والدین کی محبت و عظمت


جب ایک بچہ پیدا ہوتا ہے تو والدین کے دل میں کیا کیا ارمان پیدا ہوتے ہیں۔ وہ اسی اولاد کی سلامتی اور لمبی عمر کے لیے دعا گو رہتے ہیں۔ اسی اولاد کی خاطر والد سارا دن گرمی اور سردی کی پرواہ کیے بغیر حلال رزق کی تلاش میں اپنے تمام خوابوں کی فکر کیے بغیر بس ایک ہی کام میں لگ جاتا ہے۔ وہ کام اولاد کے لیے اچھا رزق اور اچھی رہائش اور ہر وہ چیز جو انسانی زندگی کے لئے لازم ہوتی ہے۔ اس طرح والدہ بھی اپنی زندگی کا تمام سکون اسی بچے میں تلاش کرنا شروع کر دیتی ہے والدہ کی محبت اور پیار کی کوئی مثال نہیں۔

یہی والدہ اپنے ننھے سے بچے کی زندگی میں سکون کے لیے ہر طرح کی کوشش کرتی ہے کہ میرے بچے کو آرام اور سکون کی نیند میسر ہو سکے۔ یہ بات حقیقت ہے کہ والدہ کی محبت نہ سردی اور نہ ہی گرمی دیکھتی ہے وہ اپنے لخت جگر کو چین و سکون کی نیند کے لیے پوری رات جاگ کر خشک بستر میسر کرتی رہتی ہے۔ اسی کے ساتھ یہ والدہ اپنے مزاجی خدا کی خدمت کا بھی پورا پورا خیال رکھتی ہے آخر ان ساری باتوں کو یہ جو بچہ ماں کی کوک میں دن رات پرورش پا رہا ہوتا ہے۔

کیا یہ محسوس نہیں کرتا۔ میرے خیال میں یہ سارا معاملہ اس بچے کی فطرت کی تعمیر میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہوتا ہے۔ اگر یہ حقیقت ہے تو والدین کو بڑھاپے میں دشواریوں کا سامنا کیوں کرنا پڑتا ہے۔ والدین کی تربیت میں کچھ کمی رہ جاتی ہے۔ یہاں پر میں اپنی بات کرتا ہوں۔ والدین کی ذات ایک ایسا انمول رشتہ ہے جس کی کوئی دوسری مثال نہ دنیا پر ہے اور نہ ہی ہوگی۔ والدین چاہیں پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھتے ہوں یا حصول علم سے ناواقف ہوں۔

مگر اولاد کے لئے ان کی محبت اور قربانی ایک جیسی ہوتی ہے۔ والد محترم کے والد صاحب ان کو بچپن میں ہی چھوڑ کر چلے گئے۔ وہ دن بہت غربت کے دن تھے میرے والد محترم ایک نہایت شفیق طبیعت کے مالک تھے۔ میرے ابو جان کے بھائیوں نے میرے ابو کو اور میری دادی اماں کو علیحدہ کر دیا۔ اس وقت میری دادی اماں انتہائی ضعیف العمری میں تھے اور ان کی بینائی بھی نہ ہونے کے برابر تھی۔ اس وقت میرے والد محترم کی شادی بھی نہیں ہوئی تھی میرے والد مرحوم اس وقت پانچویں کلاس کے طالب علم تھے۔

یہ بات تقریباً 1949 یا اس کے لگ بھگ کی بات ہے۔ اس وقت حصول علم کے لئے بہت جتن کرنے پڑتے تھے۔ میرے والد محترم کے پاس اس وقت سائیکل تک نہ تھی۔ اس وقت کے سرکردہ اور اہل زر لوگوں کے پاس ایسی چیزیں دستیاب تھی۔ میرے ابو کسی ذمے دار کے دو بیٹوں کو سکول لے کر جاتے کیونکہ اس وقت سائیکل صرف ان کے پاس تھی۔ میرے ابو جان سکول جاتے وقت بھی سائیکل خود چلاتے اور واپسی پر بھی خود چلاتے۔ وہ وقت بہت درد ناک تھا ابو جان کو سکول چھوڑنا پڑا۔

خیر جب ابو جان علیحدہ ہو گئے تو حلال رزق کی فکر آ پڑی اور دادی اماں کی فکر علیحدہ تھی کہ ان کے پاس کون ہوگا گا۔ ان کی دیکھ بھال کون کرے گا۔ ان دنوں دادی اماں انتہائی تکلیف میں مبتلا ہو گی اور باقی جو میرے چاچو اور تایا تھے وہ بھی آنا چھوڑ گئے۔ یہ ایک ایسا وقت تھا جب خدا کی ذات کے علاوہ میرے والد مرحوم کی مدد کرنے والا کوئی نہ تھا۔ کے والد محترم تعلیم سے بے حد لگاؤ رکھتے تھے۔ اس وقت میرے والد محترم کی پسندیدہ زبان فارسی تھی جس پر میرے ابو جان کو عبور حاصل تھا۔

