کورونا کب جان چھوڑے گا؟ چار متبادل

جوں جوں ترقی یافتہ ملکوں میں ویکسینیشن کرانے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، یہ سوال اٹھائے جانے لگے ہیں کہ آئندہ کیا ہوگا؟ کیا بالآخر سرحدیں کھلیں گی اور ایسا کیے جانے سے کورونا کی نئی شکلیں بننے پر کیا اثر ہو گا؟ کیا اجتماعی مدافعت بہت دیر میں پیدا ہوگی اور کیا دنیا کورونا شروع ہونے سے پہلے کی سی زندگی بسر کرنا شروع کرسکے گی؟

ان سوالات کے جواب جولائی کے آخر میں معروف طبی جریدے Lancet میں شائع ہوئے ایک مضمون میں دیے گئے ہیں جو یورپ کے تیس معروف ماہر طبی سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر تحریر کیا ہے۔ اس مضمون میں اہم ترین سوال یہی ہے آیا ہم کورونا سے تین سے پانچ سال تک نجات حاصل کر پائیں گے؟

یورپی ماہرین کے مطابق اس کا انحصار تین باتوں پر ہو گا :

1۔ ویکسینیشن علیحدہ علیحدہ ملکوں ملکوں میں اور مجموعی طور پر دنیا میں کس تیزی کے ساتھ ایک بڑی حد تک کی جا سکے گی۔

2۔ وائرس اپنی شکلیں کس تیزی سے بدلتا ہے سادہ الفاظ میں کیا ابھی تک سامنے نہ آنے والی اس وائرس کی نی اشکال زیادہ خطرناک ہوں گی ۔

3۔ ہم کتنی شد و مد کے ساتھ چاہے ویکسین شدہ یا ویکسین نہ لینے والے دونوں طرح کے لوگ احتیاطی تدابیر پہ کاربند رہیں گے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک ان تینوں اعمال سے متعلق معاملہ کوئی اتنا رجائیت پسندانہ نہیں ہے۔ اب تک دنیا کا صرف ہر چوتھا شخص ہی ویکسین کے دونوں ٹیکے لگوا سکا ہے، وجہ ویکسین کی عدم دستیابی کی بجائے ویکسین کے بارے میں اعتماد نہ ہونا ہے۔ البتہ دنیا کا تقریباً ہر ملک تحدیدی اقدام پہ عمل پیرا ہے۔ اس کے باوجود دنیا میں اس وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں تیزی کے ساتھ بہت زیادہ اضافہ ہونا حیران کن نہیں ہے۔ دنیا میں کورونا سے متاثر ہونے کی تیسری لہر جاری ہے اور دنیا میں روزانہ ساڑھے تین سے ساڑھے پانچ لاکھ افراد اس کا شکار ہو رہے ہیں۔

ماہرین کوویڈ 19کے تمام ہونے سے متعلق وثوق سے کچھ بھی کہنے سے قاصر ہیں اور یہ بھی نہیں کہہ سکتے آیا یہ مرض طویل عرصے تک خطرناک رہے گا یا نہیں۔ ایک جانب وہ سمجھتے ہیں کہ کوویڈ 19 سے یکسر نجات پانا ممکن نہیں ہے، چاہے اس مرض میں مبتلا دنیا کا ہر شخص صحت یاب ہی کیوں نہ ہو جائے پھر بھی یہ وائرس جانوروں کے جسموں میں سرایت کیے رہے گا اور ممکن ہے کہ کسی بھی وقت غیرمتوقع طور پر اپنی شکل تبدیل کر لے یعنی مہلک تر ہو جائے۔ دوسری طرف وہ سمجھتے ہیں کہ بہت کچھ کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ اس مرض کا علاج کتنی جلدی تلاش کیا جا سکتا ہے۔ صرف مرض کا ہی نہیں بلکہ اس کے طویل مدتی اثرات سے نمٹنے کا بھی۔

زیادہ تفصیل سے امریکہ کے طبی جریدے JAMA میں لکھا گیا ہے۔ چونکہ امریکہ میں لوگ بہت تیزی کے ساتھ ویکسینیشن کروا رہے ہیں چنانچہ وہاں امید کی جا رہی ہے کہ زندگی جلد معمول کے مطابق شروع کی جا سکے گی اگرچہ وہاں بھی دشواریاں کچھ کم نہیں ہیں جیسے ویکسین ہر جگہ یکساں طور پر دستیاب نہ ہونا، ویکسین نہ لگوانے کا رویہ، وائرس کی نئی اشکال کا سامنا ہونا اور عالمی طور پر کورونا کی ہلاکت خیزی میں اضافہ ہونا۔

