بلاول بھٹو زرداری کے دورہ ڈیرہ غازی خان کی اندرونی کہانی

1993 کی انتخابی مہم میں محترمہ بے نظیر بھٹو کا انتخابی جلسہ ڈیرہ غازی خان کے پاکستانی چوک میں ہوا تھا جہاں انہوں نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ اقتدار میں آ کر ان کی حکومت ڈیرہ غازی خان کو سوئی گیس، یونیورسٹی اور ائرپورٹ دیں گی۔ اس جلسہ کے بعد ڈیرہ کا ایک معروف نعرہ تھا کہ بے نظیر آئے گی۔ سوئی گیس لائے گی۔ ان انتخابات کے بعد محترمہ وزیراعظم بن گئیں اور اپنا وعدہ وفا کرنے کے لیے آخری بار 1995 میں گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کے فٹبال گراؤنڈ میں تشریف لائیں اور وعدہ کے مطابق سوئی گیس، ائرپورٹ اور خواجہ فرید یونیورسٹی کے منصوبے شروع کرنے کا اعلان کیا۔ سوئی گیس اور ائرپورٹ کے منصوبوں پر کام شروع ہو گیا تاہم 5 نومبر 1996 کو صدر پاکستان فاروق خان لغاری نے محترمہ کی حکومت کو برطرف کرتے ہوئے اسمبلیاں توڑ دیں۔ اس کے بعد پیپلز پارٹی ضلع ڈیرہ غازی خان کی کم سے کم انتخابی سیاست سے آؤٹ ہو گئی۔

2019 میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار دوست محمد خان کھوسہ کی صورت میں قد آور سیاسی شخصیت نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی جس نے پیپلز پارٹی کے مایوس اور منتشر جیالوں کو پارٹی پرچم تلے جمع کرنا شروع کیا۔ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے حالیہ دورہ جنوبی پنجاب کے حوالے سے پارٹی قیادت نے سردار دوست محمد خان کھوسہ کو یکم ستمبر کو پیغام دیا کہ چیئرمین 5 ستمبر کو ڈیرہ غازی خان کا دورہ کریں گے۔ تیاری کے لیے چار دن کا وقت دیا گیا اور یہ وقت بھی سردار دوست محمد خان کھوسہ جیسی سیاسی شخصیت کے لیے بہت تھا مگر وہ شدید علیل تھے تاہم حامی بھر لی اور تیاری شروع کردی۔

5 ستمبر کو چیئرمین بلاول بھٹو ڈیرہ غازی خان پہنچے تو سب سے پہلے شہید محسن نقوی کے گھر پر گئے اور ان کے صاحبزادے اسد عباس نقوی اور چچا زاد بھائی سید ظفر عباس نقوی سے ملاقات کی۔ گو کہ یہ خاندان اب مسلم لیگ نون کے ساتھ وابستہ ہے تاہم پارٹی چیئرمین اقدار کو نہیں بھولے اور پیغام دیا کہ پیپلز پارٹی اپنی روایات اور اقتدار کی پاسداری کرنے والی جماعت ہے۔ اس کے بعد چیئرمین بلاول بھٹو زرداری 26 سال بعد اسی گراؤنڈ پر پہنچے جہاں محترمہ بے نظیر بھٹو آخری بار تشریف لائیں تھیں۔

سردار دوست محمد خان کھوسہ کی طرف سے چیئرمین کا پرتپاک فقید المثال استقبال کیا گیا۔ جیالوں اور پارٹی کارکنوں کا جوش و ولولہ دیدنی تھا۔ ورکر کنونشن اپنی تعداد کے اعتبار سے ایک بڑے جلسہ میں تبدیل ہو چکا تھا اور دلچسپ امر یہ کہ پارٹی ورکرز سے ہٹ کر شہریوں کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ جلسہ میں شرکت کی۔

جلسہ سے ایم این اے نوابزادہ افتخار خان، بیرسٹر امام بخش قیصرانی، سردار دوست محمد خان کھوسہ، سید یوسف رضا گیلانی نے خطاب کیا۔ جبکہ چیئرمین بلاول بھٹو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرائیکی وسیب کا بھٹو خاندان سے تین نسلوں کا رشتہ ہے انہوں نے کہا کہ وہ سرائیکیوں کو وسیب بنا کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی وہ واحد سیاسی جماعت ہے جو سرائیکی وسیب کا قیام عمل میں لا سکتی ہے۔ جلسہ کے اختتام کے بعد چیئرمین بلاول بھٹو ڈیرہ کے کھوسہ ہاؤس پہنچے جہاں پر سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ نے ان کا استقبال کیا۔ چیئرمین کو کھوسہ ہاؤس کی طرف سے روایتی تلوار کا تحفہ پیش کیا گیا۔ اس کے بعد سابق گورنر سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ اور سابق وزیراعلیٰ سردار دوست محمد خان کھوسہ کی طرف سے دیے گئے عشائیہ میں بطور چیف گیسٹ شریک ہوئے۔

