تحریک انصاف اور قربانی

لازمی نہیں کہ ”قربانی“ کا مفہوم سمجھنے اور سمجھانے کے لئے ہم عید ِ قرباں کا انتظار کریں جب کہ اس کی مثالیں آج اور ابھی میرے گرد بکھری ہوئی ہیں۔ خیر و شر کا تصادم اور حق و باطل کی جنگ کسی ایک زمانے کی میراث نہیں، یہ ہر دور کا منظر ہے، یہ ہر ملک ہر خطے کی سب سے زیادہ بیسٹ سیلر کہانی ہے۔ سٹیج بدل جاتا ہے، کردار بدل جاتے ہیں مگر خیر و شر کی،

Read more

کینیڈا کا ڈگ فورڈ: امیگریشن فرینڈلی یا ؟

ویسے تو شکسپیئر نے کہا تھا؛ ”سب سے اچھی تقریر آپ کے اعمال ہوتے ہیں“ لیکن اگر آپ کے کاروبار کا سارا دار و مدار ہی الفاظ پر ہو تو اعمال کے ساتھ ساتھ الفاظ کے چنا و ٔ میں بھی احتیاط بر تنی چاہیے۔ اس لئے ایک سیاست دان یا لیڈر یا دانشور جب منہ کھولے تو سو دفعہ تولے اور پھر الفاظ منہ سے نکالے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں الفاظ کی اہمیت بہت زیادہ ہو گئی

Read more

ورلڈ اردو ریسرچ اینڈ پبلیکیشن

حال ہی میں ورلڈ اردو ایسوسی ایشن، نئی دہلی کے چیئرمین پروفیسر خواجہ اکرام الدین اور ان کی ٹیم کی ان تھک محنت اور کوشش سے چار نئے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا افتتاح کیا گیا، جس کے تحت ورلڈ اردو ریسرچ اینڈ پبلی کیشن سنٹر کا قیام، آن لائن اردو لرننگ پروگرام، آن لائن رسالہ ترجیحات اور ای بک پبلی کیشن کا آغاز کیا گیا۔ اردو سے محبت کر نے والوں کے لئے یہ بہت بڑی خوشخبری ہے۔ مجھے جب

Read more

سلمان سرور: ہم آپ کو یاد کرتے ہیں

شہید سلمان سرور۔ لاسٹ نیم سرور دیکھا تو یادوں کے کچھ دریچے کھلے۔ مجھے اور میرے بھائی کو ایک شخص امتیاز سرور کی یاد آ گئی جو غیر محسوس طریقے سے ہماری فیملی کا حصہ بن گئے تھے اور پھر نہ جانے کہاں وقت کی دھند میں غائب ہو گئے تھے۔ تب ہم علامہ اقبال ٹاؤن لاہور میں رہا کرتے تھے اور وہ اس علاقے کے ایس ایچ او ہوا کرتے تھے۔ کسی فلمی ہیرو کی طرح ان کی شہرت،

Read more

آرٹ اور مذہب

آپ اور پاپا 2007 میں بھی سیم ہیومر انجوائے کرتے تھے آپ 2021 میں بھی ان ہی باتوں پر ہنس رہے ہیں۔ آپ کے وہی ٹاک شوز، وہی ڈرامے وہی گھسا پٹا مزاح جو grow نہیں کر رہا۔ آپ کے مزاحیہ شوز کی ابھی تک وہی extreme ہے کہ آدمی عورتوں کا گیٹ اپ کر لیں تو یہ آپ لوگوں کے لئے بہترین مزاح اور مذاق ہے۔ ماما آپ لوگ grow کیوں نہیں کر رہے؟ آپ سب پاکستانی ایک ہی

Read more

جنسی نشہ

میرا، وینا اور منی شنی کی مشتبہ ویڈیو لیکس ہو نے تک ہی بات رہتی مگر ایسا ممکن نہیں تھا کیونکہ جب ایسی بات چل نکلتی ہے تو اس کے راستے تو بہت ہوتے ہیں مگر منزل کوئی نہیں ہوتی ہے۔

پاکستان میں ویڈیو لیکس کا راستہ اہم سرکاری عہدے داروں، ججوں اور صحافیوں کے گھر سے بھی گزرا اور آج کل ویڈیو لیکس کا ہر راستہ مولوی حضرات سے گزر رہا ہے۔ ہر دوسرے دن ایک انتہائی متلی کی کیفیت میں مبتلا کر نے والی کوئی غلیظ سی ویڈیو جگہ جگہ منہ مارتی نظر آتی ہے۔ سوشل میڈیا کو استعمال کر نے والا کوئی ذی روح یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ اب تک اس کا فون اس تیزابی بارش سے پاک رہا ہو۔ نہ دیکھنا یا فوراً ہی ڈیلیٹ کر دینا اپنی اپنی یہ آپشنز بہر حال ہر ایک کے پاس موجود ہیں۔

Read more

کینیڈا: جب زندہ بچنے والا بچہ فائز گھر آئے گا۔۔۔

آج سے 14 سال پہلے جب افضال خاندان نے پاکستان کو چھوڑنے کا سوچا ہو گا تو وہاں موجود کرپشن، منافقت، تعصب، مذہبی شدت پسندی اور بچوں کی جان و مال کی حفاظت کے حوالے سے تنگ آ کر ہی سوچا ہو گا۔ جیسا ہم سب ہجرت کر نے والے سوچتے ہیں۔ کون ہے جو اپنی جڑیں کاٹ کر ہوا میں معلق رہنا چاہتا ہے۔ اس خاندان نے جب کینیڈا کا انتخاب کیا ہو گا تو اس کی وجہ انہی عناصر کی عدم موجودگی کو دیکھ کر کیا ہو گا۔ مگر یہ انتخاب ان کی جان لے گیا۔