وہ سیانے کہتے ہیں نہ کہ پیٹ کی بھوک انسان کو ہر چیز بھلا دیتی ہے۔ والد صاحب کو میری دادی اماں نے فرمایا کہ بیٹا آپ اب شادی کر لیں۔ کیونکہ میں اب بوڑھی ہو گئی ہوں۔ اور میں اس قابل نہیں کہ کچھ کام کر سکوں۔ دادی اماں ان دنوں رو رو کے حال برا کر لیتی تھیں کیونکہ آدھے خاندان والے تو پہلے سے الگ ہو گئے۔ کافی سالوں بعد ابو جان کی شادی ہوگی۔ شادی کے بعد میری ابو جان اور میری دادی اماں کے دکھوں میں کچھ کمی واقع ہوئی۔

خیر دکھوں میں تو کمی ہوئی مگر غربت مسلسل سر کا تاج بن چکی تھی۔ میرے والد محترم مسلسل محنت مزدوری کرتے اور اپنے گھر کا چولہا جلانے میں کامیاب ہوتے۔ اسی طرح سب سلسلہ چلتا رہا اللہ کریم کی ذات کے صدقے مجھے مالک نے پہلی بہن جیسی رحمت سے نوازا۔ اور پھر بھائیوں کی آمد شروع ہو گئی۔ میں اپنے ساتھ بہن بھائیوں میں سے سب سے چھوٹا ہوں۔ میرے والد مرحوم بہت پیار کرتے تھے اور آج بھی کرتے ہوں گے۔ ہمارے والد محترم آج بظاہر تو دنیا میں نہیں ہیں مگر وہ ہر گھڑی ہماری رہنمائی کرتے ہیں ان کی ایک ایک بات میرے دل پر نقش ہو چکی ہے۔

میرے ابو جان اپنی تعلیم پوری نہ کر سکے کے وہ اپنا خواب اپنی اولاد کو پورا کرنا کی تلقین فرماتے۔ دن رات محنت کرتے اور تمام بچوں کو پڑھنے کی تلقین کرتے۔ کیوں کے اب وہ مرحوم جانتے تھے کہ اس دنیا میں اچھی تربیت کے ساتھ تعلیم کے زیور کا ہونا بھی ضروری ہے۔ شاید یہی دور جدید کی حقیقت ہے اور آج ہمارے سامنے بھی ہے۔ ابو جان میری والدہ محترمہ سے بہت خوش تھے کیونکہ میری والدہ محترمہ نے ہم تمام بہن بھائیوں کی اچھی فطرت بنائی اور اچھی تربیت کی۔

یہ الگ بات ہے کہ والدین کی لاکھ کوششوں کے بعد کبھی کبھار بچہ تعلیمی سرگرمیوں میں آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اس میں والدین کے ساتھ ساتھ علم مکتب کے اساتذہ کرام کا بھی ہاتھ ہوتا ہے۔ جو بنا کسی تحقیق کے بچے کی قابلیت پر نا اہلی کا لیبل لگا دیتے ہیں۔ استاد کی ذات یہ اہلیت نہیں رکھتی کہ جو بچے کے اندر چھپا ہوا انسان ہے اس کو نکال سکیں۔ چھپے ہوئے انسان کی تلاش کر سکے۔ اسی لیے نامناسب باتیں بچے کی زندگی کے لئے وبال جان بن جاتی ہیں۔

جب بچہ جوان ہوتا ہے تو وہ والدین کو کوسنا شروع کر دیتا ہے۔ شاید ایسے ہی کتنے والدین بچوں کی محبت سے دور ہو جاتے ہیں۔ میرے والد محترم کا بھی ایسا ہی سپنا تھا کہ میری اولاد پڑھ لکھ جائے بے شک کوئی اعلی درجے کی نوکری حاصل نہ کر سکے۔ اکثر اوقات میرے بابا یہ ہی قیاس کرتے نظر آتے تو میں بھی دل و دماغ کو مضبوط کرتا اور اپنی منزل کی فکر کرنے لگ جاتا۔ ابو بظاہر سب بھائیوں سے ناراض تھے اور اسی وجہ سے سے میری تعلیمی سرگرمیوں میں دلچسپی نہیں لیتے تھے۔

ابو جان نے ایک دن مجھے فرمایا بیٹا مجھے ابو اس وقت کہنا جب آپ کے ہاتھ میں میٹرک کا سرٹیفکیٹ ہو۔ اور ساتھ میں یہ عندیہ بھی دیا کہ یہ دس جماعتیں آپ نے اپنے بل بوتے پر کرنی ہیں۔ آپ کی کسی قسم کی مدد نہیں کروں گا۔ خیر یہی ہی وہ بات تھی جس کی بنا پر مجھے میرے والد صاحب کی بہت فکر ہوتی اور میں یہ چاہتا تھا کہ کسی طرح 10 کلاس کا سرٹیفکیٹ حاصل کر ہی لوں۔ میں صبح سکول جاتا اور دوپہر کو سکول سے آنے کے بعد اپنے کزن کے ساتھ مزدوری پر چلا جاتا۔

