دھویں میں گم ہوتی محبت

یونیورسٹی کا کیفے ٹیریا سورج سے اٹکھلیاں کرتی اس دوپہر میں کچی عمر کے نوجوانوں کی آوازوں سے گونج رہا تھا۔ نوجوان ٹولیوں کی شکل میں کیفے میں موجود صوفوں پر براجمان تھے۔ فضا میں سگریٹ کے دھویں کی مقدار بڑھتی جا رہی تھی۔ کیفے کے در و دیوار روز ہی یہ منظر دیکھتے تھے۔ آوارہ محبتوں کے عہد و پیمان اور سرگوشیوں میں کہے گئے محبت بھرے جملوں کی مہک ،قربتیں ،چاہتیں ،قہقہے ،آنسو،رنج و الم اور ہجر و وصال کی کہانیاں ، کیفے میں موجود ان بے جان کرسیوں اور صوفوں کے لئے نئی نہیں تھیں۔

وہ اس انوکھے لمس کی لذت سے آشنا تھے جو کچی عمروں کے خوابوں کی راہ پر چلنے والوں کو ہی نصیب ہوتا تھا۔ کیفے کے ماربل لگے فرش کے سیاہ و سفید دھبوں پر ان گنت رنگین قدموں کے نشان تھے جن پر چند ٹوٹتے بکھرتے خوابوں کی داستانیں رقم تھیں۔ کیفے کے ایک قدرے بوسیدہ صوفے پر عائزہ اور ولی کی محبت بھی آخری سانسیں لے رہی تھی۔ عائزہ جو دم سادھے سرگوشیوں کے اس شور میں ولی کو بولتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ اسے گمان تھا کہ ولی کی آواز دنیا کی تمام آوازوں سے زیادہ خوبصورت ہے۔ وہ اس آواز کو سنتی تھی اور کسی کنیز کی طرح ولی کی آواز کے سامنے جھک جاتی تھی لیکن اس روز ولی کی آواز میں صدیوں کی تھکن تھی بھلا آوازیں بھی تھکتی ہیں لیکن ولی کی تھکن زدہ آواز میں بیزاری اور بے حسی تھی۔ محبت تو جیسے دور کہیں پہاڑوں میں جا بسی تھی۔

”عازی،یہ کل فراز کیا کر رہا تھا تمہارے ساتھ“
ولی کے اس جملے میں موجود شک کی مقدار فضا میں موجود دھویں کی مقدار سے زیادہ ہو گئی تھی۔
”اسے نوٹس چاہیے ہوتے ہیں“
عائزہ کی آواز اپنے ہی گلے میں پھنس گئی۔ اسے وضاحتیں دینا نہیں آتا تھا۔
”کل وہ سر گلریز کے لیکچر کے بعد تمہارے ساتھ کینٹین کے پچھلے حصے میں۔“
”بس کر دو ولی“
آئزہ نے کھانستے ہوئے کہا۔ اس کا پورا وجود دھواں دھواں ہو رہا تھا۔

کیفے میں موجود اس گھٹن سے عائزہ کا دم گھٹنے لگا تھا۔ وہ باہر جانا چاہتی تھی مگر تمام تر کھڑکیاں اور دروازے تو شاید بند ہو گئے تھے۔ اسے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ سماعتیں اور بصارتیں دونوں ہی بہت دھندلی ہو گئیں تھیں۔

”ولی“

عائزہ نے زور سے پکارا لیکن فضا میں ایک ساتھ ہی کئی سناٹے بولنے لگے تھے۔ عائزہ نے گھبرا کر کیفے کے دروازے کو دھکا دیا۔ ایک جھٹکے سے دروازہ کھل گیا۔ عائزہ باہر کی طرف بھاگی۔ باہر غروب ہوتے سورج نے محبت میں کے نام پر لٹنے والی ایک اور اپسرا کو روتے ہوئے دیکھا اور اپنے تھکن زدہ وجود کو لے کر غائب ہو گیا۔ آنسو صرف اس لمحے آئزہ کی آنکھوں سے نہیں بلکہ اس کے پورے وجود سے نکل رہے تھے۔

”مجھے وضاحت دینی چاہیے ،میں ولی کو وضاحت ضرور دوں گی،میں فراز کو ساتھ لے کر جاؤں گی،مجھے محبت کے شیشے پر چڑھی بدگمانی کی گرد اتارنی ہو گی

انہی سوچوں کے تانے بانے بنتی وہ اپنے تمام تر درد کو کندھوں پر اٹھائے زخمی قدموں کے ساتھ کیفے کی طرف جا رہی تھی کہ کنٹین کے پاس بیٹھے ولی کو دوستوں کے جھرمٹ میں مسکراتے ہوئے دیکھ کر رک گئی۔ کبھی اس مسکراہٹ کو دیکھ کر وہ خود کو زندہ تصور کرتی تھی لیکن اس لمحے وہ مسکراہٹ کسی چابک کی طرح اسے لگی تھی۔ وہ تھوڑا اور آگے بڑھی تو چابک جیسی چند آوازوں نے اسے بھرے میدان میں کھڑا کر دیا جہاں محبت کے نام پر اسے کوڑے پڑ رہے تھے۔

”واہ ولی،مان گئے چیتے ،آئزہ کو تو نے کیسے اپنے راستے سے ہٹایا۔“
”چل گرو،آج تو پزا پارٹی ہو گی۔“
آئزہ چابک جیسی ان آوازوں کو ساتھ لے کر

اپنے لڑکھڑاتے ہوئے وجود کے ساتھ کیفے کے اندر داخل ہو گئی تھی جہاں اسی بوسیدہ صوفے پر کچھ اور نہیں صرف ولی کی شادی کا کارڈ اس کی ناکام محبت کا ماتم منانے کے لئے موجود تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words