سقوط کابل اور افغانستان میں طالبان راج

دنیا بھر میں افغانستان آج کل موضوع بحث ہے۔ جہاں ایک طرف بے یقینی اور بے اعتمادی کی فضا ہے دوسری طرف دنیا بھر کے ماہرین دفاعی تجزیہ نگار ’صحافی حضرات‘ بلاگر اور سیاست سے شغف رکھنے والے اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کے آیا طالبان وہی ماضی والے طالبان ہیں یا ان کے رویے بدل گئے ہیں۔ کیا واقعی ان کو سیاست، ڈپلومیسی اور دنیا کے دیگر معاملات کی سوجھ بوجھ ہے؟ کیا وہ اپنے ملک کے اندر انسانی حقوق کی پامالیوں اور خاص کر عورتوں ’لڑکیوں کے حقوق کے حوالے سے کوئی سنجیدہ ریفارمز لائیں گے؟ ابھی یہ سب کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ اگر طالبان کے ماضی کو دیکھا جائے تو وہ ایک مائنڈ سیٹ اور آئیڈیالوجی کا نام ہے جس میں ایک شوریٰ اپنے امیر یا لیڈر کا انتخاب کرتی ہے طالبان جمہوریت پر یقین نہیں رکھتے اور نہ ہی ووٹ کے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔

یک طرفہ طور پر پیشین گوئیاں کرنا، نتائج اخذ کرنا بین الاقوامی تعلقات کے ادب میں ہمیشہ شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور بجا طور پر کوئی بھی ممکنہ طور پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ کل کیا ہوگا۔ طالبان کا افغانستان اور خاص کر کابل پر قبضہ دنیا کے اکثر ماہرین کے لیے حیرت کا باعث تھا۔

لیکن بعض تجزیہ نگار، سیاست اور بین الاقوامی امور پر نظر رکھنے والے لوگ اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ دوحا مذاکرات کی شروعات سے جس میں امریکہ نے افغانستان کی اشرف غنی حکومت کو مجبور کہ 5500 طالبان قیدیوں کو رہا کیا جائے اور اس کے بدلے طالبان ایک ہزار افغان آرمڈ فورسز کے لوگوں کو رہا کریں گے۔ طالبان نے یقینا صرف ان لوگوں کی لسٹ افغان حکومت کے حوالے کی ہو گی۔ جو ان کے سابقہ کمانڈرز اور جنگجو تھے۔ 5500 طالبان کی رہائی کے بعد افغانستان کی صورتحال تیزی کے ساتھ بدلنا شروع ہوئی۔ افغان فورسز پر حملوں میں تیزی آئی۔ امریکا جو اس بات کا دعویدار تھا کہ انہوں نے افغانستان میں تعمیر و ترقی اور وہ افغان فورسز کی تربیت کرنے کے لئے 80 سے 90 ارب ڈالرز خرچ کیے۔ 2001 سے لے کے 2014 تک امریکی میرینز طالبان کے ساتھ دو بدو لڑائی میں مصروف تھے۔ ایسے میں امریکی افواج کو جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ جب دو ہزار پانچ سو سے زیادہ امریکی فوجی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور جب ان کے تابوت امریکہ پہنچانا شروع ہوئے۔ تو عام امریکیوں میں غم و غصے اور تشویش میں اضافہ ہوا۔ اور پورے امریکہ میں جنگ کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہمارے ٹیکس کے جو ڈالرز آپ مختلف جنگوں میں استعمال کر رہے ہیں ہمیں اس کا حساب چاہیے۔ ہمیں ان لوگوں کی بھی اموات کا حساب چاہیے جنھوں نے جنگوں میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اس وقت امریکی حکومت نے یہ فیصلہ کیا کہ افغانستان کی آرمی کو تربیت دی جائے گی تاکہ طالبان کے ساتھ افغان فورسز خود جنگ لڑیں البتہ امریکہ اور نیٹو ان کو فضائی مدد فراہم کرتے رہے گے

