خواتین ڈاکٹر نر مریضوں کا علاج کرتے وقت انہیں لاعلاج نہ کر دیں

عورت کی ہنسی دعوت گناہ ہے، میٹھا بول دھوکہ ہے اور اس کا اچھا لباس گندا ہے۔ وہی اچھے یعنی کہ گندے لباس اگر خواتین ڈاکٹرز یا نرسز نے پہن رکھے ہوں تو اور بھی گندے ہوتے ہیں۔ کیونکہ نر مریض اور ڈاکٹرز کوئی روبوٹ تو نہیں ہوتے کہ ان پر کوئی اثر نہ ہو۔ اسی اثر کے تحت اگر وہ اپنی معالج پر حملہ آور ہوں تو گناہ گار بھی ٹھہرائے جانے لگے ہیں بے چارے نر مریض۔ وزیراعظم نے تو خیر خود ہی اپنے اس بیان کی مذمت کر دی تھی، حالانکہ کوئی عالمی دباؤ بھی نہیں تھا۔

لیکن بہاول وکٹوریہ ہسپتال کے نئے ایم ایس ڈاکٹر محمد یونس وڑائچ صاحب اپنی دھن کے بہت پکے لگتے ہیں۔ وہ اپنے حکم کو واپس لیں گے اور نہ ہی اس کی مذمت کریں گے، حالانکہ نیکیاں تو ان کے حساب میں لکھی جا چکی ہیں۔ کیونکہ گندا لباس پہننے والی ڈاکٹرز اور نرسز کے شر سے اس اسلامی معاشرے کو پاک کرنے کا نہ وہ صرف ارادہ ظاہر کر چکے ہیں بلکہ اس پر عملی قدم بھی اٹھا چکے ہیں۔ اس لیے ان کے زیرانتظام ہسپتال میں تو صرف وہی خاتون ڈاکٹر یا نرس کام کر سکے گی جو گندا لباس نہیں پہنے گی۔ کیونکہ گندے لباس والی ڈاکٹر نر مریض کا علاج کرے گی تو مریض کے لاعلاج ہو جانے کا خطرہ ہو گا۔ نر مریض اس وقت تک صرف مریض ہی ہوتے ہیں جب تک حکیم صاحب نے ان کو جواب نہ دے دیا ہو۔

ڈاکٹر صاحب چونکہ خود بھی ایک مرد ہیں اور روبوٹ نہیں ہیں۔ ان کے حکیم نے ابھی تک انہیں جواب نہیں دیا ہے۔ اس لیے انہوں نے محسوس کر ہی لیا ہو گا کہ خواتین ڈاکٹرز اور نرسز جب کسی نر مریض کا علاج کر رہی ہوتی ہیں اور نر مریض جب سکون محسوس کر رہا ہوتا ہے تو وہ بے سکونی محسوس کر رہا ہوتا ہے۔ اگر خاتون ڈاکٹر گندے لباس والی ہو تو نر مریض کا ایک مرض کم ہو رہا ہوتا ہے تو دوسرا بڑھ رہا ہوتا ہے۔ اسی لیے جب مریض مکمل صحت یاب ہو کر گھر جا رہا ہوتا ہے تو وہ خوشی خوشی گھر جا رہا ہوتا ہے لیکن پریشان بھی ہوتا ہے۔

اور یہی حال خاتون ڈاکٹر کا بھی ہوتا ہے۔ کیونکہ جب وہ علاج کر رہی ہوتی ہے تو جہاں اسے علاج کرنے کے بدلے ثواب مل رہا ہوتا ہے وہیں اپنے مریض کے جذبات بھڑکانے کا گناہ بھی مل رہا ہوتا ہے۔ تو ڈاکٹر وڑائچ صاحب اس ملی جلی کیفیت سے واقف ہیں اس لیے انہوں نے اس کا حل نکال لیا۔ اب جب خواتین ڈاکٹرز اور نرسز گندے لباس میں نہیں ہوں گی تو نر مریض کا صرف علاج ہو رہا ہو گا اس کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہو رہی ہو گی۔

ڈاکٹر صاحب نے اپنے حکم نامے میں ایڑی والی جوتی کو منع شدہ اشیا کی لسٹ میں شامل کر کے بہت اچھا کیا۔ کیونکہ ایسا جوتا پہنے جب کوئی خاتون ٹک ٹاک ٹک ٹاک کرتی آ رہی ہوتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی ٹک ٹاکر آ رہی ہے اور ابھی آس پاس موجود مردوں کو مجبور کرے گی کہ مجھ پر حملہ آور ہو جاؤ۔ میرے کپڑے پھاڑ دو اور مجھے ٹچ کرو بلکہ نوچ ہی لو۔ اور پھر کچھ دنوں بعد بے چارے حملہ کرنے والے نر مریضوں کو اس بات کا ذمہ دار بھی ٹھہرائے گی۔

ڈاکٹر یونس وڑائچ صاحب یقیناً انصار عباسی صاحب کے فین ہوں گے۔ یہ دونوں صاحبان عورتوں کے گندے لباس دیکھ کر اپنے جسم میں بہت گہرا ردعمل محسوس کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے اس آرڈر کے بعد تو عباسی صاحب بھی ان کے بھی فین ہو گئے ہوں گے۔ یہ محبت اب دو طرفہ ہو چکی ہو گی۔ محبت کا سرعام ذکر کرتے میں اس لیے نہیں گھبرایا کیونکہ محبت کی اس کہانی میں دونوں کردار حضرات ہیں۔ محبت قابل گرفت گناہ تو تب بنتی ہے جب کہانی میں ایک کردار عورت ہو۔

ڈاکٹر صاحب نے عورتوں پر لباس کی پابندی کا آرڈر جاری کر کے کوئی بے محل بات نہیں کی ہے۔ آج کل تو یہی رواج چل رہا ہے۔ وزیراعظم صاحب نے جب دل کی بات کہہ دی تو ماحول اور بھی سازگار ہو گیا۔ گندا لباس پہننا تو دور کی بات، نر مریضوں کا سیلف کنٹرول خراب کرنے کے لیے عورت کا سامنے آ جانا ہی کافی ہے۔

ویسے بھی کابل کوئی دور نہیں۔ افغان طالبان نے جب پاکستان کو اپنا سیکنڈ ہوم کہا تو ہماری خوشی دیدنی تھی۔ پچھلے کئی برسوں میں یہ ہماری سب سے بڑی سفارتی کامیابی بلکہ فتح تھی۔ ابھی تک یہ تو ہم نے سوچنا شروع ہی نہیں کیا کہ ہمارا وطن عزیز بہت سے طالبان کا پہلا گھر بھی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب کابل میں خواتین کے لیے ڈریس کوڈ نافذ ہو جائے تو پھر اسلام آباد کو اس نعمت سے محروم کیسے رکھا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر یونس وڑائچ کی شکل میں مجھے مستقبل کا چیف میڈیکل افسر مل گیا ہے۔ گوگل ٹرانسلیٹر کے مطابق اس پوزیشن کا عربی نام ”کبیر المسؤولین الطبین“ بنتا ہے۔ مجھ یقین ہے کہ ڈاکٹر (ال) وڑائچ صاحب اسے پڑھ بھی لیں اور پسند بھی کریں گے۔

مزید ڈاکٹر وڑائچ صاحب کی دور اندیشی کی ہم داد دیتے ہیں۔ انہوں نے ابھی سے اپنی ماتحت خواتین کو اس کی پریکٹس شروع کروا دی ہے تاکہ کل کسی بڑی تبدیلی کی صورت میں انہیں پریشانی نہ ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words