خوش رہنا سیکھیے


دنیا کا ہر انسان خوش رہنا چاہتا ہے۔ حتی کہ کسی غمزدہ انسان سے بھی اگر پوچھا جائے کہ اسے غمگین رہنا اچھا لگتا ہے یا خوش تو وہ یقیناً خوش رہنے کو ترجیح دے گا۔ ہمیں اپنے اردگرد اگر کوئی رونی صورت والا ملتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے ایسا رہنا اچھا لگتا ہے بلکہ یہ کیفیت مسلسل ذہنی دباؤ کے نتیجے میں انتہائی مایوسی کی عکاس ہے۔

ہم جس دور میں زندہ ہیں بدقسمتی کہیں یا سوچی سمجھی سازش، انسان نفسیاتی طور پر مسلسل ایک دباؤ کی کیفیت میں ہے جس نے اسے حقیقی خوشی سے محروم کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں انسان کو خوش رکھنے کے مختلف طریقوں پر کام ہو رہا ہے۔ کہیں مزاحیہ ڈرامے اور فلمیں بن رہی ہیں تو کہیں قہقہے لگانے کے سیشنز ہو رہے ہیں۔ کہیں یوگا کو رواج دیا جا رہا ہے تو کہیں مراقبہ کروایا جا رہا ہے۔

اگر ہم دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں نفسیاتی امراض کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایسے امراض کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان بھی اسی زنجیر کی ایک کڑی ہے۔

اس صورتحال میں دردمند دل رکھنے والے کچھ مصنفین میدان عمل میں اتر کر انسان کو پرمسرت زندگی کے رازوں سے بھی آگاہ کرنے کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔ بازار میں اس موضوع پر متعدد کتب موجود ہیں جو سائنسی انداز میں انسانوں کو خوش رہنے کے مختلف طریقوں اور اصولوں سے آگاہ کر رہی ہیں۔ ایسی ہی کتابوں میں سے ایک کتاب اپنے سائنسی اور عملی انداز کی وجہ سے شہرت کی حامل ہے، جس کا نام ہے

The How Of Happiness

یوں تو یہ ایک مفصل اور عمدہ کتاب ہے لیکن مصنف نے اپنی تمام تر تحقیق کی عمارت کو سات بنیادی اصولوں پر استوار کیا ہے اور ہر اصول کی عملی افادیت کو سائنسی اصولوں پر ثابت کیا ہے۔ یقیناً یہ ایک بہت مفید کام ہے لیکن جب مجھے اس کے مطالعے کا موقع ملا تو ہر قدم پر خوشگوار حیرت کا احساس ہوتا چلا گیا کہ جن اصولوں کو آج کے جدید مصنفین، جدید علم نفسیات اور سائنس کی روشنی میں پرکھ رہے ہیں وہ تو آج سے ڈیڑھ ہزار سال قبل اسلام کی روش اور ہمارے آقا ﷺ کی سنت ہیں۔ تو خیال پیدا ہوا کہ اپنے پڑھنے والوں کو اس کتاب میں بیان کردہ اصولوں کی روشنی میں اسلامی طرز زندگی کو اپناتے ہوئے خوش رہنے کے گر بتا دوں۔ ذیل میں اس کتاب میں بیان کردہ ساتوں اصولوں کا باری باری جائزہ لیا جائے گا۔

اصول نمبر ایک:
Do Something Nice For Others
دوسروں کے لیے کچھ اچھا کیجیے۔

اسلامی معاشرتی زندگی کی بنیاد ہی دوسروں کے ساتھ حسن سلوک ہے۔ اس سلسلے میں اسلام کیا کچھ نہیں سکھاتا۔ اپنے ہوں یا پرائے، دوست ہوں یا دشمن ہر ایک کے ساتھ اچھا برتاؤ نہ صرف یہ کہ قرآن کے احکامات کا حصہ ہے بلکہ سنت رسول اکرم ﷺ بھی ہے۔ اسلام نے حسن ظن کی تلقین کرتے ہوئے بدظنی کو گناہ کا درجہ دیا ہے۔ اگر ایک مسلمان دوسرے کو کھانے کی دعوت دے تو بلاوجہ اسے ٹھکرانے کی ممانعت کردی گئی۔ تحائف کے لین دین کو محبت کا ذریعہ قرار دیا۔ ایک سچے عملی مسلمان کی زندگی میں تو دوسروں کے لیے اچھا ہی اچھا ہے۔

اصول نمبر دو:
Gratitude on regular basis
روزانہ کی بنیاد پر شکرگزاری۔
الحمدللہ الذی احیانا بعد ما اماتنا۔
ایک مسلمان تو آنکھ کھولتے ہی اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہے کہ اس نے ایک موت کے بعد پھر زندگی بخشی۔
لئن شکرتم لئزیدنکم
اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا۔

قرآن میں بیسیوں مقامات پر اس جذبہ شکر کو نہ صرف اجاگر کیا گیا ہے بلکہ انسان کے اندر اس جذبے کو بیدار رکھنے کے لئے سمجھانے کے مختلف انداز اپنائے گئے ہیں۔