اشرف غنی حکومت سے پہلے حامد کرزئی نے تقریباً تیرہ سال تک افغانستان پر حکومت کی۔ امریکہ اور نیٹو ان کی پوری طرح سے مدد کرتا رہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ حامد کرزئی کابل سے باہر قدم بھی نہیں رکھ پا رہے تھے۔ ان کو افغانستان کا صدر نہیں بلکہ کابل کا میئر کہا جاتا تھا لیکن ان کی حکومت چلتی رہی۔ جب امریکہ نے افغانستان سے انخلاء کا فیصلہ کیا تو عجلت میں انہوں نے ایسے Blunders کیے۔ جس کا خمیازہ نہ صرف افغانستان بلکہ پورا خطہ بھگتے گا۔ پہلے امریکہ نے افغان حکومت کو مجبور کیا کہ طالبان قیدیوں کو رہا کریں۔ جو افغانستان میں طالبان کی طاقت اور کامیابی کا باعث بنا۔ دوسرا افغان آرمی کو کافی ماہ سے نہ تو تنخواہ مل رہی تھی اور نہ ہی ان کو ہتھیاروں کی کمک پہنچائی جا رہی تھی۔

دنیا بھر کی آرمڈ فورسز تب تک بھرپور انداز سے لڑائی نہیں لڑ پاتیں۔ جب تک پوری کمک میسر نہ ہو ان کو اپنے کھانے اپنی تنخواہوں اور اپنی فیملیوں کے تحفظ کا مکمل یقین نہ ہو۔ امریکا نے عجلت میں جب انخلاء کا فیصلہ کیا تو راتوں رات ائرپورٹس خالی کر کے نکل گئے۔ یہاں بات سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر امریکا افغانستان کی گورنمنٹ کا حامی تھا ان کی مدد کر رہا تھا تو اصولاً اربوں ڈالرز مالیت کے تمام ہتھیار افغان گورنمنٹ کے حوالے کرنے چاہیے تھے۔

جس میں جنگی ہیلی کاپٹرز، انٹی ائر کرافٹ گنز، میزائل، بکتر بند گاڑیاں، نائب ویژن دوربین، شارٹ رینج بندوقیں اور جدید ترین اسلحہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ نے تمام افغان شہریوں کا اور بالخصوص ان لوگوں کا بائیو میٹرک ڈیٹا اکٹھا کیا تھا۔ جو نیٹو اور امریکہ کے ساتھ مترجم کے طور پر یا کنٹریکٹ پر کام کرتے تھے۔ اور وہ تمام ڈیوائسز بھی امریکہ افغان حکومت کے حوالے کرنے کے بجائے۔ انتہاپسندوں کے علاقوں میں چھوڑ گیا۔

یہ بائیو میٹرک ڈیٹا والی ڈیوائسز اب طالبان کے ہاتھوں میں ہیں یقیناً ان کو ڈی کود کو کرنے کے لیے بے شمار قوتیں موجود تھیں۔ اسی ڈیٹا کو لے کر طالبان نے افغانستان میں ان لوگوں کی گھر گھر تلاش شروع کر رکھی ہے۔ جو نیٹو اور امریکہ کے ساتھ کام کرتے تھے۔ دنیا بھر میں مسلم دائیں بازو کی انتہا پسند قوتوں اور بالخصوص جنوبی ایشیا اور خاص کر پاکستان میں طالبان کی کامیابی کا جشن منایا جا رہا ہے۔ اور اس جشن میں پاکستان کے دفاعی تجزیہ نگار، حکومتی وزراء، اور دائیں بازو اور انتہا پسندی کا پرچار کرنے والے چند نام نہاد صحافی حضرات پیش پیش ہیں۔ اور کہہ رہے ہیں کہ پاکستان نے طالبان کے ساتھ مل کر امریکہ اور نیٹو کو افغانستان میں شکست دے دی ہے۔ اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ پاکستانی حکمران اور دفاعی تجزیہ نگار ہمیشہ چڑھتے سورج کے پجاری رہے ہیں۔ جب پہلی بار طالبان 1996 میں اقتدار میں آئے تو چند ممالک میں پاکستان بھی تھا۔ جس نے نہ صرف ان کی حکومت کو تسلیم کیا بلکہ اس وقت بھی یہی کہا جا رہا تھا۔ کہ طالبان کی تربیت اور آبیاری ہم نے کی ہے۔ یہ ہمارے اثاثے ہیں۔ ہماری طالبان کو پوری سپورٹ حاصل رہی ہے یہی وجہ ہے کہ طالبان کامیابی سے ہمکنار ہوئے ہیں۔ جب 1979 میں سوویت یونین افغانستان میں آیا تو دنیا بھر سے انتہا پسند مسلمانوں کو اکٹھا کر کے جہاد کے نام پر افغانستان کو بیٹل فیلڈ بنایا گیا۔

