کیا آپ وقت کے رازوں سے واقف ہیں؟


آپ کا وقت کا تصور کیا ہے؟
آپ کا وقت کا تجربہ کیسا ہے؟
کیا آپ وقت کو بیکار سمجھ کر ضائع کرتے ہیں
یا اسے بہت قیمتی سمجھ کر اس کی عزت کرتے ہیں؟
کیا آپ کا وقت کا تصور
رومانوی ہے یا سائنسی؟
عامیانہ ہے یا دانشورانہ؟

وقت کے بارے میں مختلف لوگوں کے خیالات ’تصورات‘ جذبات اور نظریات مختلف ہیں۔
بعض لوگ سمجھتے ہیں وقت دریا کی طرح جو ہر دم بہتا رہتا ہے۔

بعض لوگ وقت کو سیکنڈوں ’منٹوں‘ گھنٹوں ’دنوں‘ ہفتوں ’مہینوں‘ سالوں ’دہائیوں اور صدیوں میں شمار کرتے ہیں اور بعض کے لیے ایک لمحے میں ایک صدی بیت جاتی ہے۔

بعض وقت کو ماضی حال اور مستقبل میں تقسیم کرتے ہیں اور بعض سمجھتے ہیں یہ تقسیم مصنوعی ہے۔
عارف عبدالمتین کا شعر ہے
؎وقت اک بحر بے پایاں ہے کیسا ازل اور کیسا ابد
وقت کے ناقص پیمانے ہیں ماضی مستقبل اور حال
وقت ایک راز ہے اور یہ راز حیات و کائنات کے بہت سے رازوں میں سے ایک اہم راز ہے۔
میں نے پچھلے دنوں سائنسدان کارلو روویلی کی اہم کتاب
THE ORDER OF TIME

کا مطالعہ کیا جس سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔ اگرچہ وہ کتاب مشکل ’پرپیچ‘ گنجلک اور پیچیدہ ہے لیکن میں اس کتاب میں لکھے گئے چند نظریات عام فہم زبان میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔

کارلو روویلی فرماتے ہیں کہ کیا آپ نے اپنے آپ سے یہ سوال پوچھے ہیں کہ
ہم اپنے ماضی کو تو یاد رکھتے ہیں مستقبل کو کیوں یاد نہیں رکھتے؟
کیا وقت ہمارے اندر رہتا ہے یا ہم وقت کے اندر رہتے ہیں؟
جب ہم کہتے ہیں کہ وقت گزر رہا ہے تو اس گزرنے کا کیا مطلب ہے؟
کیا وقت ہمارے ساتھ زندہ ہے یا اس کا ہم سے علیحدہ کوئی وجود ہے؟

ان سوالوں کے جواب مختلف ادوار میں مختلف فلاسفروں شاعروں دانشوروں اور سائنسدانوں نے اپنی سوچ اور سمجھ کے مطابق دیے لیکن ان جوابوں کی کوکھ سے نئے سوالوں نے جنم لیا اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔

کارلو روویلی کہتے ہیں کہ وقت کے بارے میں چند تصورات ایسے ہیں جنہیں جب سائنسی طور پر پرکھا گیا تو وہ درست ثابت نہیں ہوئے۔ سائنس نے تحقیق کے بعد وقت کے بارے میں چند نئے تصورات پیش کیے جو ابھی تک زیادہ مقبول نہیں ہوئے۔

وقت کے بارے میں پہلا نیا تصور یہ ہے کہ ہم سب سمجھتے ہیں کہ وقت ہر جگہ ایک طرح ہی گزرتا ہے۔ سائنسدان ہمیں بتاتے ہیں کہ

پہاڑ کی چوٹی پر وقت تیزی سے گزرتا ہے
وادی میں وقت خراماں خراماں گزرتا ہے

وقت کی رفتار کا یہ فرق بہت تھوڑا ہے۔ اتنا تھوڑا کہ اسے عام گھڑی نہیں بتا پاتی لیکن جب سائنس دانوں نے ایسی گھڑیاں تخلیق کیں جو ہمیں سیکنڈ کا دسواں سوواں اور ہزارواں حصہ بھی بتاتی ہیں تو یہ تھوڑا فرق بھی واضح ہو گیا۔

