کیا برگد کو بھی موت آتی ہے


رمضان شریف کا مہینہ تھا اور گرمیوں کے طویل دن جو کٹنے میں نہیں آتے۔ میں میاں جی کے پاس بیٹھا ان کے بچپن کی کہانیاں اور جوانی کے قصے سن رہا تھا۔ اچانک ڈاکٹر سید وسیم اختر صاحب کی وفات کی اطلاع بذریعہ ٹیلی فون ملی۔ دل غم سے بوجھل ہو گیا۔ میاں جی کی گفتگو کا ربط بھی ٹوٹ گیا۔ وہ کہیں دور خیالوں میں کھو گئے۔ کمرے میں سکوت طاری ہو گیا۔ تھوڑی دیر بعد میاں جی نے اس سکوت کو توڑا اور بولے پتر کبھی برگد کا درخت دیکھا ہے؟

مجھے ان کے سوال پر حیرانی تو ہوئی بہرحال اثبات میں سر ہلا دیا۔ پھر انہوں نے پوچھا کیا کبھی سوچا ہے کہ برگد کا درخت اکثر ویرانوں یا قبرستانوں میں ہی کیوں پایا جاتا ہے ؟ میں نے ذہن پر زور دیا لیکن کوئی خاص وجہ سمجھ نہ آئی۔ میں نے کہا میاں جی میں نے تو آج تک کسی کو برگد کے درخت کو پانی تک نہیں دیتے دیکھا پھر اس کی بڑھوتری کیسے ہوتی ہے؟ میرے اس سوال پر میاں جی نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامتے ہوئے بولے، پتر برگد کا درخت بہت گہری جڑیں رکھتا ہے، اس کی عمر ہزاروں برس ہوتی ہے۔

اس کو اپنی نشو و نما کے لیے کسی بیرونی امداد، سہارے یا خیرات کی ضرورت نہیں ہوتی اور برگد کا درخت ویرانوں میں اس لیے ہوتا ہے کہ جن کو کہیں پناہ نہیں ملتی وہ اس کے سائے تلے بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ درخت چلچلاتی دھوپ میں مسافروں اور مصیبت زدہ افراد کو گھنی اور ٹھنڈی چھاؤں فراہم کرتا ہے۔ اگر کڑاکے کی سردی میں بارش ہو رہی ہو تو برگد کا درخت سارا ٹھنڈا پانی جذب کر لیتا ہے اور پناہ گزیں پر پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں گرنے دیتا۔ پھر پوچھا کہ بتاؤ شام پڑنے پر یہ پرندے کہاں غائب ہو جاتے ہیں؟ رات کہاں بسر کرتے ہیں؟ میں خاموش رہا تو بولے برخوردار اکثر پرندوں کے گھروندوے انہی برگد کے درختوں میں ہوتے ہیں۔ قدرت برگد کے درخت کو موت اس لیے عطا نہیں کرتی کیونکہ یہ درخت انسانوں، چرندوں، پرندوں کے لیے ایک پناہ گاہ کا کام کرتا ہے۔

میاں جی کہنے لگے کہ آج بہاولپور بھی ایک برگد سے محروم ہو گیا ہے۔

ہر شخص اپنی دھرتی ماں پر فخر کرتا ہے لیکن اگر شخصیت ڈاکٹر سید وسیم اختر جیسی ہو تو دھرتی ماں اپنے اس سپوت پر فخر کرتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب بہت خوبصورت اور بارعب شخصیت کے مالک تھے۔ سرخ و سفید رنگت پر داڑھی خوب بھلی لگتی تھی۔ فراخ پیشانی کی سلوٹیں اس بات کی غمازی کرتی تھیں کہ جوانی کڑی تپسیا میں کٹی تھی۔ بلند قامت، بلند آہنگ، کردار اور گفتار دونوں کے غازی۔ گفتگو میں شائستگی، مردانہ وجاہت اور سادگی کا اعلیٰ نمونہ تھے۔

