چودھویں کا چاند یا کھیر کا پیالہ

پتلی دبلی شہر بانو کے ماں باپ بنگالی تھے پر وہ خود کو پاکستانی کہتی تھی۔ وہ کراچی میں پیدا ہوئی اور پلی بڑھی اور یہیں بیاہی گئی۔ جب کراچی میں غیر قانونی طور پر مقیم بنگالیوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہوئی تو اس کے والدین بنگلہ دیش لوٹ گئے مگر شہر بانو یہیں لائنز ایریا میں مقیم رہی۔ وہ پی ای سی ایچ سوسائٹی کے مختلف گھروں میں کام کرتی تھی۔ کام میں وہ بڑی پھرتیلی تھی ذرا سی دیر میں جھاڑو، پونچھا، برتن نمٹا کر دوسرے گھر کے دروازے کی بیل بجا رہی ہوتی۔

سرکاری ڈسپنسری سے ملحقہ گلی میں وہ صرف انجم بھابی کے کپڑے دھونے جاتی تھی۔ انجم بھابی جاب کرتی تھیں اور دوسری بار امید سے تھیں۔ وہ جہیز میں واشنگ مشین نہیں لائی تھیں اور ان کی ساس نے انہیں گھر کی واشنگ مشین میں کپڑے دھونے کی اجازت نہیں دی تھی۔ انجم بھابی کی ساس محلے بھر میں بہت عبادت گزار جانی جاتی تھیں۔ ان کی تہجد گزاری سے محلے والے مرعوب تھے جس کا ذکر باتوں باتوں میں کرنے کا گر انہیں خوب آتا تھا۔

قرآن کے درس پر بھی باقاعدگی سے بیٹیوں کو لے کر جاتی تھیں اور انجم بھابی کو اس بات پر مطعون بھی کرتی تھیں کہ وہ ان کے ساتھ درس پر جا کر اپنی عاقبت سنوارنے میں دلچسپی نہیں رکھتیں۔ انجم بھابی کی ساس گھر میں کام کرنے والی ماسیوں کے ساتھ بہت حقارت آمیز سلوک کرتی تھیں۔ جھڑک کر بات کرتی تھیں۔ کئی دن کا باسی کھانا پلاسٹک کی پلیٹ میں ڈال کر صحن والے ٹوائلٹ کے سامنے زمین پر بٹھا کر دیتی تھیں۔ صغری ماسی بیماری کے بعد واپس آئی تو اسے نوکری سے جواب تو دیا ہی دیا تنخواہ بھی نہ دی۔

شہر بانو شہر کی پلی بڑھی تھی وہ دیہاتی عورتوں کی طرح صم بکم نہیں ہو سکتی تھی وہ سمجھتی تھی اس کی بھی عزت ہے اسی لئے وہ ان کا کام نہیں کرتی تھی۔ انجم بھابی ایسی نہیں تھیں وہ عزت سے بات کرتی تھیں اگر کبھی جاب سے واپسی پر وہ باہر سے کچھ لیتی ہوئی آتیں تو کمرے میں پڑی فولڈنگ کرسی کھول کر چھوٹی سی تپائی پر صاف ستھرے برتن میں اسے بھی وہی کھانے کو دیتیں جو خود کھاتی تھیں۔ انجم بھابی کی ساس نخوت سے کہتیں ”، نوکر پہلے کبھی دیکھے نہیں اس لئے نوکر رکھنے کا قرینہ نہیں اتا۔“

انجم بھابی کی ساس نے ان سے کہہ دیا تھا دو سالہ منے کو سنبھالنا جان جوکھم کا کام ہے اور ان سے نہیں ہو سکتا ۔ اگر وہ کوئی بچہ سنبھالنے والا رکھ دیں تو اس پر نظر رکھ لیں گی۔ انجم کے لئے اتنا بھی کافی تھا۔ انہوں نے شہر بانو سے کوئی جان پہچان والی لانے کو کہا۔ شہر بانو نے اپنے گیارہ سالہ بیٹے گلفام کو بچے کو کھلانے کے لئے رکھوا دیا۔ وہ منے کو گود میں لئے پھرتا، وقت پر دودھ کی بوتل بنا کر دیتا یا سیریل کھلا دیتا۔ اس کے کھیلنے کے دوران اس کے پیچھے بھاگتا۔ چابی والے کھلونوں میں چابی بھر کے منے کے ساتھ خود بھی لطف اٹھاتا۔ ریموٹ والی کار تو گلفام کو بہت ہی پسند تھی جب انجم بھابی کی ساس سو رہی ہوتیں تو گلفام اس ریموٹ کار سے خوب کھیلتا۔ تین بجے انجم بھابی آ جاتیں اور گلفام گھر آ جاتا۔

کچھ دنوں سے گلفام شہر بانو سے کھیر کی ضد کر رہا تھا۔ شہر بانو نے بڑی بیسی ڈالی تھی تاکہ پیسے جمع کر کے ایک کمرے اور آنگن کا گھر خرید سکے۔ ان دنوں ہاتھ اور تنگ ہو گیا تھا کیونکہ اسے ماں باپ کو بھی بنگلہ دیش کچھ پیسے بھجوانے تھے ڈھاکہ میں ابھی تک ان کے ذریعہ معاش کا کوئی بندوبست نہیں ہوسکا تھا اسی لئے اس نے گلفام کو بھی انجم بھابھی کے پاس رکھوایا تھا۔ لیکن اس کی تنخواہ کے باوجود کھیر کی عیاشی کی گنجائش نہیں تھی لیکن گلفام کی ایک ہی رٹ تھی۔

