ادھار اور گالی

جتنا قریبی رشتہ میاں بیوی کا ہوتا ہے اتنا ہی گہرا رشتہ ادھار اور گالی کا ہے۔ جیسے شوہر بیوی کے بغیر ادھورا سا، نامکمل سا اور ناتمام سا لگتا ہے ویسے ہی ادھار کا ذکر ہو اور گالی نہ دی جائے یہ بھی کچھ ادھورا اور نامانوس سا لگتا ہے۔ ادھار مانگتے وقت لہجہ شیریں اور منہ میٹھا ہوتا ہے۔ قرض لوٹانے کا وقت آئے تو شرینی کڑواہٹ اور مٹھاس گالی میں بدل جاتی ہے۔ ادھار مانگنے سے دھن وان کی جو کیفیت ہوتی ہے اور جذبات جس شدت سے جوش مارتے ہیں اندازہ یہی ہوتا ہے کہ اب بے ساختہ اس کے منہ سے گالی ہی نکلے گی۔

جو ادھار لیتا ہے اس کو گالی پڑنی ہے اور جو دے دیتا ہے یہ پکی گارنٹی ہے کہ اس کی خاطر مدارت بھی گالیوں سے ہی ہوگی۔ گالی اس لیے ادھار کے ساتھ مضبوط رشتہ قائم کیے ہوئے ہے کیونکہ جس سے آپ ادھار لے رہے ہیں اس کا حق آپ کو چکانا نہیں اور جو آپ سے ادھار لے رہا ہے وہ آپ کو واپس دے گا نہیں۔ بندے کے پاس مال و متاع ہو تو ادھار کیوں لیں۔ کچھ انسان شوق مزاج ہوتے ہیں بہت سارے شوق پالتے ہیں۔ شوق برا نہیں اگر اس کی پرداخت جیب سے ہو۔ جیب سے باہر شوق ہو تو ساتھ گالیاں بھی ملتی ہیں۔ گالی خریدنے کا کسی کو تو شوق نہیں ہوتا ہاں اگر کسی کو یہ عجیب شوق ہے اور اس کو پال بھی رہا ہے تو گالیاں

خریدنے کا آسان ترین نسخہ یہ ہے کہ آپ کسی عزیز دوست کو ادھار دے دیں۔ آپ کے ذہن میں یہ سوال گردش کر رہا ہوگا کہ بھلا کون پاگل انسان ہوگا جو گالیاں خریدے گا۔ خریدنے کی کیا ضرورت ہے لوگ تو مفت میں جہاں موقع ملے دہن مبارک کھول کر بے حساب دے دیتے ہیں۔

حضور قصور انسان کا نہیں حالات کا ہے، جنہوں نے انسان کو پریشان کر رکھ ہے۔ جب انسان کا ذہن بھاری ہونے لگتا ہے تو وہ کسی نہ کسی کو گالیاں دے کر درد سر کو کم کرتا ہے۔ ویسے بھی اس دور میں ہر فرد کے گرد پریشانی نے ہالا بنا رکھا ہے۔ کوئی حالات سے پریشان ہے تو کسی کو گھریلو الجھنوں نے الجھا کے رکھا ہے۔ ذہن کو ہلکا کرنے اور الجھنوں کے گھیراؤ سے نکلنے کے لیے سیر و تفریح ہونی چاہیے تھی لیکن ہر فرد کو فون اور انٹرنیٹ نے چار دیواری کا قیدی بنا کے رکھا ہے اور انسان بھی اسی کا سہارا لیتا ہے تاکہ اسے ذہنی سکون میسر آئے۔

جوں ہی فون ہاتھ میں لیتا ہے اسے مختلف خبریں اور پریشانی میں مبتلا کرتی ہیں۔ ناحق قتل، لوٹ مار، آگ کی واردات، چوری، ڈاکا یہی تو سننے کو خبریں ملتی ہیں۔ بندہ پریشان نہ ہو جائے تو کیا کرے۔ اوپر سے خراب حالات کا رونا الگ سے۔ خراب حالت میں مالی دشواری کا سامنا رہتا ہے۔ غم غلط کرنے کے لیے بس ایک تدبیر بچتی ہے کہ تنگ آمد بجنگ آمد بندہ دوسروں کو خوب گالیوں سے نوازتا ہے تاکہ اس کا سر ہلکا اور دماغ فراغت پائے۔