لندن اونٹاریو میں مقیم یہ خاندان پاکستان اور اسلام کا خوبصورت چہرہ تو تھے ہی انسانیت کے بھی علم بردار تھے۔ ان میں کسی بھی معاشرے کو پر امن اور خوبصورت بنانے کے تمام گن موجود تھے۔ سلمان افضال ( 46 سال) ۔ فیصل آباد، لاہور اور کراچی کا پڑھا ہوا ایک ڈاکٹر جو یہاں بھی اپنے پیشے سے منسلک تھا، کرکٹ کھیلتا تھا، مسجد جا تا تھا اور اولڈ ہو مز میں جا کر بزرگوں کی خدمت کیا کرتا تھا۔ 44 سالہ مدیحہ سلمان ایک انجینئر جو یہاں ویسٹرن یونیورسٹی میں جیو انوائیرمنٹ انجنیئرنگ میں پی ایچ ڈی کر رہی تھی اور وہ لکھاری اور ادب دوست بھی تھی۔

Read more

فجر کا وقت

2020 میں جب کورونا کی وجہ سے یہ دنیا بدل رہی تھی تو ایک دفعہ تو اسے لگا تھا کہ اب انسان بھی بدل جائے گا۔ ہر طرف بیماری، موت اور موت کا خوف رقص کر رہا تھا۔ گھروں میں بند ہونے کے سرکاری فرمان جاری و ساری تھے۔ فاطمہ بھی خوف زدہ تھی مگر ہمیشہ کی طرح اپنی موت سے زیادہ کسی اپنے کی موت کا خیال اسے ہو لائے دے رہا تھا یا یہ خیال کہ اگر سب

Read more

اردو کانفرس کا احوال اور مہجری ادب کی صورت حال

ہم جس دنیا میں رہتے ہیں، ہم جس انتشار کا شکار ہوتے ہیں، ادب ان سب کو الفاظ دیتا ہے۔ اور الفاظ کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ کوئی وطن۔ اس لئے ادب کے کان میں اذان دینے یا اسے بیپٹائز کر نے کی کوشش ایک بھونڈی حرکت کے سوا کچھ نہیں۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ادب مقصدیت سے خالی ہو۔ مقصدیت کوئی برائی نہیں ہے مگر اس میں ہنرمندی ہونی چاہیے۔ ادب ادب ہی رہنا چاہیے نہ تو اسے اصلاح کے نام پر منبر سے جاری ہو نے والے خطبے میں بدل دینا چاہیے اور نہ ہی آزادی اظہار کے نام پر اسے کسی پھکڑ پن یا فخش نگاری کے ساتھ یک جان کر دینا چاہیے۔ ادب عالیہ کے اپنے تقاضے ہیں ان پر پورا اترنا بہرحال لازم ہے۔

Read more

مجھے نانی اماں کیوں یاد آئیں؟

جو واقعہ میں آپ کو سنانے لگی ہوں، ہو سکتا ہے آپ کو معمولی سا لگے لیکن میرے لئے بہت اہم ہے ، اس لئے نہیں کہ یہ میری اماں کا ہے بلکہ اس لئے کہ اس میں ایک پیاری عورت کی تصویر ہے۔ میں شاید بی کام کے پارٹ ٹو میں تھی، عید الضحیٰ قریب تھی، ہم سب سہیلیوں نے حسب معمول عید پر گھومنے پھرنے کا پلان بنا رکھا تھا مگر میرے عید کے کپڑے کسی وجہ سے ابھی تک نہیں بنے تھے۔ میں امی سے ناراض ہو کر کمرا بند کیے رو رہی تھی کہ اچانک نانی اماں آ گئیں۔

Read more

بھگت سنگھ کون ہے؟

پاکستانی، ہندوستانی، بنگالی نوجوانوں کے لئے انقلابی سوچ کی وہ کہانی جس کو انہیں ایک بار ضرور پڑھنا چاہیے۔ تاکہ وہ اپنے بچوں کو بتا سکیں کہ بھگت سنگھ کیسے پیدا ہو تا ہے اور وہ کون ہو تا ہے؟

بھگت سنگھ بننے کا پہلا قطرہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

19 سال کے کرتار سنگھ سرابھا نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان میں کہا اس کی پارٹی انگریز حکومت کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دینا چاہتی ہے کیونکہ یہ سرکار تشدد اور نا انصافی پر قائم ہے۔ اسے عدالت میں بیان بدلنے کا مشورہ دیا گیا اس نہ صرف انکار کیا بلکہ لندن میں پھانسی پانے والے مدن لال دھینگڑا کا بیان دہرایا؛

”جو ملک غیر ملکی سنگنیوں کی نوک سے دبا ہوا ہے، وہ ہمیشہ جنگ کی حالت میں ہو تا ہے“ ۔ اسے 16 نومبر 1915 کو پھانسی دے دی گئی۔

Read more

6 ستمبر: بے وفائی کی داستان

حسن عباس نے اپنی کتاب Pakistan’s Drift Into Extremism میں جنرل اختر حسین ملک کا اپنے چھوٹے بھائی لیفٹینٹ جنرل عبد العلی کے نام یہ، خط جس پر 23 نومبر  1967 کی تاریخ درج ہے، شامل کیا ہے۔ یہ خط انہوں نے ا نقرہ (ترکی) سے لکھا تھاجہاں انہیں 1965 کے بعد سفیر بنا کر بھیج دیا گیا تھا۔ یہ خط اس سے پہلے کہیں پبلش نہیں ہوا ٭٭٭            ٭٭٭ میرے پیارے بھائی؛ امید ہے

