قدیم یونانی مذہب

قدیم یونان میں مذہب کے لیے جدید دور کے معنوں میں مستعمل لفظ تو نہیں تھا۔ تاہم ان کے یہاں مختلف عقائد اور رسومات کا نظام ان کا مذہب تھا

قدیم یونانی مذہب کا یونانیوں کی سماجی زندگی کے علاوہ ان کی تہذیب کی صورت گری میں بھی اہم رول رہا ہے۔

آغاز۔ قدیم یونانی مذہب کا آغاز ابہام کا شکار ہے تاہم یہ مختلف ذرائع (نئے دور حجر۔ انڈو یورپ۔ کریٹ۔ مشرق قریب، مصر وغیرہ) کے مختلف تصورات کے انضمام سے بتدریج نشو و نما پا گیا۔

یونانی مذہب میں روایتی مذاہب کی طرح نہ کوئی ضابطہ تھا نہ کوئی مقدس متن تھا اور نہ کوئی نبی یا پیغمبر۔ بلکہ یہ دیومالائی عقائد کا مجموعہ تھا

یونانی کثرت پرست تھے یعنی بہت سارے دیوتاؤں اور ماوراء فطرت اشیاء پر اعتقاد رکھتے تھے۔ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ ان دیوتاؤں کا احترام دنیاوی فوائد کے حصول کے ضروری ہے۔

یونانی دیوتاؤں کو انسانی جیسی صورت اور جذبات رکھنے والے ہستیاں خیال کرتے تھے۔ دیوتاؤں کی ناراضگی سے گریز کیا جاتا تھا۔ جانوروں اور دوسری اشیاء کی قربانی۔ ان سے منسوب مندروں کی سجاوٹ اور آرائش، ان کی عبادت اور ان کے اعزاز میں تقریبات منعقد کرانا دیوتاؤں کو خوش کرنے کے ذریعے سمجھے جاتے تھے۔ جبکہ غیر مناسب طریقے سے قربانی، مندروں کے تقدس کی پامالی اور قسم توڑنے کو دیوتاؤں کی ناراضگی کا باعث گردانا جاتا تھا۔ جن کی سزا یا نتیجہ، ان کے اعتقاد کے مطابق، قحط، زلزلوں، وفاوں اور جنگوں میں شکست کی صورت میں ملتی تھی۔

یونانی مذہبی زندگی کی تین نمایاں سطحیں یا نظام تھے۔
( 1 ) تمام یونانیوں کا بارہ ( 12 ) دیوتاؤں پر مبنی مشترکہ دیو مالائی نظام۔

ھومر ( Homer ) کی رزمیوں ( Epics) سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے دور 8 وں صدی ق م تک دیومالائی دیوتاؤں کا مفصل نظام ترتیب پا چکا تھا۔ یہ نظام ( دیومالا) 12 دیوتا اور دیویوں پر مبنی تھا۔ یونانیوں کے اعتقاد کے مطابق یونان کے سب سے اونچے پہاڑ کوہ اولمپس ( Olymepe s) پر ان کا ٹھکانہ تھا اور دنیا کی تقدیر کی نگرانی کے فرائض نبھاتے تھے۔ زیوس ( Zeus) آسمان کا دیوتا۔ ان کا لیڈر سمجھا سمجھا جاتا تھا جبکہ بقیہ 11 دیوتا اور دیویاں ذیل تھے۔

1۔ ہیرا Hira) زیوس کہ بیوی ( شادی کی دیوی )
2۔ اپروڈائٹ Aphrodite) محبت کی دیوی
3۔ آپالو Appallo ) سورج کا دیوتا۔
4۔ اریس Aris) جنگ کا دیوتا۔
5ارتیمس۔ Artemis ) فطرت کی دیوی۔
6۔ اتھینا Athena۔ عقل اور جنگ کی دیوی
7۔ دامیتر Demeter) فضل اور کٹائی کی دیوی۔
8۔ ڈیونسیس۔ Dionysus) شراب کا دیوتا۔
9۔ ہیپاستس۔ Hephaestus) آگ کا دیوتا
10۔ ہرمیس۔ Hermis) دیوتاؤں کا قاصد
اور
11 پوسیڈ ن Poseidon ) سمندر کا دیوتا۔
۔

یونانی دیوتاؤں کی ایک بڑی خصوصیت یہ تھی کہ ان کو عموماً انسانوں جیسی خصوصیات والے سمجھے جاتے تھے سوا یہ کہ وہ لافانی تھے۔ بلا شبہ وہ بڑے طاقتور خیال کیے جاتے تھے تاہم ان کی انسانوں جیسی خصوصیات ان کو انسانوں کے قریب لا کر زیادہ خوفناک نہیں سمجھتے تھے۔