سائنسدانوں نے یہ بھی جانا کہ وقت کا فرق صرف گھڑیوں پر ہی نہیں انسانوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ اگر دو دوستوں میں سے ایک دوست پہاڑ کی چوٹی پر گھر بناتا ہے اور دوسرا وادی کی ایک کٹیا میں رہتا ہے اور وہ دو دوست چند سالوں بعد ملتے ہیں تو حیرت کی بات یہ ہے کہ پہاڑ کی چوٹی پر زندگی بسر کرنے والے دوست نے وادی میں رہنے والے دوست سے زیادہ زندگی گزاری ہوتی ہے۔

بہت سے لوگ وقت کے اس راز سے ناواقف ہیں کہ کرہ ارض پر بعض جگہوں پر وقت دوسری جگہوں سے زیادہ تیزی سے گزرتا ہے۔

وقت کے اس راز سے ہمارا تعارف مشہور سائنسدان البرٹ آئن سٹائن نے کروایا۔ آئن سٹائن کا وقت کے بارے میں یہ تصور وقت نے اس وقت صحیح ثابت کیا جب ہم اس نظریے کو لیبارٹری میں ٹیسٹ کر سکے اور ایسی گھڑیاں بنا سکے جو اس فرق کو ریکارڈ کر سکیں۔

آئن سٹائن نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ وقت کے گزرنے کا تعلق مادی چیزوں کے حجم سے بھی ہے۔ جو چیز جتنی بڑی ہوگی اور اس کا حجم جتنا بڑا ہوگا وقت اتنی ہی سست رفتاری سے گزرے گا۔ اس لیے جو دوست زمین کے قریب ہوگا اس کا وقت آہستہ گزرے گا اور جو زمین سے دور پہاڑی پر ہوگا اس دوست کا وقت تیزی سے گزرے گا۔

اب دلچسپ سوال یہ کہ جب دو دوست ملیں گے اور ان کی مخصوص سائنسی گھڑیاں مختلف وقت بتائیں گی تو سوال پیدا ہوگا کہ کون سا وقت درست ہے اور کون سا وقت غلط؟

وقت کے سائنسدانوں اور محققین کا کہنا ہے کہ یہ سوال بے معنی ہے کیونکہ دونوں وقت صحیح ہیں۔ ایک پہاڑ کی چوٹی پر رہنے والے دوست کے لیے صحیح ہے اور دوسرا وادی میں رہنے والے دوست کے لیے صحیح ہے۔

اس تجربے سے سائنسدانوں نے یہ ثابت کیا کہ ہمارا تصور کہ کرہ ارض پر رہنے والے سب انسانوں کا وقت کا مشاہدہ اور تجربہ ایک جیسا ہوگا سائنسی طور پر درست نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وقت ایک مستقل اور حتمی چیز نہیں ہے وہ اضافی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بلندیوں اور پستیوں میں زندگی گزارنے والے مختلف لوگوں کے لیے وقت مختلف رفتار سے گزرتا ہے۔

ہر علاقے میں بسنے والے انسان کا اپنا وقت ہے جو اس کے لیے درست ہے اور مختلف شہروں ملکوں براعظموں میں رہنے والے انسانوں کے لیے وقت کی رفتار مختلف ہے۔ اس لیے وقت کو حتمی سمجھنا ہماری کم علمی کی غمازی کرتا ہے۔

آئن سٹائن نے جہاں ہمیں یہ راز بتایا کہ مادی چیزوں کا حجم وقت کی رفتار کو کم کر دیتا ہے وہاں انہوں نے ہمیں یہ راز بھی بتایا کہ وقت کی رفتار مادی چیزوں کی رفتار سے بھی متاثر ہوتی ہے۔

اگر ایک دوست ساکت و جامد کھڑا ہو جائے
اور دوسرا دوست تیز تیز چلنا شروع کر دے

تو جو دوست تیز تیز چل رہا ہوگا اس کے لیے وقت کی رفتار کم ہو جائے گی اور جو دوست ساکت و جامد کھڑا ہوگا اس کے لیے وقت کی رفتار تیز ہو جائے گی۔

اس لیے جب چیزیں تیزی سے چلتی ہیں تو ان کے لیے وقت کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔
آئن سٹائن کے اس نظریے کو بھی جب سائنسدانوں نے ٹیسٹ کیا تو درست پایا۔