اور دنیا نے دیکھا کہ لاکھوں افغانوں نے اپنی جانو کے نذرانے دیے اور ملین کے حساب سے اپنا مادر وطن چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ پہلی مرتبہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے پر خوشیاں منانے والوں نے چند سال بعد جب امریکہ میں نائن الیون ہوتا ہے۔ اور امریکا یہ فیصلہ کرتا ہے کہ افغانستان میں طالبان کو سبق سکھانے کا اب موقع ہے تو پاکستان کے ملٹری حکمران پرویز مشرف نہ صرف ان کا بھرپور ساتھ دیتے ہیں اور طالبان کے خلاف پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں بلکہ جیسا کہ اپنی بات میں پرویز مشرف نے لکھا بھی ہے۔ کہ انھوں نے ڈالرز کے عوض پاکستانی اور افغان امریکہ کے حوالے کیے ۔ جب امریکہ نے طالبان کی حکومت کا خاتمہ کیا تو پاکستان کا موقف تھا کہ ہم نے امریکہ کے ساتھ مل کے انتہا پسند حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ اور پھر 2001 سے لے کے 2021 تک پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ اور مغرب کے اتحادی ہونے کا واویلا کرتا رہا اور دنیا کو باور کرایا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آپ کے ساتھ ہیں۔ لیکن القاعدہ کے لیڈر کو امریکا نے ایبٹ آباد میں ڈھونڈ نکالا اور ایک ٹارگٹڈ آپریشن میں بن لادن کو مار دیا گیا۔ تب امریکہ نے کہا کہ ہم نے پاکستان کو بن لادن کے خلاف آپریشن سے بے خبر رکھا۔ تاکہ اس کو فرار نہ کروا دیں۔ جب کہ پاکستانی آفیشلز کہتے رہے۔ کہ ہماری ایجنسیوں نے امریکہ کو اطلاع دی۔ اگر اطلاع دی تھی تو شکیل آفریدی پر غداری کا مقدمہ سمجھ سے بالاتر ہے۔

بیس سال کہا جاتا رہا۔ کہ ہم امریکہ کے ساتھ مل کر طالبان کا خاتمہ کریں گے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ اپنے آنگن میں اس نیت سے سانپ کے بچے پالنا کہ وہ صرف پڑوسیوں کو ہی ڈسیں گے۔ یہ تدبیر اکثر الٹ ہو جاتی ہے۔ ماضی اس کا گواہ ہے۔ مستقبل بھی کوئی مخلتف نہیں ہو گا۔ امریکہ کے انخلا کے بعد جو جشن منا رہے ہیں کہ طالبان اور پاکستان نے مل کے امریکہ کو شکست دی ہے۔ طالبان کی افغانستان پر قبضے کے بعد دائیں بازو کی قوتیں اس بات پر فخر کر رہی ہیں اور پرامید ہیں کہ مستقبل قریب میں وہ بھی اس قابل ہوں گے کہ اپنے اپنے علاقوں میں طالبان جیسا نظام نافذ کریں گے اس کی مثال اسلام آباد میں لال مسجد اور دیگر مقامات پر امارات اسلامی افغانستان کے جھنڈے لہرانا ہے۔

اور دوسری جناب پشاور میں 19 اگست کو افغانستان کے قومی دن کے موقع پر افغانوں کے ہاتھوں سے پولیس کے ذریعے افغانستان کی قومی پرچم چھینا اس بات کو سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ حکومت وقت اور اسٹبلشمنٹ کس کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ ادھر کالعدم تنظیمیں نے بھی اپنے پر پھیلانے شروع کر دیے ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق کالعدم تنظیموں کے کچھ رہنماؤں نے طالبان کے لیڈروں سے افغانستان میں ملاقاتیں بھی کی ہیں۔ ایسے میں دیکھنا یہ ہے کہ ہمسایہ ممالک اور بالخصوص مغربی ممالک اس سلسلے میں اپنا کیا کردار ادا کرتے ہیں۔

پاکستان کے پاس ایک بار پھر بارگین چپ ہاتھ آ گئی ہے۔ طالبان کو ایک دفعہ پھر کہا گیا ہے کہ ہم بھی آپ کی گورنمنٹ کو تسلیم کریں گے اور اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی اور چائنا اور دیگر ممالک کے ساتھ بھی ہم بات کریں گے تاکہ آپ کی حکومت کو تسلیم کرے۔ اس کے علاوہ جو بھی جدید ترین ہتھیار طالبان کے ہاتھ لگے ہیں۔ ہیلی کاپٹر، اینٹی ائر کرافٹ گنز، میزائلز اور دوسری مشینری کو آپریٹ کرنے کے لیے پاکستان اپنی سروسز آفر کی ہیں۔