ان سے پہلی بالمشافہ ملاقات تب ہوئی جب میاں جی ہسپتال داخل تھے۔ ڈاکٹر صاحب میاں جی کی عیادت کے لیے ہسپتال تشریف لائے۔ میں شروع ہی سے میاں جی سے بہت قریب تھا سو بہت زیادہ پریشانی کا شکار تھا۔ آج بیس سال گزرنے کے باوجود ان کے وہ جادو اثر الفاظ یاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسان کے بس میں صرف کوشش ہے اور آپ اپنی بہترین کوشش کر رہے ہیں تو پریشان ہونا چھوڑ دیں اور معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیں۔ نہ جانے یہ ان کے الفاظ کا جادو تھا یا لہجے کی تاثیر میری طبیعت بالکل ہلکی پھلکی ہو گئی۔ ساری پریشانی جاتی رہی۔ میاں جی جب تک ہسپتال داخل رہے ڈاکٹر صاحب ہر تیسرے چوتھے دن عیادت کے لیے تشریف لاتے رہے۔

ڈاکٹر صاحب کی رحلت پر میں مرثیہ یا نوحہ نہیں لکھ سکتا کیونکہ مرثیہ اس کا لکھا جاتا ہے جو لحد میں دفن ہونے کے بعد فنا ہو جاتے ہیں، نوحہ اس کا لکھا جاتا ہے جو اس جہان سے رخصت ہونے کے بعد وقت کے سمندر میں بھولی بسری یاد بن کر رہ جائیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ ڈاکٹر صاحب آج ہم میں موجود نہیں۔ ڈاکٹر صاحب ہمارے پاس موجود ہیں لیکن ہم دیکھنے کی سکت نہیں رکھتے۔ وہ ہمارے پاس کیسے ہیں؟ یتیموں، بیواؤں، بے کسوں کی مدد کرنے والا، بے حس انسانی سماج کے سامنے حق کی خاطر ڈٹ جانے والا اور غریب پروری کے لیے علم جہاد بلند کرنے والا شخص کیا مٹی میں دفن ہونے کے بعد مر جاتا ہے؟ یہاں مجھے خیال امروہی صاحب یاد آ گئے

ہم ہیں اس دور سے انسان کی عظمت کے نقیب
جب کسی حلقہ زنجیر میں جھنکار نہ تھی

ڈاکٹر صاحب اپنا ایک سیاسی عقیدہ اور نظریہ رکھتے تھے مگر انہوں نے انسانوں کے دکھوں، تکلیفوں اور تمام مصائب کو سکھ میں بدلنے کے لیے کسی سیاسی نظریے یا عقیدے کو اس کار خیر میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ ڈاکٹر صاحب نے کبھی اپنی زندگی میں اس بات کا پرچار تو نہیں کیا مگر مجھے علم ہے کہ درجنوں گھروں کا راشن ان کے گھر سے جاتا تھا۔ پیشے کے اعتبار سے مسیحا تھے، ان کی بیگم بھی ڈاکٹر ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے لودھراں میں پرائیویٹ کلینک بنا رکھا تھا۔ بعد ازاں سیاسی مصروفیات کی وجہ سے وہ اپنے کلینک پر کم بیٹھتے تھے لیکن جس دن بیٹھتے اس دن تمام مریضوں کا چیک اپ فری ہوتا، وہ مریض کے حلیے سے ہی پہچان جاتے کہ اس غریب کے منہ میں تو روٹی کا لقمہ تک نہیں اترا لگتا تو یہ دوا کیسے خریدے گا تو اسے دوا بھی فری مہیا کرتے۔

راقم کو ویسے تو ڈاکٹر صاحب کی انسان دوستی اور کردار کی عظمت کے درجنوں واقعات یاد ہیں لیکن آج ایک ایسا واقعہ آپ سے شیئر کرنے لگا ہوں جو مجھ پر ایک قرض ہے۔ اپنی روزی روٹی کی خاطر راقم میڈیسن کے شعبے سے وابستہ ہے۔ ایک بزرگ ڈاکٹر صاحب کا کارڈ لے کر میرے پاس میڈیسن لینے آتے تھے، انہیں کوئی جلدی مرض لاحق تھا، مرض بھی ایسا کہ ان کے پورے جسم کی جلد گل چکی تھی، ان کی طرف دیکھنا بھی محال تھا۔ میں انتہائی شرم اور ندامت سے اپنے ضمیر کا یہ بوجھ ہلکا کر رہا ہوں کہ میں ڈاکٹر صاحب کی وجہ سے انہیں دوا تو مفت دے دیتا، لیکن ان کی طرف دیکھنے سے میری طبیعت مکدر ہو جاتی اس لیے ان کی طرف دیکھنے سے گریز کرتا۔