کارلو روویلی نے اپنی کتاب میں ایک اور نظریے کو بھی چیلنج کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ہم کسی سے پوچھتے ہیں کہ اس لمحہ موجودnow میں کیا ہو رہا ہے؟ تو اس now سے ہم کیا مراد لیتے ہیں؟

چشم تصور سے فرض کریں کہ اگر
ایک دوست امریکہ میں ہے دوسرا افریقہ میں ہے
ایک دوست زمین پر ہے دوسرا دوست چاند پر ہے
ایک دوست مریخ پر ہے اور دوسرا وینس پر ہے
اور وہ کیمرے سے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں
آپ اس وقت کیا کر رہے ہیں
اور دوسرا جواب دیتا ہے
میں کھانا کھا رہوں یا
میں کتاب پڑھ رہا ہوں
یا میں خود کشی کے بارے میں سوچ رہا ہوں

تو اس خبر کو دوسرے دوست تک پہنچنے میں دونوں دوستوں میں جغرافیائی فاصلے کی وجہ سے چند سیکنڈ یا چند منٹ یا چند گھنٹے لگ سکتے ہیں۔

اس لیے دوسرے دوست تک پہنچنے والی خبر ذرا دیر سے پہنچتی ہے۔
اگر فاصلے بہت زیادہ ہوں تو خبر بھی بہت دیر سے پہنچ سکتی ہے۔

بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ جب ہم رات کے وقت آسمان کی طرف دیکھتے ہیں اور ہمیں جو ستارے نظر آتے ہیں ان ستاروں کی روشنی ہم تک پہنچتے پہنچتے بعض ستارے ٹوٹ کر بکھر بھی گئے ہوتے ہیں۔

اس گفتگو سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہمارا وقت کا تجربہ فاصلے سے جڑا ہوا ہے۔ ہماری کائنات میں جو سیارہ جو ستارہ ہم سے جتنا دور ہوگا اس کی خبر اتنی ہی دیر سے ہم تک پہنچے گی۔ اس لیے سائنسدانوں کی نگاہ میں

اس وقت اور لمحہ موجود now کا تصور بے معنی ہے۔

اس گفتگو سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اس کائنات میں ہر سیارے اور ستارے کی نہ صرف اپنی جداگانہ دنیا ہے بلکہ وقت کا تصور اور تجربہ بھی جداگانہ ہے۔

اسی طرح کرہ ارض پر رہنے والے انسانوں کی اپنی اپنی دنیا ہے۔ اپنی اپنی کہانی اور اپنا اپنا سچ ہے۔
میں نے کسی پچھلے کالم میں لکھا تھا کہ
دنیا میں اتنے ہی سچ ہیں جتنے انسان اور اتنی ہی حقیقتیں ہیں جتنی آنکھیں۔

ایک ماہر نفسیات ہونے کے ناتے میں جانتا ہوں کہ وقت کا نفسیاتی تجربہ بھی مختلف لوگوں کے لیے مختلف ہوتا ہے۔

اگر
ایک انسان تھکا ہوا ہے
دوسرا انسان اپنی بیوی کے ساتھ سو رہا ہے
تیسرا انسان اپنی محبوبہ کا بوسہ لے رہا ہے
چوتھا انسان اپنے قریبی دوست کی موت کا سوگ منا رہا ہے
تو ان سب انسانوں کا وقت گزرنے کا تجربہ مختلف ہے۔

میں نے اپنے ایک دوست اور ان کی بیگم کو شادی کی پچیسویں سالگرہ کی مبارک دینے کے بعد پوچھا کہ آپ کا ایک دوسرے کے ساتھ پچیس برس گزارنے کا تجربہ کیسا رہا تو

شوہر نے کہا it feels like yesterday
اور بیوی نے کہا it feels like quarter of a century

اور میں سوچتا رہا کہ دنیا کی نجانے کتنی بیویاں ایسی ہیں جن کا شادی کا ایک ایک دن ایک دہائی کی طرح گزرتا ہے۔

آج سے چند سو سال پہلے انسان کے پاس گھڑیاں نہیں ہوتی تھیں۔ انسان چاند اور سورج اور موسم سے وقت کا اندازہ لگاتے تھے۔ گھڑیوں کے بعد انسان کی نفسیات بدل گئی۔