گالیاں بہت ساری اور قسم قسم کی دی جاتی ہیں لیکن دینے کا موقع و محل الگ الگ ہوتا ہے۔ کوئی غصے میں آ کر دیتا ہے کوئی زندگی سے تنگ آ کر، کوئی حسد کر کے تو کوئی اس واسطہ دیتا ہے کہ فلاں شخص کا بھلا کیوں ہوا؟ گالیاں دینا شروع کرتا ہے اور اس کو اپنا حق سمجھتا ہے۔ کوئی ندامت یا پشیمانی کے آثار اس کے چہرے پہ نہیں ہوتے۔ گالیاں دینے کے بعد وہ خود کو ہلکا محسوس کرتا ہے اور اس کا چہرہ شریف دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے اس نے کوئی ملک فتح کر لیا ہو اور جیت کے جشن کے وقت جو تمازت چہرے پہ ہوتی ہے ویسی دیکھنے کو ملتی ہے۔

اس قسم کی جتنی بھی گالیاں ہیں، ان پہ آپ کا ہمارا کوئی بس نہیں ساری ذمہ داری دینے والے پہ عاید ہوتی ہے لیکن کچھ گالیوں کو ہم جان بوجھ کر خریدتے ہیں۔ کسی کی مدد کر کے یا دوستوں، رشتہ داروں کو ادھار دے کر۔ آپ درست فرما رہے ہیں کہ دوست وہی ہے جو مصیبت میں کام آئے، میں بھی اس کا قائل ہوں لیکن دوستی میں ادھاری حائل ہو جائے، زر درمیان میں آ جائے، وہاں دوستی کا آنگن تقسیم ہوجاتا ہے۔ مرزا کہتے ہیں کہ گالی سے معاشرے کو پاک کرنے کا ایک راستہ یہ بھی ہے کہ دوستوں کو ادھار دینا بند کیا جائے تاکہ بے ایمانی کا شبہ ہی نہ ہو اور گالی دینے کی نوبت ہی نہ آئے۔

‌مشہور ہے کہ جس شخص کے جتنے دوست ہوں گے وہ اتنی فراخی سے زندگی گزارتا ہے۔ اسے ادھار مانگنے میں دشواریاں نہیں ہوتی۔ وہ کسی بھی دوست سے ادھاری مانگ لیتا ہے۔ ایک کے یہاں پھٹکاری ملے تو دوسرے، تیسرے دوست کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ لیکن بعض مختلف نظریہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دوست جتنے کم ہوں اتنی زندگی خوشگوار گزرتی ہے۔ آپ غلط مطلب نکال رہے ہیں۔ میں یہ ہرگز نہیں کہتا ہوں کہ آپ دوست نہ بنائے ”شغل بہتر ہے دوستی یاری کا“ جتنے چاہے بنائیں لیکن احتیاط سے ورنہ آج ملاوٹ کس چیز میں نہیں۔

اس ملاوٹ نے ہر چیز کو ملیا میٹ کر دیا ہے، دوستی بھی اس سے پاک نہیں۔ خیر بات ہو رہی تھی گالیاں خریدنے کی کہ سستے داموں اور مفت میں گالیاں آپ کیسے خرید سکتے ہیں۔ جیسا کہ میں پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ آپ اپنے قریبی دوست کو ادھار دیجئے وہ آپ کو پیسے بھلے ہی نہ لوٹائے لیکن گالیاں ضرور دے گا۔ گویا یہ گالیاں آپ کے نصیب میں نہیں تھیں بلکہ آپ نے جان بوجھ کر دوست سے پیسوں کے عوض خرید لیں۔ بس یہاں پر ہی نہیں ہوتی بلکہ آپ کا عزیز دوست بہت سارے خفیہ راز بھی افشا کرتا ہے۔

