تعلیم، تعلم اور کوویڈ 19

مجھے تعلیم و تعلم سے منسلک ہوئے 21 سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے لیکن مارچ 2020 ء کے بعد جیسے ہی پوری دنیا کو کوویڈ 19 نے اپنی لپیٹ میں لیا۔ تعلیم سے وابستہ افراد نہ صرف کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ کتابیں، سکول بیگ، ٹائی، بیج، نوٹ بکس، پنسل، شارپنر، ایریزر، یونیفارم اور بچوں کے لئے کھانے پینے کی چھوٹی موٹی اشیاء بنانے والی تمام چھوٹی چھوٹی فیکٹریاں اور کارخانے ایک ایک کر کے بند ہونے لگے۔

سونے پر سہاگہ یہ کہ ایک گلی محلے کے ایسے چھوٹے چھوٹے سکول جن کی عمارات کرائے پر تھیں، انہوں نے بھی اپنا بوریا بستر گول کرنا شروع کر دیا۔ تعلیمی میدان میں ایسے کئی ادارے ابھی بھی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں جنہوں نے لاکھوں، کروڑوں روپے لگا کر اپنی اپنی عمارتیں اس لئے بنائی ہوئی ہیں کہ تعلیم دینا ایک صدقہ جاریہ ہے لیکن قربان جائیں حکومت پاکستان کی غیر دانش مندانہ سر گرمیوں پر جو کسی ایک بھی ایڈوانس نوٹس کے بغیر فی الفور سکول بند کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ ابھی ہم بچوں سے ماہانہ فیس وصول کرنے کے لئے پرامید ہوتے ہی ہیں کہ سکول بند کرنے کی خبر ادارہ مالکان پر بجلی بن کر گر پڑتی ہے اور ہم مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق کسی دوست، احباب کے آگے ہاتھ پھیلا کر بجلی کے بل ادا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

مجھے کرونا کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی غرض نہیں، مجھے غرض ہے تو اس بات سے کہ حکومت کی ناقص حکمت عملی اور منصوبہ بندی کی وجہ سے ہم تعلیمی میدان میں دس سال پیچھے چلے گئے ہیں۔ باقی رہا کوویڈ، تو آپ خود کسی بھی کرونا مرکز پر چلے جائیں تو آپ کو 80 سے 90 فیصد عمر رسیدہ مریض نظر آئیں گے۔ بچے اگر اس مرض میں مبتلا ہوتے بھی ہیں تو بہت آسانی سے شفا یاب بھی ہو جاتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بچوں کی اکثریت اس بیماری سے شدید متاثر کیوں نہیں ہوتی؟

دراصل کرونا وائرس ان افراد کے لیے بہت خطرناک ہے جو پہلے ہی سے کسی اور مرض کا شکار ہیں کیونکہ ان کا مدافعتی نظام کافی حد تک کمزور ہوتا ہے۔ بڑی عمر کے لوگ بلڈ پریشر، ذیابیطس یا اسی قسم کی دوسری بیماریاں کا پہلے سے ہی شکار ہوتے ہیں، اس لیے وہ زیادہ نشانہ بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ بڑی عمر کے وہ افراد جو تمباکو نوشی کے عادی ہوتے ہیں، ان کے پھیپھڑے تمباکو نوشی کی لت کی وجہ سے متاثر ہو چکے ہوتے ہیں، اس لیے وہ کرونا وائرس کا آسان شکار بن جاتے ہیں، اس کے مقابلے میں بچوں کے پھیپھڑے عام طور پر زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔

کو وڈ 19 صرف پھیپھڑوں کو ہی نقصان پہنچتا ہی ہے، ایک اور مسئلہ انسان کے اپنے مدافعتی نظام کا ضرورت سے زیادہ فعال ہو جانا بھی ہے۔ جب ہمارا جسم دیکھتا ہے کہ وائرس بے قابو ہو رہا ہے تو وہ شدید رد عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے وائرس کو ختم کرنے کے لیے ایسے مرکبات کی یلغار کر دیتا ہے جو پھیپھڑوں اور جسم کے دوسرے اعضا کے لیے وائرس سے زیادہ تباہ کن ہوتے ہیں۔ میڈیکل کی اصطلاح میں اس عمل کو cytokine storm کہتے ہیں۔ بچوں کا مدافعتی نظام چونکہ بزرگوں کے مقابلے پر زیادہ متوازن ہوتا ہے، اس لیے وہ ضرورت سے زیادہ سرگرم ہو کر ایسے زہریلے مادے پیدا نہیں ہونے دیتا۔

اگر طلباء اپنے اپنے تعلیمی ادارے نہیں جا سکتے تو اس کا صرف ہی حل ہے کہ انہیں فاصلاتی طریقہ سے تعلیم دی جائے۔ اپنے اس مقصد کے حصول کے لئے ادارے جدید نشریاتی اور رسل و رسائل کے ذرائع کا سہارا لے سکتے ہیں۔ لیکن نشریاتی یا ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے سیکھنے کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے حکومتوں کی طرف سے اٹھائے گئے پالیسی اقدامات عالمی سطح پر پری نرسری سے سیکنڈری تعلیم میں ممکنہ طور پر 69 فیصد اسکول کے بچوں تک (زیادہ سے زیادہ) پہنچنے کی اجازت دیتے ہیں۔

