سلمان سرور: ہم آپ کو یاد کرتے ہیں

شہید سلمان سرور۔ لاسٹ نیم سرور دیکھا تو یادوں کے کچھ دریچے کھلے۔ مجھے اور میرے بھائی کو ایک شخص امتیاز سرور کی یاد آ گئی جو غیر محسوس طریقے سے ہماری فیملی کا حصہ بن گئے تھے اور پھر نہ جانے کہاں وقت کی دھند میں غائب ہو گئے تھے۔ تب ہم علامہ اقبال ٹاؤن لاہور میں رہا کرتے تھے اور وہ اس علاقے کے ایس ایچ او ہوا کرتے تھے۔ کسی فلمی ہیرو کی طرح ان کی شہرت، ایمان دار، جوان اور ہینڈسم پولیس افسر کی تھی۔ میری امی ایک پرائیویٹ سکول چلایا کرتی تھیں۔ اس وقت ہماری سٹریٹ کی کسی غنڈہ گردی کیس میں جب معاملہ محلے کے اس تھانے تک پہنچا تو انہوں نے جس غیر جانبداری اور ایمانداری کے ساتھ معاملات نبٹائے ہم سب کے لئے بہت حیران کن بات تھی۔

پھر ایک دن وہ اپنے بیٹے اور بیٹی کو امی کی اکیڈمی میں کریسنٹ سکول کی تیاری کے لئے داخل کروا گئے۔ میں تب ایف سی کالج میں ایم اے انگریزی پارٹ ون کی سٹوڈنٹ تھی اور شام کے وقت امی کی اکیڈمی میں پڑھایا بھی کرتی تھی۔ ان کی مجھ سے بھی بچوں کی پڑھائی کے سلسلے میں بات چیت ہو جایا کرتی تھی۔ محبت تو سب والدین ہی اپنے بچوں سے کرتے ہیں مگر محبت کے ساتھ ان میں بچوں کے لئے ان کی تعلیم، مستقبل اور کردار سازی کو لے کر فکر کا وہ جو جذبہ تھا، وہ بہت غیر معمولی تھا۔ ان کا بس نہیں چل رہا ہوتا تھا کہ سارے زمانے کی تعلیم اور خوشیاں اپنے بچوں کے لئے اکٹھی کر لیں۔

میرا پڑھنا پڑھانا تو ایک طرف، دونوں بھائیوں کے ساتھ مل کر ہر قسم کی مردانہ کھیلوں میں حصہ لینا دوسری طرف ہوا کرتا۔ ہم بسنت پو رے جوش و خروش سے منایا کرتے تھے۔ میرا بھائی مجاہد حد سے زیادہ شرارتی ہوا کرتا تھا۔ اس بسنت پر ہوائی فائرنگ پر پابندی تھی۔ مجاہد اور اس کے دوست چھت پر گڈیاں چڑھانے سے زیادہ لوٹنے میں مشغول تھے۔ ایس ایچ او صاحب اپنی ٹیم کے ساتھ گشت کر رہے تھے، ہمارے گھر کے باہر رک کر انہوں خود اونچی آواز سے مجاہد کو کہا۔

”مجاہد یار ہوائی فائرنگ بالکل نہ ہو۔ مجاہد انہیں شرارتی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے بولا“ جی سر جی بالکل نہیں ہو گی۔ ”ابھی وہ تھوڑی ہی دیر گئے ہوں گے کہ مجاہد نے ہوا میں ایک فائر داغ دیا۔ وہ فوراً واپس آئے۔“ مجاہد کے دوست کی گن پکڑی؛چلو! مجاہد میرے ساتھ تھانے ایک گھنٹے کے لئے تو چلو۔ یار تم نے ایک منٹ بھی میرے کہے کا مان نہیں رکھا۔ ”۔ ہم بہن بھائی آج بھی ہم اس قصے کو یاد کر کے ہنستے ہیں۔ کچھ یادیں دماغ میں نقش ہو جاتی ہیں۔

انہی یادوں کی اوٹ سے جب ہم نے“ سلو مس یو ”کی فیس بک پوسٹ دیکھی،“ سلمان سرور شہید، ستارہ بسالت ”دیکھا تو حیرت سے پھر اس فیس بک والے کو دیکھا۔ تو امتیاز سرور اپنی اسی پرانی شان و شوکت کے ساتھ ہمارے سامنے آ کھڑے ہوئے۔ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ سلمان سرور سن آف امتیاز سرور کے ساتھ میں نے شہید کا لفظ پڑھا ہے۔ میں نے ان کو ان باکس کیا۔ ابتدائی کلمات اور یادوں کو واپس لانے میں چند منٹ لگ گئے۔ میں نے ان کو پرانا بسنت والا قصہ یاد کروایا۔ ان کا جواب آیا“ روبی میں بھول گیا ہوں میں کیسے رہتا تھا۔ کیا آپ کو میرے بارے میں کچھ اور یاد ہے تو پلیز بتائیں۔ ”میں یہ پڑھ کر سناٹے میں آ گئی، ایک متحرک اور ذہین انسان بالکل ہی خالی ہو چکا تھا۔

میں نے پھر ان کو ان کی ایمانداری اور فرض شناسی کا وہی پرانا واقعہ یاد کروایا۔ حیران ہو کر بولے ؛ ”آپ کو ابھی تک یاد ہے۔ لیکن شکریہ کی کیا بات ہے وہ تو میری ڈیوٹی تھی میں نے یہی کرنا تھا۔“ میں نے بتایا کہ ;نہیں اب سرکاری لوگ فرض شناسی یا ایمانداری دکھاتے ہیں تو یوں ظاہر کرتے ہیں جیسے انہوں نے ہم پر کوئی احسان کیا ہو اور ہمیں بس ان کے احترام میں فرش میں دھنس جانا چاہیے۔ ”