عشائیہ میں کھانے کی میز پر چیئرمین بلاول بھٹو نے سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کو کراچی بلاول ہاؤس آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو ہوسٹ کرنا چاہتا ہوں۔ سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ نے دعوت کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین صاحب میں ضرور آؤں گا مگر اس سے قبل میں لاہور میں اپنے دوستوں کی آپ سے ملاقات کراؤں گا اور سندھ اور بلوچستان میں آپ کو پروگرام دوں گا اس کے بعد بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوگی۔

سابق گورنر پنجاب اور سینئر سیاست دان سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کا یہ جواب نا صرف حوصلہ افزا ہے بلکہ توقع ہے کہ مستقبل قریب میں پنجاب کے اہم لوگوں کی چیئرمین بلاول بھٹو سے ملاقاتیں ہوں گی جس سے پیپلز پارٹی کو خاطر خواہ سیاسی فائدہ پہنچے گا۔ خوشگوار ماحول میں عشائیے کا اختتام ہوا اور چیئرمین بلاول بھٹو سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی، صدر جنوبی پنجاب مخدوم احمد محمود، اراکین اسمبلی نوابزادہ افتخار علی خان، مہر ارشاد سیال، رضا ربانی کھر، فیصل کریم کنڈی، اور نتاشہ دولتانہ کے ہمراہ ملتان روانہ ہو گئے۔

ذرائع کے مطابق سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ نے اپنے صاحبزادے سردار دوست محمد خان کھوسہ کے ذمہ لگا دیا ہے کہ وہ نومبر تک سندھ اور بلوچستان کے پروگرامز کو پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو کے شایان شان ترتیب دیں۔ اطلاعات کے مطابق اس پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ تاہم ڈیرہ غازیخان میں حالیہ جلسہ کے بعد جہاں پارٹی ورکرز کا مورال بلند ہوا ہے وہاں مخالف سیاسی جماعتوں خاص طور پر تحریک انصاف اور نون لیگ کے لیے یہ جلسہ الارمنگ ہے۔ اس جلسہ نے ضلع بھر کی سیاسی فضا کو تبدیل کر دیا ہے۔ اس جلسہ کے بعد پیپلز پارٹی طویل مدت بعد انتخابی سیاست میں دوبارہ داخل ہو گئی ہے۔ اور اس کا کریڈٹ بلاشبہ سردار دوست محمد خان کھوسہ کو جاتا ہے

تاہم اس سب کے باوجود ضلع ڈیرہ غازی خان میں پیپلز پارٹی کی تنظیم کوئی اہم کردار ادا نہیں کر سکی۔ اس سے بڑا المیہ اور کیا ہوگا کہ پارٹی چیئرمین کی آمد پر پارٹی کا ضلعی صدر پارٹی عہدیداروں اور ورکرز کو چیئرمین کے پروگرام میں جانے سے روکتا رہا۔ سابق ضلعی صدر شبلی شب خیز غوری کے علاوہ کوئی پارٹی عہدیدار کھل کر سامنے نہیں آیا۔ تحصیل کی تنظیموں کی حد تک شرکت کی کوشش ضرور ہوئی۔ کامیاب جلسہ ہونا ایک الگ بات ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ جنوبی پنجاب کی پارٹی قیادت کو چاہیے کہ وہ تنظیموں کو فعال کریں اور پارٹی عہدوں پر اہل اور کام کرنے والے بندوں کو سامنے لائیں۔

اگر پارٹی عہدوں پر کوئی تبدیلی نا ہوئی تو حالات جوں کے توں رہیں گے اور کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکے گی۔ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو چاہیے کہ وہ جنوبی پنجاب کی نئی تنظیم سازی میں خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے پارٹی عہدوں کے لیے بہترین لوگوں کا انتخاب کریں تاکہ آئندہ عام انتخابات تک پارٹی فعال ہو چکی ہو اور اپنا بھرپور کردار ادا کرسکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words