چونکہ آپ کا قریبی اور عزیز تر دوست رہ چکا ہوتا ہے اس لیے کماحقہ آپ کے عادات و اطوار نیز طور طریقے سے واقف بھی ہوگا، اس لیے اس کو آپ کی تذلیل میں زیادہ دقت پیش نہیں آئے گی۔ وہ اگر آپ پہ چند ایک الزامات بھی لگا دیے جو کہ وہ لگاتا ہے اور لگانے میں کنجوسی نہیں کرتا، لوگ آنکھیں بند کر کے اس پہ یقین کر لیتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ آپ کے عزیز دوست نے آپ کے ساتھ شب و روز گزار کر راز و نیاز کی باتیں کی ہوئی ہوتی ہیں اور لوگ اس راز سے واقف ہوتے ہیں کہ جو شخص جس کے جتنا قریب ہوگا وہ اس کی خوبیاں اور خامیوں کا اتنا ہی جانکار ہوگا اور بنا کسی مشقت کے یقین کر لیتے ہیں کہ یہ دو سو فیصد سچ ہوگا۔ آپ قسم اٹھا لیں خود کو پاک و صاف بیان کرنے کی، جتنے بھی جتن کریں سارے ناکام و نامراد۔ گویا نہ صرف دوست کھو دیا بلکہ ادھار دے کر اپنی عزت بھی کھو دی۔ اس لیے جتنا ہو سکے ادھاری سے بچنا چاہیے۔

‌میرا ایک دوست ہے جو ہر وقت ادھار کا کھانے اور ادھار لینے کا شوق رکھتا ہے۔ گاؤں کے ہر دکاندار کے پاس اس کا کھاتہ ہوگا۔ وہ گالیاں کھانا اور دینا بھی جانتا ہے اس لیے ادھار لینے میں کامیاب ہوتا ہے۔ بڑا ڈھیٹ اور بے شرم ہے۔ اگر وہ بے شرمی کے اسرار و رموز سے واقف نہ ہوتا تو یقیناً شرم کے مارے چلو بھر پانی میں ڈوب کر مر گیا ہوتا۔ وہ جس سے بھی ادھار لیتا ہے واپس نہیں کرتا بلکہ گالیاں دیتا ہے۔ اسی لین دین میں کئی دفعہ نوبت ہاتھا پائی تک آن پہنچتی ہے۔

وہ اس سے بھی گریز نہیں کرتا۔ کہتا ہے کہ پیسہ ہاتھ کا میل ہے اگر ہاتھوں میں میل لگا ہو اور کھجلی ہو رہی ہو اس کو دور کرنے کا واحد طریقہ مار پیٹ ہے۔ لوگ اس کو مارتے ہیں اس مار کے بدلے وہ ان کی ادھار لی ہوئی رقم کھا جاتا ہے۔ گاؤں شہر میں بدنام ہونے کے بعد اب وہ ان جگہوں کا رخ کرتا ہے جہاں اس کو کوئی نہیں جانتا۔ خیال رکھنا کئی آپ کے یہاں نہ آ جائے بعد میں مت کہنا کہ میں نے ہوشیار رہنے کو نہیں کہا تھا۔

کاروبار کرنا ہو یا کوئی اور بڑا کام، شادی کرنے ہو یا گھر تعمیر کرنا ہو اس کے لیے بڑی اور معقول رقم درکار ہوتی ہے۔ جب بھی کثیر رقم کی ضرورت پڑتی ہے اس کو حاصل کرنے اور کام نکالنے کا طریقہ اور ذریعہ ادھار ہے۔ ادھار یا تو بینک دیتا ہے یا قریبی دوست۔ لوگ بینک سے ادھار کم ہی لیتے ہیں۔ اس کی معقول وجہ مرزا بیان کرتے ہیں کہ بینک کا ادھار جلد یا بدیر لوٹانا پڑتا ہے۔ ورنہ بینک والے زمین جائیداد پر قبضہ کر کے اپنی رقم نکال لیتے ہیں۔

زمین جائیداد پر قبضہ کرنا ان کا حق ہے لیکن نیلامی سے جو بدنامی ہوتی ہے وہ بیان سے باہر ہے۔ دوسری صورت دوستوں سے قرض لینا ہے۔ دوست سے ادھار لینے کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ جب لوٹانے کا وقت آ جائے تو فتنہ فساد کر کے آسانی سے انسان مکر سکتا ہے۔ ایک بار انسان مکر جائے تو گالی خود بخود بیچ میں آ کر اپنے ہونے کا ثبوت دیتی ہے۔ مرزا کہتے ہیں کہ دوستی تادیر قائم رکھنی ہو تو دوستوں کو چاہیے کہ وہ آپس میں ادھار دینے اور لینے سے پرہیز کرے اور گالی کا تبادلہ ہر دن کرتے رہے اس سے دوستی کا رشتہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words