سیاسی بساط پر کس کی چال

عاصمہ شیرازی - صحافی

انتخابات میں اچھا خاصا وقت ہے مگر بظاہر ہر جماعت نے سیاسی پیش منظر میں رنگ بھرنے یا یوں کہیے کہ اپنے اپنے پتے جوڑنے شروع کر دیے ہیں۔ ایکہ، بادشاہ، ملکہ اور جوکر سب اپنے اپنے کردار ڈھونڈ رہے ہیں۔ اہم یہ ہے کہ ایکہ کس کے ہاتھ آتا ہے اور بادشاہ کس کے پاس، ملکہ کہاں اور جوکر کا استعمال کیسے؟

پی ٹی آئی حکومت کے دو سال باقی ہیں۔ تین سال میں کیا کچھ بدل گیا۔ حالات بدل گئے، واقعات بدل گئے، معیشت بدل گئی، سیاست بدل گئی یہاں تک کہ معاشرت بدل گئی۔

یہ کہنے کی ضرورت تو باقی نہیں رہی کہ عوام کی زندگیوں میں کیا تبدیلی آئی۔ حالات یہاں تک لے آئے ہیں کہ معاشرے کا مشکل سے گزارہ کرنے والا طبقہ گاڑیوں سے موٹر سائیکلوں اور موٹر سائیکلوں سے سائیکلوں پر آ گیا ہے۔

ادویات پہنچ سے دور اور دال روٹی تک رسائی دشوار۔ سفید پوشی کا بھرم اس قدر مشکل کہ جینا محال۔ مزید سکڑتا متوسط طبقہ دھیرے دھیرے معاشی و معاشرتی بحران میں اضافہ کرتا چلا جا رہا ہے۔ اور اوپر سے ڈالر کی اُڑان، قرضوں کا بحران، مگر ڈٹ کے کھڑا ہے کپتان۔۔

بقول اقبال ساجد۔۔۔

جہاں بھونچال بُنیاد فصیل و در میں رہتے ہیں

ہمارا حوصلہ دیکھو ہم ایسے گھر میں رہتے ہیں

سیاسی بساط بچھ چکی ہے مگر کیا وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی مہرے کھیلنے میں بے حد جلدی میں دکھائی دیتی ہے۔ بلاول بھٹو کی حال ہی میں سندھ سے شروع ہونے والی ’تحریک‘ اور شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطے میں پنجاب کے عوام کو متحرک کرنے کی ’اپیل‘ میں یہ یقین کیوں موجود ہے کہ انتخابات بے حد قریب ہیں؟

پیپلزپارٹی خاموشی سے ایک جانب تنظیم سازی، دوسری جانب مقتدر طاقتوں سے تعلقات کی بحالی اور تیسری جانب عالمی منظر نامے میں موجود ممکنات کو مدنظر رکھے ہوئے ہے۔

پیپلزپارٹی وہ واحد جماعت ہے جو افغانستان کی مشکل ترین صورت حال میں واضح اور ترقی پسندانہ موقف کے ساتھ کھڑی ہے۔

پیپلزپارٹی نے بحیثیت جماعت نہ صرف اپنے دروازے کھول دیے ہیں بلکہ حلقہ جاتی سیاست میں ’زمینی حقائق‘ کو بھی بھانپ رہی ہے۔ کراچی کی سیاست میں ایک بار پھر نہ ہونے سے ہونے اور سیاسی خلا کو پُر کرنے کی کوششوں میں مصروف پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کی سیاست میں ممکنہ جوڑ توڑ کو بھی مد نظر رکھے ہوئے ہے۔

بلاول بھٹو نہ صرف متحرک ہیں بلکہ آصف زرداری کے طے شدہ اہداف کی جانب خاموشی سے بڑھ رہے ہیں۔ پنجاب میں البتہ پیپلز پارٹی کو اہم چیلنجز کا سامنا ہے، خصوصاً وسطی اور بالائی پنجاب میں جہاں بظاہر پیپلز پارٹی کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہاں مخصوص حلقوں اور ق لیگ کے ساتھ ’ہوم ورک‘ ہو سکتا ہے۔

آئندہ عام انتخابات سے قبل ترین گروپ کا کردار کیا ہو گا؟

موجودہ صورت حال، انتخابات سے قبل احتساب کی نئی لہر، الیکٹرانک مشین کے ذریعے انتخابات کی چوری کے خدشے اور آزادی اظہار پر پابندیاں روٹھی ن لیگ اور ناراض پیپلز پارٹی میں دوریاں کم کر سکتی ہے۔

ایسے میں شہباز شریف کا قومی حکومت سے متعلق بیان محض قیاس آرائی نہیں۔۔۔ مستقبل کے حالات کے پیش نظر کوئی ایک جماعت بھی حکومت سنبھالنے کی پوزیشن میں نا ہوئی تو پھر صورتحال کیا ہو گی؟

آئندہ چھ ماہ میں حالات کیا ہوں گے یہ اہم سوال ہے۔ امن و امان کے پیش نظر ملک میں بحرانی کیفیت پیدا ہوئی تو قومی حکومت کا وجود ناگزیر ہو سکتا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کی گزشتہ چند دنوں کی کارروائیوں نے کئی شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔

یہی نہیں بلکہ عالمی اور خطے میں موجود طاقتیں کئی ایک ضمانتوں کی طلب گار دکھائی دیتی ہیں۔ ایسے میں خراب معاشی حالات اور تیزی سے بدلتے واقعات حزب اختلاف کو ایک صفحے پر لا سکیں گے یا نہیں؟ اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کو یک جہتی کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے کبھی نا تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words