Read more

انصر چوہدری کا مذہب اور سابقہ خاندان

مختلف عمروں کے چند بچے، بھاگ کر آئے اور اس کی ٹانگوں سے لپٹ گئے۔ اس نے اپنے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے لفافے ایک ایک بچے کا نام لے کر اسے تھمانے شروع کیے ۔ یہ اس کا خاندان تھا۔ اور یہ اس کا گاؤں تھا۔ مگر وہ یہاں نہ پیدا ہو ا تھا اور نہ یہ بچے اس کے کچھ لگتے تھے۔ وہ کون تھا؟ اس کی پہچان گم گئی تھی یا یہی اس کی پہچان تھی۔ یہ بچے۔

Read more

اردو ادب اور کینیڈا میں اردو افسانہ

ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے چئیر مین اور اردو ورلڈ ایسوسی ایشن کے روح رواں اور گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی کے اردو ڈیپارٹمنٹ کے چئیرمین ڈاکٹر افضال بٹ نے کرونا کے ان گھٹن زدہ دنوں میں ایک بین الاقومی اردکانفرس کا انعقاد کروایا۔ دو روزہ اس کانفرس میں سیکھنے کو بہت کچھ ملا اور جس خوبصورتی سے نظامت اور باقی معاملات نبٹائے گئے، وہ قابل ستائش ہے۔ مختلف مملک سے انتہائی قابل فاضل

Read more

ینگو ورما: زندگی رکے گی نہیں

جب سے ہماری جنریشن کے لوگوں نے سالگرہ منانی شروع کی ہے تب سے ہی میرے چاہنے نہ چاہنے کے باوجودمیری سالگرہ آبھی جاتی ہے اور ہو بھی جاتی ہے۔ اور پتہ نہیں ایسا کیا ہے کہ ہوتی بھی خوب دھوم دھام سے اور پیار خلوص سے ہے اور مجھے حیرت ہو تی ہے کہ ہر سال کسی نہ کسی کو مجھ پر پیار آیا ہی ہو تا ہے۔ ایموجیز کا رواج ان پیج میں نہیں ہے ورنہ پچھلے جملے

Read more

ایک گھریلو سا خراج عقیدت اور ایک گھریلو سی نصیحت

لائلپور سے ایک بزرگ ریٹائرڈ سکول ٹیچر حلیمہ صاحبہ کی ای میل آئی کہ ”آپ سماجی اور خاندانی رویوں پر زیادہ بات کیا کریں کہ آپ جیسی، انسان پرست اور وسیع سوچ کی ہمارے معاشرے کو ضرورت ہے، اور معاشرے کی بنیاد تب ہی اچھی پڑے گی جب اچھے خاندان بنیں گے۔ ۔ ۔“

میں کچھ اور لکھ رہی تھی، ان کا حکم سر آنکھوں پر رکھا (ایک ان کی بزرگی، دوسرا میری جنم بھومی کا حوالہ اور ”کچھ اور“ کے ساتھ وہ سب بھی لکھنے کی کوشش کی جن کی ان خاتون نے فرمائش کی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پہلے ”کچھ اور“ پڑھ لیں!

Read more

یہ عمران خان کا ساتھ دینے کا وقت ہے

لارڈز لندن ہے۔ ۔ ۔ اس اگست 2020 میں اس بات کو پورے دس سال ہو جائیں گے، ہو سکے تو اس بدنامی کی سالگرہ منالیں اور اس وقت کے صدر پاکستان آصف زرداری کے وژن کے مطابق، ”مل کے کھاؤ اور مٹی پاؤ“ پالیسی پر قائم رہنے کا تجدید عہد بھی کر لیں۔ جب، ”نیوز آف دی ورلڈ“ کے انڈر کور رپورٹر نے بکی مظہر مجید کو میچ فکسنگ کرتے ہوئے ویڈیو ٹیپ کر لیا تھا، اس میچ فکسنگ

Read more

جذباتی ذہانت کہ سادہ ذہانت؟

”مکالمہ“ کی ویب سائٹ پر کامران طفیل صاحب کی تحریر ”جذباتی ذہانت“ پڑھی۔ جذباتی ذہانت پر لکھتے لکھتے، کامران صاحب کو ایک نہیں دو کالمز لکھنے پڑے کیوں کہ قارئین نے جذباتی ذہانت کو سادہ ذہانت سے مکس کر دیا تھا۔ جیسے آج کل موت کی خبرکے بعد پہلاسوال ہو تا ہے کرونا سے یا سادہ؟ سادہ ذہانت کوناپنے کا معیار ”آئی کیو ٹسٹ“ ہو تا ہے جب کہ جذباتی ذہانت کا ”ای کیو ٹسٹ“ ہو تا ہے یہ آئی

Read more

کیا کینیڈا میں بھی پولیس متعصب ہے؟

اعجاز چوہدری، چار بچوں کا باپ، جس کی عمر 62 سال تھی اور وہ شیز وفینا کا مریض تھا۔ ایک تعارف یہ ہے اور ایک تعارف یہ بھی ہے ایک مہاجر، ایک دماغی مریض اور ایک براؤن۔ اور ایک مسلمان۔ ۔ ۔ یہ دو طریقے ہیں اس انسان کے تعارف کے جو، اب اس دنیا میں نہیں رہا ہے۔ اس کو پولیس نے ہفتے کی رات آٹھ بجے گولیوں سے بھون دیا جب اگلے دن اس کے بچوں کو اپنے