آج کچھ لوگ گھڑی کے غلام ہیں
اور کچھ وقت کی قید سے آزاد ہیں۔
ہم سب انسانوں کا وقت اور گھڑی ’صبح اور شام اور دن اور رات سے جداگانہ رشتہ ہے۔

بعض ممالک میں سال میں دو دفعہ رات بارہ بجے گھڑیوں کا وقت بدل دیا جاتا ہے کبھی ایک گھنٹہ آگے کبھی ایک گھنٹہ پیچھے کر دیا جاتا ہے۔

وقت اور گھڑی کا ایک اور انسانی حوالہ بھی ہے
ایک گھڑی خارجی ہے اس کا وقت کلائی پر دکھائی دیتا ہے

ایک گھڑی داخلی ہے وہ دکھائی نہیں دیتی لیکن فطرت میں وہ موجود ہوتی ہے۔ پودوں میں بھی پرندوں میں بھی جانوروں میں بھی اور انسانوں میں بھی۔ سائنسدان اسے diurnal rythmکہتے ہیں۔ گھڑی کے بغیر بھی ہمیں ہمارا جسم کہتا ہے کہ تم تھک گئے ہو اب سو جاؤ اور اب نیند پوری ہو گئی ہے اب جاگ جاؤ۔

وقت کا ایک رشتہ تغیر سے ہے۔
بعض فلسفیوں کا خیال ہے کہ وقت تبدیلی کو ماپتا ہے۔
جب ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی میں تبدیلی آتی ہے تو ہمیں وقت کا احساس ہوتا ہے۔
ارسطو نے کہا وقت تبدیلی کا آئینہ دار ہے۔ اگر تبدیلی نہیں ہے تو وقت بھی نہیں ہے۔

نیوٹن نے کہا وقت تبدیلی سے علیحدہ ایک جداگانہ حقیقت ہے۔ وقت گزرتا رہتا ہے چاہے تبدیلی آئے یا نہ آئے۔

وقت اور جگہ کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔
وقت کی وجہ سے ہم پوچھتے ہیں۔ یہ حادثہ کب ہوا؟
جگہ کی وجہ سے پوچھتے ہیں۔ یہ حادثہ کہاں ہوا؟

انسانی تاریخ میں ارسطو۔ نیوٹن۔ آئن سٹائن جیسے فلسفیوں اور سائنسدانوں نے ہم پر وقت کے کئی راز منکشف کیے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کائنات میں انسان نہ ہوتا تو وقت کیسے گزرتا۔ انسان اور وقت کا کیا رشتہ ہے؟

غالب فرماتے ہیں
ڈبویا مجھ کو ہونے نے ’نہ ہوتا میں تو کیا ہوا
کائنات کا ایک راز یہ بھی ہے کہ ہر چیز حرکت میں ہے متغیر ہے۔
انسان بھی حرکت کر رہا ہے اور اس کے ارد گرد کائنات بھی حرکت کر رہی ہے۔
مختلف انسانوں کا زندگی اور وقت کا تجربہ مختلف ہے۔
زندگی پیدائش کے وقت اور موت کے وقت کا درمیانی وقفہ ہے۔
بعض لوگ اس وقت کو بیکار سمجھ کر ضائع کر دیتے ہیں
ایسے لوگوں کے لیے عارفؔ عبدالمتین فرماتے ہیں
؎ میں نے خود کاٹی ہے اپنی زندگی
مجھ سے بڑھ کر کون ہے دشمن مرا
اور بعض لوگوں کے لیے وقت ایک قیمتی چیز ہے اور وہ اس تحفے کا بڑا خیال رکھتے ہیں۔

زندگی ایک راز ہے اور وقت بھی ایک راز ہے اور وقت کی کوکھ میں بہت سے اور راز بھی پوشیدہ ہیں جن سے شاعر اور دانشور ہمارا تعارف کرواتے رہتے ہیں تا کہ ہم وقت کی اہمیت اور افادیت کو بہتر سمجھ سکیں۔

میرا ایک شعر ہے
؎ وقت اک بحر بیکراں خالدؔ
ہر ملاقات اک جزیرہ ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words