طالبان کی کابینہ: پرانے کھلاڑیوں کی واپسی

بالآخر 7 ستمبر کو طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں ایک پریس کانفرنس میں طالبان کی موعودہ عبوری حکومت کا اعلان کر دیا۔ یہ کابینہ تنہا پرواز کا اعلان ہے۔ اس میں افغان قوم کی اس ہمہ جہت شمولیت کے لئے کوئی جگہ نہیں جسے خود طالبان نے گزشتہ دو برس کے دوران مسلسل بیان کیا اور پاکستان اور طالبان کے دیگر حامی بھی اس تصور کو اچھالتے رہے۔ لیکن ایک طرح سے یہ کابینہ افغان مہاجر خاندانوں کے پاکستانی دینی مدارس (مدرسہ) میں پڑھنے والے طالب علموں اور پاکستانی پناہ گاہوں میں مقیم طالبان کے لڑاکا دستوں کے باہمی گٹھ جوڑ کی بہت واضح نمائندگی کرتی ہے۔

اگر طالبان کے نقطہ نظر سے 33 ارکان پر مشتمل کابینہ کی فہرست پر نظر ڈالی جائے تو اس میں طالبان کے بیشتر گروہوں کی آزمودہ قیادت کو شامل کیا گیا ہے۔ تاہم اس کابینہ میں اہم نسلی گروہوں (جیسے تاجک، ازبک، ہزارہ، ترکمان)، خواتین اور مذہبی اقلیتوں کو شامل نہیں کیا گیا۔ مختصر یہ کہ اس کابینہ میں ایک بھی غیر طالبان شامل نہیں۔ افغانستان کے بیشتر مبصرین طالبان کابینہ کی تشکیل کو پاکستانی آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل فیض حمید کے حالیہ دورہ کابل سے جوڑتے ہیں اور اس فہرست کے اہم نکات کو طالبان رہنماؤں کے ساتھ فیض حمید کے مذاکرات سے منسوب کرتے ہیں۔

طالبان کی کابینہ میں ایک بھی خاتون نہیں ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ افغانستان کی سیاسی، معاشی، تعلیمی اور ثقافتی زندگی میں کئی خواتین نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اپنی شناخت بنائی ہے۔ بہت سی جرات مند اور کھل کر بات کرنے والی پارلیمنٹرین، قابل صحافی اور ذمہ دار سماجی کارکن خواتین سامنے آئی ہیں۔ تاہم لگتا ہے کہ طالبان اپنے قرون وسطی کے نظریات کی بنیاد پر خواتین کو سماجی سیاسی زندگی سے باہر رکھنے پر مصر ہیں۔

طالبان کی مرکزی قیادت، بشمول اس کے تین سپریم لیڈر (امیر) ، اور لیڈر شپ کونسل کے اراکین کی اکثریت لوئی قندھار (قندھار اور نواحی علاقہ جات) سے تعلق رکھتی ہے۔ نئی کابینہ کے کل پندرہ ارکان کا تعلق لوئی قندھار سے ہے۔ یہ پشتون علاقہ تقریباً جنوب مغربی افغانستان پر مشتمل ہے۔ طالبان کے بانی مرحوم ملا عمر کے خاندان کو کابینہ میں دو اہم نشستیں ملی ہیں۔ ان کا بیٹا ملا یعقوب وزیر دفاع جبکہ ان کے چچا ملا عبدالمنان کو عوامی فلاح و بہبود کی وزارت ملی۔

لویا پکتیا ایک اور پشتون علاقہ ہے جس میں جنوبی افغانستان کے تمام صوبے شامل ہیں اور اسے حقانی نیٹ ورک کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ لویا پکتیا کو کابینہ کی دس نشستیں ملی ہیں۔ گزشتہ کئی برس سے حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج حقانی اس وقت طالبان کے نائب رہنماؤں میں سے ایک ہیں، انہیں وزارت داخلہ ملی ہے۔ سراج حقانی کے سر پر پچاس لاکھ ڈالر کا انعام بھی رکھا جا چکا ہے۔ ان کے چچا خلیل حقانی وزیر مہاجرین بنے ہیں، ان کے کے سر پر بھی پچاس لاکھ ڈالر کا انعام موجود ہے۔