پاکستان کے علاوہ چین افغانستان پر نظریں جمائے بیٹھا ہے۔ امریکی ہتھیار کوڑیوں کے مول طالبان سے خریدے جائیں گے۔ طالبان جو اس سے قبل منشیات اور اسلحہ اور سمگلنگ سے اپنا کاروبار چلاتے تھے۔ اب ان کے قبضے میں ایسا ملک ہے جو قدرتی وسائل سے مالامال ہے۔ ماہرین ارضیات کی ایک رپورٹ میں اندازہ لگایا تھا کہ افغانستان، جو بظاہر دنیا کے غریب ترین ممالک میں سے ایک ہے، اس ملک میں کئی ٹریلین امریکی ڈالر کی مالیت کے معدنی وسائل موجود ہیں، جس میں سونے، لوہے، تانبے، لیتھیم، کوبالٹ اور دیگر نایاب معدنی ذخائر شامل ہیں۔

لیتھیم الیکٹرک کاروں، اسمارٹ فونز اور لیپ ٹاپ کی بیٹریوں میں استعمال ہوتا ہے۔ چین دنیا بھر میں معدنیات کی کان کنی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ اب ان کو افغانستان کی صورت میں ایک سنہری موقع ہاتھ آ گیا ہے۔ طالبان کی اعلیٰ سطحی قیادت نے حال ہی میں چینی وزیر خارجہ سے بھی ملاقات بھی کی تھی۔ طالبان کے سیاسی امور کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر نے کہا ہے کہ چین مستقبل میں افغانستان کی تعمیر نو اور اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ طالبان نے اپنی جو حکومت تشکیل دی ہے۔ اس کے سربراہ ملا حسن حسن جو تحریک طالبان کے بانیوں میں سے ہیں ان کا نام اقوام متحدہ کے بلیک لسٹ میں ہے وہ 1996 سے لے کے 2001 تک طالبان کے دور میں نائب وزیر خارجہ رہے تھے۔ اور ان کے جو نائب تھے اس میں ملا عبدالغنی برادر جنرل مولوی عبدالسلام شامل ہیں۔ جب کہ وزیر داخلہ سراج الدین حقانی، حقانی نیٹ ورک کے رہنما رہ چکے ہیں اور ایف بی آئی کے مطلوب ترین لوگوں میں شامل ہیں۔ طالبان نے یقین دہانی کرائی تھی کہ ایسی حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ جس میں تمام افغانوں کی نمائندگی ہوگی۔ تاہم کابینہ کے اعلان کردہ ناموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے تحریک طالبان کے علاوہ کسی کو بھی حکومت میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے طالبان نے یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ ان کی سرزمین ہمسایہ ممالک یا کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ اور ساتھ میں یہ بھی کہا ہے کہ دنیا بھر میں جہاں جہاں بھی مسلمان ہیں ان کے حقوق کی بات کرنا ہمارا حق ہے۔ طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ ابھی تک عوام کے سامنے نہیں آئے یہ قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی تھی کہ وہ شاید کرونا کی وجہ سے وفات پا گئے ہیں جس کی طالبان نے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ سلامت ہیں اور صحیح وقت آنے پر عوام کے سامنے آئیں گے۔

