سرکاری ملازمت کرنی ہے یا کاروبار، پہلے کرونا ویکسین لگوائیں؛ صدر بائیڈن کا نیا لائحہ عمل

صدر جو بائیڈن

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے جمعرات کو لگ بھگ ایک کروڑ امریکی ملازمین کے لیے کرونا ویکسین کو لازم قرار دیا ہے جن میں نجی شعبے کے ملازمین کے ساتھ ساتھ شعبہ صحت سے وابستہ ورکرز اور فیڈرل کنٹریکٹرز بھی شامل ہیں۔

صدر بائیڈن نے خبردار کیا ہے کہ اگر آپ وفاقی حکومت کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں یا کاروبار کر رہے ہیں تو لازمی ویکسین لگوائیں۔

کرونا وبا کے خلاف صدر بائیڈں کا یہ اب تک کا سب سے زیادہ طاقتور قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کوششوں کا مقصد کرونا وائرس کی پھیلتی ہوئی قسم ڈیلٹا کا خاتمہ کرنا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے صدر بائیڈن نے ان دسیوں لاکھوں امریکیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے اب تک ویکسین نہیں لگوائی۔

انہوں نے کہا کہ "ہم بہت صبر سے کام لیتے رہے ہیں لیکن یہ صبر اب جواب دے رہا ہے۔ آپ کے انکار کی ہم سب نے قیمت چکائی ہے۔”

ان کے بقول ویکسین نہ لگوانے والی اقلیت بہت بڑا نقصان پہنچا سکتی ہے اور پہنچا رہی ہے۔

ریاست الی نائے میں ایک سٹور میں کرونا سے متعلق احتیاطی تدابیر پر مبنی پوسٹر لگا ہے۔
ریاست الی نائے میں ایک سٹور میں کرونا سے متعلق احتیاطی تدابیر پر مبنی پوسٹر لگا ہے۔

صدر بائیڈن نے حالیہ ہفتوں میں ڈیلٹا ویریئنٹ کے کیسز میں اور وائرس کے سبب اموات میں اضافے سے نمٹنے کے لیے چھ نکاتی لائحہ عمل کا اعلان کیا جن میں بڑے پیمانے پر ویکسین لگانے کا اختیار اور دیگر اقدامات شامل ہیں۔

صدر بائیڈن ایگزیکٹو برانچ کے ملازمین اور ان کنٹریکٹرز کے لیے ویکسین لگوانے پر زور دے رہے ہیں جو وفاقی حکومت کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں اور لاکھوں ملازمین کو ان تقاضوں کے تحت ویکسین لگوانا ہو گی۔

امریکہ میں کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز میں حالیہ اضافے کے خلاف صدر بائیڈن کی جانب سے وفاقی حکومت کے ساتھ کام کرنے والے افراد کو لازمی ویکسین لگانے کا اقدام ان کے نئے ایکشن پلان یا لائحہ عمل کا حصہ ہے۔ صدر بائیڈن نے اس لائحہ عمل کا اعلان جمعرات کی سہ پہر وائٹ ہاؤس میں خطاب کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ری پبلکن رہنما اور بعض یونین سربراہان پرائیویٹ کمپنیوں اور ان کے ورکرز پر اثر انداز ہو رہے ہیں جو اس بات کی واضح علامت ہے کہ آگے چل کر انہیں قانونی چیلینجز کا سامنا ہو گا۔

ریاست ساؤتھ کیرولائنا کے گورنر ہینری میک ماسٹر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر بائیڈن اور، ان کے الفاظ میں، انتہاپسند ڈیموکریٹس آئین کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

امریکن فیڈریشن آف گورنمنٹ ایمپلائز کے نیشنل پریزیڈنٹ ایوریٹ کیلی نے بھی کہا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے اس طرح کی تبدیلیوں پر ہمارے بارگیننگ یونٹس کے ساتھ بات چیت کی جانی چاہیے۔

دوسری جانب امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن اور نیشنل ایسوسی ایشن آف مینوفیکچرز اینڈ بزنس راؤنڈ ٹیبل نے شہریوں کو ویکسین دینے کے لیے صدر بائیڈن کی کوششوں کو سراہا ہے۔

بائیڈن انتظامیہ اُن تمام آجروں سے اس بات کی متقاضی ہے کہ اگر ان کے ہاں 100 سے زیادہ ملازمین کام کرتے ہیں تو وہ انہیں ویکسین لگوائی جائے یا پھر ہر ہفتے وائرس کا ٹیسٹ کیا جائے۔

صدر بائیڈن کے لازمی ویکسین لگوانے کے نئے لائحہ عمل کے تحت ایک کروڑ 70 لاکھ ایسے ورکرز جو مراکز صحت میں کام کرتے ہیں اور جو فیڈرل میڈی کیئر یا میڈی کیڈ حاصل کرتے ہیں، ان پر بھی ویکسین کا کورس مکمل کرنا لازم ہو گا۔

واضح رہے کہ امریکہ میں اس وقت کرونا کیسز میں حالیہ اضافے کے باعث اس وائرس سے روزانہ ایک ہزار اموات واقع ہو رہی ہیں اور جو وبا کے باوجود معاشی بہتری کے جو اشاریے سامنے آئے تھے انہیں بھی دھچکہ لگ رہا ہے۔

صرف دو ماہ قبل، صدر بائیڈن نے کرونا وائرس سے قوم کی آزادی کا اعلان کیا تھا لیکن اب جب ملک کے اندر دو سو آٹھ ملین سے زیادہ شہریوں نے ویکسین کی کم از کم ایک خوراک لے رکھی ہے، امریکہ کے اندر کرونا کیسز میں 300 فی صد اضافہ رپورٹ ہو رہا ہے جب کہ اسپتالوں میں داخلے کی تعداد میں بھی ڈھائی گنا اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران ہونے والی اموات کی شرح بھی اس سال دو گنا ہو گئی ہے۔ ملک میں اس وقت بھی 80 ملین لوگوں نے ویکسین نہیں لگوائی۔

اس خبر میں شامل معلومات’ ایسوسی ایٹڈ پریس’ سے لی گئی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words