قدیم یونان کی ہر شہری ریاست مذکورہ ایک یا زیادہ دیوتاؤں سے منسلک تھا جن کے احترام میں مندر بنائے جاتے تھے۔ اور ان میں ان کے مجسمے رکھے جاتے تھے۔ بعض موقعوں پر تمام یونانی کوہ اولمپس پر رہنے والے سارے دیوتاؤں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے قومی تقاریب منعقد کرتے تھے۔ 776 ق م اولمپک کھیلوں کی ابتداء اس نوع کی قومی مذہبی تقریب تھی۔

مذکورہ 12 مشترکہ دیوتاؤں کے علاوہ ہر شہر کے اپنے مقامی دیوتا بھی ہوتے تھے اور اسی طرح ہر گھرانے کے بھی انفرادی دیوتا ہوتے تھے۔

____________________________________

( 2 ) ۔ قدیم یونان میں دوسرا مذہبی رجحان یا نظام یا سطح میسٹری کلٹس (Mystery Cult) کا تھا جو عام مروجہ شہری مذہب کی نسبت زیادہ جذباتی اور شخصی نوعیت کے مذہبی تسکین کا ذریعہ سمجھے جاتے تھے۔

”مسٹری کلٹس“ فطرت کی پراسرار قوتوں کی قدیم پرستش کے پیروی میں ایسے دیوتا پر عقیدہ رکھنے پر استوار تھے جو مر جانے کے بعد پھر سے اٹھ کر فرد کے لیے نجات دہندہ بن جاتا تھا۔ مخصوص عقائد اور رسومات پر مبنی ان مسالک کے رسومات کو خفیہ رکھا جاتا تھا۔

یونان میں مختلف دیوتاؤں پر کئی مسٹری مسالک پائے جاتے تھے۔ جن میں ایک اہم فصل اور کٹائی کے دیوتا Demeter دیوتا کا Demeter cult ) تھا

ایک اور اہم ڈائنوسس مسلک (Dionysus cult) تھا۔ جو شراب کے دیوتا ڈائنوسس (Dionysus ) سے متعلق تھا۔ اس کی عبادت کے سلسلے میں شامل افراد انتہائی جذباتی تزکیہ تقاریب اور بعض ایسے رسومات ادا کرتے تھے جس کے کے کچھ پہلو بیہودہ اور وحشیانہ قسم کے تھے جو بہت سارے یونانیوں کے لیے گراں بار تھے۔ وقت کے ساتھ اس ”مسٹری کلٹ“ کی جگہ نسبتاً بہتر ”آرپیزم کلٹ“ ( Orphism cult) نے لی جو ڈائنوسس کی اصلاح یافتہ صورت تھی۔ جس میں لافانیت اور شخصی دیوتا کے عقائد برقرار رہے جبکہ بیہودہ رسومات کی جگہ روحانیت کے لیے خالص اخلاقی زندگی پر زور دیا گیا۔ ”مسٹری مسالک“ یونانیوں کی زندگی میں جذبات کو متحرک کرنے اور فرد اور اس کے مسائل پر توجہ مرکوز کرنے میں اہمیت رکھتے تھے۔

( 3 ) ۔ قدیم یونان کی مذہبی زندگی کی ایک تیسری سطح یا نظام بے شمار ارواح کی پرستش تھی۔ جن کے متعلق ان کا یہ اعتقاد تھا کہ وہ انسانی زندگی کے ہر پہلو پر حاوی ہیں۔ ہر یونانی فرد اور گھرانے سینکڑوں ایسی قوتوں کا احترام کرتے تھے جو ان کے خیال میں فصلوں کی اگائی اور افراد کی صحت وغیرہ میں مددگار تھیں۔ ایک لحاظ یہ عام مذہبی اعتقاد ہر یونانی گھرانے کے لیے بڑے 12 دیوتاؤں کی پرستش سے زیادہ اہم تھا۔

مذکورہ تینوں مذہبی نظام یونانی زندگی میں اہم کردار کے حامل تھے۔ کیونکہ یہ بیشتر یونانیوں کو ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تحفظ و نگرانی کے سلسلے میں ایک اعلی تر قوت کا ادراک کراتے تھے۔

چونکہ یہ دیوتا رحم دل اور مہربان گردانے جاتے تھے اور زمین سے زیادہ دور یا ماوراء نہیں سمجھے جاتے تھے اس لیے یہ زیادہ خوفناک قسم کے دیوتا نہیں تھے۔ مزید یہ کہ یونانی مذہبی تصورات انسان میں اعتماد پیدا کراتے تھے۔ اور ان کو دیوتاؤں جیسا بننے ( یعنی ان جیسی صفات اپنانے ) کی کوششوں پر اکساتے۔ یہی اسپرٹ فکر اور اظہار کئی لیے بھرپور محرک مہیا کرتا رہا نیز یونانیوں کے لیے مذہبی موضوعات، ادب اور آرٹ کی تخلیق کے لیے مواد فراہم کرنے کا باعث بھی رہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words