امتیاز سرور جو ہر بات میں فلسفہ اور لاجیک لے آیا کرتے تھے اب یوں خاموش تھے جیسے ٹھہرا ہوا سمندر ہو۔ امتیاز سرور تو اپنی ان سب فیس بک پوسٹس میں گم ہو گئے تھے، جہاں ان کے جوان سال شہید بیٹے کی یادیں بمعہ تصویروں کے بکھری پڑی تھیں۔ میں نے ڈرتے ڈرتے ان یادوں سے انہیں نکالنے کی کوشش کرتے ہوئے ان کی بیٹی کے بارے میں پو چھا۔ پھر ایک دفعہ پھر سے امتیاز سرور زندہ ہوتے محسوس ہوئے، فخر کی لہر لکھے گئے جملوں میں بھی محسوس ہوئی؛ ”وہ تو فلاں بنک میں فلاں عہدے پر ہے۔ اس کی شادی ہو گئی ہے بچے ہیں۔“

میں نے کہا؛ ”دیکھیں کتنا وقت گزر گیا“ ۔ آگے سے جواب آیا؛ ”وقت ہی نہیں سب کچھ گزر گیا ہے۔“
ساتھ ہی کہنے لگے ؛ ”جانتی ہیں سلمان نے جی سی سے پری میڈیکل کیا تھا اور پھر آرمی میں چلا گیا تھا۔“

میرا کلیجہ پھٹ رہا تھا۔ میں اس باپ کو یاد کر رہی تھی جس کی زندگی کا محور اس کے بچے ہی تھے اور اب ایک بچے کے بے وقت چلے جانے سے ان کی پوری زندگی ختم ہو چکی تھی۔

سلمان سرور شہید 14 مئی 2013 کو خیبر ایجنسی میں ہو نے والے المیزان آپریشن میں فرنٹ پر لڑ نے والوں میں سے تھے۔ بہادری اور قربانی کی یہ انتہا تھی کہ خود زخموں سے چور تھے مگر اپنے زخمی ساتھیوں کی مدد کرتے رہے۔ وقت رخصت چہرے پر ایک مسکراہٹ اور انگوٹھے کے اشارے سے اپنی ٹھیک حالت کا پتہ بتاتے گئے۔ شہید کا رتبہ پانے والے اس بہادر نوجوان کو جس کی موت قوم کی حیات ہے، کو وطن کی فضائیں سلام پیش کرتی ہیں۔

امتیاز سرور کی شخصیت اور تعارف کروانے کا مقصد یہ تھا کہ ایک باپ جس کی نظر آسمانوں سے بھی اونچی تھی اور جنہوں نے اپنے بیٹے کو اپنی زندگی میں آسمانوں سے اوپر جاتے دیکھا وہ کتنے قابل احترام ہیں۔ وہ ایک ایسے باپ ہیں جن کو اپنے شہید بیٹے پر بے تحاشا فخر تو ہے مگر وہ اپنے دوست اپنے ساتھی، اپنے بیٹے کے لمس کو محسوس نہیں کر سکتے وہ اس سے بات کرنے کو ترستے ہیں۔ وہ خود گم ہو گئے ہیں ان کے اندر صرف سلمان بیٹھا ہے۔ وہ کہتے ہیں ”اب کر نے کو کیا رہ گیا ہے سب کچھ تو گزر گیا ہے۔“ ہر وقت سلمان کی یادوں میں گم رہتے ہیں۔ ان کے فیس بک پیج سے ہی ان کی سلمان کی بہن اور والدہ کی غم میں ڈوبی ہوئیں تصویریں اور ویڈیوز دیکھیں۔ پو را ایک گھر ایک سلمان کے جانے کے بعد سے گمشدہ ہو گیا ہے۔

ایسے میں ہم لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان شہیدوں کی مائیں اپنے بچوں کے خون میں نہائے بدن کیسے دیکھتی ہوں گی اور باپ کیسے اپنے ہنستے کھیلتے پھولوں کے مردہ جسم وصول کرے پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوں گے۔ مگر آفرین ہے ان سب شہیدوں کے لواحقین پر جو اپنی مسکراہٹ، اپنی زندگی، زندگی کے مقاصد، عزائم، خوشیاں سب کھو کر بھی یہی کہتے ہیں کہ ہمیں فخر ہے کہ ہمارے بیٹوں نے وطن کی خاطر جان قربان کر دی۔ پاکستان ان کے لئے ایک جنون ہے۔ ان کے جنون کو سلام۔ ان سب والدین کو سلیوٹ جو کہتے تو یہ ہیں ؛

کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے

مگر یہ کہتے ہوئے بھی ان کے چہرے فخر سے تمتما رہے ہوتے ہیں۔ 6 ستمبر کے اس موقع پر سلمان سرور کے ساتھ ساتھ تمام شہیدوں کو سلام۔ یہ دھرتی ان ہی کی قربانیوں کی بدولت بچی ہوئی ہے مگر ان کی روحیں یہ سوال ضرور کرتی ہیں کہ کیا ہماری قربانیاں رائیگاں ہی جاتی ہیں؟ کیا ہمارے ماں باپ کی گودیں یونہی بس اجڑ جاتی ہیں اور ہمارے گھر ویران ہو جاتے ہیں یا۔ میرے ملک کو ان کا کوئی فائدہ بھی ہوتا ہے؟

ہم خون کی قسطیں تو کئی دے چکے لیکن
اے خاک وطن قرض ادا کیوں نہیں ہو تا

Comments - User is solely responsible for his/her words