ناروے اور کورونا کی سازش

ہفتہ کی صبح میرے لیے بہت ہی منفرد تھی جس نے مجھے بہت کچھ سوچنے سمجھنے پر مجبور کر دیا۔ ویک کے اختتام پر میں معمول کے مطابق کچھ سامان لینے اوسلو کے نواحی علاقہ موٹنسرودھ کے مرکز میں گیا تو میں دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہاں پر ایک خوبصورت فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا تھا جہاں پر بہت سارے لوگوں موجود تھے جو شاپنگ کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کے سٹال پر مزہ مزہ کے مختلف ممالک۔ کے کھانے کھا رہے تھے۔
مگر اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ نہ تو ان کے چہروں پر ماسک تھے اور نہ خوف کیونکہ کرونا وبا کے باعث جو خوف کا ماحول ساری دنیا پر طاری تھا جس میں انسان انسانوں سے ڈر رہے تھے ایک دوسرے سے دور رہنے کا کہا جا رہا تھا اور ہر طرف خوف کے بادل تھے لوگوں کو بغیر ضرورت گھروں سے باہر نہ جانا کا کہا جا رہا تھا اور ناروے کی حکومت نے تو گھر میں بھی مہمانوں کے آنے کو منع کیا تھا اس سارے ماحول کے بعد اس خوب صورت فیسٹیول کا انعقاد جس میں کافی عرصہ کے بعد اتنا زیادہ لوگوں کو اکٹھا دیکھا اور امن کے چہروں پر خوشی اور مسکراہٹ دیکھ بہت اچھا لگ رہا تھا مگر فوراً میری ذہن میں یہ سوال آیا کہ یہ کیسے ممکن ہو گیا اور دوسرے ہی لمحہ میں نے یہ سوچا کہ یہ تو ہمارے ساتھ سازش ہو رہی ہے کیونکہ ہمارے ملک میں تو ابھی بھی لاک ڈاؤن چل رہا ہے ماسک لازمی ہے اور کسی قسم کے فیسٹیول کے انعقاد پر بھی پابندی ہے اور یہاں سب کچھ کھولا ہوا ہے بس ہمارے ساتھ سازش ہو رہی ہے ہمیں آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے جیسے ہم بہت سپیڈ کے ساتھ ترقی کر رہے ہیں اور کفر ہمارے خلاف سازش کر رہا ہے مگر ہمارے ذہنوں کو صرف سازش کی سوچ تک ہی محدود کر دیا گیا ہے ہمیں ہر بات میں سازش نظر آ رہی ہوتی ہے لہذا یہ سازش ہے ہمارے خلاف۔
مگر اس وقت میری حیرانی کی انتہا نہ رہی جب مجھے پتا چلا کہ ناروے کی حکومت نے اس وقت کرونا پر کام کا آغاز کر دیا تھا جب چین میں اس بیماری کا آغاز ابھی ہوا تھا اور اس وقت ہم یہ کہ رہے تھے کہ کیونکہ یہ کافر ہے حرام کھاتے ہیں اس لیے ان پر عذاب آیا ہے جب کہ یہ بیماری ہمارے پڑوس میں تھی حالانکہ اگر بات حرام کھانے کی ہی ہے تو بھی ہمیں سوچنا چاہیے تھا کہ اللہ نے صرف کچھ جانور ہی حرام نہیں کیے اور بھی بہت کچھ حرام ہے جو جسے اب ہم حرام نہیں سمجھتے اور دن رات کر رہے ہیں اور کھا بھی رہے ہیں مگر یہ بات بالکل درست ہے کہ وہ قومیں ہی ترقی اور دنیا میں آگے نکلتی ہے جو آنے والے وقت کے لیے پہلے سے تیار ہوتی ہے اور وقت پر فیصلے کرتی اور وقت سے سیکھتی بھی ہے ہماری بد بختی یہ ہے کہ ہم نے نہ وقت پر فیصلے کیے اور نہ وقت سے سیکھا۔
اپنے سامنے بہت سے لوگوں کو اس کا شکار ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی ہم اس پر یقین نہیں کر رہے بلکہ آج بھی کچھ کیا بہت سے لوگ اس کو کفر کی سازش قرار دیے رہے ہیں اور ویکسین کے بارے میں بھی ویسی ہی افواہیں پھیلائیں جا رہی ہیں کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں روز ادویات کے مہنگا ہونے کا رونا رویا جاتا ہے وہاں حکومت اپنے محدود وسائل میں بھی فری ویکسین کر رہی مگر آج بھی لوگ من گھڑت خبروں پر یقین کر کے ویکسین نہیں کروا رہے مگر اب یہ حقیت ہے کہ اگر ویکسین نہیں ہوگی تو شاید آپ دنیا کے ساتھ نہ چل سکیں اور خاص کر ان لوگوں کے لیے مسائل اور زیادہ ہو گئے جو پاکستانی دوسرے ممالک میں رہتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ کاروبار میں مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔
ہم سب کو ان سازشوں اور من گھڑت کہانیوں سے نکل کر حقیقت کا سامنا کرنا چاہیے تاکہ ہم۔ بھی دنیا کے ساتھ چل سکے۔ ناروے کی حکومت نے نہ صرف بروقت انتظامات کیے بلکہ ویکسینیشن کے عمل کو بھی منظم طریقے سے چلایا اور عوام نے بھی حکومت کے کیے گئے فیصلوں پر عمل کیا اور ویکسین کے بارے میں گردش کرتی غلط اور من گھڑت خبروں پر یقین نہ کیا آج وہ اس مقام پر پہنچے کے زندگی کی رونقیں پھر سے بحال ہوئی اور اس خوب صورت فیسٹیول کا انعقاد ہوا۔
یوں تو اس فیسٹیول کا ہر رنگ ہی آنکھوں کو بھا رہا تھا مگر اس میں مختلف ممالک کے نہ صرف کھانے تھے بلکہ مختلف ثقافتیں بھی نظر آ رہی تھی فیسٹیول میں یوں بہت سے سٹال تھے جن پر سستی چیزیں خرید سکتے تھے مگر کھانے میں خاص طور پر موٹنسرودھ فوڈ سٹور کی طرف سے لگے گئے سموسوں اور پراٹھا پر رش اس لیے بھی زیادہ تھا کہ اس علاقے میں پاکستانیوں اور ایشینز کی تعداد کافی زیادہ ہے مگر نارویجن بھی مختلف ممالک۔ کے کھانوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ کرونا وبا کے بعد اس طرح کے فیسٹیول کا انعقاد یقینا تعریف کے قابل ہے اور دوسروں کے لیے پیغام بھی ہے کہ وقت پر فیصلے اور انتظامات کیے جائیں۔

