آئی ایم سوری

نوے دن میں ملک کا نظام بدلنے والوں کو تین سال گزر چکے ہیں۔ اور اگر سمجھداری کا مظاہرہ کر کے وعدے پر غور کیا جاتا توواقعی نوے دن میں تبدیلی تو آ چکی تھی۔

5.8 فیصد والی اکانومی ابتدائی دنوں میں کچھ زوال پذیر ہوئی مگر پھر اس کے بعد نیچے سے نیچے۔ اور کبھی مثبت اور کبھی منفی بجلی کی لوڈشیڈنگ جو ختم ہو چکی تھی پھر آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے۔

آئی ایم ایف جانے کے بجائے خودکشی کو ترجیح دینے والوں نے موٹروے اور ہوائی اڈے گروی رکھ کر بھی قرضہ لے لیا۔

مہنگائی کی شرح کو 4.1 فیصد تھی۔ تین سالوں میں 11.2 فیصد پر پہنچ چکی ہے۔
کرپشن انڈیکس مزید تنزلی کا شکار ہو کر 117 سے 120 پر پہنچ چکا ہے۔
سرکاری قرضوں میں 149 کھرب روپے کا اضافہ ہوا۔ حجم 399 کھرب تک جا پہنچا۔
تین سالوں میں اوسطا بیس فیصد سالانہ اضافے کے ساتھ کل ساٹھ فیصد اضافہ ہوا۔
سرکاری قرضوں میں 149 کھرب روپے کا اضافہ ہوا۔ حجم 399 کھرب تک جا پہنچا۔
تین سالوں میں اوسطا بیس فیصد سالانہ اضافے کے ساتھ کل ساٹھ فیصد اضافہ ہوا۔

390 سے 400 کے درمیان بکنے والا سیمنٹ 750 پر پہنچ چکا۔ 55 روپے والی چینی سینچری کراس کرچکی۔ 25 سے 30 روپے کلو والا آٹا 80 روپے تک پہنچ چکا ہے۔ کوکنگ آئل 150 سے تین سو کا فیگر کراس کر چکا ہے

یہ تمام چیدہ چیدہ خبریں ہیں جو پچھلے تین سال سے آئے روز ہم نے پڑھی اور سنی ہیں۔ چلیں آئیں ایک قصہ سناتے ہیں

ایک بادشاہ کو تیر اندازی کا بڑا شوق تھا اس نے ایک دن بہت بڑا مقابلہ رکھا جس میں پورے ملک سے تیر انداز بلائے ہوئے تھے ہر تیر انداز اپنی اپنی مہارت کے جوہر دکھاتا تھا۔ مقابلہ سخت تھا۔ یہاں تک کے بات آدمی کے سر پر سیب رکھ کر تیر مارنے تک آن پہنچی۔ جو تیر انداز تیر مارتا وہ ساتھ ہی ہاتھ سینے پر رکھ کر جھک کر اپنا نام بتاتا جیسے کہ آئی ایم جانز۔ آئی ایم پیٹر وغیرہ۔ اسی مقابلے کے دوران ایک باتونی شخص بھی مجمعے میں اپنی تیر اندازی کے قصے سنانے لگا۔

آہستہ آہستہ ہجوم بڑھتا گیا اور سب اسی کی طرف متوجہ ہو گئے۔ بادشاہ نے بھی جب دیکھا تو اس نے اپنے سپاہیوں کے ذریعے اس باتونی شخص کو بلا بھیجا۔ بادشاہ سے سلام دعا ہوئی۔ اور اس نے بادشاہ کے سامنے بھی اپنے قصے سنانے شروع کر دیے۔ بادشاہ بڑا متاثر ہوا۔ اور ساتھ ہی ساتھ اس کے وزیر بھی اس کی باتوں میں آ گئے اور اس کو بھی تیر کمان دے کر اسی مقابلے میں اتار دیا۔ جس میں سیب ایک آدمی کے سر پے تھا۔ اس نے خوب ناز نخرے سے تیر کمان پکڑا اور اپنی جگہ سنبھالی۔ ہر کسی کا دھیان اس کی کمان کی طرف تھا۔ سپاہی نے بگل بجایا۔ آدمی نے تیر کمان سے چھوڑا۔ سارے نظریں تیر کے ساتھ ساتھ نشانے کی طرف رواں دواں۔ اور تیر سیب پر لگنے کے بجائے سامنے کھڑے آدمی کے پیٹ میں۔ تیر انداز نے ہاتھ سینے پر رکھ کر جھک کر کہا۔ آئی ایم سوری۔

اس شخص جیسا حال ہی ہمارے ملک کا ہے۔ اوپر سارے اعداد و شمار بیان کیے گئے ہیں کے کیسے ہنستے بستے پاکستان کو ترقی سے دور کیا گیا۔ دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشت کس طرح زوال پذیر ہوئی۔ کس طرح جی ڈی پی دھڑم سے گرا۔ کس طرح آٹا اور چینی کا بحران آیا اور ان کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کیا گیا۔ مگر ان سب باتوں کے ہو جانے کے بعد سوال تو یہ ہے کہ کیا کوئی شخص ایسا ہوگا جو ”آئی ایم سوری“ کہہ سکے۔

Latest posts by صہیب الحسن، دینہ (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words