Read more

مغفرت کی دعا اور غیر مسلم

سک کڈ ٹورنٹو میں ایک چودہ پندرہ سال کا بچہ کینسر جیسے موذی مرض کے ہاتھوں مر رہا تھا۔ بچے سے اس کی آخری خواہش پوچھی گئی۔ بچے نے کہا؛ میں فٹ بال کا ورلڈ کپ دیکھنا چاہتا ہوں۔ نا صرف بچے کو بالکل اس کے پو رے خاندان کو جہاز اور میچ دونوں کی ٹکٹیں فراہم کی گئیں۔ بچہ میچ دیکھ آیا اور پھر کچھ عرصے بعد اس جہاں کو، اپنے روتے ماں باپ کو اور اپنے بہن بھائیوں کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر چلا گیا۔ ماں باپ، افسوس کے لئے آنے والوں کو کہتے ہمارا بچہ تو معصوم تھا، اس کے لئے سورہ فاتحہ اور دعائے مغفرت کے ساتھ ساتھ کیا آپ ان ڈاکٹرز، ان نرسوں اور اس ہسپتال کی انتظامیہ کے لئے دعا کر سکتے ہیں (پوچھنے پر بھی انہیں یاد نہیں آیا نہ انہیں پتہ تھا کہ ان سب مسیحاؤں کے مذہب کیا کیا تھے ) کہ مرنے کے بعد وہ جنت میں جائیں کہ انہوں نے ہمارے مرتے ہوئے بچے کے لئے ہسپتال کو جنت بنائے رکھا؟

Read more

شیخوہ پورہ والی خالہ اور گھرانے میں کورونا کی چہل پہل

عید کے تیسرے دن میری ایک آنٹی جی، شیخوہ پورہ میں فوت ہو گئیں۔ شوگر کی مریضہ تھیں اور اسی سلسلے میں دو سال پہلے ڈاکٹرز نے ان کی ایک ٹانگ بھی کاٹ دی تھی کہ جو عضو، جسم پر بوجھ بن جائے اس کا الگ کرنا ہی بہترین ہوتا ہے۔ ان کا زندگی کی طرف مثبت رویے کا یہ عالم تھا کہ ان کے چہرے پر مشکل سے مشکل گھڑی میں بھی مسکراہٹ رہتی تھی اور توکل کا تو

Read more

کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا

مجھے کہہ دیا جاتا ہے کہ میں مذہب کے معاملے میں نہ بولوں کیونکہ یہ بڑا حساس معاملہ ہے اور لوگوں کی دل آزاری ہو سکتی ہے اور جب کسی کی دل آزاری ہو تو وہ رد عمل کے طور پر کچھ بھی کر سکتا ہے۔ بات تو بالکل سچ ہے، کسی کی دل آزاری نہ ہو اور کسی کی حساسیت کو ٹھیس نہ پہنچے میں کسی بھی مذہبی معاملے میں بولنے سے پہلے سو دفعہ سوچتی ہوں اور اب تو اتنا سوچتی ہوں کہ بس سوچتی ہی رہ جاتی ہوں اور کچھ بولتی نہیں۔ لیکن جب مجھے یہ احساس ہوا کہ میرا مذہب تو مجھ پر ایسی کوئی پابندی نہیں لگا رہا، وہ تو مجھے سوچنے، سوال کرنے، رائے قائم کرنے اور پھر اس پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے یہ مجھ پر پابندی تو میرے ارد گرد کے لوگ لگاتے ہیں۔

Read more

کتاب دوستی اور زندگی کے رنگ

یونیسکو نے 23 اپریل کوجو ولئیم شیکسپئیراور ولئیم ورڈزورتھ کا یوم وفات بھی ہے، 1995 میں کتاب کے عالمی دن کے نام سے مخصوص کر دیا تھا۔ اور اب پاکستان میں بھی اس تاریخ کو عالمی کتاب کے دن کے طور پر منایا جا تا ہے۔ میں اس دن کو مناتے ہو ئےاپنی کچھ بچپن کی یادیں شئیر کرنا چاہوں گی۔ مجھے لگتا ہے کتاب سے محبت، انسان کے خون میں باقی محبتوں کی طرح شامل کر کے ہی بھیجی

Read more

سائیں بابا سرقی والے

سرقی، سرقہ کی مونث اور سری سے ہم وزن کر کے لکھا ہے یہ نہیں کہ ہمیں ”سری“ یا ”سر۔ کی“ لکھنا نہیں آتا۔ اور یہ بھی نہیں کہ ہمیں پتہ نہیں کہ سرقہ میں ”ی“ نہیں آتی اور اب یہ بھی نہیں کہ آپ ”یا سر“ میں موجود سپیس کو نہ پڑھ پائیں اور اسے ”یاسر“ پڑھ لیں۔ ویسے اگر آپ ایسا پڑھ لیں گے تو بالکل ٹھیک پڑھیں گے لیکن تھوڑا جلدی ہو جائے گا کیونکہ یاسر ابھی

Read more

کرونا کے دنوں میں کرنے کے کام

بالکل ٹھیک ہے۔ جی بھر کر دعائیں کریں۔ نہ ماننے والوں کا یہی اصرار تھا نا کہ تو نظر نہیں آتا، اب تو خدا نظر آرہا ہے، ذرے ذرے میں تو اس تشویش کی وجہ سے جتنے بھی سجدے جبینوں میں تڑپ رہے تھے، سب کر دیں۔ خدا کے ننانوے ناموں میں ”قہا ر“ فقط ایک ہی نام ہے، مگر قہر کی ایک جھلک ہی کافی ہے اور وہ بھی ایک ذرے کے ذریعے۔ اس کے قہر سے پناہ مانگ

