صفر پوائنٹ پر ایک عظیم صحافی سے ملاقات

آپ سے ملئے۔

آپ گجرات کے نواحی علاقے لالہ موسی ’میں پیدا ہوئے۔ آپ خاندان میں سکول جانے والے پہلے بچے تھے۔ آپ نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور سے ایم اے صحافت کیا۔ بقول آپ کے گولڈ میڈل بھی حاصل کیا لیکن پھر بھی اخباروں کے دفاتر میں فرش پر سوتے رہے۔ کوئی ڈھنگ کی نوکری نہ ملی تاوقتیکہ ملک ریاض بحریہ ٹاؤن کی شکل میں آپ کا جگاڑ نہ لگ گیا۔ اب آپ کالم لکھتے ہیں۔ ٹی وی پر شو بھی کرتے ہیں۔ آپ کے تمام کالموں کا مرکزی خیال ملک ریاض کی شان میں قصیدہ ہے۔

آپ دنیا میں لوگوں کو صرف دو اقسام میں تقسیم کرتے ہیں۔
ایک دل چسپ لوگ۔ دوسرے بور لوگ۔
اگرچہ آپ خود دوسری قسم سے تعلق رکھتے ہیں لیکن پسند آپ کو پہلی قسم کے لوگ ہیں۔ کیا ستم ظریفی ہے۔

آپ دنیا میں سب سے زیادہ کتابیں پڑھنے والے دوسرے آدمی ہیں کیونکہ بقول آپ کے پہلا آدمی بل گیٹس ہے جو ایک ہفتے میں دو جبکہ سال میں باون کتابیں ختم کرتا ہے۔

حساب کی صلاحیت چیک کر رہے ہیں آپ؟

آپ کے کالم مبالغہ آرائی کا کوہ ہمالیہ اور اغلاط کا بحر بے کراں ہوتے ہیں اور آپ ہر چوتھے کالم میں کسی گزشتہ غلطی کی تصحیح کا نوٹ لکھتے رہتے ہیں۔ آپ کے کالم انتہائی غیر معمولی نوعیت کے چونکا دینے والے ہوتے ہیں لہذا نوجوانوں میں بے حد مقبول ہیں۔ ایک کالم میں آپ نے ارشاد فرمایا تھا کہ براعظم یورپ کے پچاس ملک ہیں۔ پچاس کے پچاس رقبے اور آبادی میں صوبہ پنجاب سے چھوٹے ہیں۔ ایک نو آموز نے کسی جگہ تقریری مقابلے میں یہ حوالہ دے دیا ورنہ اس غریب کی پہلی پوزیشن یقینی تھی۔

آپ پوری دنیا سے مختلف بھی ہیں۔ آپ رات کے دو بجے جاگنگ اور ایکسر سائز کرتے ہیں۔ شیشے کے کمرے میں بیٹھ کر ”صاحب“ کی کافی اور سگار کی ملی جلی بو سونگھتے رہتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ صاحب کوفت کے مارے آپ کو خود باہر نکالے آپ ”صاحب“ سے بے تکے سوال پوچھ کر خود ہی قہقہہ لگاتے ہوئے مارگلہ روڈ پر واک کرنے نکل جاتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ ایک بار میں مارگلہ روڈ پر واک کرتے کرتے مری جا پہنچا تھا۔

تادم تحریر کرہ ارض پر فقط ایک جگہ ایسی بچی ہے جہاں آپ نہیں جاسکے اور وہ انٹارٹیکا ہے۔ آپ نے اب ایک ٹور کلب ٹائپ سیاحتی ادارہ بھی بنا رکھا ہے جس میں آپ اپنے ہم خیالوں کو آئے دن ترکی اور مصر وغیرہ کی سیر کروا کر ایک خطیر رقم اندر کرلیتے ہیں۔

ٹی وی پروگرام یا کالموں میں آپ کا طریقہ واردات کسی واقعے یا کہانی سے سٹارٹ لینا ہوتا ہے اور خواہ اس واقعے یا کہانی کا آپ کے موضوع سے کوئی تعلق ہو یا نہ ہو آپ اسے اخلاقی سبق کی طرح نتھی کرنے میں ید طولی ’رکھتے ہیں۔

آپ ہر دوسرے کالم میں الکیمسٹ ناول کے پائیلو کوئیلہو بنے ہوتے ہیں اور ٹی وی پر خود کو نوم چومسکی سے کم نہیں سمجھتے جب کہ حقیقی زندگی میں ایک بار سٹوڈیو میں اپنے ایک جونئیر صحافی شاہ زیب خان زادہ سے معمولی سے تلخ کلامی پر ماں بہن کی گالیوں پر اتر آئے اور گاڑی سے پستول نکال لائے۔

باقی سب تو چھوڑیے، مسئلہ یہ ہے کہ بقول آپ کے آپ سی ایس ایس کے پرچے بھی چیک کرتے ہیں۔ اگر آپ کو بھی ہماری طرح اس امر پر تشویش لاحق ہو رہی ہے تو بے فکر ہو جایے کہ سول سرونٹس کا آج تک تعلیم نے کیا بگاڑ لیا ہے جو آپ بگاڑ لیں گے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words