ننگرہار کے مشرقی علاقے میں زیادہ تر پشتون آباد ہیں جنہیں کابینہ میں پانچ نشستیں ملی ہیں۔ اس کے مقابلے میں، شمالی افغانستان میں آباد غیر پشتونوں کو صرف تین عہدے ملے ہیں (دو تاجک اور ایک ازبک) ۔ آرمی چیف کا اہم عہدہ ایک تاجک کمانڈر قاری فصیح الدین کو ملا ہے۔ اس عہدے کو عام طور پر شمالی صوبوں پر قبضہ کرنے میں طالبان کی مدد کا انعام سمجھا جا رہا ہے۔ لیکن حالیہ واقعات کے بعد فوج بطور ایک کے ادارہ عملی طور پر موجود نہیں ہی چنانچہ اس منصب کو علامتی اہمیت ہی دی جا سکتی ہے۔ نائب وزرائے اعظم میں عبدالسلام حنفی واحد ازبک ہیں۔ طالبان کے ساتھ طویل وابستگی رکھتے ہیں اور 1990 کی دہائی میں طالبان حکومت کا حصہ بھی رہے تھے۔

اس فہرست میں ایک بھی عورت نہیں ہے اس حقیقت کے باوجود کہ کئی خواتین نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران افغانستان کی سیاسی، معاشی، تعلیمی اور ثقافتی زندگی میں اپنی شناخت بنائی ہے۔ بہت سی جرات مندانہ اور کھل کر بات کرنے والی خواتین پارلیمنٹرین، شاندار صحافی اور سماجی کارکن رہی ہیں۔ لیکن لگتا ہے کہ طالبان خواتین کو معاشرتی سیاسی زندگی سے خارج کرنے کے اپنے قرون وسطی کے نظریے پر قائم ہیں۔ اگرچہ اس بار وہ لڑکیوں کو یونیورسٹی کی تعلیم سے نہیں روک رہے لیکن کلاس رومز میں لڑکوں اور لڑکیوں میں علیحدگی مسلط کر دی گئی ہے۔

طالبان کے زیادہ تر وزراء ادھیڑ عمر کے پرانے جہادی کھلاڑی ہیں۔ نئی کابینہ میں افغانستان کی نوجوان اکثریت کی نمائندگی نہیں ہے۔ درحقیقت طالبان نے مدرسوں مین تعلیم کے اپنے پس منظر کے زیر اثر ان لاکھوں نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کا وجود تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے جو گزشتہ دو دہائیوں کے دوران قائم کردہ تعلیمی اداروں کے وسیع نیٹ ورک کی مدد سے ملک کے کونے کونے میں ابھرے ہیں۔ اس سے پاکستانی مدرسوں میں تربیت پانے والے طالبان اور اپنے ملک کے کالجوں اور یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہونے والے افغان طلباء کے درمیان خطرناک خلیج پیدا ہو گی۔ درحقیقت مذکورہ استخراجی رجحان طالبان سیاست کی امتیازی خصوصیت سمجھا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ طالبان کے مخالف مزاحمت اتنی جلدی بھڑک اٹھی۔ پنجشیر میں مسلح جدوجہد اور شہری مراکز میں خواتین کے احتجاج کی قیادت نوجوانوں ہی نے کی۔

اس تضاد کی استعاراتی اہمیت سمجھنے کے لئے یہ جاننا کافی ہے کہ جس روز طالبان کابینہ کا اعلان کیا گیا، اسی روز احمد مسعود کی کال پر طالبان کے خلاف جرات مندانہ جلوس دیکھنے میں آئے۔ احمد مسعود کمانڈر احمد شاہ مسعود کے پنجشیر میں مقیم بیٹے تھے۔ احمد مسعود 1990 کی دہائی میں طالبان کے خلاف طویل مزاحمت کے لیے مشہور تھے۔ طالبان کی بندوقوں کا سامنا کرنے والی خواتین مظاہرین کی ہمت قابل ذکر تھی۔ مظاہرین پاکستان سفارت خانے گئے اور پاکستان مخالف نعرے لگائے کیونکہ ان کی نظر میں طالبان اور پاکستان ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔

افغان حکومت سے باہر رکھے جانے والوں میں طالبان کے وہ معروف کمانڈر بھی شامل ہیں جو پاکستانی سیکورٹی اداروں کے پسندیدہ نہیں سمجھے جاتے۔ کابینہ کی فہرست میں منصور اور عامر خان کی قیادت والے دھڑوں کی نمائندگی نہیں ہے۔ اسی طرح سدرے اور گل محمد جیسے کمانڈر بھی غائب ہیں۔ ایران کے ساتھ ممکنہ روابط رکھنے والے طالبان کو بھی ایک طرف کر دیا گیا ہے۔ حکومتی ساخت سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان میں تبدیلی کے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود طالبان میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں آئی اور اس حقیقت کے داخلی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر اثرات مرتب ہوں گے۔

پشتون طالبان کے لئے پاکستانی حمایت کا مقصد ڈیورنڈ لائن کے دونوں اطراف پشتون قوم پرستی کو کمزور کرنا ہے۔ یہی بات بنیادی طور پر پاکستانی فوج کے پنجابی جرنیلوں کو پشتونوں کی طالبانائزیشن کی حمایت پر اکساتی ہے۔ تاہم دیگر اہم نسلی گروہوں کے اخراج سے افغانستان میں نسلی تفرقہ مزید گہرا ہو جائے گا جس سے سنگین عدم استحکام پیدا ہو گا۔ اس حقیقت کے پیش نظر کہ افغانستان کی شمالی اور مغربی سرحدوں پر واقع ممالک میں یہی نسلی گروہ آباد ہیں، یہ مسئلہ یقینی طور پر علاقائی صف بندیوں کی صورت اختیار کر لے گا۔ دراصل 1990 کی دہائی میں ہونے والی پراکسی جنگوں میں یہی عوامل کارفرما تھے۔ کچھ پڑوسی ممالک نے عوامی طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ طالبان حکومت کو صرف اس وقت تسلیم کریں گے جب افغانستان میں ایک جامع حکومت ہو۔ یہاں تک کہ ترکی نے (جو افغانستان کا براہ راست پڑوسی نہیں ہے ) اعلان کیا ہے کہ تمام گروہوں کی حکومت میں شمولیت کے بعد ہی کابل کی نوزائیدہ حکومت کو تسلیم کیا جائے گا۔

کچھ مغربی ممالک طالبان حکومت میں خواتین کے مکمل اخراج کی پرزور مخالفت کریں گے۔ دیگر مسلم ممالک کے برعکس جہاں علماء مذہبی تعلیم کے علاوہ عمومی تعلیم بھی حاصل کرتے ہیں، زیادہ تر طالبان کمانڈر دونوں طرح کی تعلیم پر عبور نہیں رکھتے۔ ایک وائرل ویڈیو میں طالبان کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم نے کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم کی مذمت کرتے ہوئے خدا کا شکر ادا کیا ہے کہ اس نے ایسی تعلیم نہیں پائی! طالبان کو جدید طرز حکمرانی سے کوئی تعلق نہیں اور وہ ٹیکنوکریٹس کو اپنے ساتھ کام کرنے پر راغب نہیں کر سکتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ طالبان نے ریاستی نظام کے بارے میں کوئی اشارہ دیے بغیر کابینہ کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے آئین کے بارے میں ایک لفظ تک نہیں کہا، یہاں تک کہ عبوری آئین کا بھی کوئی ذکر سنائی نہیں دیا۔

بین الاقوامی سطح پر نامزد دہشت گردوں کی فہرست کو مکمل طور پر نظرانداز کرنے سے نہ صرف دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی قانونی کارروائی کمزور ہو گی بلکہ طالبان حکومت کے لیے بین الاقوامی تعلقات میں عملی مسائل بھی پیدا ہوں گے۔ مثال کے طور پر طالبان حکومت کے کچھ سینئر ترین ممبران دوسرے ممالک میں نامزد دہشت گردوں کی فہرست میں اپنے نام موجود ہوتے ہوئے کیسے بین الاقوامی سفر کر سکیں گے۔ اسی طرح نئی حکومت کے بہت سے ارکان کو اقوام متحدہ کے اداروں کی طرف سے سفری پابندیوں کا سامنا ہے۔ افغانستان پر قبضے کے بعد طالبان حکومت اور ریاست کی کیا صورت ہو گی، یہ صرف وقت ہی بتائے گا۔

(اردو ترجمہ: وجاہت مسعود)

Comments - User is solely responsible for his/her words