خیر یہ زندگی کا سلسلہ تھا ایسے ہی چلتا رہا میں پانچویں میں پہنچا اور پانچویں میں اول پوزیشن حاصل کی۔ والد صاحب نے کوئی خوشی کا اظہار نہ کیا۔ اسی طرح چند سال بعد میں نے مڈل امتحانات میں دوسری پوزیشن حاصل کی اور کامیاب ہوا۔ اس میں میرا کوئی کمال نہ تھا یہ میرے اساتذہ کرام اور میرے والدین کی محبت اور محنت اور سبق تھا جو مجھے اس مقام تک لے آیا۔ میں تو ادنیٰ سا بندہ تھا جو اس قابل بھی نہ تھا کہ اپنا نام لکھ سکتا۔

آٹھوں کلاس بعد ہم نائنتھ کلاس میں بیٹھ گئے۔ ملتان بورڈ کے ایگزام ہوئے تو رزلٹ آنے پر میں نے نائنتھ کلاس میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ اور اس وقت کے وزیر اعلی پنجاب کی ایک نئی اجالا سکیم تھی اس میں میں نے سولر سسٹم انعام کے طور پر حاصل کر لیا۔ جب یہ خوشخبری میں نے اپنے ابو جان کو سنائی تو ابو جان اس وقت بھی خوش نہ تھے۔ ان کے دل میں ایک ہی خواب سجا تھا اور وہ تھا میٹرک کا سرٹیفکیٹ۔ الحمدللہ جب دسویں کلاس کے امتحان ہوئے تو میں نے اچھے نمبروں سے دسویں کلاس پاس کر لیں۔

دسویں کلاس پاس کرنے میں میرا کوئی کمال نہیں ہے اس میں میرے اساتذہ کرام کی محبت شفقت اور ان کی انتھک محنت رنگ لائی۔ جب رزلٹ اناؤنس ہوا اور مجھے میٹرک کلاس رزلٹ کارڈ ملا اور میں گھر اپنے والد محترم کے پاس گیا تو اس وقت ان کے چہرے پہ جو خوشی کے اثرات مرتب ہوئے وہ آج بھی میں یاد کر کے روتا ہوں۔ ہمارے والدین اپنی اولاد سے اتنی امیدیں وابستہ کر لیتے ہیں جن کا خیال تو کیا ہماری سوچ بھی سوچنے سے قاصر ہے۔

اسی لیے میں عرض کرتا ہوں ان نوجوانوں سے جو اپنے والدین کی بے حرمتی کرتے ہیں اور بزرگی میں ان کی بے عزتی کرتے ہیں۔ ان کی وجہ سے ہماری دنیا میں پہچان بنتی ہے انہی کی بدولت ہم اپنے آپ کو کچھ بنا پاتے ہیں۔ ان کی زبان مبارک سے ایک لفظ بھی بد دعا کا نکلا تو خدا کے عرش کو ہلا دے گا۔ اپنے والدین بہن بھائیوں کو چھوڑ کر لوگوں کو اپنا رہبر بنا لیتے ہیں۔ خود تو زندگی میں کچھ بن نہیں پاتے اور ہمیں ہمارے حقیقی منزل سے دور کرنے کے لیے ہر وقت کوشش کرتے رہتے ہیں۔

نہیں چاہتے کہ ہم اپنے والدین کا فرمانبردار بن سکیں۔ اور ہم کچھ اچھا کام کر سکیں وہ خود اپنی زندگی میں کچھ کمال نہیں رکھتے اور نہ ہی ہمیں ایسا کرنے دیتے ہیں۔ اس لئے اکثر یہ بات کہتا ہوں کہ والدین اور خاندان کے بعد معاشرہ بچے کے لیے ایک بہت بڑا سبق ہوتا ہے۔ اور یہ وہ سبق ہے جس کو ہم اپنی جوانی میں غور و فکر کے ساتھ نہیں پڑھتے۔ اچھے برے کی تمیز کرنے کی سوجھ بوجھ نہیں رکھتے۔ ہم جوانی کے جوشیلے خون میں اپنے والدین کی محبت اور ان کا پیار اور ان کی تربیت سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ تو آ ہیں ابھی وقت ہاتھ میں ہے۔ ہمیں ہمارے والدین کو راضی کرنا ہوگا۔ اپنی آنے والی نسلوں کو اس چیز کی ترغیب و تربیت دینی ہوگی کی حقیقی رشتہ اور حقیقی محبت عزت والدین کی محبت ہے۔ ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔ اور اسی میں ہماری بھلائی ہے۔ اللہ پاک ہم تمام بھائیوں کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔

Facebook Comments HS