طالبان کو پڑوسیوں کے خدشات پر توجہ دینی ہو گی
قطر معاہدے کے بعد اکثر لوگ ان خدشات کا اظہار کر رہے تھے کہ امریکی انخلا کے بعد ایک مرتبہ پھر افغانستان کے وار لارڈز ایک دوسرے سے بر سر پیکار ہو جائیں گے۔ بار بار یہ سوال اٹھ رہا تھا کہ اس کے بعد افغان سر زمین کی کیا صورت حال ہوگی اور کیا ماضی کی طرح ایک بار پھر طالبان ہی افغانستان میں بلا شرکت غیر برسر اقتدار ہوں گے؟ کہا جا رہا تھا کہ طالبان ملک کے بڑے حصے پر قابض ہیں اور وہ اپنی عملداری میں اضافہ کریں گے، لیکن طالبان پوری افغان آبادی کی نہیں بلکہ صرف پختونوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
پختونوں کے علاوہ افغانستان میں ہزارہ، تاجک، ازبک وغیرہ بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں اور انہیں بھارت، ایران، روس اور وسط ایشیائی ریاستوں کی مدد اور حمایت حاصل ہے۔ ہزارہ برادری کے متعلق بھی کہا جا رہا تھا کہ وہ پچھلے چند سالوں میں تیزی سے مضبوط ہوئی ہے اور اس میں ایک بڑا مسلح گروپ تشکیل پا چکا ہے جو طالبان کے ساتھ لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی طرح افغان فورسز سے بھی توقع کی جا رہی تھی کہ اگرچہ پختون علاقوں کو طالبان کے قبضے میں جانے سے وہ محفوظ نہیں رکھ سکتیں لیکن کابل پر حملے کی صورت میں ضرور قابل ذکر مزاحمت ہوگی۔
یہ اندازے مگر غلط نکلے اور طالبان کی پیش قدمی توقعات سے کہیں زیادہ برق رفتار رہی۔ اس مرتبہ طالبان کی حکمت عملی میں بھی نمایاں فرق نظر تھا۔ انہوں نے اپنی پیش قدمی کا آغاز افغانستان کے شمالی علاقوں سے کیا جہاں انہیں ماضی میں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب کی بار لیکن حیرت انگیز طور پر طالبان کو کہیں بھی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ طالبان لشکر نے جس جگہ کا رخ کیا وہاں سے افغان فورس اور مقامی وار لارڈز نے چپ چاپ فرار ہونے میں ہی عافیت سمجھی۔
کئی علاقوں کے گورنرز اور پولیس چیفس نے محفوظ انخلا کی ضمانت پر بغیر لڑے ہی اپنے ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال دیے۔ ایک طرف یہ صورتحال تھی تو دوسری جانب افغان کٹھ پتلی صدر اشرف غنی آخر وقت تک طالبان سے لڑنے اور سرینڈر نہ کرنے کی بڑھکیں مارتے رہے لیکن ابھی طالبان کابل کے دروازے پر بھی نہیں پہنچے تھے کہ افراتفری میں افغان عوام کا جتنا سرمایہ ہاتھ لگا اٹھا کر بھاگ نکلے۔ طالبان کے خلاف واحد مزاحمتی آواز احمد شاہ مسعود کے بیٹے نے بلند کی۔ انہوں نے اپنے آبائی علاقے پنجشیر میں محصور ہو کر طالبان سے لڑنے اور ان کی عملداری قبول نہ کرنے کا اعلان کیا لیکن چند روز سے زیادہ طالبان کے سامنے وہ بھی ٹھہر نہیں سکے۔
ہمارے لیے افغانستان کی موجودہ صورتحال بڑی حد تک اطمینان کا باعث ہے۔ افغانستان میں نسلی اور فرقہ وارانہ خانہ جنگی بڑھک اٹھتی تو اس کے سب سے زیادہ اثرات ہمارے ملک پر ہی پڑنے تھے۔ ماضی میں جب افغانستان میں قتل و غارت گری اور خانہ جنگی ہوئی تھی تو ہمارے ہاں مہاجرین کا سیلاب امڈ آیا تھا۔ موجودہ حکومت نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے اس وقت سے ہماری معیشت پہلے ہی تباہی کے کنارے پر ہے۔ افغان خانہ جنگی کے باعث امن وامان کی صورتحال بگڑتی اور ماضی کی طرح وہاں سے مہاجرین کے سیلاب کی آمد ہوتی تو ملک نے بالکل مفلوج اور دیوالیہ ہوجانا تھا۔