امریکی ماہرین نے مستقبل میں کوویڈ 19 کے چار ممکنہ متبادلات کا ذکر کیا ہے۔

اول: جڑ سے ختم کیا جانا یعنی Eradication۔ طبی ماہرین ایسا کر سکتے ہیں جیسے انہوں نے ماضی میں چیچک کا خاتمہ کیا تھا۔ ایسا تب ہی ممکن ہو سکے گا جب مدافعت بڑی حد تک زیادہ ہو جائے، ویکسیسنیشن کیے جانے اور مرض میں مبتلا ہونے دونوں ہی کے سبب۔ پھر اس جسمانی مدافعت کو قوی اور طویل مدتی بھی ہونا چاہیے تاکہ دوسری بار تعدی آئندہ اس مرض میں مبتلا ہونے سے بالکل روک سکے۔

کوویڈ 19 سے متعلق یہ توقع اس لیے بے حد کم ہے کہ وائرس بہت تیزی سے اشکال تبدیل کر لیتا ہے اور طب سے وابستہ لوگ اتنی تیزی سے اس کا مداوا تلاش نہیں کر سکتے۔

چنانچہ زیادہ اہم حکمت عملی یعنی دوسرا متبادل نسبتاً زیادہ ممکن ہے کہ مختصر مدت کا تدارک ڈھونڈا جاتا رہے جسے طب کی زبان میں حذف کیا جانا یعنی Elimination کہتے ہیں۔ اس میں مرض پھیلنے کو ممکنہ حد تک کم ترین اور کچھ ملکوں میں آبادی کے ایک بڑے حصے کو ویکسینیٹ کر کے اور سختی کے ساتھ احتیاطوں پر عمل درآمد کروا کر کے، سرحدیں بند کر کے اور باقی دنیا سے ملک کو مکمل طور پر کاٹ کر کے صفر کیا جا سکتا ہے۔ اس کی ایک مثال کوریا ہے جہاں بچوں تک کو ویکسین لگائی گئی ہے اور یوں مرض کے پھیلنے کو بڑی حد تک کم کیا جا چکا ہے۔ ایسا کئی اور ملکوں میں بھی کیا گیا ہے جیسے آسٹریلیا، ویت نام، چین، نیوزی لینڈ اور سنگا پور میں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وقفہ وقفہ کے بعد ویکسین پھرسے لگائے جانے سے ایسا کیا جانا زیادہ ممکن ہے۔

تیسری شکل یا تیسرا متبادل وائرس کے ساتھ زندگی بسر کیا جانا ہو سکتا ہے یعنی Cohabitation ایسا یوں ممکن ہوگا کہ وائرس کی بدلتی ہوئی اشکال کے ساتھ ساتھ ویکسین میں بھی تبدیلی لائی جاتی رہے یوں مرض کے شدید شکل اختیار کیے جانے اور ہلاکت خیزی کو روکا جا سکے گا۔ جہاں جہاں ویکسینیشن زیادہ سے زیادہ ہوگی وہاں کوویڈ 19 ایک موسمی بیماری کی شکل اختیار کر لے گا جیسے زکام۔ بلاشبہ بعض اوقات مرض شدید بھی ہوگا مگر ویکسینیشن اس کو انتہائی شدید شکل اختیار کرنے نہیں دے گی اور ایسے مقامات پر وائرس بھی دوسری شکل اختیار نہیں کرپائے گا۔ پھر ایسے مقامات پر آبادی کا بیشتر حصہ چونکہ مرض سے محفوظ ہوگا اس لیے مرض سے نمٹنے میں یکسر دشواری نہیں ہوگی۔

آخری اور چوتھی شکل Conflaggeration یا متبادل دنیا بھر میں لوگوں کا وسیع پیمانے پر مریض ہونا ہوگا کیونکہ بہت زیادہ لوگ ویکسین نہیں لے سکیں گے چاہے ویکسین کی عدم دستیابی کے سبب، چاہے نہ لیے جانے کی خواہش کے باعث، یا طبی وجوہ کی بنا پر۔ ایسی صورت میں بہت زیادہ لوگ مریض ہوتے چلے جائیں گے، مرتے رہیں گے، صحت یاب ہوں گے اور کورونا وائرس بھی نئی سے نئی شکلیں اختیار کرتا رہے گا۔

تحقیقات کے مطابق مرض میں مبتلا ہونے کے طفیل یا ویکسین لیے جانے کے سبب جسم میں پیدا ہونے والی مدافعت چونکہ چھ سے نو ماہ بعد آدھی رہ جاتی ہے۔ پھر اب تک کورونا مخالف جتنی بھی ویکسینیں تیار کی جا چکی ہیں وہ کورونا ہونے سے یکسر محفوظ نہیں رکھتیں بلکہ انسان مریض ہو سکتا ہے چاہے علامات کم ہوں یا بلکہ ہی نہ ہوں مگر ایسا مریض دوسروں کو مرض میں مبتلا کر سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words