دنیا بھر میں 31 فیصد سکولوں کے بچے ( 463 ملین) نشریات اور انٹرنیٹ پر مبنی ریموٹ سیکھنے کی پالیسیوں تک نہیں پہنچ سکتے۔ جس کی بنیادی وجہ گھر میں ضروری تکنیکی اثاثوں کی کمی ہے۔ آن لائن پلیٹ فارم حکومت کے ذریعہ تعلیم کی فراہمی کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہونے والے ذرائع ہیں لیکن یہ طریقہ کار 83 فیصد ممالک استعمال کرتے ہیں۔ عالمی سطح پر، 4 میں سے 3 طلباء جن کی فاصلاتی تعلیم تک رسائی نہیں، وہ دیہی علاقوں سے آتے ہیں /یا غریب ترین گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان اعداد و شمار پر غور کرتے ہوئے، یہ ضروری ہے کہ ممالک تمام بچوں تک پہنچنے کے لیے کسی ایک ریموٹ لرننگ چینل پر انحصار نہ کریں۔ مزید برآں، تمام بچوں کے لیے انٹرنیٹ اور دیگر ڈیجیٹل حل تک رسائی کو بڑھانا سیکھنے کی کمزوریوں کو کم کرنے کے لیے ایک طویل مدتی ترجیح اپنانا ہوگی۔

یونیسکو کی ایک رپورٹ کے مطابق کوویڈ 19 کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے تعلیمی ادارے بند ہونے کی وجہ سے ایک ارب سے زائد طلباء کے پیچھے رہنے کا خطرہ ہے۔ بچوں کی تعلیم کے لیے پوری دنیا کے ممالک فاصلاتی تعلیم کے پروگراموں کو نافذ کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود دنیا کے بہت سے طلباء کے پاس، خاص طور پر غریب گھرانوں کے طلباء کے پاس انٹرنیٹ تک رسائی، ذاتی کمپیوٹر، ٹی وی، یہاں تک کہ ریڈیو بھی نہیں ہے، جو موجودہ طریقہ تعلیم کے عدم توازن اور مساوات کو بڑھا رہے ہیں۔

188 ممالک (اپریل 2020 تک) میں اسکول بند ہونے کے ساتھ، ان میں سے بہت سے انٹرنیٹ، ٹی وی اور ریڈیو جیسی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے مسلسل تعلیم فراہم کرنے کے متبادل طریقے تلاش کر رہے ہیں۔ تاہم، بہت سے کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں، خاص طور پر غریب گھرانوں میں ان ٹیکنالوجی تک رسائی محدود ہے۔ گھر پر تعلیم کے لیے درکار ٹیکنالوجی تک رسائی سے محروم طلباء کے پاس اپنی تعلیم جاری رکھنے کے محدود ذرائع ہیں جس کے نتیجے میں، بہت سے طلباء سکول چھوڑ چھاڑ کر مختلف ہنر سیکھنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

اپنے گرد و پیش پر نظر دوڑائیں، آپ کو طلباء کی اکثریت آٹوز کی ورکشاپوں، کسی باربر شاپ پر یا کسی ہوٹل پر بطور مزدور نظر آئے گی۔ حالیہ کووڈ بحران کو دیکھتے ہوئے ہمارے حکومتی ادارے خود آؤٹ آف سکول بچوں کا شماریاتی حساب و کتاب خفیہ رکھنے پر مجبور ہیں لیکن میرے مشاہدے کے مطابق ہر سکول سے کم از کم 40 سے 50 فیصد تک بچے گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے چھوٹے نجی ادارے اپنے کرائے اور بجلی، گیس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے یا تو بند ہو چکے ہیں یا بند ہونے کے قریب ہیں۔

اس لئے حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کی بہتری اور فلاح کے لئے ایک ایسا پائلٹ پراجیکٹ بنائیں جس میں سٹیک ہولڈرز کی تمام ضروریات کا خیال رکھا جائے۔ میرے خیال میں سب سے اہم مسئلہ سکول بند کرنے کا ہے جس کا بہترین حل یہ ہے کہ تمام اداروں کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ نہ صرف ایس وہ پیز کا خیال رکھیں بلکہ ہر بچے کی صحت کی بھی مانیٹرنگ کی جائے تا کہ وقت سے پہلے ہی اس کو باقی بچوں سے الگ کیا جا سکے۔

اس مقصد کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ جیسے تمام ادارے علی الصبح ڈینگی سرگرمی کی تصاویر اپ لوڈ کرتے ہیں، ایسے ہی تمام تعلیمی ادارہ جات کے سربراہان صبح اسمبلی کے وقت ہی اپنے اپنے سکول کی SOPsکی سرگرمی محکمے کو ارسال کریں تا کہ مانیٹرنگ کا نظام بہتر طریقے سے چل سکے۔ اگر حکومت کو سکول بند کرنا مقصود ہو تو کم از کم نجی سکولوں کو فیس وصول کرنے تک رعایت دی جائے، اس کے علاوہ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن سے منسلک تمام اداروں کے بقایا جات بھی وقت پر ادا کیے جائیں کیونکہ مشاہدے میں یہ آیا ہے کہ ان کی تعداد بھی دن بدن سکڑ رہی ہے جس کی وجہ سے ان اداروں میں بھی معاشی عدم توازن کی صورت حال ہے۔

٭٭٭٭٭

Comments - User is solely responsible for his/her words