اردو زبان کو ذریعہ تعلیم بنایا جائے

اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق بارہ سال سے پہلے بچے کو غیر ملکی زبان میں تعلیم دینا بچے کی بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے تقریباً 193 ممالک اپنے بچوں کو اپنی قومی زبان میں تعلیم دیتے ہیں۔ بدیں وجہ وہاں کی شرح خواندگی میں اضافے کے ساتھ سائنس و ٹیکنالوجی کی دنیا میں خاطر خواہ اضافہ ہے۔ مگر ہم نے اردو زبان کا دامن تنگ کر کے انگریزی زبان کو ترجیح دی ہے۔

تعلیمی اداروں میں انگریزی زبان کے لازمی جبر سے لاکھوں نونہال ابتدائی سطح پر ہی تعلیم کو خیرباد کہہ گئے ہیں۔ جس سے ہماری شرح خواندگی زوال پذیر ہے۔ گزشتہ برس وفاقی وزارت تعلیم نے 9 ممالک کی شرح خواندگی کی ایک رپورٹ شائع کی۔ رپورٹ کے مطابق مالدیپ تعلیمی میدان میں 99 فیصد شرح خواندگی کے ساتھ سرفہرست رہی جبکہ پاکستان محض 57 فیصد کے ساتھ آٹھویں نمبر پر رہی۔ پاکستان میں تعلیمی اور سائنسی پسماندگی کی بنیادی وجہ انگریزی زبان کا غیر قانونی تسلط اور قومی زبان سے بے رخی ہے۔

اردو کے ناقدین و مخالفین اور کچھ لنڈے کے ارسطو بضد ہیں ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں سائنس نے بے پناہ ترقی کی ہے۔ سائنسی اصطلاحات کا اردو ترجمہ بہت پیچیدہ مسئلہ ہے تو جناب! دنیا بھر میں علوم کے فروغ کے لیے ترجمے کا سہارا لیا جاتا ہے۔ خود انگریزوں نے مسلم سائنس دانوں کی کتابوں کا ترجمہ کر کے علم کے سمندر کو انگریزی میں منتقل کر دیا۔ اسی طرح پاکستان میں 1962 ء کو ایک اردو سائنس بورڈ بنایا گیا تھا۔ جس میں سائنسی اصطلاحات کا اردو میں ترجمہ کیا جاتا تھا اور اگر سائنسی لفظ کا اردو میں ترجمہ نہ ہو سکے تو اس لفظ کو اس کی اصلی شکل میں اردو رسم التحریر میں ہی لکھ لیا جاتا۔

آج میڈیکل، انجنیئرنگ سمیت تمام سائنسی مضامین فارسی، چینی فرانسیسی، جاپانی اور کوریائی زبانوں میں پڑھائے جا رہے ہیں۔ آپ انہی ممالک کی مثال لیجیے انہوں نے سائنس میں ترقی انگریزی سے تو نہیں کی ہے۔ لہٰذا قوموں کی ترقی کا راز انگریزی میں مضمر نہیں ہے۔ اس لیے ہمیں انگریزی کو ایک زبان کے طور پر لینا چاہیے علم کے طور پر نہیں۔ اردو ایک فصیح و بلیغ زبان ہونے کی وجہ سے دنیا کی تیسری بڑی زبان کے طور پر تسلیم کی جاتی ہے۔ جسے جرمنی، ترکی اور چین کی جامعات میں پڑھائی جاتی ہے تو ہمیں اردو زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے میں کیوں دقت پیش آ رہی ہے؟

3 جون 2021 ء کو وزیراعظم کے دفتر سے جاری ایک اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ وزیراعظم کے لیے منعقد ہونے والے تمام تقریبات اردو زبان میں منعقد کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ متعدد بار حکومت نے اردو زبان کو سرکاری اور غیر سرکاری دفاتر، تعلیم اداروں، بینکوں، ہسپتالوں اور عدالتوں میں نافذ کرنے کی شدید خواہش کا اظہار کیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ سرکاری سکولوں میں پرائمری سطح پر اردو کو ذریعہ تعلیم بنایا جائے گا۔ مگر عملی نفاذ میں لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے۔

قائداعظم کے فرامین اور آئین پاکستان کا تقاضا ہے کہ اردو کو بطور سرکاری زبان ہر شعبہ زندگی میں نافذ کیا جائے۔ لہٰذا اردو زبان کی ترویج و ترقی اور ذریعہ تعلیم بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ جس سے ہماری ڈراپ آؤٹ ریٹ میں کمی اور شرح خواندگی میں اضافے کے ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی ترقی ہو گی۔ وگرنہ سات ہزار سے زائد زبانوں کی اس جھرمٹ میں اپنی قومی زبان کو کھو دینے کا ڈر رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words