تعلیمی اداروں میں جینز پینٹ اور ہماری سوچ کا بحران

جینز پینٹ کی ابتدا Davis اور Jacobاور Levi Struss نے 1871 کے لگ بھگ کی۔ شروع دنوں سے یہ کپڑا مزدورں۔ کان کنوں، مستریوں اور کھیتوں میں کام کرنے والے لوگوں کا پسندیدہ کپڑا رہا ہے۔ اس کی دو بڑی وجوہات تھیں جو شاید آج بھی آپ کو محنت طلب کاموں میں مصروف عمل لوگوں میں نظر آئیں گی۔ ایک یہ بہت عرصے تک قابل استعمال رہتا تھا۔ اور دوسرا سردی اور گرمی میں یکساں مفید تھی۔ تیسرا اسے دھونا نہیں پڑتا تھا (آج بھی اگر اپنے آس پاس مزدوروں کو دیکھیں تو ان کے کام والے علیحدہ میلے کچیلے کپڑے ہوتے ہیں جن کو وہ شاید کبھی نہیں دھوتے)۔

جینز دیکھتے دیکھتے مزدورں اور محنت کشوں سے نکل کر نوجوانوں اور خاص کر غریب نوجوانوں اور سٹوڈنٹس کا پسندیدہ لباس بن گئی (آج بھی آپ دیکھ لیں مجھ سمیت لاکھوں نوجوانوں نے دو جینز میں کالج اور یونیورسٹی کے پانچ پانچ سال گزار دیے ہیں/دیتے ہیں)۔

جینز اپنی پائیداری اور مضبوطی کی وجہ سے دوسری جنگ عظیم میں فوجیوں کو وردیوں اور اسلحہ رکھنے کے بیگز میں بھی استعمال ہوا۔ ہالی وڈ کی فلموں اور خاص کر ویسٹرن فلموں نے اسے ایک دوسری دنیا سے روشناس کرایا۔

سویت یونین پہنچنے پر اسے ”ویسٹرن کلچر“ کی سازش قرار دیا گیا اور لوگوں اور نوجوانوں سے دور رکھا گیا۔ لیکن جینز نے وہاں بھی اپنا مقام بنا لیا۔ ویسٹ میں بہت ساری نوجوانوں کی تحریکوں میں لوگ صرف اور صرف جینز پہن کر آتے تھے تاکہ منفرد نظر آہیں۔

پاکستان چونکہ ہمیشہ سے ”اشرفیہ“ کی کالونی رہا تو عزت ہمیشہ ٹائی سوٹ، شلوار قمیض کے ساتھ کوٹ، شیروانی کو دی گئی۔ (آج بھی دفتروں میں سادہ شلوار قمیض، اور چپلی، کھیڑی ممنوع ہے۔ سادہ کرتا اور دھوتی کی بات تو جانے دیں۔ بعض اداروں میں تو ہاسٹل میں رہنے والے گرم شال اور چادر تک نہیں لے سکتے)۔

آب آئیے پاکستان کے تعلیمی اداروں میں جینز اور پینٹ کے نئے قانون پر۔ ایک دو سوالات ہیں۔ کیا ٹائی کوٹ، اسلامی اور اس علاقے کا لباس ہے؟ (یاد رہے ایران والے کبھی ٹائی نہیں باندھتے)۔

۔ کیا یہ حتمی فیصلہ ہے یا نئی آنی والی حکومت اس کھیل کو ختم کر دے گی؟ (یاد رہے پاکستان کے حکمران زیادہ تر ذاتی پسند ناپسند کو ترجیح دیتے ہیں)۔

۔ کیا یونیورسٹی اور کالجوں میں باقی ضروری اصلاحات ہو گئی ہیں؟ اور صرف لباس رہ گیا ہے ڈسکس کرنے کو؟ (یاد رہے پاکستان کی کوئی یونیورسٹی ٹاپ 100 میں نہیں)۔

۔ کیا کنٹریکٹ اساتذہ کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ وہ روز، ٹائی، سوٹ، کوٹ اور شیروانی پہن کر آئیں؟

جانے دیجئے۔ تعلیم، نئی ریسرچ، تربیت، ہاسٹل کے ماحول، فیکلٹی کی ذاتی پسند نا پسند، اساتذہ کی طرف سے سٹوڈنٹس کو ہراساں، اور خواتین سٹاف کی سکیورٹی پر توجہ دیں۔ نئے نئے کورسز پر توجہ دیں۔ نئی ٹیکنالوجی سے بچوں کو روشناس کرائیں۔ آپ صدیوں سے ایک ہی کورس اور رٹا ہوا لیکچر دے رہے ہیں۔

جینز ٹی شرٹ کو کوٹ پینٹ اور ٹائی سے بدلنے کی بجائے بچوں کا مستقبل بدلیں، ٹیکنالوجی بدلیں، ریسرچ کے طریقے بدلیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
شاہد رحیم (اسلام آباد) کی دیگر تحریریں