار میں بے وجہ مداخلت ایسے عناصر ہیں جو ماحول کے تحفظ میں عدلیہ کے کردار کے حوالے سے ایک حرفے سوال بن کے کھڑے ہیں

دیامیر بھاشا ڈیم جیسے فیصلے اس کی مثال ہیں جہاں پر باقاعدہ طور پر پالیسی سازی کے انتظامی عمل سے لے کے ٹیکس لاگو کرنے کے پارلیمانی اختیار میں بیجا مداخلت ہوتی نظر آئی۔ کچھ معاملات میں تو باقاعدہ ایک سیاسی فریق کے طور پر عدلیہ کا سامنے آنا نہ صرف غیر جانبداری کے اہم عنصر کی بلکہ نظریہ تقسیم اختیارات کے بھی منافی نظر آیا۔ وہیں ایسے متنازع معاملات میں الجھنے سے عدالتوں کے سامنے زیر التوا دیگر معاملات میں تاخیر ہوئی۔

ایسی صورت حال کے پیش نظر بھارت میں عدالتوں کی کاروائیوں میں ایک واضح تبدیلی اس وقت نظر آئی جب ہرجانے کی مد میں دیے جانے والی مثالی رقوم دینے کا سلسلہ عدالتوں نے منقطع کر دیا بھوپال گیس کیس اس کی ایک مثال ہے۔ کیا اس صورتحال کو سامنے رکھتے ہونے پاکستانی عدالتوں کو بھی یہی روش اختیار کرنی چاہیے؟ کیا ماحولیاتی تنزلی سے نمٹنے کے لئے کوئی بہتر رویہ اپنانے کی ضرورت ہے؟ اگر ہاں تو وہ کیا ہے جیسے سوال ہمارے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں

برصغیر میں عدالتی نظر ثانی عدالتوں کو حاصل ایسا اختیار ہے جو بعض اوقات منصفوں کو ایسے سماجی، سیاسی اور معاشی معاملات طے کرنے کی صوابدید دیتا ہے جو دیگر ممالک کی عدالتوں کو حاصل نہیں ہے۔ جہاں یہ عدالتوں کو با اختیار کرنے کا باعث امر ہے وہیں اس کے کچھ منفی پہلو بھی ہیں

جن کا حوالہ ہم لے چکے ہیں خود ماحولیات کے تحفظ کے لئے جس آئینی منطق کو عدلیہ سامنے لائی ہے اس کی رو سے ماحول کا تحفظ اور عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے کی ذمے داری ریاست پر ہے جس کا مطلب اس عمل میں تینوں اداروں کی شمولیت سے ہے۔ سو جہاں اعلی عدلیہ میں گرین بنچز کا احیا ضروری ہے وہیں موثر قانون سازی اور اس قانون پر بھرپور عملدرآمد کرانے کے لئے انتظامیہ کی صلاحیتوں کو بروے کار لانے کی بھی ضرورت ہے

اٹھارہویں ترمیم کی بعد جہاں صوبائی اور وفاقی مقننہ کے قانون سازی کے دائرہ کار میں تبدیلی رونما ہوئی وہیں ماحولیات کا شعبہ صوبوں کی دسترس میں منتقل ہوا جن کی طرف سے وفاقی سطح پر نافذ قانون میں تبدیلی کر کے اسے صوبائی سطح پر نافذ تو کر لیا پر وفاق اور صوبوں کے مابین پالیسی معاملات اور بین الاقوامی معاہدات پر عملدرآمد کرانے کے حوالے سے ہم آہنگی کا فقدان ہے

اس سلسلے میں صوبوں کے اشتراک اور تعاون سے کمیٹی بنانے کا ذکر تو ہے پر اس پر کوئی پیشرفت ابھی تک نہیں ہوئی۔ ماحول کا تحفظ ایک ہمہ گیر مسئلہ ہے اس سے نبٹنے کے لیے ایک موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے جو اس بات کی متقاضی ہے کہ گورننس کے حوالے سے پائی جانے والی خامیوں کو دور کیا جائے، صوبائی تحفظ ماحولیات کے محکموں کی جانب سے کاری طرز عمل اختیار کیا جائے، ماحول سے متعلق قوانین کا بھرپور نفاذ ممکن بنایا جائے اور کارپوریٹ ذمے داری اور نجی شعبے کی شراکت کے بغیر، ماحول کے حوالے سے عوامی روئیے میں تبدیلی لائے بغیر یہ ایک ناممکن عمل ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words
آمنہ اختر شیخ کی دیگر تحریریں