کابینہ میں کسی بھی عورت کو شامل نہ کرنا، عورتوں اور لڑکیوں کو مجبور کرنا کہ آپ تعلیم حاصل کرنے اور کام پر جانے سے گریز کریں۔ گو کہ طالبان نے سوشل میڈیا کے استعمال کا ہنر تو سیکھ لیا اور اس کی افادیت بھی سمجھتے ہیں۔ لیکن انہوں نے اپنی آئیڈیالوجی میں کوئی فرق نہیں لایا اور اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ وہ اپنا تخلیق کردہ نظام لانا چاہتے ہیں۔ یقیناً جب ان کے قدم اپنے ملک کے اندر اچھی طرح جم جائیں گے تو وہ اپنے نظریات اور آئیڈیالوجی کو ہمسایہ ممالک اور خطے میں پھیلانے کی کوشش بھی کریں گے۔ ابھی طالبان کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ملک کو کیسے چلانا ہے افغانستان ایک کثیر قومیتیں ملک ہے۔ جس میں پشتون ہیں۔ تاجک ہیں ازبک ہیں ہزارہ ہیں اس کے علاوہ سنی شیعہ اور قبائلی سردار اور وار لارڈز ہیں۔ جو اپنے اپنے علاقوں پر اثر رکھتے ہیں۔ ان کو اعتماد میں لیے بغیر افغانستان میں کوئی بھی مرکزی حکومت کبھی بھی کامیاب نہیں رہی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بین الاقوامی برادری امریکہ اور نیٹو اور مغربی ممالک جو بیس سال تک افغانستان میں لوگوں کو ایک آس اور امید دلاتے رہے کہ افغانستان کی ڈویلپمنٹ میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ وہاں سے دہشت گردی اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے والوں کا صفایا کریں گے۔ جنہوں نے سیکولر اور جمہوریت پسند افغانوں کو یہ امید دلائی تھی کے مستقل آپ کا ہے۔ مستقبل میں آپ کا ملک ایک پرامن ملک ہوگا۔ آپ کا ملک ترقی کرے گا جس میں خواتین، لڑکیوں اور تمام لوگوں کو بنیادی انسانی حقوق میسر ہوں گے۔ اور ان کو کسی امتیازی سلوک، زیادتی اور ظلم کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اگر طالبان نے اپنا ایجنڈا دیگر ممالک تک بڑھانے کا فیصلہ کیا اور اپنے ہم خیال گروپوں کو مضبوط کرنے کی کوشش کی تو یقیناً جو انتہا پسند اور کالعدم تنظیمیں ریاست جموں و کشمیر کے اندر سرگرم عمل ہیں وہ بھی ایک بار پھر کشمیر کے اندر مسلح کارروائیاں کر سکتی ہیں۔ اور جس کا فائدہ خطے کے اندر موجود تمام انتہا پسند تنظیموں کو ہی پہنچے گا۔ جو انتہا پسندی کریں گے اور پھر ان انتہا پسندوں کا مقابلہ کرنے کے لیے دوسری جانب کے انتہا پسند بھی اسی کارڈ کو استعمال کرتے ہوئے اپنا ایجنڈا آگے بڑھائیں گے۔ ہمیں تشویش ہے کہ ہماری ریاست جموں و کشمیر جو کہ 1947 سے جبری تقسیم اور غلامی کا شکار ہے۔ ایک بار پھر انتہا پسندوں کی آماجگاہ نہ بن جائے۔
اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان کو کہنا چاہیے کہ وہ طالبان اور دوسری کالعدم تنظیموں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے ان کو قائل کریں کہ وہ خطے کے اندر انتہا پسندی اور دہشت گردی کو فروغ نہیں کریں گے۔ جو دفاعی تجزیہ کار اور مذہبی جنونی طالبان کے افغانستان پر قبضہ پر جشن بنا رہے ہیں۔ اور ان کے نظام کو بہترین نظام قرار دے رہے ہیں۔ حیرت اس بات پر ہوتی ہے۔ وہ اس آئڈیل سسٹم کا حصہ بننے اور اس سے مستفید ہونے کے لئے پوش علاقوں اور بڑی بڑی سوسائٹیوں میں عالیشان محلات کو چھوڑ کر افغانستان کیوں نہیں شفٹ ہو رہے۔ غریبوں کے بچوں کو انتہا پسندی کی طرف مائل کرنے کے بجائے اپنی اولادیں کو افغانستان کیوں نہیں بھیجتے۔ ہمیں ان تمام افغانوں سے جو انسانیت، جمہوریت، پر امن بقائے باہمی پر یقین رکھتے ہیں۔ سے پوری ہمدردی ہے۔ اور ہماری خواہش ہے کہ وہ بھی اپنے ملک کے اندر امن و سکون کے ساتھ رہیں۔ ان کو بھی اپنے حکمران ووٹ کے ذریعے چننے کا حق حاصل ہو۔ اور یہ فیصلہ خالصتاً افغان عوام کو کرنا چاہیے کہ حکومت کیسی ہونی چاہیے اور کیسا نظام ہونا چاہیے۔ ماضی میں بندوق کی نوک پر حکومت پر قبضہ تباہ کن ثابت ہوا اور اب بھی ایسا ہی ہو گا۔ افغانستان میں ایک ایسا نظام ہونا چاہیے۔ جس میں تمام افغانیوں کو بنیادی انسانی حقوق حاصل ہوں۔ ماضی کے اندر جو کچھ بھی ہوا ہم اس سے یہ تجزیہ کر سکتے کہ جب تک طالبان اپنی آئیڈیالوجی تبدیل نہیں کرتے اس وقت تک افغانستان کے اندر کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
سردار ناصر عزیز خان کی دیگر تحریریں