Read more

وبا کے دنوں میں پڑھی گئی ایک کہانی

وہ پورے ایک دن کا خواب تھا۔ وہ، خواب جیسا شخص بالکل اس کے سامنے کھڑا تھا، اپنے پو رے قد اور چمکتے چہرے کے ساتھ، اس کی شخصیت پر متانت کی بڑی واضح چھاپ تھی۔ ”تو یہ ہے وہ؟ “ مینا نے خود سے سوال کیا۔ ہاں، وہی تو ہے۔ مینا، جس کی تلاش میں، شاید اپنی پیدائش سے ہی بھٹکتی پھرتی تھی۔ اور ابھی بھی اس کو ملنے کئی کوس اور برسوں کا سفر طے کر کے آئی

Read more

کرونا کے مریض کی خصوصی اجازت

کرونا کا وہ مریض جانتا تھا کہ وہ اپنے بیوی بچوں کو نہ چھو سکتا ہے نہ قریب سے دیکھ سکتا ہے، پھر بھی وہ انہیں آخری دفعہ دور سے ہی سہی مگر دیکھنا چاہتا تھا۔ اسے احساس تھا کہ وہ اس دنیا میں اب کچھ ہی گھنٹوں کا مہمان ہے۔

بیس سال پہلے جب وہ دنیا کے اس ترقی یافتہ ملک میں آیا تھا تو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایک پسماندہ ملک سے ترقی یافتہ ملک میں ہجرت کرنے کے باوجود اس کی موت اتنی ہی لاوارث اور بے یارومددگار ہو گی جتنی کے اس کے اپنے ملک میں ہو سکتی تھی۔ برسوں کا یہ سفر اور ترقی کا یہ راستہ کتنا بے معنی تھا۔ جس دنیا کو ٹیکنالوجی نے جوڑ کر ایک گاؤں بنا دیا تھا، اسی دنیا کو ایک ننھے سے جرثومے نے پھر سے بکھری ہو ئی دنیا بنا ڈالا تھا۔ دلوں کے فاصلے، جسمانی فاصلوں میں بدل چکے تھے۔

Read more

موقع اچھا ہے

موقع اچھا ہے۔ کائنات بیدارہو کے انگڑائی لے رہی ہے کالے آسمان پر ایک روشن لکیر ہے بہت ہلکی ہے، بہت باریک ہے، مگر ہے ہاتھوں کو ڈس انفیکٹ کر نے کو کہا جا رہا ہے موقع اچھا ہے دلوں کو بھی ساتھ ہی ڈس انفیکٹ کر لو بغض، حسد، نفرت اور منافقت کو دھو ڈالو سچ میں موقع اچھا ہے کیا ہو ا جو ہاتھ نہیں ملا پارہے اور صرف دھو رہے ہو یاد کرو وہ وقت جب ہاتھ

Read more

خود کو بدلو ورنہ کرونا تو وہی کرے گا، جو وہ کر رہا ہے

مجھے مکمل سچائی کا کوئی دعوی تو نہیں مگر دو تین سال سے کم کم اور گذشتہ چند مہینوں سے طبعیت میں کچھ اس قسم کی دنیا اور لوگوں سے بیزاری پیدا ہوتی جا رہی تھی کہ یہ سوال صبح و شام دل میں اٹھنے لگ گیا تھا کہ آخر یہ دنیا اب تک کیوں اور کیسے قائم ہے۔ ہر دن ایک نئے دھوکے، جھوٹ، منافقت اور دوغلے پن کا دریا سامنے نظر آتا اسے پار کیا جاتا ہے تو

Read more

ڈاکٹر ڈینس آئزک: اپنوں جیسی بات کرنے والا خاموش کیوں ہوا؟

کوئی بھی اپنوں جیسی بات اب کرتا نہیں ہے سو اپنے آپ سے ہم گفتگو کرنے لگے ہیں سچا شاعر ایک ولی ہو تا ہے اس کا یقین مجھے کچھ دن پہلے ڈاکٹر ڈینس آئزک سے مل کر اور پھر گھر آکران کا یہ شعر (میری کسی پرانی ڈائری میں لکھاہوا تھا) پڑھ کر ہو گیا۔ میں دعوی نہیں کرتی کہ میں ڈاکٹر ڈینس آئزک کو بہت اچھی طرح سے جانتی ہوں لیکن میں یہ دعوی ضرور کرسکتی ہوں کہ

Read more

جیسا بیج ویسا پھل

درخت کاٹ کر کاغذ بنا کر جب اس پر لکھا جاتا ہے کہ درختوں کی حفاظت کریں تو کیسا لگتا ہے؟ بالکل ویسا ہی نا جیسے بچوں کو مادیت پرستی، جھوٹ، بغض، مقابلے بازی اور کینہ سکھا کر معاشرے سے بھلائی کی امید رکھی جاتی ہے۔ نہ میں ماہر نفسیات ہوں نہ کوئی استاد مگر ایک ماں اور ایک بینا انسان ہوں اور اسی ناتے سے جو نظر آرہا ہے اسے کہہ دینا ضروری ہے۔ ایک صاحب نے کہا اور

Read more

کچھ رہ جانے والی باتیں

وقت کی تنگی نہیں تھی کہ میں جو کہنا چاہتی تھی کہہ نہ پائی یا ٹھیک سے کہہ نہ پائی مگر حالات ضرور تنگ ہو گئے تھے۔ یہ قصہ ہے میری کتاب ”گمشدہ سائے“ کی تقریب ِ رونمائی کا۔ رونمائی ڈاکٹر خالد سہیل کر رہے تھے اور کتاب جس کا گھونگٹ اٹھا یا جا رہا تھا وہ میری تھی، دو باغیوں کا معاملہ ہو تو بات رسم و رواج سے آگے نکل جاتی ہے۔ اس ادبی محفل کا مزاج بھی