ایک مسلمان کی زندگی شکر سے بھرپور ہوتی ہے۔
اصول نمبر تین:
Cultivate an optimistic look at life
زندگی کو مایوسی سے دور رکھیں۔
اسلام تو دین ہی رجائیت پسندی کا ہے۔ اسلام تو مایوسی کو کفر کے برابر گناہ سمجھتا ہے۔
لا تقنطوا من رحمۃ اللہ
قرآن انسان کا تعلق اپنے خالق کے ساتھ مضبوط کرتے ہوئے اسے اللہ کی رحمت کے سائے تلے رکھتا ہے۔
رحمتی وسعت کلٌ شئ
اسے یقین دلاتا ہے کہ حالات ہمیشہ ایک سے نہیں رہتے۔
انٌ مع العسر یسرا

انسان کی ہر کوشش کے نتیجے کو دعا کے ساتھ جوڑ دیا۔ جب ایک انسان پوری توجہ کے ساتھ اپنے خالق سے دعا کرتا ہے تو اس کے اندر امید کی روشنی پیدا ہوجاتی ہے۔ اسی طرح صبر کا جذبہ بھی انسان کو مایوسی سے نکالتا ہے۔

اصول نمبر چار:
Avoid invidious social comparison
دوسروں کے ساتھ حاسدانہ موازنہ مت کریں۔
جی جناب! اسلام کی فکر دیکھیے کہ حسد کو شر قرار دیا۔
ومن شر حاسد اذا حسد
اسی طرح حسد کو ایسی آگ قرار دیا جو نیکیوں کو کھا جاتی ہے۔

معاشی اور معاشرتی تقابل کا کیسا خوبصورت اصول دیا کہ اپنے سے نیچے والے کو دیکھو۔ اس کے ساتھ دنیا کی ہوس کو بھی ممنوع قرار دیا۔ اس زندگی پر آخرت کی زندگی کو ترجیح دی تاکہ توجہ اعمال صالحہ پر رہے۔

اصول نمبر پانچ:
Nurture your relationship
اپنے سماجی تعلقات کی نشوونما کرو

اسلام دین فطرت ہے۔ وہ جانتا ہے کہ انسان ایک سماجی جانور ہے۔ لہذا اسلام نے ان سماجی رشتوں کا جس قدر احترام سکھایا ہے وہ کہیں اور نہیں ملتا۔ اسلام نے قرابت داروں کے ساتھ تعلق بحال رکھنے کا حکم دیا اور توڑنے کو سخت گناہ قرار دیا۔

یونہی دوستی کی اہمیت کو آقا علیہ السلام کی اس حدیث مبارکہ سے سمجھئیے :

مومن دوستی کرتا ہے اور اس سے دوستی کی جاتی ہے۔ اس شخص میں خیر نہیں ہے جو نہ تو کسی سے مانوس ہو اور نہ اس سے کوئی مانوس ہو۔

رسول اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ بھی دوستی کی بہترین مثال ہے۔
اصول نمبر چھ:
Enjoy your work
کام سے لطف اٹھائیں۔

اسلام نے اس اصول کو بڑے خوبصورت طریقے سے انسان کی زندگی میں شامل کرنے کے لئے خشوع و خضوع کا درس دیا۔ یہ اصول فقط عبادت تک ہی محدود نہیں بلکہ جو کام بھی کیا جائے پوری تندہی سے کیا جائے۔

اصول نمبر سات:
Take care of your body
اپنے بدن کی حفاظت کرو۔

یہ ایک ایسا اصول ہے کہ اسلام نے اسے انسان پر ایک طرح سے فرض قرار دے دیا۔ کیونکہ ہمارے پورے جسم کا ہم پر حق ہے۔ یہ جسم اور یہ زندگی اللہ کی امانت ہے۔ اسے درست حالت میں رکھنے کے لئے ممکن حد تک کوشش کرنا یہ ہم پر لازم ہے۔ اس میں نیند بھی آتی ہے، ورزش بھی اور چستی بھی۔ چہرے پر مسکراہٹ بھی اور خوشی اور اطمینان کا گہرا تاثر بھی۔

رسول اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ اس کی واضح مثال ہے۔ آپ جسمانی سرگرمیوں میں بذات خود حصہ لیتے۔ رخ انور پر ہمہ وقت مسکراہٹ سجی رہتی۔ چال میں کہیں ڈھیلا پن نہیں نہ بیٹھنے کے انداز میں سستی کا عنصر۔

مجموعی طور پر اسلام ایک صحت مند انسان کو پسند کرتا ہے۔

قارئین کرام! ذرا غور فرمائیے کہ اگر اسلام کے ان اصولوں کو زندگی کا راہنما بنا لیا جائے تو معاشرے میں نہ تو کوئی نفسیاتی مریض باقی رہے گا اور نہ ہی خوشی کو مصنوعی طور پر تلاش کرنا پڑے گا۔ بلکہ پورا معاشرہ خوش و خرم ہوگا۔

Facebook Comments HS