”، مجھے کھوئے اور پستے بادام والی کھیر کھانی ہے“ ۔ جتنا شہر بانو ٹالتی اتنا ہی گلفام کی طلب بڑھتی۔ اصل میں ہر جمعے کو انجم بھابی کی ساس کھیر بناتی تھیں، کھوئے پستے بادام والی کھیر۔ چاندی کی چمچماتی پیالیوں میں کھیر بھر کر ڈائننگ ٹیبل پر پنکھے کے نیچے رکھتیں اور گھنٹے بھر بعد فرج میں ٹھنڈی کرنے کے لئے رکھ دی جاتی۔ رات کے کھانے کے بعد انجم بھابھی کے سسر کو کھیر کھانا پسند تھا۔ گلفام ہر جمعے کو ڈائننگ ٹیبل پر رکھی کھیر سے بھری چاندی کی پیالیاں دیکھتا تو اس کا دل بہت للچاتا لیکن انجم بھابھی کی ساس نے کبھی اسے چکھنے تک کو نہ دی بلکہ ایک بار جب گلفام منے کو ٹہل ٹہل کر سلاتے ہوئے کھیر کی پیالیوں کو تکے گیا تو انہوں نے اسے جھڑک کر کہا

”نیت خراب، کیا تکے جا رہا ہے۔ کھیر سڑ ہی نہ جائے۔“

گلفام کو گمان ہوا کہ نظر کے ڈر سے شاید وہ دینے لگی ہیں مگر ایسا نہیں ہوا البتہ انہوں نے اپنی بیٹی کو آواز دے کر ساری پیالیاں اٹھانے اور آئندہ ڈائننگ ٹیبل کی بجائے ان کے کمرے میں پنکھے کے نیچے رکھنے کو کہا۔

اگلے جمعے کو ڈائننگ ٹیبل پر کھیر والی چاندی کی پیالیاں نہیں تھیں۔ گلفام کی آتش شوق یوں بھڑکی جوں محبوب کے چلمن کے پیچھے چھپ جانے سے عاشق کی تڑپ سوا ہوتی ہے اس نے پھر شہر بانو سے کھیر پکانے کی فرمائش کی۔ مہینے کا آخر تھا شہر بانو کہاں سے کھیر پکاتی وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ گلفام کی بے تابی کی وجہ کیا ہے۔ اس رات گلفام اپنی ماں سے بہت خفا تھا۔ چھوٹے سے آنگن میں کھری کھاٹ پر لیٹے ہوئے وہ آسمان تکے جا رہا تھا۔

چودھویں کا چاند بادل سے آنکھ مچولی کھیل رہا تھا کبھی چھپ جاتا کبھی نکل آتا پر جانے کیوں گلفام کو پورا چاند، کھیر کا پیالہ دکھائی دے رہا تھا، کھوئے والی کھیر کا پیالہ، جو بادل اس سے چھپانا چاہ رہا تھا۔ چاند کے داغ اس کے نزدیک بادام اور پستے کی ہوائیاں تھیں۔ جانے کب تک وہ بادل سے کھیر کا پیالہ چھیننے کا کھیل کھیلتا رہا کہ اسے نیند آ گئی۔ خواب میں ایک مہربان پری اپنے خوبصورت ہاتھوں میں کھیر کا پیالہ لے کر آئی۔ اس پیالی سے بھی بڑا جو انجم بھابی کی ساس بھر کر رکھتی تھیں۔ وہ مہربان پری اپنے ہاتھوں سے اسے کھیر کھلانے آگے بڑھی۔ چاندی کا نقشین دستے والا چمچہ کھیر سے بھر کر اس کے نزدیک لائی اور گلفام نے بڑا سا منہ کھولا۔

”ارے گلفام دن چڑھ آیا ہے کام پہ نہیں جانا کیا“

شہر بانو کی تیز آواز سے ڈر کر پری اڑ گئی جدھر سے تھی آئی ادھر مڑ گئی۔ گلفام غصے سے اٹھا اور بڑبڑاتا ہوا غسل خانے چلا گیا

”، خود تو کھیر پکاتی نہیں ہے خواب میں بھی نہیں کھانے دیتی۔

اس دن منے کے گھر میں کھیر کے ساتھ اور کھانوں کی خوشبو بھی پھیلی ہوئی تھی۔ گلفام نے سوچا کاش منے کے بیٹری والے کھلونوں کی طرح اس کی ناک پر بھی ان آف کا بٹن ہوتا تو وہ اسے آف ہی کر دیتا تاکہ اس کی دسترس سے دور مزیدار کھانوں کی خوشبوئیں اسے پریشان نہ کرتیں۔

اس دن عجیب واقعہ ہوا گھر جاتے سمے انجم بھابی کی ساس نے کھوئے بادام والی کھیر سے بھری پلاسٹک کی پیالی اسے پکڑائی۔ جب گلفام انہیں لق لق دیکھے گیا تو وہ بولیں

”پکڑ لے۔ آج میری اماں کی برسی کی نیاز ہے کھا کے ان کی بخشش کی دعا کرنا۔“
اس رات گلفام نے شہر بانو سے پوچھا
” منے کی دادی کی اماں کی برسی دوبارہ کب آئے گی“

ارے پگلے سالگرہ کی طرح برسی بھی سال میں ایک بار ہی ہوتی ہے ”شہر بانو نے گلفام کے رخسار پر تھپکی دے ہوئے کہا

گلفام کچھ بولا نہیں لیکن وہ سوچ رہا تھا برسی کو سال میں نہیں ہفتے میں ایک بار ہونا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words