Read more

ایک تھے دو شیر

یہ کہانی پہلے ایک شیر کی ہے اور پھر ایک اور شیر کی ہے اور پھر پرجا کی ہے اور پھر شیروں کی بدلتی جون کی ہے پھر اس کہانی کے آخر میں ایک سوال اٹھے گا کہ کیا شیر بھی لومڑی ہو تا ہے، جو مصالحت، مفاہمت اور عیاری کی ڈگر پر چلتی اور زمانہ شناس کہلائی جاتی ہے۔ یا جس کو شیر کہا جا رہا ہو تا ہے وہ اصل میں لومڑ بھی نہیں بلکہ گیدڑ ہو تا

Read more

طرح طرح کے لوگ

حاسد لوگ جنہیں ہر وہ چیز بالکل نظر نہیں آتی جو ان کے پاس ہے اور ہر وہ چیز بڑی ہو کے نظر آتی ہے جو ان کے پاس نہیں ہے۔ اپنی کامیابی پر سب کو خوش ہوتا اور اسے پو رے ذوق و شوق سے سیلیبریٹ کرتے دیکھنا چاہتے ہیں لیکن کسی کی کامیابی پر انہیں کوئی پرانا غصہ، کوئی پرانی گستاخی اور اگر کچھ ایسا نہ بھی یاد آئے تو کوئی ضروری کام یاد آجاتا ہے۔ وہ خوش

Read more

جوتا مارو سالوں کو

یہ میرے الفاظ نہیں ہیں یہ وہ نعرے ہیں جو ایک علم کی طالبہ جامعیہ ملیہ اسلامیہ کے باہر اپنے ساتھی طالبعلموں کو پولیس کے ہاتھوں پٹتے، خون میں لت پت ہو تے دیکھ کر لگا رہی تھی، پورا نعرہ پڑھئیے ؛ بی جے پی کے دلالوں کو جوتا مارو سالوں کو اور وہ صرف یہ نعرہ نہیں لگا رہی تھی بلکہ جنہیں وہ دلال کہہ رہی تھی یعنی دہلی پو لیس، ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کسی

Read more

یک طرفہ محبت

یک طرفہ محبت اوربھیک میں کچھ فرق نہیں ہے بھی تو کم از کم مجھے نظر نہیں آتا۔ پاکستانی ڈراموں میں حلالہ اور زنائے محرم( انسسٹ) کے بعد جو سب سے زیادہ چیز دکھائی جاتی ہے وہ ہے یک طرفہ محبت۔ اور زیادہ تر یہ ذمہ داری صنف ِ نازک کے کندھوں پر ڈالی جاتی ہے شاید یہی سوچ کر کہ وہ اعصابی طور پر مردوں سے کہیں زیادہ مضبوط ہو تی ہیں۔ ہر دوسرے پاکستانی ڈرامے میں لڑکا کسی

Read more

قوال پارٹی

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک پسماندہ سے گاؤں میں ایک تھی قوال پارٹی، جس میں ایک بڑا قوال (جو اصل میں دو تھے مگر بڑے افہام و تفہیم کے ساتھ ایک دوسرے کی جگہ لے لیا کرتے تھے ) اور ان کے ساتھ سازندے، سنگتی، بھانڈ اور مختلف سازہوا کرتے تھے۔ اس پارٹی میں ایک بڑا خوش شکل سازندہ یا سنگتی یا ڈوم ایسا بھی تھا جو بڑے قوال کے پیچھے باقی سب سنگتیوں کی طرح تالیاں بجایا

Read more

کینڈا میں کرتار پو ر کا معجزہ

کئی دفعہ بڑے بڑے سوالوں کا جواب نہ کسی علم میں نہ کسی دانش میں نہ دانشوروں کے ہاں اور نہ کتابوں میں ملتا ہے، وہ غیر متوقع طور پر کسی چھوٹی سی جگہ سے مل جاتا ہے۔ میرے ساتھ یہی ہوا، کرتار پور راہداری کے کھلنے کے معاملے کو لے کر میں بھی اوروں کی طرح کبھی بدگمانی کبھی خوش گمانی کا شکار ہو رہی تھی۔ رین بو کے سات رنگوں کی طرح دل کے رنگ بھی سات ہی

Read more

سارا شگفتہ کی زندہ لاش کا مقدمہ، مردہ روحوں کی عدالت میں

اکتوبر 13 1954 کو پیدا، اور 4 جون 1984 کو ٹرین کے نیچے آکر مر جانے والی سارہ شگفتہ جو زندگی کی صرف انتیس بہاریں ہی دیکھ پائی تھی۔ اس سے میری ملاقات لگ بھگ 2005 میں اس کی کتاب ”آ نکھیں“ میں ہوئی، جو میرے ایک دوست نے مجھے نثری شاعری کی طرف راغب دیکھ کر کچھ اور کتابوں کے ساتھ یہ بھی ریکمنڈ کی تھی۔ اس سے پہلے میں ذیشان ساحل کی شاعری میں چھپے اسرار میں الجھی

Read more

نتھو رام کا بھارت

جب گلاب سنگھ نے عہد نامہ امرتسر کے تحت 16 مارچ 1846 کو انگریزوں سے کشمیر خریدا تو ریاست کا کل رقبہ 84,471 مر بع میل تھا یعنی مہاراجہ کو زمین 155 روپے فی مربع میل اور ایک انسان سات یا سوا سات روپے فی کس میں پڑا۔ زمین کی ملکیت، خرید و فروخت سے ممکن ہے مگر انسان کی ملکیت کا تعلق صرف مالکانہ حقوق سے نہیں ہو تا۔ ایک انسان دوسرے انسان کی ملکیت نہ تو کسی دستخط