بابا جی جہاندیدہ انسان تھے سمجھ چکے تھے کہ ان کی آمد اور ملاقات کا دورانیہ میرے لیے خوشی کا باعث نہیں۔ ایک دن کہنے لگے بیٹا مجھے معلوم ہے میری آمد آپ کی طبیعت پر گراں گزرتی ہے، مجھ پر تو مانو کہ گھڑوں پانی پڑ گیا ہو۔ میری شرمندگی دیکھ کر کہنے لگے کہ آپ سے کوئی شکوہ نہیں، میری تو سگی اولاد بھی مجھ سے ملنا گوارا نہیں کرتی، کوئی ڈاکٹر بھی میرا علاج کرنے کو تیار نہیں۔ مگر یہ جس شخص کا کارڈ میں آپ کے پاس لے کر آتا ہوں یہ اس روئے ارض پر وہ واحد شخص ہے جو مجھ سے ہاتھ بھی ملاتا ہے، گھنٹوں بھی اس کے پاس بیٹھا رہوں تو اس کی طبیعت نہیں اوبھتی۔ کبھی اس کے سامنے آنکھ بھر آئے تو گلے لگا کر دلاسا بھی دیتا ہے۔

ڈاکٹر صاحب دو دفعہ ایم پی اے منتخب ہوئے۔ انہوں نے جنوبی پنجاب کے حقوق کے لیے صوبائی اسمبلی کے پلیٹ فارم پر اپنی جماعت کے وسیع اور ہمہ گیر پلیٹ فارم سے وطن عزیز میں اسلام اور دین کو حقیقی معنوں میں نظام حیات بنانے کے لیے عملی جدوجہد کی۔ کارکن کی سطح سے اٹھے اور اپنی جماعت کے نمایاں، ممتاز، کھرے اور سچے لیڈر کا کردار ادا کیا اور پنجاب کے سیاسی منظر نامے پر چھائے رہے۔ وہ اعلیٰ پائے کے خطیب اور پارلیمنٹیرین تھے۔ حق و صداقت پر مبنی انسانی حقوق اور نظام اسلام کے نفاذ کے لیے زوردار آواز پنجاب اسمبلی کے ایوانوں میں گونجتی رہی اور وہ اس عظیم مشن کے داعی کے طور پر اسمبلی میں موجود رہے۔

آج کل راقم کی بہاولپور صوبہ بحالی کی تحریک کے ساتھ جڑت ہے، ہو بھی کیوں نہ، اس دھرتی کا سپوت ہونے کے ناتے یہ مجھ پر فرض بھی ہے، ڈاکٹر صاحب نے بھی ساری زندگی صوبہ بہاولپور کی بحالی کا علم بلند کیے رکھا۔ وفات سے چند ماہ قبل ایک ٹریفک حادثے میں زخمی ہو گئے تھے تب سے ان کی طبیعت مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی مگر آخری دم تک وہ صوبہ بحالی تحریک میں دامے، درمے، سخنے اپنا حصہ ڈالتے رہے۔ میرے بہاولپور کے برگد ڈاکٹر سید وسیم اختر ہیں، ان کا مشن اسی طرح جاری و ساری ہے، اس خطے میں چولستان ہو یا دوردراز دیہات جہاں کوئی سیاستدان جانا پسند نہیں کرتا، ان کے قدموں کی خوشبو اس دھرتی کے چپے چپے میں سموئی ہوئی ہے۔ سچ کہتے ہیں برگد کو واقعی موت نہیں آتی، بابا بلھے شاہ کہ گئے ہیں

بلھے شاہ اساں مرنا ناہیں تے گور پیا کوئی ہور

Facebook Comments HS