معاشی نقصانات کے علاوہ بھی مہاجرین کی آمد کی صورت میں ہمارے ہاں بہت سے سماجی اور معاشرتی مسائل پیدا ہونے کا خطرہ تھا۔ ماضی میں افغان مہاجرین کی میزبانی کے صلے میں ہی ہیروئن اور کلاشنکوف کلچر ہمارے ہاں پروان چڑھا تھا اور بدامنی ہمارا مقدر بنی تھی۔ پہلے ہی ہماری دو نسلیں اس پرائی آگ کی نظر ہو کر تباہ ہو چکیں ہیں اب ہم مزید نقصان کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے۔ خدا کا لاکھ شکر ہے کہ امریکی افواج کے بھونڈے اور بے ہنگم انخلا کے بعد بھی اب تک افغانستان میں خانہ جنگی ہوئی نہ کوئی سکیورٹی بحران پیدا ہوا اور طالبان مکمل امن کے ساتھ افغانستان پر عملداری قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
کابل پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد طالبان کے لیے حکومت سازی بہت بڑا چیلنج تھا اور یہ مرحلہ بھی بخیر و عافیت مکمل ہو گیا ہے۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طالبان کی تیس رکنی کابینہ کا اعلان کر دیا جس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ طالبان کی حکومت کے عبوری وزیراعظم محمد حسن اخوند عبوری وزیراعظم ہوں گے اور ملا برادر نائب وزیراعظم اول اور ملا عبدالسلام نائب وزیراعظم دوئم ہوں گے، جبکہ ملا ہیبت اللہ بدستور طالبان کے امیر المومنین اور سپریم لیڈر ہوں گے۔
غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان کابینہ کے اعلان میں مزید دیر نقصان دہ تھی۔ کیونکہ جوں جوں تاخیر ہو رہی تھی یہ خبریں گردش کرنے لگی تھیں کہ طالبان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے مابین اقتدار میں شیئر لینے پر اختلافات ہیں۔ اس کے علاوہ بعض حلقوں کی طرف سے افغانستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے طالبان دھڑوں کے مابین رسہ کشی کی افواہیں بھی پھیلائی جا رہی تھیں۔ گزشتہ سے پیوستہ کالم میں اسی لیے عرض کیا تھا اس قسم کی تحاریک جن میں طاقت چند ہاتھوں میں ہو وہاں حکومت سازی میں تاخیر نقصان دہ ہو سکتی ہے لہذا طالبان قیادت کو کسی بد مزگی سے بچنے کے لیے جلد سے جلد کابینہ کا اعلان کر دینا چاہیے۔
اب جبکہ طالبان کابینہ بھی ذمہ داریاں سنبھال چکی ان کی ترجیح افغان معیشت کی بہتری اور بیروزگاری کا خاتمہ ہونی چاہیے۔ طالبان کو یہ حقیقت بھی ذہن میں رکھنی پڑے گی کہ افغان معیشت کی اپنی کوئی بنیاد نہیں بلکہ اس کا مکمل انحصار بیرونی امداد پر ہے۔ عالمی برادری اور کوئی بھی پڑوسی ملک اس وقت تک طالبان کی اس ضمن میں مدد پر راضی نہیں ہوگا جب تک انہیں اپنے مفادات کے تحفظ کی ضمانت نہیں ملتی۔ افغانستان کے زر مبادلہ کے ذخائر پہلے ہی امریکا منجمد کر چکا ہے اور یورپی یونین نے بھی امداد معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اگرچہ مکمل معاشی بوجھ چین اور روس بھی نہیں اٹھا سکتے لیکن متبادل کے طور وہ طالبان حکومت کی کسی حد تک مدد کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے بھی لیکن چین ایسٹ ترکستان موومنٹ کا خاتمہ چاہے گا۔ اسی طرح افغانستان کا روزگار کئی حوالوں سے پاکستان کے ساتھ منسلک ہے لیکن افغان سر زمین پر موجود ٹی ٹی پی قیادت اس حوالے سے مسائل کھڑے کر سکتی ہے۔ طالبان اگر پنجشیر جیسی مشکل وادی کا کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں تو ان کے لیے اپنی سرزمین سے ایسی تنظیموں کا خاتمہ بھی مشکل نہیں۔
یہ جواز مزید کسی کو مطمئن نہیں کر سکتا کہ طالبان اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال کی اجازت نہیں دیں گے مگر سرحدی علاقوں کی پیچیدگی کا فائدہ کوئی گروہ اٹھا لے تو طالبان کچھ نہیں کر سکتے۔ طالبان کے لیے یہ کام مشکل ہوگا کیونکہ ان میں سے بیشتر لوگ ماضی میں ان کے حلیف رہے ہیں لیکن یہ کام انہیں ہر صورت کرنا پڑے گا۔ کیونکہ اس کے بغیر افغانستان میں استحکام آ سکتا ہے اور نہ ہی کوئی معاشی سرگرمی شروع ہو سکتی ہے۔