Read more

منٹو کا الو کا پٹھا

سعادت حسن منٹو کی کہانی الو کا پٹھا  جس میں مرکزی کردار قاسم کے دل میں صبح اٹھتے ہی کسی کو الو کا پٹھا کہنے کی شدید خواہش ابھرتی ہے اور وہ اس خواہش کو دبانے اور اپنا دھیان بٹانے میں اس وقت تک مصروف رہتا ہے، جب تک ایک خاتون جس کی ساڑھی کا پلو سائیکل کی چین میں پھنس جاتا ہے، قاسم اس کی مدد کرتا ہے اور نتیجے میں وہ اسے الو کا پٹھا کہہ نہیں دیتی۔

Read more

عمران کی صرف جان ہی کو خطرہ نہیں ہے۔۔۔۔

انسان کی زندگی کا سب سے بڑا کرب پتہ ہے کیا ہے؟ پہلے آپ سوچیں۔ اپنے جواب نوٹ کر کے رکھیں۔ کالم کے آخر میں جواب مجھ سے میچ کریں۔ پچھلے کالم میں لکھا تھا نا کہ صرف جذبات۔ جب جب وزیر اعظم کے ساتھ عمران خان کا نام دیکھتے ہیں تو دل کے اندر سے ایک خوشی کی لہر اٹھتی ہے۔ یہ تو عالم ہے ان لوگوں کا جو خان صاحب سے محبت رکھتے ہیں، دوسری طرف ایک اور

Read more

ٹورانٹو میں عمران خان کی تقریر کیسے سنی گئی؟

بات سادی اور سچی ہو تو اثر رکھتی ہے۔ بات ہو یا انسان دونوں اگر بناوٹ میں ڈوبے ہوں تو کوفت ہو تی ہے اور صحیح مقام یعنی کہ دوسرے کا دل، تک نہیں پہنچ پاتے۔ عمران خان کی جیت کی تقریر نے دل میں آئے سب مستقبل کے وہموں کو اورماضی کے بھوتوں کو ایک دم سے پیچھے دھکیل دیا تھا۔ انسان جذبات کے ہاتھوں سب سے بڑا خسارہ اٹھاتا ہے مگر کیا کیجئے جذبات کے نہ ہو نے

Read more

آفس میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہنسنے رونے والی لڑکی

سعدیہ اور ماجدہ، نہ صرف قد کاٹھ بلکہ مزاج میں بھی فرق تھیں لیکن پھر بھی ان دونوں کی جوڑی بہت مضبوط تھی۔ شاید میڈم کے ظلم و ستم کی وجہ سے وہ دونوں ہی کیا، ہم سب مختلف مزاج، عادتیں، حتی کہ مختلف جینڈر کے ہو نے کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ دلوں سے جڑ چکے تھے۔ لڑکا لڑکی تک کا فرق ختم تھا۔ کیونکہ لڑکوں کا استحصال بھی اس برانچ میں لڑکیوں ہی کی طرح ہو رہا

Read more

اف ! یہ محبت کرنے والے

رہنما کو عوام کا خیال رکھنا ہی پڑے گا۔ کیا عمران خان لوگوں کی محبت اور ان کے اندھے اعتبار کے بغیر جیت سکتا تھا؟ کبھی بھی نہیں۔ نواز شریف ہو یا عمران خان، بلاول ہو یا الطاف بھائی۔ میں ان کے چاہنے والوں کی ان کی غلطیوں کا دفاع کر نے کی فولادی صلاحیت کو سلام کرتی ہوں۔ یہ الیکشن چونکہ عمران خان کی جیت کا الیکشن ہے اس لئے، بات اس کی ہی زیادہ ہو گی۔ اسٹیبلشمنٹ کا

Read more

بیس سال بعد

سنئیر لوگ یا جو پاکستا ن کی تاریخ پر 1947 سے غیر جانبدارانہ نظر رکھے ہو ئے ہیں وہ سمجھ گئے تھے کہ میں نے ملٹری، مولوی، میڈیا اور سول سروس کا جو رونا پچھلے خط میں رویا تو غلط نہیں تھا۔ انہوں نے کہا جو آج ہو رہا ہے بیس سال بعد ان لوگوں کو ان دس صفحات کی سمجھ آئے گی۔ میں نے کہا المیہ یہی تو ہے بیس سال بعد پرانی نسل، جن پر آج بیت رہا

Read more

تھائی لینڈ کے غار اور پاکستانی دلدل میں پھنسے بچے

6 جولائی کی صبح اٹھی تو وٹس ایپ پر کوئی لگ بھگ 500 نو ٹیفکیشنز تھے۔ یہ میسجز اتنے کیوں؟ غور سے دیکھا تو پتہ چلا کہ : شریف، کرپٹ خاندان کو سزا ہو گئی ہے۔ مجھے دو نمبر کے لوگوں سے ویسے ہی کوئی دلچسپی نہیں رہتی اور پاکستان کی سیاست میں عمران خان کے علاوہ کوئی چہرہ ایسا نظر نہیں آتا کہ جو تنقید کے بھی قابل ہو۔ کیونکہ پھرقوم کو دھوکہ دینے اور وعدوں سے مکر جانے

Read more

آفس آفس کی کہانی ۔ سرخیاں لگانے والی

ہماری برانچ میں ایک اور لڑکا صفوان(فرضی نام ) تھا، سفید انڈے جیسا، گورنمٹ کالج سے ایم اکنامکس کیا ہوا تھا، مگر وہ مقابلے کے امتحان سے نہیں بلکہ کیش آفیسر کے طور پر ڈائریکٹ بھرتی ہوا تھا۔ کسی با اثرگھرانے کا تھا۔ وہ ہمیں پہلے پہل کلاس کانشئیس لگا کیونکہ وہ ہم سے ذیادہ مکس اپ نہیں ہو تا تھا۔ اس پر بھی شروع شروع میں ہمیں میڈم کا جاسوس ہونے کا شک ہو تا تھا، کیونکہ نامعلوم ذرائع

Read more

آمرانہ مزاج کی خاتون باس اور میں

ای میل تھی کہ ایک دن نوائے وقت میں آپ کے کالم پر اتفاقاً نظر پڑی اور ہم نے اسے بہت دلچسپ پایا تب سے ہم نے باقاعدگی سے بدھ والے دن اخبار لینا شروع کر دیا ہے اور اب ہو تا یہ ہے کہ ایک کولیگ باآواز بلند آپ کا کالم پڑھتا ہے اور ہم سب اس کے گرد اکھٹے ہو کر سنتے ہیں۔ واپڈا کے کسی ایمپلائی کی اس ای میل میں اور بھی بہت کچھ تھا مگر

Read more

شکست ایک تحفہ

”میری وفا اسوقت تک ہے، جب تک میری ضرورت ( کسی بھی قسم کی ) تم سے بندھی ہے، ضرورت کے بدلتے ہی میری وفا بھی بدل جائے گی۔ “ یہ میں نہیں کہہ رہی یہ ایک ایسا رویہ ہے جو انسانوں میں اس قدر پھیل گیا ہے کہ یو ں لگتا ہے کہ محبت تو دور کی بات، انسانیت کا ہی جنازہ اٹھ چکا ہے۔ اتنی ڈھٹائی سے لوگ چہرہ بدلتے ہیں کہ میں سوچتی ہوں کہ ایسے رویوں

Read more

پاکستان کی سیاست میں عورت کا کردار

پاکستان کی سیاست میں عورت کا کردار بہت ہی زیادہ اہم رہا ہے، نہیں یقین آتا؟ 12 عورتیں یحیی خان کے زمانے میں ملک چلا چکی ہیں جن میں اقلیم اختر عرف جنرل رانی جو کہ ایک تھانیدار کی بیوی تھی، مگر جنرل کی منظورِ نظر ٹھہرنے کے بعد پاکستان کے سیاہ سفید کی مالک بن گئی تھی۔ اداکارہ ترانہ صدارتی محل سے نکلنے کے بعد قومی ترانہ قرار پائی۔ دلشاد بیگم ( انڈین اداکار فیروز خان اور سنجے خان

Read more

عمران خان سے پہلی ملاقات

  قارئین نے پہلی ملاقات کوشوق سے پڑھا، اور دوسری کا شدت سے انتظار کیا۔ میں بھی دس سال پہلے ہو نے والی اس ملاقات کو قلم بند کر نے کے لئے انتظار کر رہی تھی، اور ویسے بھی ہر چیز کہنے اور لکھنے کا ایک صحیح وقت ہو تا ہے۔ اس ملاقات سے پہلے اور بعد میں بھی عمران خان پر اچھا، برا، بہت کچھ لکھا۔ عمران خان سے ایک دلی لگاؤ اپنی جگہ لیکن ان کے غلط فیصلوں،

Read more

میری امی۔ میری سپر ہیرو

کائنات کی سب ماؤں کی کہانی ایک سی ہو تی ہے۔ محبت، مہربانی اور قربانی کی کہانی۔ جس کہانی میں یہ سب نہ ہو، وہ عورت تو ہو سکتی ہے، بچہ پیدا کرنے والی مشین بھی ہو سکتی ہے، مگر ماں نہیں، دوسری طرف وہ عورت جو کسی طبی مجبوری کی وجہ سے بچہ پیدا کر نے کی اہل نہ ہو مگر یہ سب محبت، قربانی اور مہربانی کر نے کی اہلیت رکھتی ہو، وہ بچہ نہ جننے کے باوجود

Read more

ایک خوش قسمت بیوی اور وفاشعار شوہر کی کہانی

انسان کی ذات کی ڈارک سائڈز میں الجھے رہیں تو یہ زمین رات کی طرح سیاہ ہی رہے، کبھی اس پر سورج نہ اترے۔ مگر جس رب نے رات کی تاریکی بنائی ہے اور انسان کی ذات میں اندھیرا رکھا ہے، اسی رب نے انہی انسانوں میں، اندھیری راتوں میں ٹمٹمانے والے جگنو بھی رکھے ہیں۔ انسان کو مایوس کن حالات کا سامنا کر نا پڑے تو اس کی جبلت میں دو رد عمل رکھ دیے گئے ہیں :فلائیٹ یا

Read more

ایک ریڈیالوجسٹ دوست کے لئے!

سائکو پاتھ کی پہچان پر، اور انہیں پہچان کر اپنا دامن بچانے پر ایک کالم لکھا تھا ”حسن ترا بکھر نہ جائے کہیں“ کے نام سے۔ کوئی اور کہے تو کہے جب ایک ریڈیالوجسٹ آپ کو یہ کہے کے کہ آپ کی تحریروں میں منفیت ہے تو انسان ایک دفعہ چونکتا ضرور ہے۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ میں نے سوچنا شروع کیا۔ جب سے میں نے خود کی پہچان ڈھونڈنی شروع کی ہے تب سے میں کسی بھی چھوٹی

Read more

”می ٹو“ ہمارے لئے تو روز کا کرب ہے

”تم کہاں کی شریف زادی ہو، جو تمھاری کوئی عزت ہو گی، کس کے جانے کا شور کر رہی ہو بی بی۔ ؟ “ ”تم جیسیوں کے ساتھ ایسے ہی ہو نا چاہیے“۔ ”شرافت کا اتنا ہی شوق ہے تو بی بی گھر بیٹھو۔ “ یہ یو ٹیوب پر دیے جانے والے سب سے شریف کمنٹس ہیں۔ باقی جو کچھ میشا شفیع کو کہا جا رہا ہے، اسے لکھنے کے لئے مجھ جیسے بے دھڑک رائٹر کو بھی اس سے

Read more